سرخ انڈوں کی بہار سے ٹوٹو کا باغ مہک رہا تھا۔ صبح جب ٹوٹو اپنے نیلے ، پیلے ، کالے اور رنگ رنگ کے پودوں۔کو واٹر۔کین سے پانی دے رہا تھا تو۔اْس نے عجب منظر دیکھا کہ پھول انڈوں میں آج ایک نئے انڈے کا اضافہ تھا اور وہ سنہری انڈا تھا ۔۔جو سورج کی شعاعیں پڑنے سے چمک رہا تھا ، سورج کی کرنیں منعکس ہو کر جھلملا رہی تھیں ۔
ٹوٹو نے ٹمی کو آواز دی کہ دیکھو یہ سنہری انڈا کیسے جگمگا رہا ہے ۔
ٹمی ٹوٹو کا چھوٹا بھائی تھا جو ٹوٹو کا ہمراز تھا اور وہ دونوں انڈوں کے باغ ، زرنش پری سے دوستی اور تاتوری جّن سے بیر رکھنے کے سارے قصے کے شریک کار تھے ۔
کہانی کچھ یوں تھی کہ ٹوٹو اور ٹمی اکثر بھری دوپہر میں اپنے وسیع و عریض لان میں مٹی کے گھروندے بنا کر کھیلا کرتے تھے اگرچہ مما نے سختی سے منع کر رکھا تھا کہ دوپہر کے وقت باغیچے میں نہ جایا کرو ، اِس سمے جن و پریاں جامن کے پیڑوں سے جامن لینے آتی ہیں ۔
وہ چھوٹے بچوں پر فدا ہو کر اْنھیں اپنے ساتھ پرستان لے جاتی ہیں اور قید کر لیتی ہیں ۔ مگر ٹوٹو ٹمی چپ چاپ دبے قدموں کمرے سے نکل آتے اور مٹی کے گھروندے بناتے ۔ ایک دوپہر وہ جب باغ میں آئے تو اْنھوں نے د یکھا کہ اْن کا پہلے سے بنایا ہوا گھروندہ مسمار ہو گیا ہے اور گھروندے کی جگہ یر گھڑا رکھا ہے جس پر سبز ریشمی رومال پڑاہے ۔۔۔ نہ دونوں حیران تھے کہ یا اللہ یہ ماجرا کیا ہے ؟
وہ کچھ ڈرے ڈرے ، سہمے سہمے ، دھیرے دھیرے آگے بڑھے اور حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے گھڑے کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک سبز ریشمی رومال ہوا میں لہرانے لگا اور آہستہ آہستہ اْوپر اْٹھنے لگا ۔ پھر رومال آسمان کی جانب اْڑتا ہوا بہت دور نکل گیا تو ٹوٹو ٹمی نے گھڑے میں جھانکا اور پھر بے ہوش ہو گئے ۔
جب ٹوٹو ٹمی کو ہوش آیا تو خود کو ایک بہت کشادہ پتھروں کی غار میں پایا ۔ جہاں دور سے نیلی روشنی کی شعاعیں چھن چھن کر آ رہی تھیں ۔ اْن کے قریب ایک مور دانہ چگنے میں مگن تھا ۔ اِس مور کے پر ست رنگی تھے اور پل پل رنگ بدل رہے تھے جس سے عجب سماں بندھ گیا تھا ۔ ٹوٹو ٹمی نے اپنے پیچھے دیکھا کہ ایک سرخ پتوں والا پیڑ لگا ہے جس کے تنے پر ان گنت سانپ لپٹے ہوئے ہیں ۔
ابھی دونوں بھائی حیرتوں میں ڈوبے ہوئے ہی تھے کہ مور اْن کی نزدیک آ گیا اور بولا ۔۔۔۔۔ تم اِس درخت کو دیکھ کر حیران ہو رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ مور کو بولتا دیکھ کر تو ٹوٹو ٹمی پر مذید حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹنے لگے ۔
تب مور آگے بڑھا اور بچوں سے کہنے لگا ۔ تمھیں ہ سب دیکھ کر حیرانگی ہو رہی ہے نا ؟
میں بتاتا ہوں ۔۔۔۔۔ یہ درخت ایک لڑکا ہے ۔ جو اپنے ماں باپ کا نافرمان بیٹا تھا یہ سانپ اْسے ڈس رہے ہیں ۔ ضدی ، خودسر ، بے ادب ، بداخلاق اور بدتمیز بچوں کا یہی انجام ہونا چاہیئے ۔۔۔۔۔۔ پھر مور ہنسنے لگا
اب تم بھی اِس درخت کا سرخ پتا بن کر ہمیشہ ہمیشہ کیلیے قید ہو جاؤ گے ۔۔۔۔مور پھر ہنسا اور ٹوٹو ٹمی زار و قطار رونے لگے ۔۔۔۔۔ دونوں بھائی رو رہے تھے۔ اور مور ہنستے ہنستے وہاں سے چلا گیا ۔
دونوں بھائی اتنا روئے کہ اْن کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔۔ اور پھر دونوں کی روتے روتے آنکھ لگ گئی ، ٹوٹو ٹمی کو ایسے لگا جیسے کوئی اْن پر پنکھا جھل رہا ہے اْنھوں نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں جھپجھپائیں ، اْنھیں ایک پری اپنے پروں سے ہوا دیتی دکھائی دی ۔۔۔وہ اْٹھ بیھٹے ۔۔۔ ڈرو نہیں۔۔۔۔۔۔ میں زرنش پری ہوں اور وہ مور تاتوری ج٘ن ہے جو بگڑے ہوئے بچوں کو سزا دیتا ہے۔۔۔۔
او ر میں زرنش پری اْن بچوں کی مدد کرتی ہوں جو اپنی غلطیوں پر نادم ہو کرتوبہ تائب کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔تم نے اپنی مما کا کہا نہیں مانا اور دوپہر کو جب سب گھر والے آرام کر رہے ہوتے ہیں تم چھپ کر گرمی میں باہر
آ جاتے ہو ۔ مما کو دھوکہ دیتے ہو ۔ اچھے بچےایسا نہیں کرتے ۔
ٹوٹو ٹمی روتے ہوئے بولے ۔۔
اے بہت ہی پیاری اور مہربان پری ۔۔۔ ہم اپنے کئے کی معافی مانگتے ہیں ، آئندہ کبھی ماں باپ کی نافرمانی اور حکم عدولی نہیں کر ینگے ۔۔۔ٹوٹوٹمی۔نے وعدہ کیا تو زرنش آگے بڑھی اور اپنے پر پھیلا کر دونوں بچوں کو اپنی آغوش لیتے ہوئے بولی ۔۔۔۔شاباش !
تم اچھے بچے ہوں میں تمھیں تاتوری ج٘ن سے نہ صرف رہائی دلواؤںگی بلکہ تمھیں ایک تحفہ بھی دوں گی ۔ کہو کیا مانگتے ہو ؟؟
ٹوٹو ٹمی جو بہت ڈرے ہوئے تھے اب ایک دم خوش ہو کر کنفونس ہو رہے تھے ۔اْنھیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا کہیں ۔ٹوٹو کو انڈے کھانے کا شوق تھا اور ٹمی کو پھولوں کا تو دونوں یک زبان ہو کر بولے ۔۔۔ آ ۔۔۔۔ آ ۔۔۔۔۔انڈ ۔۔۔۔۔۔۔پھ ۔۔۔۔۔۔ پھ ۔۔۔۔۔پھو ۔۔۔۔۔۔پھو ۔۔۔۔پھول ۔۔۔۔۔۔۔ انڈا پھول ۔۔۔۔ہاں ۔۔ہاں ۔۔۔انڈا پھول ۔۔۔۔۔۔۔ زرنش نے کہا اچھا ۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں بند کرو ۔
اور جب میں کہوں تو آنکھیں کھول لینا ۔۔۔۔۔۔ ٹوٹو ٹمی نے اپنی آنکھیں مینچھ لیں ۔۔۔
پھر زرنش پری کے کہنے پر آنکھیں کھولیں تو اپنے گھر کے وسیع و عریض لان میں خود کو پایا ۔۔جہاں رنگ رنگ پھول انڈے کھلے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔💠۔۔۔۔۔۔۔

