”مجھے نہیں لگتا ہے کہ ہم اِس منصوبے کو زیادہ دیر تک چھپا کر رکھ سکیں گے۔“دریائے ستلج کے کنارے پر بیٹھے ٹارزن نے کیلے کا چھلکا اتارتے ہوئے کہا۔
ٹارزن کی بات سن کر دریا کے پانی سے وضوکرتے عمروعیار کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
کچھ لمحوں بعد عمروعیار نے گندم اورجو کے تیار کردہ ستو سے بھرے پیالے کوہاتھ میں لیااوربولنا شروع ہوا۔
”اِس کا مطلب ہے کہ سورج کی سیر کے لیے تم تجرباتی طور پرخود خلائی شٹل پر سوارہونے کا سوچ چکے ہو۔اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا بہت غلط بات ہے، ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔“
ٹارزن کیلوں کے بعد میٹھی لسی کا پیالہ ہاتھ میں لے چکا تھا۔
”ارے۔۔۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے تو ہمیں کائنات کے راز تو معلوم کرنے چاہئیں۔“
ٹارزن کے چہرے پر مسکراہٹ تھی کہ وہ لاجواب کر چکا تھا۔
ٹارزن کی بات سن کر ایک لمحے کو عمروعیار گھبرایا۔
”گنجے کو خدا ناخن نہ دے۔“ عمروعیار نے زوردار ڈکار مارتے ہوئے جواب دیا۔
”بے شرم آدمی۔۔۔کچھ تمیز سیکھو۔۔کیا گھر والوں نے یہی سکھایا ہے۔۔“ٹارزن نے گھورتے ہوئے کہا۔
”وہ بعد میں سیکھ لوں گا۔۔ابھی بچپن میں ہوں۔۔“ عمرو عیار نے ٹشو پیپر سے منھ صاف کرتے ہوئے بولا۔
”سنو۔۔۔عمرو۔۔۔اِس خلائی سفر سے شہرت حاصل ہوگی کہ کوئی شخص سورج کے سفر پر گیا ہے اور یوں دنیا بھر کا ذرائع ابلاغ میری تشہیر کرے گا۔“
ٹارزن نے پھولوں سے بنائے گئے گدے پر لیٹتے ہوئے اپنی بات ختم کی تو عمروعیار کو ہنسی آگئی۔
”تم ہنس کیوں رہے ہو؟“ ٹارزن نے سنجیدگی سے پوچھا۔
”بے وقوف انسان! وہ اِس لیے کہ تمھیں ملتان کی گرمی نے اتنا نڈھال کردیا ہے کہ تم دریائے ستلج پر نہانے کو چلے آئے ہو۔سورج کی سیر کا خیال چھوڑو اورناریل کا پانی پیو۔“
عمرو عیار نے جوں ہی ناریل ٹارزن کی جانب بڑھایا، اچانک چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔
٭……٭
شاہ زین کی اچانک آنکھ کھلی۔
اُس نے بستر سے چھلانگ لگائی اورزور سے چیختے ہوئے امی کی جانب بھاگا۔
”امی۔۔امی۔۔۔وہ۔۔۔ٹارزن اورعمرو۔۔۔“
”پھر کوئی خواب دیکھ لیا۔۔۔۔“امی نے گھورتے ہوئے پوچھا۔
”’وہ ستلج، ستو، ناریل کا پانی اورلسی۔۔“شاہ زین دھیمے لہجے میں بولا۔
”کتنی بار کہا ہے کہ کہانیوں کو رات کے وقت نہ پڑھا کرو۔کبھی کہتے ہو ٹارزن مسلمان ہو گیا ہے اورکبھی عمرو۔۔۔اورکبھی سورج کی سیر کا تذکرہ لے آتے ہو۔“
امی نے شاہ زین کی حالت کو دیکھتے ہوئے اپنا غصہ اتارا۔
”امی۔۔۔کہانیوں کے کردار کوئی بھی ہوں۔ اُن کی بدولت تفریح، معلومات اور کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔میرے لیے ٹارزن اورعمرو کی کہانیاں اہمیت کی حامل ہیں کہ وہ کچھ سمجھاتی ہیں چاہے کردار مسلمان ہوں یا پھر ہندو،اُن کی بدولت شعور بیدار ہوتا ہے۔“شاہ زین نے خود اعتمادی سے جواب دیا۔
”رات کو پھر کہانیوں کی کتاب پڑھ رہے تھے۔“ امی نے استفسار کیا۔
شاہ زین نے مسکراتے ہوئے اپنے بستر کی طرف دیکھا تو شرمسار ہو گیا کہ وہاں ریاضی کی کتاب کے اندر کہانیوں کا مجموعہ تھا۔
”جی۔۔۔وہ۔۔۔ٹارزن اورعمروعیار کی نئی کہانیوں کی کتاب لایا ہوں۔“شاہ زین نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔
”ایسا کرو۔۔۔ہاتھ منھ دھو کر آؤ۔۔تمھارے لیے باداموں سے تیار کردہ شربت لاتی ہوں۔“
امی نے بات ختم کرتے ہی باورچی خانے کی طرف رخ کیا۔
شاہ زین غسل خانے کی طرف بڑھا، کچھ سوچا اور واپس مڑگیا۔پھر ڈرائنگ روم میں بچھے قالین پر لیٹ گیا۔
٭……٭
”ارے۔۔۔یہ اندھیرا کیوں چھا گیا ہے۔“ٹارزن نے خفگی سے پوچھا۔
”بھئی۔۔۔ بادلوں نے چاند چھپا لیا ہے۔۔۔جیسے میرا چاند چھپا رہتا ہے۔“ عمروعیار نے حسب معمول طنز کیا۔
ٹارزن مسکرادیا کہ اُسے سمجھ آگئی تھی کہ عمروعیار نے اپنے گنجے سر کی طرف اشارہ کیا تھا،جسے وہ سرخ رنگ کی ٹوپی پہن کر چھپاتا تھا۔
”دریا پاس ہی ہے،کیا خیال ہے پانی سے بجلی نہ بنالیں۔“ ٹارزن نے عمروعیار کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
”ابھی تو اپنے جنگل کی فکر کروکہ قیمتی درختوں کی لکڑی کاٹی جا رہی ہے۔“عمروعیارنے اپنے گنجے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا۔
ٹارزن ابھی جواب دینے ہی لگا تھا کہ چاند کی روشنی نے چاروں طرف اجلا کر دیا۔
”ارے۔۔۔عمرو۔۔۔کے۔۔۔بچے۔۔۔چاکلیٹ کب کھائی ہے؟“
ٹارزن نے عمروعیار کے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استفسار کیا۔
”کک۔۔کک۔۔۔چکک۔۔۔چاکلیٹ۔۔۔۔۔“عمروعیار گھبرا تے ہوئے چہرے پر ہاتھ لگا چکا تھا، اُس کی نظریں جھک گئی تھیں۔
”مجھے کہتے ہو کہ مل بانٹ کر کھانا چاہیے اوراپنی حالت یہ ہے کہ اندھیرے سے فائدہ اُٹھا رہے ہو۔“
ٹارزن اپنی بات مکمل کرتے ہی عمروعیار کی طرف بڑھا۔
عمروعیار تیزی سے دوڑا، اچانک اُس کا پاؤں پھسلا اوروہ دریائے ستلج کے اندر گرگیا۔
ٹارزن اُسے بچانے کے لیے پانی میں اترا لیکن عمروعیار کے بھاری جسم کی وجہ سے پانی میں غوطے کھانے لگا۔
٭……٭
”بچاؤ۔۔۔بچاؤ۔۔۔“
امی باورچی خانے سے باہر نکلیں کہ شاہ زین کی آواز نے اُنھیں ڈرا دیا تھا۔
جب وہ ڈرائنگ روم میں پہنچیں تو معلوم ہوا کہ شاہ زین گہری نیند میں بول رہاتھا۔
امی نے اپنی ہوائی چپل اتاری تاکہ اُس کی پٹائی کرسکیں،پھر اُس کے ادھورے خواب کا سوچ کر مسکرائیں اور شاہ زین کے پاس ہی لیٹ گئیں۔
ختم شد
