فیضو کوئی پندرہ برس بعد اپنے پرانے محلّے میں آیا تھا۔ یہاں اب بھی اُس کے والد کے بہت سے دوست رہتے تھے۔اُس کے دادا کا نام تو حیات محمد خان تھا، مگر وہ اِس علاقے میں’’ حیاتو گدھے والا‘‘ہی کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھا،اِس لیے لوگ فیضو کو بھی ’’حیاتو کے پوتے‘‘اور’’ آسو مزدور‘‘ کے بیٹے ہی کے طور پر جانتے تھے۔وہ لی مارکیٹ کی مختلف گلیوں سے ہوتا ہوا، اپنے آبائی مکان کے سامنے جاکھڑا ہوا، جہاں اُس کے چھوٹے چچا کا خاندان رہتا تھا۔ گھر کے سامنے اُن کے تین گدھے بندھے ہوئے تھے اور دو گدھا گاڑیاں بھی کھڑی تھیں۔ ی'ہ گدھے اور گاڑیاں، اُن کی روزی روٹی کا ذریعہ تھے۔ وہ بھی آج کام پر نہیں گئے تھے۔
فیضو کو سب باتیں یاد تھیں۔وہ اسکول سے آ کر جَلد جَلد کھانا کھاتا، پھر ماں اُسے ایک چھوٹا سا ٹفن تھما دیتی، جسے وہ گھاس والوں کی دُکانوں کے قریب تانگہ اسٹینڈ پر لے جاتا۔ یہ جگہ اُس کے گھر سے زیادہ دُور تو نہیں تھی، مگر پھر بھی اُسے وہاں پہنچنے میں بیس، پچیس منٹ لگ ہی جاتے۔اگر اُس کا باپ وہاں نہ ہوتا، تب بھی وہ وہیں ایک دُکان کے تھلے پر ایک کونے میں بیٹھ جاتا۔اُس کا باپ اپنی گدھا گاڑی پر جوڑیا بازار، جُھونا مارکیٹ اور لی مارکیٹ وغیرہ کے گوداموں سے سامان اُٹھا کر مختلف دُکانوں تک پہنچایا کرتا تھا۔البتہ ،دوپہر میں فرصت ملتے ہی تانگہ اسٹینڈ آجاتا، جہاں سب گدھے گاڑی والے مل کر کھانا کھاتے۔ وہیں کچھ رکشے بھی کھڑے رہتے، شاید اُن کے چلانے والے آس پاس ہی رہتے ہوں گے۔ایک رکشے پر لکھا جملہ فیضو کو بہت ہی دل چسپ لگتا۔آخر اُس نے ایک دن اپنے باپ سے پوچھ ہی لیا۔
’’ ابّا! اِس رکشے پر لکھا ہے’’ مَیں بڑا ہوکے ٹرک بنوں گا‘‘ یہ کتنے دنوں میں ٹرک بن جائے گا؟‘‘ آسو یہ سُن کر زور سے ہنسا اور پھر کھانے میں شریک دیگر مزدوروں سے بولا’’ ارے تم نے اپنے بھتیجے کی بات سُنی۔ پوچھ رہا ہے، رکشا کب ٹرک بنے گا۔‘‘ سب فیضو کی طرف دیکھ کر ہنس پڑے اور اُس کے ساتھ مذاق کرنے لگے۔
وقت گزرتا گیا۔اب فیضو نویں جماعت میں پہنچ گیا تھا۔وہ حسبِ معمول اسکول سے آکر اپنے باپ کے پاس چلا جاتا۔ پہلے صرف کھانا لے کر جاتا تھا، مگر اب باپ کا ہاتھ بھی بٹانے لگا تھا۔وہ کہتا’’ ابّا! تم چھوڑو، یہ بوری مَیں اُٹھا لوں گا۔‘‘ آسو مسکراتے ہوئے کہتا’’ نہیں، نہیں۔تمہاری پیٹھ ابھی کم زور ہے۔تم بس ذرا سا سہارا دے دو، بوری مَیں اُٹھا لوں گا۔تمہارا باپ بہت مضبوط ہے اور میرا باپ تو پہلوان تھا پہلوان۔ ایک ساتھ دو بوریاں اُٹھا لیتا تھا۔ بازار میں تیرے دادا کا بڑا نام تھا۔‘‘
فیضو کی ایک اچھی عادت یہ تھی کہ وہ اسکول کا کبھی ناغہ نہ کرتا اور سر عُمر کی کلاس تو اُسے بہت ہی پسند تھی۔وہ تھے ہی ایسے،طلبہ کو اپنے بچّوں کی طرح رکھتے اور سبق خُوب اچھی طرح سمجھاتے۔ ایک روز ہجرت کا واقعہ پڑھاتے ہوئے اُنھوں نے کہا’’ ہجرت کی ایک صُورت یہ بھی ہے کہ اگر کسی کا پوری کوشش اور محنت کے باوجود ،کسی علاقے میں کام نہ چل رہا ہو، تو اُسے کسی اور مقام پر جاکر قسمت آزمائی کرلینی چاہیے۔ ہوسکتا ہے، اللہ نے اُس کا رزق وہاں رکھا ہو۔ اِسی طرح یہ ضروری تو نہیں کہ باپ، دادا جو کام کرتے چلے آرہے ہوں، آنے والی نسلیں بھی وہی کام کریں۔ اگر اِس کام میں بڑھوتری نہ ہو رہی ہو یا آمدنی کم ہو، گزارا ٹھیک سے نہ ہوپاتا ہو، تو کوئی دوسرا پیشہ یا کاروبار اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ اِس تبدیلی کو ہم ’’ معاشی ہجرت‘‘ کہتے ہیں۔‘‘
فیضو کچھ سوچتے ہوئے گھر آیا۔ کھانا کھایا اور جب ماں نے اُس کے سامنے ٹفن رکھا، تو وہ روہانسے انداز میں بولا’’ ماں! ہم کب تک گدھا گاڑی پر بوریاں لادتے، اُتارتے رہیں گے۔‘‘ ماں نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا۔ ابھی وہ کچھ کہنا ہی چاہ رہی تھی کہ فیضو بولا’’ دیکھ ماں! محنت میں کوئی عیب تو نہیں، مگر اب گدھا گاڑی کا زمانہ لَد گیا۔ مزدوری کم ملتی ہے۔پھر سیٹھ اور آنے جانے والے ابّا کو بات بے بات جس طرح ڈانٹتے ہیں، وہ بھی نہیں دیکھا جاتا۔ بس مَیں نے فیصلہ کرلیا ہے۔‘‘
’’ بیٹا! کیسا فیصلہ…؟‘‘ ماں بولی۔
وہ ماں کے قریب چارپائی پر بیٹھ گیا۔’’ دیکھ ماں! سب تمھارے کھانے کی تعریف کرتے ہیں۔ تم روزانہ مجھے چاول پکا کر دے دینا۔ مَیں باہر گلی میں بیچ دیا کروں گا۔‘‘
’’ مگر بیٹا…!!‘‘ بات درمیان ہی میں رہ گئی۔ فیضو بے صبری سے بولا’’ ماں انکار مت کرنا۔ تجربے میں کیا حرج ہے۔ہم نے کون سا دیگوں سے کام شروع کرنا ہے۔ایک، دو پتیلے بھی کافی ہوں گے۔‘‘
فیضو، ماں کے مشورے پر شام کو گھر آتے ہوئے ایک جاننے والے سیٹھ سے پانچ کلو چاول اور کچھ مسالے وغیرہ ادھار لیتا آیا۔رات کو ابّا کو بھی اِس فیصلے سے آگاہ کردیا۔ وہ کچھ بولا تو نہیں، مگر سر ہلا کر ایک طرح سے فیصلے کی حمایت کردی۔
دوسرے روز وہ اسکول سے آیا، تو چاول کا پتیلا تیار تھا۔اُس نے ایک ٹوٹے ہوئے ٹیبل کے نیچے اینٹیں لگا کر اُسے کاؤنٹر بنایا، پھر چاولوں کا پتیلا اور چند پلیٹیں اُس پر سلیقے سے رکھ دیں۔ایک طرف ٹھنڈے پانی سے بَھرا کولر رکھ دیا۔فیضو کا گھر ایک ایسی گلی میں تھا، جہاں سے مختلف مارکیٹس کی طرف آنے جانے والے گزرتے تھے۔کچھ ہی دیر میں گاہک آنا شروع ہوگئے۔چھوٹے بہن، بھائی بھاگ بھاگ کر کسی گاہک کو چاول کی پلیٹ پکڑاتے، تو کسی کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھما رہے تھے۔کرسیاں، میزیں تو تھیں نہیں، اِس لیے سب کو کھڑے ہوکر کھانا پڑ رہا تھا۔
شام کو حساب،کتاب کیا، تو ستّر روپے ٹوٹ گئے۔ فیضو شرمندہ سا ہوگیا،کیوں کہ آئیڈیا اُس کا ہی تھا۔ وہ کوئی جواز تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ماں اُس کی کیفیت سمجھ گئی۔ آگے بڑھ کر اُس کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولی’’ ہمّت نہیں ہارتے بیٹا، پلیٹوں میں کتنے چاول ڈالنے ہوتے ہیں، مجھے لگتا ہے، تجھے اِس کا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کوئی بات نہیں، کل سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ اور دوسرے دن واقعی خسارہ، منافعے میں بدل گیا۔ ایک دن میں تین سو روپے کا منافع سُن کر سب خوش ہوگئے۔
اگلے دنوں میں کام چلا نہیں، دوڑنے لگا۔ اوپر سے اسکول کی دو مہینوں کی چھٹیاں بھی فیضو کے لیے رحمت بن کر آگئیں۔چاول بیچتے ہوئے ابھی پورے دوماہ بھی نہیں ہوئے تھے اور بات پتیلے سے دیگ تک پہنچ گئی تھی۔
ایک روز اُنھیں پتا چلا کہ کچھ ہی دُور ایک دُکان کرائے پر مل رہی ہے، بڑی موقعے کی جگہ تھی۔اُنھوں نے رات کو گھر پر میٹنگ کی اور صبح آسو نے اپنا گدھا اور گاڑی بیچ کر ایڈوانس رقم کا بندوبست کرلیا۔یوں گھر کے باہر لگنے والا چاولوں کا ٹھیّہ، اب دُکان میں شفٹ ہوگیا۔ صبح سے دوپہر تک آسو دُکان سنبھالتا، پھر بیٹا آجاتا۔اللہ نے ایسا ہاتھ پکڑا کہ اُنھوں نے اگلے چار، پانچ سالوں میں اپنا کیٹرنگ ہاؤس بنالیا، جہاں سے شہر کے مختلف علاقوں میں قائم اپنی پانچ برانچز کو چاول کی پکی پکائی دیگیں پہنچائی جاتیں۔ شادی بیاہ کے آرڈر بھی ملنے لگے اور گلی محلّوں میں ٹھیلوں پر چاول بیچنے والے بھی اُن کے ہاں سے پتیلے بَھر کر لے جاتے۔
ہاتھ کُھلا، تو گھر بھی بدل لیا۔ وہ لی مارکیٹ کی ڈیوڑھی سے گارڈن ایسٹ کے ایک اچھے مکان میں اُٹھ آئے۔آنے جانے کے لیے اچھی سی گاڑی بھی رکھ لی۔
جانے کتنی دیر وہ آبائی گھر کے سامنے کھڑا رہا اور مزید کھڑا رہتا کہ ایک آواز نے چونکا دیا’’ فیض محمد صاحب! کھانا تیار ہے، سب آپ کا انتظار کررہے ہیں۔‘‘ وہ اُس شخص کے ساتھ چل پڑا۔
آسو نے اپنے دوست کو بیٹے کی شادی پر مبارک باد دی اور اُس کی جیب میں ایک موٹا سا لفافہ بھی ڈال دیا۔ اُس کے دوست اب بھی گدھا گاڑی چلاتے تھے، مگر وہ اُن کی خوشی، غمی میں شریک ہونے ضرور آتا۔
واپسی پر آسو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے فیضو کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور بولا’’ تمہیں اپنا وہ سوال یاد ہے…‘‘
’’ کون سا سوال…؟؟‘‘
’’ یہی کہ رکشا بڑا ہوکر ٹرک کب بنے گا؟‘‘
فیضو زور سے ہنسا’’ جی ابّا! مجھے یاد ہے۔‘‘
’’ تو پھر جواب تو تمہیں مل گیا ناں…‘‘
فیضو نے گاڑی کی رفتار کم کرتے ہوئے پوچھا’’ ابّا! اس کا کیا جواب ہے؟‘‘
’’ وہی جو تمھیں سر عُمر نے بتایا تھا۔ رکشا اُسی وقت بڑا ہوکر ٹرک بن سکتا ہے، جب اُس کی سوچ بڑی ہو۔ وہ بڑا ہونا چاہتا ہو۔آدمی اپنی عُمر رکشا چلاتے گزارنے کی بجائے ٹرک کا مالک بننا چاہتا ہو۔لکیر کا فقیر بننے کی بجائے نئے نئے کام سوچے اور پھر خود کو کھپا دے۔ جیسے تم نے کیا۔‘‘ آسو نے آخری جملہ کچھ اِس طرح بولا،جیسے وہ بیٹے کا شُکریہ ادا کر رہا ہو۔
’’ اور ابّا آپ نے ایک اور بات نوٹ کی؟‘‘
آسو نے سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھا۔
’’ ابّا! آج کوئی بھی آپ کو آسو مزدور اور مجھے فیضو کہہ کر نہیں پُکار رہا تھا۔ سب ہمیں اسد محمّد خان اور فیض محمّد خان کہہ رہے تھے۔ شاید پیسا نام بھی بدل دیتا ہے۔‘‘

