🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
ننھا شرارتی توتا اور بندر
نرسری (۳-۵ سال)

ننھا شرارتی توتا اور بندر

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
1 جولائی، 2026۶۰ مرتبہ پڑھی گئی

ننھا شرارتی توتا اور بندر سنیں

مٹھو ایک توتا تھا۔ وہ گھنے جنگل میں اپنے امی اور ابو کے ساتھ ایک بڑے پیپل کے درخت کی کھوہ میں رہتا تھا۔ اگرچہ اُس کے والدین بہت سلجھے ہوئے، شریف اور جنگل کے تمام جانوروں میں ہر دلعزیز تھے لیکن مٹھو بالکل الٹ تھا۔ وہ بے حد شرارتی اور بدتمیز تھا۔ دوسروں کو تنگ کرنے میں اُسے عجیب سا مزا آتا تھا۔ شام کا وقت تھا۔ سورج ڈھل رہا تھا اور درختوں کے سائے لمبے ہو رہے تھے۔ درخت کے قریب سے جنگل کا ایک بندر گزر رہا تھا۔ مٹھو کو شرارت سوجھی اور اُس نے اپنی چونچ میں پکڑا ہوا ایک پکا ہوا بیر سیدھا بندر کے اوپر پھینک دیا:

''دھڑام!'' بیر بندر کے سر پر لگا تو وہ چونک اُٹھا۔

اُس نے ہاتھ سے اپنا سر پکڑا اور تکلیف سے منہ بناتے ہوئے، اوپر درخت کی طرف دیکھنے لگا۔ وہاں شرارتی مٹھو اپنی گردن زور زور سے ہلا رہا تھا، جیسے کہہ رہا ہو کہ تم میرا کیا کر لو گے؟ میں ہوں، اِس جنگل کا سب سے خوبصورت توتامٹھو!میرے امی ابو کو سب جانور اور پرندے بہت پسند کرتے ہیں، کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

بندر غصے سے لال پیلا ہو گیا اور نیچے کھڑے ہو کر چلانے لگا:

''تم بڑے بدتمیز توتے ہو!دوسروں کو تکلیف دے کر خوش ہوتے ہو؟ ذرا نیچے آو، میں آج تمھیں مزا چکھاتا ہوں،میں تم سے اچھی طرح سمجھ لوں گا۔''

اُسی وقت درخت کی کھوہ سے ننھے مٹھو کی امی توتی باہر نکلی اور بندر کو غصے میں دیکھ کر نرمی سے پوچھنے لگی:

''کیا ہوا بندر بھائی!سب خیریت تو ہے، کچھ چاہیے کیا؟''

بندر نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور زور سے کہنے لگا:

''توتی بہن!اپنے اِس بگڑے ہوئے بیٹے کو سمجھاو! اِس نے ابھی ابھی میرے سر پر بیر مارا ہے، میرا سر پہلے ہی بہت دُکھ رہا تھا۔ یہ بہت سرکش ہوتا جا رہا ہے۔''

اُس کی بات سن کر توتی نے غصے سے مٹھو کی طرف دیکھا۔ وہ ڈر کر تھوڑا پیچھے ہو گیا تھا۔ توتی نے کہا:

''مٹھو!میں نے تمھیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ راہ چلتے جانوروں اور پرندوں کو تکلیف نہ پہنچایا کرو۔اِس سے اللہ پاک ناراض ہوتے ہیں لیکن تم ہو کہ تمھارے کان پر جوں ہی نہیں رینگتی!''

اپنی امی کے چہرے پر غصہ اور سختی دیکھ کر ننھا توتا ڈر گیا اور جلدی سے واپس کھوہ میں جا گھسا۔ توتی نے بندر سے پرجوڑ کر معذرت کی تو وہ بڑبڑاتا ہوا وہاں سے اپنے راستے پر چل دیا۔

اگلی صبح بندر جنگل کے تالاب پر پہنچا۔ وہاں جانور اور پرندے جمع تھے۔ جنگل کا بادشاہ شیر، عقاب اور کچھ دوسرے چھوٹے جانور بھی موجود تھے۔ بندر نے سب کو اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سنایا اور بولا:

''وہ بڑے برگد کے ساتھ والے درخت پر جو توتا، توتی رہتے ہیں نا،اُن کا بیٹا ننھا مٹھو بہت ہی بدتمیز ہو گیا ہے۔ کل اُس نے میرے سر پر جان بوجھ کر بیر مارا تھا، مجھے شدید تکلیف پہنچی تھی۔ اگر ہم نے اُسے ابھی نہیں روکا تو یہ کل کسی اور کو نقصان پہنچائے گا۔''

بندر کی بات سن کر خرگوش، گلہری، لومڑی، فاختہ اور ایک کبوتر متفق ہوئے کہ اِس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ خرگوش نے کہا:

''ہمیں خود اُس درخت کے پاس جانا چاہیے اور توتے ، توتی سے صاف بات کرنی چاہیے کہ وہ اپنے بیٹے کو قابو میں رکھیں۔''

سب جانور اور پرندے مل کر درخت کے پاس پہنچے۔شور سن کر توتا اور توتی اپنے کھوہ سے باہر نکل آئے۔ اپنے دروازے پر جنگل کے جانوروں اور پرندوں کو غصے میں دیکھ کر توتا پریشان ہو گیا۔شیر نے آگے بڑھ کر گرجدار آواز میں کہا:

''میاں توتے!ہم یہاں صرف تمھاری شرافت کا لحاظ کر کے آئے ہیں، ورنہ تمھارے بیٹے کی بدتمیزی اب حد سے بڑھ رہی ہے۔ کل بندر کو اُس نے بلاوجہ بیر مارا تھا، اُس کا سر پہلے ہی دُکھ رہا تھا۔ ہم تمھیں آخری وارننگ دینے آئے ہیں کہ آیندہ اگر ننھے توتے نے جنگل کے کسی بھی جانور یا پرندے کو تکلیف پہنچائی تو ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ہم جنگل کے اَمن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔''

توتے اور توتی نے شرمندگی سے اپنے سر جھکا لیے۔پھر توتے نے پر جوڑ کر سب سے معافی مانگی اور کہنے لگا:

''معاف کیجیے گا بھائیو!یہ میری اور توتی کی کوتاہی ہے کہ ہم نے اپنے بیٹے کو بروقت نہیں سمجھایا۔ ہمارے بے جا لاڈ پیار سے یہ بگڑ گیا ہے۔ ہم آج ہی سے اس کی سختی سے اصلاح کرنے کی کوشش کریں گے۔ میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ آیندہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آئے گا۔''

سب نے توتے کی عزت کا پاس کرتے ہوئے اُسے ایک موقع دیا اور واپس چلے گئے۔

سب کے جانے کے بعد توتے اور توتی نے مٹھو کو اپنے پاس بلایا۔توتی کہنے لگی:

''عہدے ، طاقت یا خوبصورتی پر غرور کرنا اور دوسروں کو دُکھ دینا کتنی بری بات ہے! کیا تم نہیں جانتے؟''

توتا بولا، اُس کے لہجے میں مٹھو نے شاید پہلی بار سختی محسوس کی:

'' اگر تم نے اپنی شرارتیں بند نہ کیں تو ہم تمھیں جنگل میں چھوڑ دیں گے۔ تم سے سارا تعلق توڑ دیں گے،اچھا ہے کہ تم اپنی حرکتوں سے باز آجائو۔''

مٹھو سے اِس لہجے میں شاید توتے اور توتی نے پہلی بار بات کی تھی، وہ کانپ کر رہ گیا۔اُسے پہلی بار احساس ہو رہا تھا کہ اُس کی وجہ سے امی اور ابو کو کتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا...جانور اور پرندے گھر آکر کتنا سخت بول کر گئے تھے۔اُسے یہ بھی پتہ چل رہا تھا کہ جنگل کے لوگ اُس سے کس قدر ناراض ہیں۔ آج امی ، ابو نہ ہوتے تو نہ جانے اِس کے ساتھ کیا ہوتا۔ اُس کے دل میں ڈر بیٹھ گیا۔ اُس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔ اُس نے سچے دل سے توبہ کی اور کہنے لگا:

''مجھے معاف کر دیجیے امی ، ابو! مجھے احساس ہوگیا ہے کہ دوسروں کو دُکھ دینا کس قدر بُری بات ہے ، بُرے کام یا بُری عادتیں ہمارے اور ہمارے بڑوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہوتی ہیں۔''

''شاباش میرے بیٹے! مجھے خوشی ہوئی کہ تمھیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔ '' توتی نے کہا تو ننھا مٹھولپک کر اُن سے چمٹ گیا۔یہ دیکھ کر توتا گول گول گھومنے لگا جیسے خوشی سے جھوم رہا ہو...

OO

عبدالرشید فاروقی

لکھاری

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام