پرانے وقت کی بات ہے، دُور دراز پہاڑوں کے دامن میں بسے گائوں میں باسط نامی نوجوان رہتا تھا۔ وہ بچپن سے ہی جادوئی کہانیوں کا شوقین تھا۔ سب سے زیادہ وہ پرستان کے جادوئی جنگل کی کہانیوں سے متاثر تھا۔ گائوں کے بزرگ بتایا کرتے تھے کہ اس جنگل میں ایسی پریاں بستی ہیں جو سچے لوگوں کی مدد کرتی ہیں اور جن کے پاس نہ ختم ہونے والی جادوئی طاقتیں ہیں مگر اس جنگل کا راستا بہت دشوار اور خطرات سے بھرا ہوا تھا۔ باسط نے ہمیشہ یہ کہانیاں سنتے ہوئے سوچا تھا کہ اگر اُسے موقع ملے تو وہ ضرور اس جادوئی جنگل کو تلاش کرے گا۔
ایک دن باسط کو اپنے گائوں کے ایک بزرگ سے پرانی کتاب ملی۔اس کتاب میں جنگل کا راستا اور اُس کے بارے میں بہت سی اہم باتیں لکھی تھیں۔اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس مہم پر نکلے گا۔ راستا کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، وہ یہاں تک ضرور جائے گا ۔ اپنے سفر کے لیے اس نے کچھ کھانے پینے کا سامان اور چھوٹی سی چمڑے کی ڈھال اُٹھائی۔ اس نے اپنے گائوں والوں سے الوداعی ملاقات کی اور پرستان کے جادوئی جنگل کی تلاش میں نکل پڑا۔
باسط کا سفر پہاڑی راستے سے شروع ہوا جو گھنے جنگلوں کی طرف جاتا تھا۔ پہلے دن کا سفر نسبتاً ًآسان تھا مگر رات ہوتے ہی جنگل کا منظر بدلنے لگا۔ ہوا میں عجیب سی خوشبو اور ہلکی ہلکی روشنی ہر طرف پھیل گئی۔باسط نے دیکھا کہ درختوں کی شاخوں پر ننھی ننھی جگنوں جیسی مخلوقات چمک رہی ہیں۔ وہ حیران ہوا اور سمجھ گیا کہ وہ جادوئی جنگل کے قریب پہنچ چکا ہے۔
دوسرے دن صبح ہوتے ہی اُس نے سفر دوبارہ شروع کیا۔ ابھی وہ کچھ ہی دُور گیا تھا کہ اُس کا سامنا بڑے اور خوفناک درخت سے ہوا۔ درخت نے اپنی لمبی جڑوں سے باسط کا راستا روک لیا۔ باسط نے کتاب میں پڑھی ہوئی بات یاد کی کہ جنگل کے درخت اس وقت راستا دیتے ہیں جب اُن سے محبت اور احترام سے بات کی جائے۔ اُس نے درخت کے سامنے جھک کر کہا:
'' اے بزرگ درخت! میں جادوئی جنگل کی تلاش میں ہوں تاکہ پریوں سے مل سکوں، براہ کرم مجھے راستا دے دیں۔''
درخت نے ہلکی سی آواز نکالی اور اپنی جڑیں پیچھے ہٹالیں ۔ باسط کے لیے راستا کھل گیا تھا۔
اُس کا سفر ابھی مزید دشوار تھا۔ جوں جوں وہ آگے بڑھتا جا رہا توں توں جنگل پراسرار ہورہا تھا۔ راستے میں اُسے بہت سی عجیب و غریب مخلوقات ملیں۔ کبھی کسی جھیل کے کنارے کھلتے پھولوں کی پریوں نے اُس کا خیر مقدم کیا تو کبھی چمکدار ہرن نے اُس کی رہنمائی کی۔ وہ ہر جگہ محبت اور نرمی سے پیش آیا۔ اِس لیے جنگل کے جادوئی راز اس پر کھلتے چلے گئے۔
آخر کار تیسرے دن وہ ایسی جگہ جاپہنچا جہاں ہر طرف روشنی اور رنگ بکھرے ہوئے تھے۔ یہ وہ مقام تھا جسے جنگل کا سب سے پوشیدہ حصہ کہا جاتا تھا۔ چمکدار درخت کے نیچے پریوں کی ملکہ نورانی کھڑی تھیں۔ باسط اُن کی خوبصورتی اور جادوئی چمک سے حیرت زدہ رہ گیا۔
ملکہ نورانی نے اُس سے کہا:
''اے نوجوان! تم نے اپنی بہادری، محبت اور خلوص کے ساتھ اِس جنگل کا سفر کیا ہے۔ ہم پرستان کی پریاں تمھاری ہمت کی قدر کرتی ہیں۔''
باسط نے جھک کر پریوں کی ملکہ کو سلام کیا اور اپنی درخواست پیش کی کہ وہ اس جادوئی جنگل کی کہانیاں لے کر دُنیا کو سُنائے گا تاکہ لوگوں کے دلوں میں اُمید اور خوشی بنی رہے ۔
ملکہ نورانی نے باسط کو چمکدار پتھر دیا اور کہا:
'' یہ پتھر تمھیں ہمیشہ روشنی اور محبت کی راہ دکھائے گا۔ جائو اور دُنیا کو بتائو کہ جادوئی جنگلوں میں وہ طاقت ہے جو انسانوں کے دلوں کو بدل سکتی ہے۔''
باسط نے وہ پتھر اپنے دل کے قریب رکھا اورواپس گائوں کی طرف سفر کرنے لگا۔ لوگوں کو جلد جادوئی جنگل کی کہانیاں سننے کو ملنے والی تھیں۔
OOO
