زوان نے آج پھر اپنے کچھ پیسے گم کر دیے تھے اور اب افسردہ سا بیٹھا امی جان سے ڈانٹ کھا رہا تھا۔ وہ کچھ بھلکڑ بھی تھا اور جلد باز بھی، انہی عادات کی وجہ سے وہ آئے دن کسی نہ کسی مسئلے میں الجھا رہتا تھا۔ چند دنوں سے وہ یہی شکایت کر رہا تھا کہ اس کے جیب خرچ میں سے کچھ رقم کم ہو جاتی ہے۔ گھر میں تو ظاہر ہے کوئی ایسا فرد تھا ہی نہیں جو اس کے پیسے چراتا یا شرارتاً چھپا لیتا، زوان سے بڑا بھائی ذی شان اپنے آپ میں مگن رہنے والا لڑکا تھا اور اسے دوسروں کے ساتھ شرارتیں کرنے کا شوق تھا اور نہ ہی دلچسپی تھی۔۔۔ امی اور ابو تو اپنے بچوں کو پیسے دیتے ہی تھے وہ تو اٹھانے سے رہے۔ اب بات یہی آ جاتی کہ زوان نے گھر سے باہر ہی کہیں اپنے پیسے خرچ کر دیے یا گم کر دیے اور اب بلاوجہ سب کو پریشان کر رہا ہے۔ چند دنوں تک اس کا رونا دھونا چلتا رہا پھر معاملات درست ہوگئے۔ اس کا حافظہ تو ویسے کا ویسا ہی تھا ہاں مگر اب وہ اپنے جیب خرچ کے گم ہو جانے کا شور نہیں مچا رہا تھا۔
گرمی کا موسم شروع ہو رہا تھا۔ ان دنوں سورج کی تمازت دھیرے دھیرے بڑھ رہی تھی اور لوگ دھوپ سے بچنے کے لیے سایے دار جگہوں میں وقت گزارتے تھے۔
جون میں گرمی مزید بڑھ گئی۔ پھر جیسے سورج بھی آگ برسا کر تھک گیا اور محمکہ موسمیات نے بارشوں کی پیشگوئی کر دی۔ جون کے دوسرے ہفتے آسمان پر بادل گھر آئے اور منگل کے روز صبح سویرے بارش برسی اور موسم خوشگوار ہوگیا۔
امی ابو نے ان دونوں بھائیوں کے ذمے یہ کام لگایا کہ وہ گیراج اور باغیچے کی صفائی ستھرائی کر دیں اور باغیچے کی باڑ بھی رنگ دیں۔
پہلے تو انھوں نے ٹالنے کی کوشش کی مگر چوں کہ سکول سے بھی چھٹیاں تھیں تو مجبوراً انھیں اس کام کو انجام دینے کی ہامی بھرنا پڑی۔ امی جان نے کہا اگر کام جلدی ختم کر دیا تو میں تمھیں انعام میں کچھ رقم دوں گی جس سے تم اپنی پسندیدہ چیز خرید کر کھا سکو گے۔
اس اعلان نے دونوں بھائیوں میں نئی طاقت بھر دی اور وہ صفائی ستھرائی کا سامان لے کر گھر سے نکل آئے۔ سب سے پہلے انھوں نے گیراج میں جھانکا۔ وہاں بہت سا کاٹھ کباڑ پڑا تھا اور پچھلے مہینے آنے والی آندھیوں کی وجہ سے مٹی بھی خوب جمع تھی۔ ذی شان نے سب سے پہلے غیر ضروری سامان گیراج سے باہر نکالا اور میونسپل کمیٹی کے کوڑا کرکٹ کے لیے لگائے گئے کنٹینر میں ڈال دیا جو اُن گیٹ کے باہر کچھ فاصلے پر لگا ہوا تھا۔ اس کے بعد زوان نے مٹی نکالی اور اپنے باغیچے میں ایک طرف ڈال دی۔ پھر دونوں نے زور و شور سے گیراج کی صفائی شروع کر دی۔ ایک گھنٹے کی محنت کے بعد گیراج چمک اٹھا تھا۔ دونوں بھائیوں کے چہرے اگرچہ تھکن زدہ تھے لیکن وہ خوش تھے کہ ایک کام بخوبی ہوگیا تھا۔
اس کے بعد انھوں نے باغیچے کا رخ کیا۔ پودوں کی کاٹ چھانٹ کی، خشک ٹہنیاں توڑ کر کنٹینر میں ڈال دیں، گملوں میں مٹی بھری اور گھاس کی تراش خراش کی۔ پھر موٹر چلائی اور پائپ لگا کر پہلے گھاس پر چھڑکاؤ کیا پھر پودوں کو پانی لگایا۔ باغیچہ بھی اب نکھر گیا تھا۔
آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے تیر رہے تھے اور ہوا میں تیزی تھی جس وجہ سے وہ کام کرتے ہوئے تنگ نہیں ہو رہے تھے بلکہ کھلی فضا میں رہ کر ان کو بہت مزہ آ رہا تھا۔
زوان نے دعا کی کہ اللہ کرے چند ہفتوں تک ایسا ہی موسم رہے تاکہ وہ اپنی تعطیلات کو انجوائے کر سکیں۔
درمیان میں ایک دو مرتبہ امی جان نے باہر کا چکر لگایا تھا اور ان کے کام کو دیکھ کر شاباش بھی دی تھی جس نے ان دونوں کا جوش و خروش بڑھا دیا تھا۔
”اب رنگ اٹھا لاؤ، باڑ رنگنے کا کام رہ گیا ہے پھر ہم مارکیٹ جا کر مزے کریں گے۔“ زوان نے کہا۔
ذی شان نے سر ہلایا پھر اندر سے رنگ والی بالٹیاں لے آیا۔ ابو جان پہلے سے رنگ تیار کر گئے تھے اب بس انھوں نے برش کی مدد سے اس رنگ کو باڑ پر لگانا تھا۔
ذی شان نے پہلے کپڑے کی مدد سے باڑ پر لگی دھول مٹی صاف کی پھر دونوں بھائی اس کو رنگنے لگے۔ دوپہر تک یہ کام بھی انجام کو پہنچ گیا۔
نہا دھو کر انھوں نے دوپہر کا کھانا کھایا پھر امی جان نے ان کو پانچ سو روپے کا نوٹ تھمایا کہ یہ رہا تمہارا انعام!
پیسے دیکھ کر ان کی باچھیں کھل اٹھیں۔
”چلو بھیا مارکیٹ جاتے ہیں۔ مجھے آئسکریم کھانی ہے۔“زوان نے فوراً فرمائش کر دی۔
”ہاں ہاں! جاتے ہیں۔ تھوڑا صبر تو کر لو۔“
کچھ دیر بعد انھوں نے سائیکل سنبھالی اور گھر سے نکل کر کالونی کے مرکز کی طرف چل پڑے۔ پانچ سو روپے کا نوٹ ذی شان نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور شوخی میں آ کر اس کو ہوا میں لہرا رہا تھا۔
اچانک پتا نہیں کیسے ہوا کا ایک شریر جھونکا آیا اور اسی دوران وہ نوٹ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ ذی شان اور زوان ”ارے ارے“ کرتے رہ گئے اور وہ نوٹ اُڑتا ہوا لمحوں میں ہی ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔
اب افسردگی ان کے چہروں سے عیاں تھی۔ وہ مرجھائے انداز میں واپس گھر کی طرف چل پڑے۔ آدھے دن کی محنت کا پھل کیسے ہاتھ سے نکل گیا تھا، یہ سوچ سوچ کر دونوں بھائی اداس ہو رہے تھے۔
”تم پریشان نہ ہونا، میں اپنی پاکٹ منی سے تمھیں آدھی رقم دے دوں گا۔ بس امی جان کو مت بتانا۔“ گھر کے اندر داخل ہونے سے پہلے ذی شان نے زوان سے کہا۔
وہ بس سر ہلا کر رہ گیا۔
”ارے بچو اتنی جلدی آگئے؟“ امی جان ان کو دیکھ کر حیران ہوئیں۔
” جی ہاں!“ وہ بس اتنا کہہ سکے۔
” اچھا اب آگئے ہو تو مجھے ذرا دو چھتی سے ہاون دستہ تو نکال دو۔ میں اوپر چڑھ نہیں سکتی۔“
دوسری منزل پر ایک دو چھتی بنی تھی جس میں گھر کا فالتو سامان پڑا رہتا تھا۔ امی کو ہاون دستے میں کچھ کوٹنا تھا تبھی اس کی ضرورت تھی۔
”میں نکال لاتا ہوں۔“ زوان سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ کچھ دیر بعد وہ ہاون دستہ تو اٹھا لایا لیکن اس کے چہرے پر ایک انوکھی سی چمک بھی تھی۔ کچھ کچھ حیرانی کا تاثر اور خوشی کا احساس۔۔۔ ہاون دستہ باورچی خانے میں امی کو دے کر وہ کمرے میں بھاگ آیا۔
”بھیا یہ دیکھو!“ اس نے اپنا ہاتھ ذی شان کے سامنے کھولا۔ چھوٹے بڑے کئی نوٹ اس کے ہاتھ میں تھے۔
”یہ کس کے ہیں اور کہاں سے اٹھا لائے؟“ ذی شان چونک اٹھا۔
” بھیا یہ میرے پیسے ہیں۔ وہی جو میرے جیب خرچ سے گم ہو جاتے تھے۔ مجھے آج پتا چلا کہ یہ پیسے ہماری مانو منہ میں دبا کر دو چھتی میں رکھ آتی تھی۔ وہاں جو پرانا جھولا ہے نا! اسی کے اندر یہ پیسے پڑے ہوئے تھے۔ مانو کو میں نے کئی بار اس جھولے میں لیٹے دیکھا تھا۔ میں اپنے پیسے اسٹڈی ٹیبل پر چھوڑ دیتا تھا اور وہ وہیں سے اٹھا لیتی ہوگی۔ جب میں نے اپنے جیب خرچ کو سنبھالا تو یہ چوری بھی رک گئی۔“ زوان بولتا چلا گیا اور ذی شان حیرانی سے منہ کھولے اس کو دیکھتا رہا۔
”بھیا چلو سائیکل نکالو۔۔۔ آج ہم دونوں ایک شاندار سی پارٹی کر رہے ہیں۔ امی ابو کا کہنا ماننے کا اس سے بہتر انعام کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔“ زوان خوشی سے اچھلتا ہوا بولا۔
کچھ دیر بعد دونوں بھائی دوبارہ امی سے اجازت لے کر باہر کی جانب بڑھ گئے تھے۔

