ہرے بھرے کھیتوں سے گزرتے ہوئے رانی چیونٹی اپنی مخصوص چال چلتی جا رہی تھی۔ باقی فوج اس کے پیچھے تھی۔ اچانک رانی کی نظر سامنے سے گزرتی ہوئی گڑ گڑ چیونٹی پر پڑی۔
"کہاں جا رہی ہو گُڑگُڑ۔۔۔؟کیا ہمارے ساتھ اناج ڈھونڈنے نہیں جاؤگی۔۔۔؟" رانی نے اسے روک کر پوچھا۔
"کہیں نہیں رانی۔۔۔ بس آج کچھ طبعیت خراب تھی۔ اس لئے کھیت میں ٹہلنے جا رہی ہوں. اور آج میں نہیں آسکتی آپ کے ساتھ۔"۔
"اچھا پھر تم جاؤ۔۔۔ یقیناً تازہ ہوا لینے سے تمہاری طبیعت ٹھیک ہو جائے گی۔" یہ کہہ کر رانی آگے چل دی۔ جب کہ گُڑگُڑ نے بھی اپنا راستہ لیا۔ (دراصل اس علاقے کا یہ قانون تھا کہ سب مل کر اناج اکھٹا کریں گے۔ اور علاقے کی رانی کو اناج دیا جائے گا۔)
"چیونٹی رانی۔۔۔ یہ جھوٹ کہہ رہی ہے۔ میں نے اسے خود صبح سر پر اناج لادے اپنی بِل میں جاتے دیکھا ہے۔" چیونٹی نمو جو رانی کے پیچھے ہی تھی نے آگے بڑھ کر رانی سے سرگوشی کی۔
"ہو سکتا ہے تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو"۔ رانی نے چونک کر پوچھا۔
"نہیں رانی۔۔۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے"۔نمو نے ٹھوس لہجے میں کہا۔
"لیکن وہ مجھ سے جھوٹ کیوں بولے گی۔۔۔؟"رانی پریشان سی ہوگئی۔
"یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں"۔ نمو مدھم آواز میں بولی۔
"معلوم کرنا پڑے گا کہ یہ ایسا کیوں کر رہی ہے۔۔۔ تم ایسا کرنا کل چیونٹی جاسوس کو اپنےساتھ رکھنا۔ اور گُڑگُڑ پر نظر رکھنا۔"رانی کی بات پر اس نے ہامی بھری۔
***
اگلے دن نمو اور جاسوس چیونٹی جھاڑیوں کے پیچھے گُڑگُڑ کا بِل سے نکلنے کا انتظار کر رہی تھیں۔وہ دونوں کچھ یوں چھپی ہوئی تھیں کہ گڑگڑ کی نظر ان پر نہ پڑے۔ حسب توقع کچھ دیر بعد ہی گُڑگُڑ اپنی بِل سے نکلی۔ اور نہایت محتاط انداز میں ادھراُدھر دیکھتے ہوئے ایک سمت چل دی، اسے بل سے نکلتے دیکھ کر نمو اور جاسوس اس کا تعاقب کرنے لگیں۔
کچھ ہی دور چلنے پر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ گُڑگُڑ نے زمین پہ پڑا ہوا اناج کا ایک دانہ اٹھایا اور اسےگھسیٹتے ہوئے اپنے بل کی سمت چلی پڑی۔
***
"کیا خبر لائی ہو دونوں"۔ انہیں دیکھتے ہی رانی بولی۔
"نمو ٹھیک کہہ رہی تھی۔۔۔! اسے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔گُڑگُڑ واقعی صبح صبح کہیں جاتی ہے اور اناج اپنے بِل میں چھپاتی ہے۔" جاسوس چیونٹی نے کہا اور جو دیکھا وہ سب رانی کو بتادیا۔
"مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔! اس نے مجھ سے جھوٹ کیوں کہا"۔ رانی نے کہا اور سوچ میں ڈوب گئی۔ وہ حیران اس بات پر نہیں ہوئی کہ وہ کھانا اکھٹا کر رہی ہے بلکہ اس کے جھوٹ پر اسے تعجب ہوا۔
"ہوسکتا ہے وہ ہمارے ساتھ جانا نہ چاہتی ہو"۔ چیونٹی نمو نے کہا۔
" لیکن رانی۔۔۔! گُڑگُڑ تو روز یہاں سے کھانا لے کر جاتی ہے"۔ ذخیرا چیونٹی (جو سارا اناج کا ذخیرہ سنبھالتی تھی اور کھانا تقسیم کرنا بھی اس کے سپرد تھا) نے کہا۔
"کیا۔۔۔؟اگر وہ کھانا یہاں سے لے کر جاتی ہے تو خود کا جمع کیا ہوا اناج کہاں لے کر جاتی ہے۔۔۔؟" یہ خبر رانی کے لیے حیران کُن تھی۔
"یہی بات تو سمجھ نہیں آ رہی" جاسوس نے سوچتے ہوئے کہا۔
"تم پتا کرو۔۔۔! آخر یہ اضافی اناج کا کیا کرتی ہے ۔۔؟"۔رانی نے جاسوس کی طرف دیکھ کر کہا ۔
"ٹھیک ہے رانی۔۔۔ میں ساری بات معلوم کر کے آپ کے پاس حاضر ہوتی ہوں"۔ یہ کہہ کر وہ چلی گئی۔
"کیا وہ اناج زخیرہ کر رہی ہے۔۔۔؟ لیکن کیوں۔۔۔؟ کہیں وہ میری جگہ تو لینا نہیں چاہتی ہے۔۔۔؟ ہو سکتا وہ یہ سوچتی ہو کہ جب اناج کی قلت ہو گی تو وہ سب کو اناج مہیا کرے گی اور سب اسے رانی تسلیم کرلیں گے!" رانی نے سوچا۔ وہ شدید تذبذت کا شکار تھی۔
***
آج موسم خراب تھا۔ جاسوس چیونٹی، گُڑگُڑ کے گھر سے نکلنے کاانتظار کر رہی تھی، بارش رکنے کے تھوڑی دیر بعد ہی گُڑگُڑ بِل سے نکلی۔ اور اسی راستے چل پڑی۔ اس کے جاتے ہی جاسوس اس کے بِل میں گئی۔ وہاں کا منظر دیکھ کر اس کی حیرت میں اور اضافہ ہوا۔ کیونکہ اس کے مطابق وہاں بہت زیادہ اناج ہونا چاہیے تھا۔ لیکن وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ بِل تو بالکل خالی تھی۔ جاسوس بِل کا اچھی طرح معائنہ کرنے لگی۔ اسے بِل کے اندر ایک گہری سُرنگ نظر آئی۔ اس سے پہلے کے وہ وہاں جاتی اسے کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی۔ آواز سن کر وہ وہاں بنی ایک اور چھوٹی سی سُرنگ میں چھپ گئی۔
"گُڑگُڑ تو یہاں بھی نہیں ہے۔۔۔!" ایک اجنبی اور ضعیف سی آواز سنائی دی۔ جاسوس چیونٹی اپنے علاقے کی تمام چیونٹیوں کو بہت اچھی طرح جانتی تھی۔
"آج موسم خراب ہے۔ ہو سکتا ہے وہ اناج کی تلاش میں ابھی ہی نکلی ہو"۔ یہ آواز بھی اجنبی تھی۔ چیونٹی جاسوس نے سُرنگ سے جھانک کر دیکھنا چاہا لیکن سامنے سے آتی گُڑ گُڑ کو دیکھ وہ دوبارہ سُرنگ کے اندر چلی گئی۔
"ارے۔۔۔ اماں بی۔۔۔!آپ کیوں آ گئیں۔۔۔؟ میں آنے ہی والی تھی"۔ گُڑگُڑ اناج گھسیٹتے ہوئے ان کے پاس آئی۔
"میں نے بہت منع کیا۔ لیکن یہ میری بات نہیں مانتی۔ انہیں تمہاری فکر تھی۔ ان کو لگا تم بیمار ہو اسی لئے ابھی تک نہیں آئی۔" کسی نے جواب دیا۔
"آج موسم خراب تھا۔ اسی وجہ سے دیر ہو گئی۔ اور اگر میں بیمار بھی ہوتی پھر بھی ضرور آتی۔" گُڑگُڑ نے کہا۔
"مجھے معلوم ہے میری گُڑگُڑ کو ہماری بہت فکر ہوتی ہے۔ تمہاری ہی وجہ سے ہی ہم زندہ ہیں۔ اگر تم نہ ہوتی تو آج ہم بھی نہ ہوتے"َ۔
"ایسا نہ کہیں آپ"۔ گُڑگُڑ کو ان کا یہ کہنا اچھا نہیں لگا۔
"سہی کہہ رہی ہیں یہ۔ اگر تم نہ ہوتی تو ہم تک اناج نہ پہنچتا۔ ہم بھوک سے مر جاتے۔ جو احساس ہمارے علاقے کی چیونٹیوں کو ہونا چاہیے تھا وہ تمہیں ہے۔ انہوں نے تو ہمیں ہمارے بڑھاپے میں چھوڑ دیا۔ حالانکہ ہمیں ان کی اس وقت سخت ضرورت تھی"۔ نم آنکھوں سے کہا گیا۔
"چلیں اب بس بھی کریں۔ آئیں کھانا کھالیں۔۔۔ پھر میں آپ کے بِل تک مزید کھانا بھی پہنچا دوں گی"۔ یہ کہہ کر گُڑگُڑ نے اناج کا دانہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ اور پھر کچھ ہی دیر بعد ان کو ساتھ لے کر گہری سُرنگ میں چلی گئی۔
یہ سب دیکھنے اور سننے کے بعد جاسوس چیونٹی کو یہ معلوم تو نہیں ہوا کہ وہ کون تھیں۔ لیکن یہ ضرور سمجھ آگئی کہ وہ پاس والے علاقے کی بزرگ چیونٹیاں تھیں۔ جن کو ان کے علاقے والوں نے بے آسرا چھوڑ دیا تھا۔ جاسوس کو گُڑگُڑ پر بہت فخر محسوس ہوا کہ ان کے علاقے میں اتنی احساس کرنے والی چیونٹی موجود ہے۔ وہ خوشی خوشی رانی کے پاس پہنچی اور ساری بات بتائی۔ جسے سن کر چیونٹی رانی کو خود پر افسوس ہوا کہ انہوں نے کس قدر غلط اندازہ لگایا۔ اور گُڑگُڑ کے بارے میں نجانے کیا کیا غلط سوچ لیا۔ لیکن وہیں خوشی بھی ہوئی۔
رانی چیونٹی نے بہت سوچ بچار کے بعد حکم دیا کہ آج کے بعد گُڑگُڑ کو اس کی ضرورت سے زیادہ اناج دیا جائے۔ اور اسے یہ بالکل نہ بتایا جائے کہ ہم سب کچھ جان چکے ہیں۔
