🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
خاکستری چڑیا
جماعت ۴ تا ۶

خاکستری چڑیا

تابندہ طارق عکس
7 جولائی، 2026۵۱ مرتبہ پڑھی گئی

خاکستری چڑیا سنیں

رُومی کو رنگ برنگی چڑیاں بہت پسند تھیں۔ وہ اُن کی چوں چوں سُن کر کھلکھلا اُٹھتی تھی۔ گھر کے صحن میں جب کبھی کوئی چڑیا، پودوں پر آکر بیٹھتی تو وہ اُس کے پیچھے بھاگنے لگتی۔ چڑیا اُس کے ننھے قدموں کی آہٹ سنتے ہی پھُر سے اُڑ جاتی۔ چڑیا کے اُڑتے ہی رُومی کے چہرے کی مسکراہٹ بھی جیسے اُڑ ہی جاتی تھی۔

وقت کے ساتھ ساتھ چڑیوں سے اُس کی محبت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ وہ صبح سویرے اُٹھتے ہی چھت پر چلی جاتی کیوں کہ اُس وقت آسمان پر رنگ برنگی چڑیاں اُڑ رہی ہوتی تھیں۔ کچھ تو اُن کے گھر کی چھت پر بھی آ بیٹھتی تھیں۔

رُومی کے سامنے والے گھر میں چچا رحیم رہتے تھے۔اُن کے پاس ایک مٹیالی رنگ کی چڑیا تھی۔ رومی جب بھی اُسے دیکھتی تو دِل ہی دِل میں سوچتی تھی:

''ماشاء اللہ!یہ چڑیا کتنی اَنوکھی ہے۔ کاش!ایسی ایک چڑیا میرے پاس بھی ہوتی۔ میں صبح صبح اُسے دانہ ڈالتی۔

یہ خواہش اُس کے دِل میں ایک اُداسی بھر دیتی۔ وہ حسرت بھری نگاہوں سے چڑیا کو دیکھتی اور پھر خاموشی سے نیچے آ جاتی۔

ایک دِن اُس کی امی نازیہ بیگم نے اُس کا اُترا ہوا چہرہ دیکھا تو پیار سے بولیں:

''رومی!کیا بات ہے!اِتنی اُداس کیوں ہو؟''

رومی نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا:

''کچھ نہیں امی۔''

''کچھ تو ہے، اپنی امی کو نہیں بتائو گی؟''نازیہ بیگم نے شفقت سے اُس کی ٹھوڑی اُوپر کرتے ہوئے کہا۔

رُومی دھیرے سے بولی:

''امی!میرے پاس ایک بھی چڑیا نہیں ہے۔ مجھے بھی خاکستری رنگ کی چڑیا چاہیے۔''

نازیہ بیگم مسکرائیں اور نرمی سے بولیں:

''بیٹا!چڑیا کواللہ نے آزاد پیدا کیا ہے، اُسے قید کرکے رَکھنا ٹھیک نہیںہے۔''

رُومی فوراً بولی:

''لیکن امی!اگر یہ غلط ہے تو رحیم انکل کے پاس بھی تو چڑیا ہے۔''اُس کی بات سُن کر نازیہ بیگم محبت سے اُسے سمجھانے لگیں:

''بیٹا!دُوسروں کے عمل کی ذمہ داری ہماری نہیں ہے، ہمیں خود یہ سوچنا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔''اُن کی بات سُن کررومی خاموش ہوگئی۔اُس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ یہ دیکھ کر نازیہ بیگم نے اُسے گلے لگا لیا۔ وہ جانتی تھیں کہ ُان کی بیٹی کی یہ خواہش شاید پوری نہ ہو مگر وہ اپنی بیٹی کی خوشی کے لیے کسی بے زبان پرندے کی آزادی نہیں چھیننا چاہتی تھیں۔

کچھ دیر بعد رُومی گھر سے باہر نکل گئی۔ سامنے والے گھر میں ابو احد کھیل رہا تھا۔ وہ اُسے دیکھ کر اُس کے پاس چلی گئی:

''ابو احد!کیا میں تمھارے گھر کھیلنے آ جائوں؟''

''ہاں! آجائو۔'' ابو احد خوشی سے بولا۔

دونوں کھیلتے کھیلتے باتیں کرنے لگے۔ اچانک رومی نے پوچھا:

''ابو احد!تمھارے گھر جو خاکستری چڑیا ہے، وہ اب کہاں ہے؟''

ابو احد نے چھت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

''اوپر ہے! اُس کا گھر چھت پر ہے۔''

رومی فوراً بولی:

''کیا اُسے مجھے دِکھائو گے؟''

''کیوں نہیں ، چلو۔'' دونوں چھت پر چلے گئے۔وہاں جا کر رومی حیران رہ گئی۔ چڑیا کی چونچ پر ایک خاکی رَنگ کا دھاگا لپٹا ہوا تھا۔ چچا رحیم اُسے دانہ ڈال رہے تھے مگر چڑیا دانہ کھانے کی کوشش کے باوجود کامیاب نہیں ہو پا رہی تھی۔رومی پریشانی سے بولی:

''یہ چڑیا کی چونچ پر دھاگا کیوں بندھا ہے؟''

ابو احد نے کندھے اچکائے اور کہا:

''مجھے نہیں پتا۔''

رومی آہستہ سے چچا رحیم کے پاس گئی اور پوچھنے لگی:

''انکل!چڑیا کی چونچ پر دھاگا کیوں بندھا ہے؟''

چچا رحیم گھبرا گئے مگر وہ خاموش رہے۔اُنھوں نے رومی کو کوئی جواب نہ دیا۔

رومی معصومیت سے بولی:

''انکل!اگر چڑیا دانہ ہی نہیں کھا سکتی تو پھر دانہ ڈالنے کا کیا فائدہ؟''

چچا رحیم چند لمحے خاموش کھڑے رہے، پھر اُنھوں نے دھاگا کھول دیا۔ چڑیا نے فوراً دانہ کھانا شروع کردیا۔اُسے دانہ کھاتے دیکھ کر رومی کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔ اُس نے بھی تھوڑے سے دانے اُٹھائے اور چڑیا کی پلیٹ میں ڈال دیے۔اس کے بعد وہ گھر واپس آگئی۔اُس نے سارا واقعہ اپنی امی کو سنایا اور پوچھا:

''امی!انکل ایسا کیوں کر رہے تھے؟''

نازیہ بیگم نے گہرا سانس لیا اور کہنے لگیں

''بیٹا!اِسے رِیاکاری کہتے ہیں۔''

رومی حیرت سے بولی:

''اَمی! یہ ریاکاری کیا ہوتی ہے؟''

''جب کوئی انسان لوگوں کو دِکھانے کے لیے نیکی کرے مگر دِل سے سچا نہ ہو تو اُسے ریاکاری کہتے ہیں، چچا رحیم چاہتے تھے کہ لوگ اُنھیں نیک سمجھیں مگر وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ چڑیا اَناج نہ کھا سکے۔'' امی نے کہا۔

رومی کچھ دیر سوچتی رہی، پھر بولی:

''امی!اُن کا نام رَحیم ہے نا؟ رَحیم کا مطلب تو رَحم کرنے والا ہوتا ہے۔ کیا رحم کرنے والے ایسے ہوتے ہیں؟''

نازیہ بیگم نے نرمی سے کہا:

''نہیں بیٹا!رَحم کرنے والے کبھی کسی بے زبان کو تکلیف نہیں دیتے۔''

''پھر اللہ اُن سے کیسے راضی ہوگا؟'' رومی اُلجھ سی رہی تھی۔

''جب وہ اپنی غلطی مان کر اُس چڑیا کو آزاد کر دیں گے اور اللہ سے معافی مانگیں گے، تب اللہ اُن سے راضی ہوگا۔''

امی کی بات سُن کر رومی خاموش ہوگئی۔ پھر اُس کے ذہن میں ایک خیال آیا ۔وہ فوراً چچا رحیم کے گھر گئی۔سب کی نظر بچا کر، دَبے پائوں چھت پر پہنچی اور پنجرے کا دروازہ کھول دیا۔ دروازہ کھُلتے ہی خاکستری چڑیا پھڑپھڑاتی ہوئی باہر نکلی اور آہستہ آہستہ کھلے آسمان کی طرف اُڑنے لگی۔رومی خوشی سے مسکرائی اور نیچے بھاگی:

''انکل!میں نے چڑیا کو آزاد کر دی ہے، اَب اللہ آپ سے ناراض نہیں ہوں گے۔''

اُس کی بات سُن کر چچا رحیم پہلے تو حیران ہوئے پھر غصے سے لال پیلے ہوگئے:

''رومی!تم نے میری چڑیا کیوں اُڑائی؟''

اُنھیں غصے دیکھ کررُومی ڈر گئی ، پھر جاتے جاتے دھیرے سے بولی:

''انکل!آپ کا نام رحیم ہے نا اور رحیم، رحم کرنے والوں کو کہتے ہیں۔''

رُومی کے لہجے میں جانے کیا تھا کہ اُس کے الفاظ چچا رحیم کے دِل میں تیر کی طرح اُتر گئے۔ اُن کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں ۔پھر جیسے اُن کا ضمیر جاگ اُٹھا۔ اُنھیں احساس ہوگیا کہ اُنھوں نے واقعی ایک بے زبان پرندے کے ساتھ ظلم کیا تھا۔

وہ فورا ًچھت پر گئے۔ مٹیالی چڑیا آسمان میں اُڑ رہی تھی۔چچا رحیم کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ وہ دِل ہی دِل میں اللہ سے معافی مانگنے لگے۔

اُس دِن کے بعد چچا رحیم نے کبھی کسی پرندے کو قید نہیں کیا تھا۔

OOO

لکھاری

تابندہ طارق عکس

تابندہ طارق عکس کا تعلق چکوال سے ہے۔ بچوں اور بڑوں کے لیے لکھتی ہیں۔اِنھوں نے لکھنے کا آغاز 2021میں ماہ نامہ فکر نو میگزین سے کیا تھا۔اِن کی پہلی تحریر 'اقبال کا عشق'شائع ہوئی تھی۔ بہت سے میگزین میں ت