🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
پھولوں کا درد
جماعت ۱ تا ۳

پھولوں کا درد

ریحانہ شاہ
10 جولائی، 2026۶۸ مرتبہ پڑھی گئی

پھولوں کا درد سنیں

”آج تو تم بہت خوش لگ رہے ہو“۔چنبیلی نے گلاب کو یوں خوش دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا.

”ہاں! آج میری پنکھڑیوں میں اضافہ ہوا ہے ، میری خوشبو اور زیادہ پھیل گئی ہے جس سے میرا وجود نکھر گیا ہے ، یہی میری خوشی کی وجہ ہے۔“ گلاب نے گہری سانس لی۔

”کتنا اچھا ہو اگر ہم یوں ہی رہیں اپنے وجود کے ساتھ۔ کوئی ہمیں اِس سے جدا نہ کرے۔“ چنبیلی افسردہ ہوئی۔

"صحیح کہتی ہو چنبیلی ۔ ہماری یہ خوشی وقتی ہوتی ہے جیسے ہی ہم بڑے ہو جاتے ہیں ہمیں ہمارے خاندان سے جدا کر دیا جاتا ہے۔“ گلاب نے ایک نظر اپنے بڑھتے ہوئے وجود کو دیکھا۔

”انسان کتنا خود غرض ہے، اپنی خوشی کی خاطر ہمارے وجود کو روندھ دیتا ہے۔“ چنبیلی نے سرد آہ بھری۔ گلاب کچھ کہنے کے لیے لب کھولنے ہی لگا تھا کہ ایک بچے کی آواز سن کر خاموش ہو گیا۔

”نایاب آپی! یہاں دیکھیے ، کتنے خوبصورت گلاب ہیں۔“

”واقعی! بہت خوبصورت ہے شہزاد۔“ نایاب نے گلاب کو نرمی سے چھوتے ہوئے کہا۔

”مجھے ایک توڑ دیں۔۔۔ میں امی جان کو دوں گا۔“ شہزاد کا ہاتھ چونکہ گلاب تک نہیں پہنچ رہا تھا۔ اس لیے اُس نے نایاب سے فرمائش کی۔

”نہیں شہزاد۔۔۔ پھول نہیں توڑنے چاہئیں۔“ نایاب نے شائستگی سے کہا۔

”لیکن کیوں آپی۔۔۔؟ پھول کیوں نہیں توڑنے چاہئیں؟“ شہزاد نے منہ پھُلاتے ہوئے پوچھا۔

”کیونکہ یہ بھی جاندار ہیں ، اِنھیں بھی تکلیف ہوتی ہے“۔ نایاب نے نرمی سے سمجھایا۔

”لیکن آپی پھول تو سب توڑتے ہیں، پھر میں کیوں نہیں توڑ سکتا؟۔“ شہزاد نے سوالیہ نظروں سے نایاب کو دیکھا۔

”شہزاد! ضروری نہیں کہ جو کام دوسرے کر رہے ہوں ، وہ درست ہی ہوں۔ ہمیں جانتے بوجھتے غلطی نہیں کرنی چاہیے۔“ نایاب نے شہزاد کو سمجھاتے ہوئے کہا۔

”اچھا! مجھے بتاؤ ، تم اپنی امی جان سے کتنی محبت کرتے ہو۔“ نایاب آپی شہزاد کو غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔

"میں اپنی امی جان سے بہت محبت کرتا ہوں“ شہزاد مسکرا دیا۔

”یہ جو گلاب ہے ناں۔۔۔ یہ بھی اپنی امی جان سے بہت محبت کرتے ہیں۔ تم اگر اِسے اس سے جدا کرو گے تو اسے کتنی تکلیف ہو گی! تم چاہو گے کہ اسے تکلیف ہو۔“ نایاب نے شہزاد کے گال تھپتھپائے۔

”نہیں آپی ! میں ایسا بلکل نہیں چاہوں گا بلکہ اب میں باقی بچوں کو بھی منع کروں گا کہ وہ پھول نہ توڑیں۔“ شہزاد نے مسکرا کر پھولوں کی طرف دیکھا۔

”شاباش ! شہزاد تم بہت اچھے بچے ہو۔“ نایاب نے پیار سے اُس کےسر پر ہاتھ پھیرا۔

”دیکھا چنبیلی ۔۔۔ کچھ لوگ ابھی بھی موجود ہیں جو ہمارے درد کو سمجھتے ہیں۔“ گلاب نے مسکرا کر شہزاد کی طرف دیکھا جو سب بچوں کو پھول توڑنے سے منع کر رہا تھا۔

لکھاری

ریحانہ شاہ

ریحانہ شاہ ہے کا تعلق خیبرپختونخوا کے خوبصورت علاقے 'تربیلا غازی' سے ہے۔اُنھوں نے 2022میں بی ایس کیا۔لکھنے کا شوق اُنھیں بچپن ہی سے تھا لیکن2021میں لکھنے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ ان کی بہت سی کہانیاں پاک