🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
 کیسی قربانی؟

کیسی قربانی؟

سید مظہر مشتاق
سید مظہر مشتاق
3 جولائی، 2026۲۷ مرتبہ پڑھی گئی

کیسی قربانی؟ سنیں

سیدمظہرمشتاق

مقبول انتہائی غریب تھا۔ وہ محنت مزدوری کرکے اپنا گھر چلانے والا انسان تھا۔ اُس کا مکان بھی کرائے کاتھا۔ وہ اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اِس مکان میں آئے اُسے بمشکل سال بھی نہیں ہوا تھا۔وہ تنگ دستی میں بھی ہمیشہ اللہ کا شکر گزار رہتا تھا۔

''ابو کل بکرا عید ہے، ہم بھی گوشت کھائیں گے نا؟'' مقبول کی چھوٹی بیٹی نے سوال کیا۔

''عالیہ!ابوکوپریشان نہ کرو۔''بڑی بہن نے اُسے سمجھاتے ہوے کہا۔

اُس کی بات سن کرعالیہ کہنے لگی:

''پورے سال ہم نے گوشت نہیں کھایا۔''

''بیٹا!کیا ہوا،اگر ہم نے گوشت نے کھایا، اللہ نے بھوکا تو نہیں سلایا نا؟'' عالیہ کی ماں نے کہا۔

''ارے کھائیں گے گوشت، کیوں نہیں کھائیں گے!لوگ اللہ کی راہ میں جانور ذبح کرتے ہیں اور اُس کا گوشت ہم جیسوں کے لیے ہی ہوتا ہے ۔'' مقبول نے بیٹی کو تسلی دیتے ہوے کہا۔

عید کا پورا دن گزر گیا مگر مقبول کے ہاں محلے کے کسی گھر میں سے گوشت نہ آیا۔دن کے سائے ڈھلنے کو تھے۔ گلی کے جن گھروں میں جانور ذبح ہوئے تھے، اُن کا گوشت گھروں میں ہی رہ گیا تھا۔ دن بھر گوشت بننے کی آوازیںدھیرے دھیرے ماند پڑ گئی تھیں۔عالیہ سارا دن گوشت کا انتظار کرتی رہی لیکن...

عالیہ نے مایوسی سے مقبول کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:

'' میں نے تو گھر میں پڑا سامان کاٹ کرگوشت کے لے مصالحہ بھی تیار کر لیا تھا، لیکن پورے محلے کے کسی ایک گھر سے بھی گوشت ہمارے ہاں نہیں آیا؟''

'' تم محلے کے کسی گھر سے تھوڑاگوشت مانگ لائو۔ہو سکتا ہے، وہ ہمیں گوشت دینا بھول گئے ہوں۔''بیگم مقبول نے بچیوں کے مرجھائے ہوئے چہرے دیکھتے ہوئے کہا تو مقبول کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی۔

'' چلیں بابا! میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں۔'' عالیہ جیسے تیار بیٹھی تھی۔مقبول اُٹھا اورعالیہ کے ہمراہ گھر سے باہر نکل گیا ۔

محلے میں کسی سے مانگنے کا منہ نہ ہوا تو وہ برابر والی گلی میں امتیاز صاحب کے گھر پہنچ گیا۔وہ مسجد میں نماز پڑھنے آتے تھے ۔ اُن کی مقبول سے سلام دُعا رہتی تھی۔

مقبول نے دروازے پر دستک دی۔ تھوڑی ہی دیر میں دروازہ کھلا اور امتیاز صاحب دکھائی دیے:

''جی فرمائیے؟''

اُن کے منہ سے یہ جملہ سن کر مقبول ہل کر رہ گیا۔

''وہ...وہ تھوڑا سا قربانی کا گوشت مل جاے گا کیا؟''الفاظ جیسے مقبول کے حلق میں پھنس رہے تھے۔

''تمھارا دماغ خراب ہوگیا ہے؟جائو!گوشت ختم ہوگیا ہے،پتہ نہیں کہاں کہاں سے منہ اُٹھا کر چلے آتے ہیں، ہونہہ۔''امتیاز صاحب نے تو حد ہی کردی۔مقبول ،عالیہ کا ہاتھ پکڑکر اپنی گلی میں لوٹا آیا۔ بیٹی کا چہرہ دیکھا، وہاں مایوسی دیکھ کر وہ رہ نہ سکا اور نکڑ والے حمید بھائی کو آواز دے دی۔اُنھوں نے اندر سے ہی پوچھا:

'' کون ہے؟''

''میں آپ کا پڑوسی مقبول ہوں ، آپ نے قربانی کی ہے، تھوڑا سا گوشت مجھے بھی دے دیں۔''

تھوڑی دیر بعد حمیدصاحب نے ایک شاپر مقبول کو لاکر دے دیا۔مقبول گوشت کا شاپر دیکھ کر عالیہ کے چہرے پر خوشی ایسے پھیلی جیسے کوئی قارون کا خزانہ مل گیا ہو۔ مقبول کو حمید صاحب سے زیادہ اُمید نہیں تھی لیکن نصیب کا لکھا مل کر ہی رہتا ہے۔

دونوں باپ بیٹی تیزتیز قدموں سے گھر آگئے۔ مقبول نے شاپر کھولا تو دھک سے رہ گیا۔ شاپر میں صرف ایک بڑی ہڈی ، دو چھیچھڑے نما بوٹیاں اور ایک چربی والی بوٹی تھی۔ مقبول کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔

''آپ پریشان نہ ہوں، میں اِسی کا کچھ کرتی ہوں۔''مقبول کی بیوی نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

''مجھے گوشت نہیں کھانا، میرے پیٹ میں درد ہورہا ہے۔'' عالیہ نے امی، ابو کو پریشان دیکھا تو جلدی سے بولی۔

اُس کا یہ جملہ سن کر مقبول کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گے ۔ وہ عالیہ کو چمٹا کر زور زور سے رونے لگا۔پھر سبھی کی آنکھیں ایک ساتھ بے ساختہ بہنے لگیں۔

اِسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔ مقبول نے جھٹ سے آنسو صاف کیے اور دروازے پر گیا۔

''ارے دلاور خان تم! یہاں کیسے ؟''

''یار! قربانی کیا تھا، بڑی مشکل سے تمھارا گھر ملا ہے، گوشت لے کر آیا تھا، سوچا بچے کھائیں گے۔''

دلاور ،مقبول کے پرانے محلے میں رہتا تھا۔

''اندر آجا یار۔'' مقبول نے دلاور سے کہا۔ دلاور تھکاوٹ کا بہانہ بنا کر وہاں سے رفو چکر ہوگیا۔مقبول نے اُس کا دیا ہوا شاپر کھولا تو اُس میں کلو سے بھی زیادہ صاف ستھرا گوشت تھا ۔اتنا گوشت دیکھ کر سب کے چہرے خوشی سے جگمگا اُٹھے۔پھرمقبول کی بیوی گوشت پکانے کی تیاری کرنے لگی تو بچیاں اُس کا ہاتھ بٹانے میں جت گئیں۔ مقبول حسب عادت اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا کہ مالک! لوگ کیسی قربانی دیتے ہیںکہ ہم ایسے غریب تک پہنچ نہیں پاتی۔ اُس کی آنکھیں اب جھرنے کی طرح بہنے لگی تھیں۔

سید مظہر مشتاق

لکھاری

سید مظہر مشتاق

سید مظہر مشتاق سینیئر لکھاری ہیں ۔ عرصہ درواز سے بچوں کے لیے لکھ رہے ہیں ، ان کی بے شمار کہانیاں پاکستان بھر کے مختلف میگزین میں شائع ہو کر پسندیدگی کی سند حاصل کر چکی ہیں ، مخلص انسان ہیں ، کراچی سے