🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
جھوٹ کا پُل
جماعت ۷ تا ۱۰

جھوٹ کا پُل

رضوان بھٹی
4 جولائی، 2026۳۴ مرتبہ پڑھی گئی

جھوٹ کا پُل سنیں

ایان کے ابا پورے محلے میں 'ماہر موٹر سائیکل مکینک'کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اُن کے ہاتھ میں ایسا ہنر تھا کہ پرانی سے پرانی بائیک بھی اُن کے سامنے آتی تو وہ جلدی سے ٹھیک کر دیتے تھے۔ ایان کو اکثر ان کے ساتھ ورکشاپ جانا پڑتاتھا۔ اُسے شور، گرمی، اور تیل کی بو سے سخت نفرت تھی۔ بس ایک کام اُسے اچھا لگتا تھا۔وہ تھا چمکتے اسپیئر پارٹس کو جمع کرنا۔ خاص طور پر وہ جن میں سے ایان اپنا چہرہ دیکھتا تھا۔

اُس کے ماموں لاہور میں رہتے تھے۔ وہ اپنی بہن سے ملنے دو چارماہ بعد آجایا کرتے تھے۔ اُس دن بھی ماموں اشرف آئے ہوئے تھے۔ وُہی صاف ستھرا لباس، ہاتھ میں چمکتی ہوئی انگوٹھی اور کلائی پر بندھی نئی گھڑی ۔ ایسی گھڑی ایان نے صرف اشتہاروں میں دیکھی تھی۔

ماموں نے علیک سلیک کے بعد گھڑی اُتاری اور ابا کو پہنا دی۔ ایان کی آنکھیں گھڑی پر جم  سی گئیں۔ سنہری رنگ کی چمک دار گھڑی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔

''ماموں! یہ تو باہر سے آئی ہوئی لگتی ہے؟'' ایان نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا۔

''ہاں بیٹا! دبئی سے میرا ایک دوست لایا ہے، اُسی نے مجھے تحفتاً دی ہے۔'' ماموں نے   کہا۔ ایان کی آنکھوں میں گھڑی کی چمک جیسے سما سی گئی تھی۔اُس کے دل میں خیال آیا:

'' اگر مجھے یہ ایک دن کے لیے پہننے کو مل جائے تواِسے دیکھ کر میرے سارے دوستوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے۔''

اور پھر اُسے اگلے دن ہی یہ موقع مل گیا۔ماموں سو رہے تھے۔ ابا دوکان پر تھے اور اماں صحن میں کپڑے دھو رہی تھیں۔ایان نے دھیرے سے الماری کھولی اورگھڑی نکالی اور ایک لمبی سانس لے کر کلائی پر باندھ لی۔

''واہ! کتنی خوبصورت ہے یہ۔اَسے پہن کر مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں کسی فلم کا ہیرو ہوں۔'' اُس نے دل ہی دل میں کہا اور باہر گلی میں نکل گیا۔

گلی کے نکڑ پر اُس کے دوست جنید اور کاشف کھڑے تھے۔ایان نے ہاتھ فضا میںلہراتے ہوئے خوشی سے کہا:

''دیکھو!ماموں میرے لیے گھڑی لائے ہیں، دبئی سے۔'' اُس کی بات سنتے ہی کاشف نے جلدی سے اُس کا گھڑی والا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا:

''او ہو!یہ تو اصلی ہے اور شاید بہت قیمتی بھی۔''

''اور نہیں تو کیا، یہ واقعی بہت زیادہ قیمتی ہے۔''ایان کے لہجے میں تکبر تھا۔

''ایک دن کے لیے مجھے دے دو، میں بھی اِسے پہننا چاہتا ہوں، یہ تمھاری امانت ہوگی میرے پاس۔''جنید نے للچائی نگاہوں سے گھڑی کو دیکھتے ہوئے کہاتو ایان ہنس دیا۔

''نہیں بھائی،تم اچھے امانت دار نہیں ہو، مجھے اِس کا اچھے سے پتہ ہے۔''

اُسی وقت اچانک ایک سائیکل سوار بچہ گلی کی نکڑ سے برآمد ہوا۔ وہ نہایت تیزی سے ان تینوں کے قریب سے گزرا۔وہ گھبر ا گئے۔ ایان خود کو بچانے کے لیے جلدی سے ایک طرف لپکا۔ اُس کا ہاتھ دیوار سے ٹکرایا اور گھڑی کلائی سے نکل کر زمین پر گر گئی۔

''اوہ!!''جنید کے منہ سے گھٹی گھٹی سی چیخ نکل گئی:

 ''شاید شیشہ ٹوٹ گیا!''

ایان کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اُس نے کپکپاتے ہاتھ سے گھڑی اُٹھائی۔ واقعی اُس کا شیشہ ٹوٹ چکا تھا۔ بٹن نکل چکا تھا اور سوئیاں ڈھیلی ہوگئی تھیں۔ ایان نے کانپتے ہاتھوں سے گھڑی رومال میں لپیٹی اور چپ چاپ گھر آ کر اُسے اپنے اسکول بیگ میں چھپا دیا۔

اگلے دن وہ چپکے سے گھڑی لے کر حاجی منظور گھڑی ساز کے پاس پہنچا۔

''حاجی صاحب! یہ ٹھیک ہو جائے گی کیا؟'' ایان نے گھڑی اُنھیں تھماتے ہوئے پوچھا۔ حاجی منظور نے نیچے آتی عینک کو اُوپر اُٹھایاور گھڑی دیکھ کر سر نفی میں ہلانے لگے:

''مشکل ہے بیٹا، لیکن نا ممکن نہیں... پندرہ سو روپے لگیں گے۔''

''پندرہ سو...'' ایان کا یکایک رنگ اُڑ گیا۔

''ہاں پندرہ سو۔ شیشہ، بٹن اندرونی سیٹنگ،بہت کام ہے اس میں۔''

''آپ اِسے رکھ لیں، میں پیسوں کا بندوبست کرتا ہوں۔'' ایان نے کہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اتنے سارے پیسے کہاں سے لائے گا؟

''رکھ لیتا ہوں لیکن جلدی آنا پیسے لے کر، یہ گھڑی بہت قیمتی ہے۔''حاجی منظور نے کہا اور گھڑی ایک طرف رکھ لی۔ایان واپس گھر آ گیا۔

اُسی رات ابا نے اماں کو کچھ پیسے دیے اور کہا:

''ان تین ہزار روپوں سے گھر کا راشن منگوا لینا۔''اماں نے پیسے پکڑے اور تکیے کے نیچے رکھ لیے۔

اُس رات ایان گروٹیں بدلتا رہا۔ پھر رات کے آخری پہر خاموشی سے جا کر اپنے مطلوبہ پیسے تکیے کے نیچے سے نکال لیے۔

اگلی صبح وہ اُٹھا تو اماں کی آوازگھر میں گونج رہی تھی:

''ارے!یہ پیسے کہاں گئے؟ رات کو میں نے خود رکھے تھے تکیے کے نیچے۔''

"اچھی طرح دیکھ لو ، یہیں کہیں ہوںگے۔'' ابا نے منہ بسوڑتے ہوئے کہا۔

"میں پاگل نہیں ہوں ، اچھی طرح دیکھ چکی ہوں، میںنے پیسے تکیے کے نیچے ہی رکھے تھے۔''  اماں نے غصے سے کہا۔

ایان کمرے میں ہی لیٹا رہا۔ اُس نے آنکھیں بند کرلی تھیںلیکن اُس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اُس کے کان اماں کے ہر لفظ پر لگے تھے۔ جب معاملہ ٹھنڈا ہوا تو وہ جلدی سے اسکول جانے کے بہانے نکلا اور سیدھا حاجی منظور کی دکان پر پہنچ گیا۔

''لے آئے پیسے؟''حاجی منظور نے پوچھا۔

''جی جی،ابانے کہا کہ جلدی سے گھڑی ٹھیک کر دیں۔''ایان نے ایک اور جھوٹ بول دیا۔ حاجی صاحب نے گھڑی کے پرزے نکالے۔ کچھ دیر خاموشی سے دیکھتے رہے، پھر بولے:

''بیٹا! یہ گھڑی آپ کی اپنی تو نہیں لگتی؟'' اُن کی بات سن کر ایان کے چہرے پر پسینہ آ گیا۔

 '' یہ میری ہے ، ماموں نے دی تھی میری سالگرہ پر۔'' 

اَیان کے جھوٹ رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ حاجی منظور نے شکی نظروں سے اُسے دیکھا  اور گھڑی ٹھیک کرنے لگے۔

کچھ ہی دیر میں گھڑی بالکل پہلے جیسی ہوگئی تھی۔ایان نے اُسے لیااور جلدی سے گھر آکر سب کی نظر سے بچا کر گھڑی ماموں کے بیگ میں رکھ دی۔

شام کے وقت ایان اسکول کا ہوم ورک کر رہا تھا۔ اُس کا دل پڑھائی میں بالکل بھی نہیں لگ رہا تھا۔ اماں ابھی تک حساب کتاب میں لگی ہوئی تھیں۔

''پیسے تو گھر کے اندر سے ہی گئے ہیں، چور ہم میں سے ہی کوئی ہے اور تو اور میرے بھائی کی گھڑی بھی غائب ہے۔'' اماں کی آواز بلند تھی۔ آخر اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ وہ سب کو شک بھری نظروں سے دیکھنے لگیں۔ ابا نے خاموشی سے چائے کی چسکی لی اور دھیمے لہجے میں بولے:

''پیسے چوری کرنے والا ہمیں جان سے بھی پیارا کیوں نہ ہو، تب بھی اُسے سچ بولنا ہی پڑے گا اور اُسے سزا بھی ہر صورت میں ملے گی۔''

اُن کی آواز سن کر اَیان کے ہاتھ سے قلم چھوٹ گیا اور ماتھے پر پسینہ آگیا۔ اُسی وقت ماموں اشرف ہاتھ میں وہی گھڑی لیے اندر آئے:

''ارے... یہ تو میرے بیگ میں پڑی تھی، وہاں تو کسی کادھیان ہی نہیں گہا۔میں سمجھا کہ کہیں گر گئی!''

ایان نے کچھ سکون کا سانس لیا۔

''تو پھر جو گھڑی آپ نے ٹھیک کروائی ہے وہ؟''ابا نے اچانک کہا۔

''کون سی گھڑی؟ میں نے کب ٹھیک کروائی؟''ماموں نے گھبرا کر کہا۔

''وہی گھڑی جو حاجی منظور کو دی تھی!''ابا نے مزید سسپنس پیدا کرتے ہوئے پوچھا۔

''ارے بھائی! میں نے تو کوئی گھڑی ٹھیک نہیں کروائی اُن سے، غلط خبر ملی ہے آپ کو، یہ دیکھیں! میری گھڑی تو صحیح سلامت ہے میرے ہاتھ میں۔'' ماموں نے کہا اور اپنی کلائی دکھانے لگے۔ ایان کا ایک سانس آرہا تھا اور ایک جا رہا تھا۔

"دراصل کل عشا کی نماز کے بعد مجھے حاجی منظور صاحب ملے تھے ۔وہ پوچھ رہے تھے کہ گھڑی ٹھیک چل رہی ہے نا!'' ابا نے ایان کو گھورتے ہوئے کہا۔ ایان گھبرا اُٹھا اور جلدی سے بولا:

''اماں کے پیسے... میں نے چوری کیے تھے!'' اُس کے اعتراف سے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

''مگر کیوں، تم نے ایسا کیوں کیا'' تینوں نے بیک وقت پوچھا۔

''وہ دراصل مجھ سے گھڑی ٹوٹ گئی تھی اور اس کی مرمت کے لیے پیسے درکار تھے، مجھے ڈرتھا کہ آپ لوگوں کو پتہ چلا تو آپ مجھے سزا دیں گے۔'' ایان نے کہا۔

''ایان بیٹا! جھوٹ چھوٹا ہو یا بڑا، ایک نہ ایک دن انسان کو سچ کے سامنے ضرور لاتا ہے۔ ہم تمھیں سزا نہیں دیں گے کیونکہ تم نے خود مانا، اعتراف کیا مگر یاد رکھو! کسی کے اعتماد کو توڑ دینا، سب سے عظیم نقصان ہوتا ہے۔ پھر ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے دوسرا جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ پھر جھوٹ کی عمارت کھڑی ہوتی چلی جاتی ہے یا یوں سمجھو کہ جھوٹ کا ایک پل بوجھ کی صورت میں بنتا چلا جاتا ہے۔''  ابا نے سخت لہجے میں کہتے چلے گئے۔

اُس وقت ایان سب کی سخت نظروں کا محور تھا۔ اُس کا سر جھکا ہوا تھااور آنکھوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ ماں نے خاموشی سے پاس آ کراُس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔

''بیٹا! اگر شروع میں ہی سچ بول دیتے تو شاید اِتنی شرمندگی نہ ہوتی تمھیں۔''

پھر اچانک ماموں نے گھڑی اُتاری اور ابا کے سامنے رکھ دی:

"یہ لیں گھڑی! دراصل یہ میں لایا ہی ایان کے لیے تھا۔ یہ پڑھائی لکھائی میں بہت اچھا ہے ، میں نے سوچا تھا، گھڑی تحفے میں پاکر یہ بہت خوش ہوگا۔چلیں! جو ہوا ، اچھا ہی ہوا، ایان نے اِس سے بہت کچھ سیکھ، سمجھ لیا ہوگا، کیوں ایان! میں ٹھیک کہہ رہا ہوںنا؟''

ماموں کے خاموش ہوتے ہی ایان بھاگ کر اُن سے چمٹ گیا۔ سب نے دیکھا ، اُس کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔

OOO

لکھاری

رضوان بھٹی

جناب رضوان بھٹی بچوں کی مقبول لکھاری ہیں ، عرصہ دراز سے بچوں کے لیے خوبصورت کہانیاں لکھ رہے ہیں ، کہانی گھر کے لیے یہ ان کی پہلی کہانی ہے