طلحہ کی عمر لگ بھگ بارہ سال ہوچکی تھی۔ ماں باپ کا سایہ سر سے اٹھے نو سال بیت گئے تھے۔ وہ اپنی دادی کے ساتھ مزدور وں کی بستی میں رہتا تھا۔ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا کہ ان کا گھر ذاتی تھا۔ بس حالات کچھ ایسے تھے کہ گزر بسر بہت مشکل سے ہورہی تھی۔ دادی محلے کی خواتین کے کپڑے سلائی کرتی تھیں اور طلحہ اسکول کے بعد ایک پھل والے کی دکان پر رات گئے تک کام کرتا تھا۔ دکان دار اُسے روز کچھ پیسے دیتا تھا۔ یہ پیسے زیادہ نہیں ہوتے تھے لیکن وہ خوشی سے لے لیتا تھا۔وہ ان پیسوں میں سے تھوڑے پیسے دادی کو دے دیتا اور دس بیس روپے ایک ڈبے میں ڈال دیتا تھا۔اُس کا خیال تھا کہ جب پیسے کچھ زیادہ جمع ہو جائیں گے تو وہ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرلے گا۔ جیسے اس نے نئے جوتے خریدنے تھے، اسکول کا یونیفارم لینا تھا اور کچھ کھلونے بھی اسی فہرست میں تھے۔
اُس کے اسکول میں ایک لڑکا پڑھتا تھا۔ زاہد کے والد رکشہ چلاتے تھے۔ یوں اُنھیں روپے پیسے کی کمی نہیں تھی۔ زاہد اکثر طلحہ پر طنز بازی اور اُس کی غربت کا مذاق اُڑایا کرتا۔ وہ طلحہ کو کنجوس کے نام سے پکارتا تھا۔اس کے ہم جماعت خوب لطف اندوز ہوتے تھے اس لقب سے۔
ایک دن طلحہ اسکول سے واپس آیا تو دادی نے کہا:
''بیٹا! ذرا کرمو چچا کے ڈپو سے لکڑیاں تو لے ۔ شام کو تمھارے لیے بھنڈی بنانی ہے۔''
بھنڈی طلحہ کو بہت پسند تھی۔وہ اکثر دادی سے اُس کی فرمائش کرتا تھا۔ طلحہ جلدی سے گھر سے نکلا اور کرمو چچا کے ڈپو پہنچ گیا۔ وہاں سے لکڑیاں خریدیں اور سر پر رکھ کر گھر کی جانب جانے لگا ۔
چچاکرمواُن کے حالات سے بخوبی واقف تھا۔ وہ ایک نیک دل انسان تھے۔اکثر پیسوں سے زیادہ لکڑیاں طلحہ کو دے دیتے تھے، گویا وہ اس دادی پوتی کی مدد کر رہے تھے۔
لکڑیوںکا وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے طلحہ جلد ہی تھک گیا۔وہ روڈ کنارے کھڑا ہوکر سستانے لگا۔اچانک اُسے ایک سمت سے زاہد آتاہوا نظر آیا۔وہ اپنے والد کا رکشہ چلا رہا تھا۔ اُسے دیکھ کر طلحہ کی سانس میں سانس آئی، اُسے یقین تھا کہ زاہداُس کی مدد ضرور کرے گا۔ جیسے ہی زاہد اُس کے قریب پہنچا تو طلحہ پکارا:
''زاہد! تم گھر کی طرف جارہے ہوتو مجھے بھی ساتھ لے چلو، یہ لکڑیاں کافی وزنی ہیں، مجھ سے اُٹھائی نہیں جارہیں۔''
''ہاں ہاں!کیوں نہیں، اِنھیں رکھو رکشے پر اور خود بھی بیٹھ جائو۔'' زاہد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اُس نے رکشہ روکا نہیں البتہ آہستہ ضرور کر لیاتھا۔چلتے ہوئے رکشے میں طلحہ نے لکڑیاں رکھ دیں ۔پھر جیسے ہی وہ خود بیٹھنے لگا تو زاہد نے ایک دم سے رکشہ کی رفتار بڑھا دی۔ طلحہ کا توازن بڑ گیا، وہ خود کو سنبھال نہ سکا اور اوندھے منہ نیچے گر گیا۔ اُس کے نیچے گرتے ہی زاہد نے رکشہ بھگایا اور یہ جا وہ جا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
گرنے کی وجہ سے طلحہ کے ماتھے پر چوٹ آئی تھی۔ہلکا ہلکا خون بھی نکلنے لگا تھا۔وہ بے بسی سے زاہد کو جاتے دیکھ رہا تھا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو چکے تھے۔ زاہد کے نہایت ذلت آمیز رویے سے وہ بہت دل برداشتہ تھا۔ وہ اُٹھا اور ایک بار پھر کرمو چچا کے پاس چلا گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ پیسوں کے بغیر کرموں چچا اُسے لکڑیاں کیوں دیں گے!
''اوہ بیٹا!کیا ہوا تمھیں؟ کسی سے جھگڑا کرکے آئے ہو اور تمھاری لکڑیاں کہاں ہیں؟'' کرمو چچا نے طلحہ کو دیکھا تو حیرت سے اُچھل پڑا۔ طلحہ نے سارا واقعہ اُنھیں بتا دیا۔
''اوہ ، بیٹا! تمھارے دوست نے اچھا نہیں کیا !''
'' دوست...شاید وہ مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتا ، لیکن میں تو اُسے اپنا دوست سمجھتا ہوں ، ہم ایک ساتھ اسکول میں پڑھتے ہیں۔ ساتھ پڑھنے والے دوست ہی ہوتے ہیں، کیوں چچا! دوست ہوتے ہیں ہیں نا؟'' اُس نے آنسو بہاتی آنکھوں کے ساتھ چچا کی طرف دیکھا۔
''ہاں! بیٹا ساتھ رہنے ، پڑھنے والے دوست ہی تو ہوتے ہیں، خیر! تم دل میلا نہ کرو اور یہ لکڑیاں میری طرف سے لے جائو ، تمھاری دادی انتظار کر رہی ہوں گی۔'' چچا نے لکڑیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔وہ چچا سے لکڑیاں لے کر گھر چلا گیا۔
اِس واقعے کے دو ماہ بعد ایک دن طلحہ کو خبر ملی کہ زاہد کے والد کا ایکسیڈنٹ ہو گیاہے اور وہ رکشہ چلانے کے قابل نہیں رہا۔ اُس کی دونوں ٹانگیں بُری طرح کچلی گئی تھیں۔
وقت گزرا اور زاہد کی حالت بدلتی چلی گئی۔وہ بھی اُنھی حالات سے گزرنے لگا جن سے طلحہ گزر رہا تھا۔اُس کی ساری اکڑ فوں نہ جانے چلی گئی؟ گھر کی مکمل ذمہ داری زاہد کے کندھوں پہ آچکی تھی۔والد کے علاج کے سلسلے میں اُنھیں رکشہ بھی فروخت کرنا پڑگیا تھا۔زاہد موٹر سائیکل کی ورکشاپ پر کام کرنے لگا تھا۔
ایک دن دوپہر کے وقت طلحہ اسکول سے گھر جا رہا تھا کہ اچانک اُس کی نظر زاہد پر پڑی۔ اُس کے پائوں میں ٹوٹی ہوئی چپل تھی۔وہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ اُس کے پائوں کی ایڑیاں زمین سے لگتیں تو وہ تکلیف سے رُک جاتا تھا۔ طلحہ نے اُس کی آنکھوں میں دیکھنا چاہا لیکن وہ نظریں نیچی کیے اُس کے پاس سے گزر گیا۔ طلحہ اُس کی یہ حالت دیکھ کر پریشان ہوگیا۔ وہ کچھ دیر اُسے دیکھتا رہا۔پھر خاموشی سے گھر چلا گیا۔
رات کو جب وہ کمرے میں گیا تو اس نے اپنا وہی ڈبہ نکالا جس میں وہ پیسے جمع کر رہا تھا۔ طلحہ نے اُسے کھولا اور پیسے گننے لگا۔ وہ اتنے ہو گئے تھے کہ ایک سادہ جوتوں کا جوڑا خریدا جا سکتا تھا۔ وہ بیٹھا کچھ سوچتا رہا، پھر اُس نے پیسے دوبارہ ڈبے میں ڈالے اور اُس کا منہ بند کر دیا۔
اگلے دن اسکول کے بعد طلحہ سیدھا بازار گیا۔اُس نے ایک دکان سے سادہ مگر مضبوط جوتے خریدے۔وہ جوتے لے کر زاہد کے گھر پہنچ گیا۔وہ گلی میں اپنے گھر کے پاس ہی بیٹھا تھا۔
طلحہ نے جوتوں کا ڈبہ اُس کے سامنے رکھا اور بولا:
''یہ تمھارے لیے ہیں زاہد۔'' وہ جوتوں کا ڈبہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔
''لیکن تم میری مدد کیوں کر رہے ہو؟تمھارے جوتے بھی پرانے ہیںاور اِن کی حالت بھی زیادہ اچھی نہیں ہے۔'' زاہد نے حیرت سے کہا۔
''میرے جوتے تمھارے جوتوں سے بہت اچھے ہیں ، یہ جوتے میں تمھارے لیے لایا ہوں ، اِنھیں تم ہی پہنو گے۔'' طلحہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''میں یہ نہیں پہن سکتا ہوں، میں اس قابل نہیں ہوں کہ تم سے کچھ لے سکوں ، میں نے ہمیشہ تمھارے ساتھ بُرا سلوک کیا ہے، کبھی تمھیں دوست نہیں سمجھا...''
''زیادہ نہ سوچو ، تم میرے دوست ہو اور ہمیشہ سے ہو۔ شاباش! اچھے بچوں کی طرح جوتے پہن لو ، مجھے خوشی ہوگی۔''طلحہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ، پیار بھری۔
زاہد اُسے عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا ، پھر اُس نے جوتے لے لیے۔
'' میں اب چلتا ہوں ، پھر ملاقات ہوگی۔'' طلحہ نے کہا اور واپس جانے لگا۔جب وہ گھر واپس پہنچا تو دادی نے پوچھا:
''تم آج بازار گئے تھے بیٹا!''
''جی ہاں!نئے جوتے خریدنے گیا تھا۔'' طلحہ نے کہا اور پھر اُس نے ساری بات دادی کو بتا دی۔ وہ اپنی دادی سے کبھی کوئی بات نہیں چھپاتا تھا۔ دادی کچھ دیر خاموش بیٹھی کچھ سوچتی رہیں،پھر اُنھوں نے طلحہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے سے بولیں:
''بیٹا!انسان کی اصل دولت اُس کا دِل ہوتا ہے، میں جانتی ہوں کہ تم بہت دِل والے ہو ۔''
''اس کا تو مجھے معلوم نہیں لیکن میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میرے دوست کو جوتوں کی ضرورت تھی اور میں نے جوتے اُسے تحفہ میں دے دیے۔'' طلحہ نے ہنستے ہوئے تو دادی نے اُسے سینے سے لگا لیا۔
