🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
بڑے بھیا ( پہلا حصہ )
جماعت ۷ تا ۱۰

بڑے بھیا ( پہلا حصہ )

کاوش صدیقی
11 جولائی، 2026۷۴ مرتبہ پڑھی گئی

بڑے بھیا ( پہلا حصہ ) سنیں

'' بھیا!آج چھُٹی کرلیں، دو دِن سے بخار ہے آپ کو...!'' میں نے بھیا سے کہا۔وہ فیکٹری جانے کے لیے، کپڑے بدلے، پلنگ پہ بیٹھے تھے۔

'' جانا ضروری ہے، مہینے کی آخری تاریخوں میں چھٹی کرلو تو ٹھیکے دار کا منہ بن جاتا ہے، پھر وہ حساب میں پریشان کرتا ہے ۔'' بھیا نے سمجھایا اور دِھیرے دِھیرے پانی کے گھونٹ بھرنے لگے ۔میں چپ ہی رہا ۔جب بھیا کوئی بات کہہ دیتے تھے تو پھر بحث کی گنجائش نہیں رہتی تھی ۔زرا دیر بعد وہ سائیکل سنبھال کر نکل گئے۔

بڑے بھیا کا نام تو محمد سراج الدین تھا لیکن ہم سب اُنھیں بڑے بھیا کہتے تھے ۔بڑے بھیا بہت زیادہ بڑے تو نہیں تھے ۔ وہ بی اے کر رہے تھے۔ میٹرک تک تو اسکول میں پڑھا، پھر جب ابا راج گیری کرتے ہوئے چھٹی منزل سے نیچے گرے تو ہمارے حالات بھی جیسے گرتے ہی چلے گئے۔اِتنی اُونچائی سے، گرنے سے ابا کی جان تو بچ گئی مگر ایک سریا پیٹ میں ایسا گھسا کہ کئی آپریشن کے باوجود ابا صحیح معنوں میں کام کرنے کے قابل نہ رہے ۔ایک مستقل زخم اُن کے پیٹ میں بن گیا تھا،اُس میں سے اکثر خون ملا پانی نکلتا رہتا ۔یوں ابا چارپائی کے ہوکر رہ گئے ۔ بھیا نے کالج جانے کا فیصلہ ترک کر دیا ۔وہ مختلف قسم کے تیزاب بنانے والی ایک فیکٹری میں نوکری کرنے لگے تھے۔ یوں گھر کا گزارہ چلنے لگا ۔میں پانچویں میں پڑھ رہا تھا ۔پڑھائی سے فارغ ہوکر میں ، ابا ، اماں، چھوٹی رابعہ کاغذ کے لفافے بناتے تھے ۔ میں وہ لفافے ہفتے میں دو دفعہ بیچ کر آتا تھا لیکن پلاسٹک کے لفافوں کی وجہ سے کاغذ کے لفافے اب بہت کم بکتے تھے ۔

'' اللہ غارت کرے انھیں ،پتا نہیں حکومت انھیں بند کیوں نہیں کرتی۔ غریب اب روٹی بھی نہ کھائے...'' اماں کہتے کہتے روہا نسو ہو جاتیں ۔ابا فورا کہتے :

''رابعہ کی ماں ! ایسا نہیں کہتے ۔ہر بندے کی روٹی روزی لگی ہے ۔ یوں کہو کہ یا اللہ! کوئی اچھا راستا دِکھا دے ۔ اُن کا کام چلے اور ہمارا بھی۔''

'' ہاں جی! آپ تو سب کو دُعائیں دیتے رہیں، ہمارے مکان پر بڑے بھائی نے قبضہ کر لیا حالانکہ ابا جی آپ دونوں کے نام آدھا ، آدھا لکھ گئے تھے مگر آپ کو بڑی بے فکری تھی کہ کیا ہوا، اگر گھر کے کاغذ بھیا کے پاس ہیں ۔مگر دیکھا! اِدھر ابا جی گزرے اور اُدھر بھیا جی نے لات مارکر گھر سے نکال دیا ۔'' اماں نے غصے سے کہا ۔

''اللہ سیٹھ جی کا بھلا کرے، اُنھوں نے اپنا کوارٹر رہنے کو دے دیا ۔تم مجھے شرمندہ کر دیتی ہو، مجھے کیا پتا تھا کہ اُن کے دِل میں کیا ہے ؟'' ابا نے دھیرے سے کہا ۔میں نے ابا کی طرف دیکھا ،وہ اپنے چہرے سے بہت اُداس نظر آ رہے تھے ۔میں نے لفافے پر لئی لگاتے ہوئے اماں سے کہا :

''ابا کی دَوا کا وقت ہوگیا ہے، کچھ کھانے کو دے دیجیے ۔''

'' نہیں رہنے دو ، دوا کون سا اَثر کرتی ہے اور ابھی بھوک بھی نہیں لگی ۔'' ابا نے آہستہ سے جواب دیا ۔

''اب میں ذرا بول دوں تو آپ ناراض ہو جاتے ہیں۔ دو منٹ میں روٹی ڈال دیتی ہوں، آپ کھانا کھائیں ، سمجھے کہ نہیں !'' اماں نے کہا ۔

'' میری باتوں پر ناراض نہ ہوا کریں۔''

ابا کچھ نہیں بولے ۔ بس ہنس دیئے ۔

O

تایا ابو کے حالات ہم سے اچھے تھے ۔ اُن کے تینوں لڑکے اچھی جگہ ملازمت کرتے تھے ۔ سائرہ سب سے چھوٹی تھی،وہ آنکھوں کی بیماری میں مبتلا تھی۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس کی سوائے آنکھوں کی تبدیلی کے، کوئی علاج نہیں ہے ۔ہاں! اگر کوئی اسے آنکھیں دے دے تو اِس کی روشنی واپس آسکتی ہے مگر بھلا اپنی آنکھیں کون دے سکتا ہے ؟سائرہ ہم سب کو بہت پیاری تھی ۔بھیا نے اسے اپنی گود میں کھلایا تھا۔ وہ اُسے کندھوں پر اُٹھائے اُٹھائے پھرتے تھے مگر پھر تایا ابو نے گھر کے لالچ میں ہمیں بے گھر کردیا ۔ہم سب اسے ہمیشہ یاد کرتے رہتے تھے ۔دو ،تین مرتبہ میں اور بڑے بھیا اُسے دیکھنے، اُس کے ساتھ کھیلنے گئے تو تائی امی کا لہجہ بہت سخت تھا :

''گھرمیں گھسنے کے لیے بہانے بہانے سے آنے کی ضرورت نہیں ، تمھاری اپنی بہن ہے، اُس کے ساتھ کھیلنے میں کیا مصیبت پڑتی ہے !'' اُنھوں نے بڑے غصے میں کہا ۔مجھے بہت بُرا لگا تھا مگر بھیا ہنس کر بولے :

'' ہم تو اپنی چھٹکی سے ملنے آئیں گے ، کیوں بھئی چھٹکی...'' بھیا نے ننھی سائرہ کو گدگداتے ہوئے کہا۔

''ہونہہ ...!'' تائی امی منہ بنا کر سامنے سے ہٹ گئیں ۔ہم دونوں سائرہ کے ساتھ کھیلنے لگے ، پھر اچانک بھیا نے تائی امی کے گھر جانا بند کردیا ۔اُس دن جب ہم تایا کے گھر گئے تو گھر میں کھانے بننے کی بڑی اچھی خوشبو آ رہی تھی ۔ ہمیں دیکھتے ہی تائی امی نے منہ بنا کر کہا :

''لگتا ہے کہ دروازے سے ناک لگائے بیٹھے رہتے ہیں، ذرا کھانے کی خوشبو ملی اور سونگھتے سونگھتے آ پہنچے۔''

بڑے بھیا نے ایک نظر تائی امی کی طرف دیکھا، ننھی سائرہ کو گود سے اُتارا ۔ جیب سے ٹافیاں اور بسکٹ کا پیکٹ نکال کر سائرہ کے ننھے ہاتھوں میں تھمایا اور بولے :

''ہم چلتے ہیں چھٹکی ۔ اب نہیں آئیں گے مگر ہم ہمیشہ تمہیں دیکھتے رہیں گے ، یاد کرتے رہیں گے ۔ اُنھوں نے کہا اور تایا ابو کے گھر سے نکل آئے ۔ذرا دُور آگے چل کے میں نے پوچھا :

''بڑے بھیا! آج آپ کو پہلی بار ناراض دیکھ رہا ہوں، آپ تو آج چھٹکی سے ملتے ہی چلے آئے، پہلے تو آپ کبھی ان سے غصہ نہیں ہوئے ؟'' بڑے بھیا نے میری طرف دیکھا اور بولے :

''چھوٹے! اُس جگہ کبھی نہ ٹھرنا جہاں تمھاری عزت نفس کو للکارا جائے ۔''

'' کیا مطلب !'' میں نے اُن کی طرف دیکھا اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے سوال کیا :

''عزت نفس کیا ہوتی ہے ؟'' بڑے بھیا نے سمجھایا :

''جب تمھیاری محبت ،پیار ، خلوص کو کسی لالچ کا نتیجہ سمجھا جائے ، ضرورت مند سمجھا جائے تو ایسی جگہ نہیں رُکنا چاہیے ۔''

''یہ تو صحیح کہہ رہے ہیں، ہم تو کبھی وہاں نہ کھاتے پیتے ہیں، نہ ہی کبھی کچھ مانگتے ہیں۔ اُلٹا ہم تو پورے ہفتے کی بچت سے چھٹکی سائرہ کے لیے ٹافی بسکٹ لاتے ہیں ،ہم تو مطلبی نہیں...'' میں نے غصے سے کہا ۔

'' چل چھوٹے، گھر چلتے ہیں ،لفافے بھی تو بنانے ہیں ۔'' بھیا نے منہ دوسری طرف کرکے کہا۔ میں نے دیکھ لیا کہ بڑے بھیا کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ وہ کبھی شکایت نہیں کرتے تھے، بس چپ ہو جاتے تھے ۔اماں اُن کی اِس بات سے بہت تنگ رہتی تھیں ۔

''ارے! کبھی تو غصہ کرلیا کر، چیخ چلّالیا کر ، اِتنا چُپ نہیں رہتے ۔''

بڑے بھیا چپ چاپ سر جھکائے ،اپنے کام میں لگے رہتے ۔

O

کچھ دِنوں سے بھیا کی طبیعت کچھ زیادہ خراب رہنے لگی تھی مگر وہ اپنے کام سے چھٹی نہیں کر رہے تھے ۔اُن کے بخار اور کھانسی کے ساتھ ساتھ سینے کے درد میں کافی اضافہ ہوگیا تھا ۔دَرد دُور کرنے والی دوائیں اَب اَثر نہیں نہیں کر رہی تھیں ۔اماں نے مجھ سے کہا:

'' چھوٹے! بھیا کے ساتھ جانا اور سننا ڈاکٹر کہتا کیا ہے ! مجھے تو ساتھ چلنے نہیں دیتا ۔تم مجھے آ کے بتانا۔ اللہ جانے یہ ڈاکٹر کے پاس جاتا بھی ہے یا پیسے بچانے کے چکر میں گھر کی فکر میں ہی بیماری سے یاری بنا لی ہے ۔'' اَماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔

بڑے بھیا سے ضد کرکے میں اُن کے ساتھ ہولیا۔ اُنھوں نے پہلے تو مجھے تیس روپے دے کر بہلانے کی کوشش کی مگر میں نے بھی اماں سے وعدہ کیا تھا، اِس لیے مان کے نہ دیا ۔ نا چار بڑے بھیا نے کہا :

'' ساتھ چلو مگر شرط یہ ہے کہ تم اماں کو کچھ نہیں بتائو گے ۔''

'' لو بھلا، اِس میں اب اماں کہاں سے آگئیں۔'' میں نے جھوٹ موٹ کچھ غصے اور کچھ منہ بناکر کہا ۔بڑے بھیا نے مجھے دیکھا اور ہنس پڑے ۔بھیا مجھے ہنستے ہوئے بہت اچھے لگتے تھے ۔اُن کے سفید چمک دار دانت جیسے موتی برا بر برابر رکھے ہوں :

''بڑے بھیا! آپ ہنسا کریں، سچی! آپ بہت اچھے لگتے ہیں ۔''

'' چھوٹے! جی تو چاہتا ہے کہ خوب ہنسوں، قہقے لگائوں مگر حالات اور سینے کا دَرد ہنسنے نہیں دیتا ، شدید کھانسی شروع ہو جاتی ہے ۔'' وہ دھیمی سی ہنسی کے ساتھ بولے ۔اِتنی دیر میں ،باتوں باتوں میں ڈاکٹر صاحب کا کلینک آگیا ۔وہاں کئی مریض بیٹھے تھے ۔گھنٹے بھر میں ہماری باری آگئی :

'' ارے واہ!آج تو سورج کے ساتھ چاند بھی آیا ہے ۔'' ڈاکٹر صاحب نے مجھے بھیا کے ساتھ دیکھ کر کہا ۔بھیا کا نام محمد سراج الدین اور میرا نام محمد قمر الدین تھا ۔ ڈاکٹر صاحب ہم دونوں کو اچھی طرح جانتے تھے ۔

''نیا ایکسرے لائے ہو ؟'' ڈاکٹر صاحب نے بھیا کو سامنے اسٹول پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا ۔

''مہینے بھر میں کیا فرق پڑ جائے گا۔ آپ تو ویسے ہی سب سمجھ لیتے ہیں۔'' بھیا نے ہنس کر کہا ۔ ڈاکٹر صاحب نے غور سے بھیا کو دیکھا اور بولے :

''اب تمھیں اسپتال میں داخلے کی ضرورت ہے ، یہ بیماری بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ تمھاری فیکٹری کے زہریلے کیمیکل تمھارے پھیپھڑوں کو تیزی سے کھا رہے ہیں ،کچھ نہیں کرسکتے تو تین ماہ کی چھٹی لے لو ورنہ اپنا شعبہ تبدیل کرا لو ۔'' ڈاکٹر صاحب نے صلاح دی ۔

''ہماری ادھر اچھی دیہاڑی لگ جاتی ہے ۔'' بھیا نے ہنستے ہوئے کہا ۔

'' یعنی کہ کام اُدھر ہی کرنا ہے۔'' ڈاکٹر صاحب نے دَوا کی پرچی لکھتے ہوئے کہا ۔پھر مجھ سے مخاطب ہو کر بولے :

'' قمر! تمھارے بڑے بھیا، بڑے اچھے ہیں، اِن کے ساتھ رہنا اور اِن کی خدمت کرنا ۔''

'' مجھے تو اپنا کام کرنے ہی نہیں دیتے بلکہ میرے کام بھی کر ڈالتے ہیں ۔'' میں نے فوراً شکایت کردی ۔ڈاکٹر صاحب ہنسنے لگے ، بڑے بھیا سے بولے :

''اپنا خیال رکھا کرو ۔''

ہم دونوں کمرے سے باہر نکل آئے۔ بڑے بھیا اُس گوشے میں چلے گئے جہاں دوا دی جا رہی تھی ۔میں نے بھیا کی طرف دیکھا ، وہ پرچی پکڑا کر بنچ پر بیٹھ گئے تھے ۔میں جلدی سے ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچ گیا اور اُن سے پوچھا :

''اماں نے پوچھا ہے کہ بھیا کو کیا بیماری ہے، سینے کا درد ٹھیک کیوں نہیں ہو رہا ہے ؟''

ڈاکٹر صاحب نے مجھے غور سے دیکھا اور پوچھا:

''بھیا سے پیار کرتے ہو ؟''

( جاری ہے)

لکھاری

کاوش صدیقی

کاوش صدیقی پاکستان کے سب سے مقبول اور بیسٹ سیلر کہانی کار ہیں ، آپ بڑوں اور بچوں کے لیےبہت معیاری کہانیاں و ناول لکھتے ہیں۔ ملنسار اور میٹھے انسان ہیں ، کہانی گھر میں اِن کی کہانیاں آتی رہیں گی۔