''آج پھر ساگ بنا ہے!''
سامنے پڑی پلیٹ میں دُھواں اُڑاتا گرم ساگ دیکھ کر اُس نے ناگواری سے منہ بناتے ہوئے کہا۔
''امی جان ! مجھے یہ نہیں کھانا ہے۔'' اُس نے پلیٹ پیچھے دھکیل دی۔
''صبا بیٹی! کھانے کو دیکھ کر منہ نہیں بنایا کرتے، جو مل جائے، صبر و شکر سے کھا لیتے ہیں ۔'' صبا کی امی صائمہ نے کچن کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے کہا۔
''امی جان! ہمارے گھر میں تو روز ہی ساگ بنتا ہے، مجھے نہیں کھانا ہے آج ۔''
'' روز کب بنتا ہے ، ایسا جھوٹ! توبہ کرو، پورے چار دن بعد بنایا ہے میں نے ۔''صبا کی امی نے غصے سے کہا۔
'' میں نے کہہ دیا ہے بس، آج مجھے یہ نہیں کھانا۔ فرائز دیں یا پھر پیزا منگوا کر دیں۔'' صبا نے گویا اپنی امی جان کو حکم دیتے ہوئے کہا ۔پھر وہ اُٹھ کر باہر چلی گئی۔
''اُف! اِس لڑکی کا میں کیا کروں!'' اُسے یوں جاتے دیکھ کر صائمہ بیگم نے سرد آہ بھری ۔
O
وہ منہ بنائے گھر کی سیڑھیوں پر جاکر بیٹھ گئی۔
''صبا !کیا ہوا ! یہاں کیوں بیٹھی ہو؟ اور یہ تمھارے چہرے پر اُداسی کیسی؟''قریب سے گزرتی مسکان نے اُس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا۔
''کچھ نہیں ہوا۔''صبا نے آہستہ سے کہا۔
'' کچھ نہیں ہوا تو پھر یہ منہ کیوں لٹکایا ہوا ہے ؟'' مسکان نے اُس کی طرف جھک کر دیکھا ۔
''یار! آج بھی گھر میں ساگ بنا ہے ، میں تو روز روز ساگ کھا کر تنگ آگئی ہوں۔''اُس نے ہاتھوں کو تھوڑی سے ہٹاتے ہوئے کہا۔
'' اُف! اتنی سی بات پر تم یوں اُداس بیٹھی ہو۔''مسکان مسکرائی۔
'' یہ اتنی سی بات یہ! امی جان کو معلوم ہے ، مجھے ساگ پسند نہیں تو پھروہ بار بار کیوں بناتی ہیں۔'' وہ چڑ سی رہی تھی۔
''ویسے یار! تم بہت ناشکری ہو، قسم سے۔''مسکان اُسے بغور دیکھ رہی تھی۔
''اِس میں ناشکری کی کیا بات ہے! مجھے نہیں پسندساگ اور بس۔''صبا نے اُسے گھورتے ہوئے کہا۔
'' یہ ناشکری ہی تو ہے، تمھیں شکر ادا کرکے کھانا چاہیے کہ تمھیں کھانا نصیب ہو رہا ہے ورنہ کتنے ایسے لوگ بھی ہیں جو کھانے سے محروم ہیں۔'' مسکان کے لہجے میں جانے کیا تھا کہ صبا نے چونک کر اُسے دیکھا۔ اِس سے پہلے کہ اُن دونوں کے درمیان اِس بات پر بحث ہوتی ، گھر کے اندر سے صبا کی امی کی آواز ئی:
''کہاں ہو تم صبا!''
امی کی آواز سن کر صبا جلدی سے اُٹھی اور گھر کے اندر چلی گئی۔
o
وہ تازہ ہوا لینے گھر کے بر آمدے میں بیٹھی تھی۔اُس نے دیکھا، ایک چھوٹی سی بچی پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس کچرے کے ڈبے میں ہاتھ ڈال کر کچھ ڈھونڈ رہی تھی ۔وہ بُرے بُرے منہ بنانے لگی:
'' یہ پاگل! کچرے کے ڈبے میں کیا تلاش کر رہی ہے ؟ ''
لڑکی کافی دیر تک کچھ ڈھونڈتی رہی ، پھر یک دم کسی چیز کو دیکھ کر مسکرانے لگی ۔اُسے یوں مسکراتے دیکھ کر صبا کی آنکھیں تجسس میں مبتلا ہوگئیں کہ اُس نے کچرے کے ڈبے میں ایسا کیا دیکھ لیا کہ مسکرانے لگی۔وہ تھوڑا قریب ہو کر لڑکی کودیکھنے لگی۔ جیسے ہی اُس کی نظر ایک گلے سڑے ہوئے کیلے پر پڑی تو وہ حیران رہ گئی۔ بچی کیلا ہاتھ میں لیے ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے کوئی بہت قیمتی چیز مل گئی ہو ۔ یہ منظر دیکھ کر اُس کے کانوں میں مسکان کی بات گونجنے لگی :
''تم بہت ناشکری ہو!''
ایک پل کو صبا ساکت سی رہ گئی۔
''مسکان ٹھیک ہی کہہ رہی تھی، میں واقعی کس قدر نا شکری ہوں! صاف ستھری چیز پر بھی نخرے کرتی ہوں اور اِسے دیکھو ،یہ بس کچھ مل جانے پر ہی خوش ہے ۔'' وہ سوچ رہی تھی۔ پھر جیسے اُس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی ۔وہ جلدی سے کچن میں گئی اور اپنے لیے رکھا ہوا کیک نکال کر باہر کی طرف جانے ہی لگی تھی کہ اُس کی امی صائمہ کی آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی:
''ارے !یہ کیک لے کر کہاں جا رہی ہوتم؟''
''امی جان!وہ باہر ایک چھوٹی بچی ہے، اُسے دینے جارہی ہوں ۔'' اِس سے پہلے کہ صائمہ کچھ اور کہتی وہ تیزی سے باہر کی طرف بھاگی:
''سنو گڑیا! یہ کیک تمھارے لیے ہے ، بہت مزے کا ہے۔''صبا کیک لڑکی کی طرف بڑھاتے ہوئے خوشی سے کہہ رہی تھی۔
'' یہ کیک میرے لیے ہے !''لڑکی ہاتھ میں پکڑا ہوا ، گلا سڑا کیلا زمین پر پھینکتے ہوئے، صبا کی طرف بڑھی۔کیک دیکھ کر اُس کی آنکھیں خوشی سے گویا چمک اُٹھی تھیں۔
''شکریہ آپی، آ پ کتنی اچھی ہیں!''لڑکی نے خوشی سے کہا۔
''تم بھی بہت اچھی ہو ۔''
اُس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر صبا کو اپنے اندر تک سکون محسوس ہوا ۔وہ ننھی گڑیا مزے سے کیک کھانے لگی۔اُسے یوں کھاتا دیکھ کر صبا نے خود سے عہد کیا کہ آج کے بعد وہ کسی معاملے میں نخرے نہیں کرے گی ،جو بھی کھانے کو ملے گا، صبر و شکر سے کھائے گی۔وہ واپس امی کے پاس پہنچی تو دیکھا، وہ مسکرا رہی تھیں، پھر کہنے لگیں:
''بیٹا! اپنا مزے کا کیک تو تم کسی کو دے آئی ہو ، اب تم کیا کھائو گی؟ میں نے آج بھی ساگ بنایا ہے!''
'' کوئی بات نہیں ، میں ساگ ہی کھا لوں گی...''
''کیا کہا!!'' صائمہ زور سے بولی۔
''ہاں! ساگ کون سی بُری چیز ہے! میں کھا لوں گی۔'' صبا نے ایسے کہا پھر دونوںماں بیٹی زور زور سے ہنسنے لگے۔
OOO
