🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
چار بگڑے  لڑکے

چار بگڑے لڑکے

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
25 جون، 2026۳۳ مرتبہ پڑھی گئی

چار بگڑے لڑکے سنیں

کہانی گو : بی اماں

میزبان: عبدالرشید فاروقی

''اُس نے کبھی کوئی اچھاکام نہیں کیا تھا۔ماںباپ اور بزرگوںکو بے حدتنگ کیا کرتا تھا۔اس کی شرارتوں سے اس کے چھوٹے بہن بھائی بھی بہت تنگ تھے۔ گلی میں ہوتا توپڑوسی شکایات کرتے نظر آتے۔ غرض گل ایک بگڑا ہوا لڑکا تھا۔اسے کوئی بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ایک دن کیا ہوا...؟''

 بی اماں خاموش ہوگئیں۔انہوں نے قریب رکھے گلاس سے بسم اللہ پڑھ کر پانی پیا اور پھر گہری نظروںسے ہال میں موجود، رنگ برنگے کپڑے پہنے بچوں کو دیکھنے لگیں۔بچے پوری طرح ان کی طرف متوجہ تھے۔ یہ سب اپنے ماں باپ کے ساتھ، ان کی کہانی سننے کے لیے کہانی گھر کے اس ہال میں موجود تھے۔بی اماں کے ساتھ کہانی گھر کا میزبان موجود تھا۔ وہ مسکرا مسکرا کر ہال میںموجود سب لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔

''بی اماں !اس دن کیا ہوا تھا؟''ایک چھوٹے سے بچے نے زور سے پوچھا۔ایک لمحے کوکمرے میں چھائی ہوئی خاموشی جاتی رہی۔کہتے ہیں، جہاں بچے ہوتے ہیں، ہاں خاموشی تو ہو ہی نہیں سکتی ، لیکن کہانی گھر کی انتظامیہ نے بڑی محنت و کوشش سے خاموش ماحول بنایا تھا۔ بی اماں نے پیار بھری مسکراتی نظر اس بچے پر ڈالی اور کہنے لگیں:

''ایک دن گل نے اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ مل کر جھیل میں نہانے کا پروگرام بنایا۔پہلے تو اس کے دوست راضی نہ ہوئے مگرپھر مان گئے اوریوں وہ جنگل کے کنارے موجود... اس خوبصورت جھیل پر پہنچ گئے، جہاں پرندے آکر اٹکھیلیاں کرتے تھے۔کبھی کبھار جنگل کاکوئی جانور بھی وہاں نہانے آجاتا تھا ورنہ جانوروں کے نہانے کا بندوبست اﷲ نے جنگل کے اندر ہی کر رکھا تھا۔ وہاں ایک تالاب تھا۔گل اور اس کے تین دوست... عاشی،طارق اور نوید جھیل میںنہانے لگے۔

 بچو !جھیل کا پانی ٹھنڈا تھا لیکن ان چاروں کو بے حد لطف آرہا تھا۔وہ ایک دوسرے پر پانی اُچھالتے تھے...خوب ہنسی مذاق کررہے تھے۔

جھیل سے ذراآگے ایک چھوٹا سادرخت اپنی گھنی سرسبز شاخوں کے ساتھ موجود تھا ۔اُس درخت کی ایک مضبوط شاخ پر طوطا،مینا بیٹھے ہوئے تھے۔وہ جھیل میں نہاتے ہوئے لڑکوں کو دیکھ رہے تھے ۔ ان کے چہروں پر کبھی خوشی کے آ ثار ہوتے تو کبھی فکرمندی کے۔طوطے نے مینا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

'مینا !یہ لڑکے نہاتے ہوئے کتنے اچھے لگ رہے ہیں لیکن میں یہ سوچ کر پریشان ہورہاہوں کہ اگر اس ظالم نے انہیں دیکھ لیا توکیا ہوگا؟'

'طوطے !میں بھی یہی سوچ رہی ہوں۔'مینانے کہا۔

دونوں اُداس نظروں سے چاروں کو دیکھ رہے تھے۔ یکایک مینانے کہا:

'طوطے!کیوںنہ ہم ان لڑکوں کوآنے والے خطرے سے آگاہ کردیں۔'

'کیایہ ہماری زبان سمجھ سکتے ہیں؟'طوطے نے کہا۔

'میرا نہیں خیال ،لیکن کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ ممکن ہے،ہمارے اشاروں سے وہ کچھ جان لیں۔آخر انسان کے بچے ہیں۔'

وہ فیصلہ کرکے اُڑے اور جھیل کے پاس چھوٹے سے درخت کی ،اُس شاخ پر جا بیٹھے جوزمین کو چھوتی تھی۔

گل کی نظر اُن پر گئی تو اُس نے اپنے ساتھیوں سے کہا:

'ارے !کتنے پیارے طوطے ہیں۔'

'پیارے ہیں اور بہادر بھی ۔ہم سے ڈر نہیں رہے ہیں، انہیں اس بات کی فکر نہیں کہ ہم انہیں پکڑ بھی سکتے ہیں۔' طارق نے ہنستے ہوئے کہا۔

'پکڑسکتے ہیں ...ہونہہ!پرندے بہت چالاک ہوتے ہیں۔آسانی سے قابو نہیں آتے۔' عاشی نے منہ بنا کرکہا۔

اچانک طوطا،مینا زور زور سے بولنے لگے، جیسے اُن سے کچھ کہہ رہے ہوں۔چاروں نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا،پھر گل بولا:

'یہ...یہ توشور کرنے لگے۔ کہیں بھوکے تو نہیں۔'

'یہ بھوکے ہرگز نہیں ہوسکتے کیوں کہ اس جنگل میں ان کے لیے کھا نے کا بے حد سامان ہے۔' نوید نے جلدی سے کہا۔

وہ نہانا بھول گئے تھے۔ جھیل کنارے زیادہ گہرائی نہیں تھی۔ اس لیے وہ بے فکری سے کھڑے تھے۔ طوطا،مینا اور زرو زور سے بولنے لگے تھے۔ وہ اپنی زبان میں کہہ رہے تھے:

'بچو!جھیل سے نکل آئو... تمہیں مگرمچھ گھسیٹ لے گا۔'

لیکن ان کی بات گل اور اس کے دوستوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی اور آتی بھی کیسے؟جانوروں اور پرندوں کی باتیں کون سمجھ سکتا ہے۔ طوطا مینا مسلسل شور کررہے تھے۔گل اور اس کے ساتھی اب خوشی سے تالیاں پیٹ رہے تھے۔ گویا ان کے نزدیک طوطا،میناتماشا کر رہے تھے۔ انہیں تالیاں پیٹتے دیکھ کر پرندوں کو بے حد غصہ آیا۔وہ پھر سے اُڑے اور اپنے درخت پر جابیٹھے۔

'ارے !یہ تو چلے گئے...خیر،آئواور نہائیں۔'گل نے کہا۔

'بس یار!میرا جی بھرگیاہے۔'طارق بولا۔

'اورمیرا بھی۔'عاشی نے کہا۔نوید بھی پانی سے نکل آیا۔گل بولا:

'لیکن میں ابھی اور نہائوںگا۔'

'بس کرویار!باہر آجائو۔'نوید نے کہا۔

'مجھے یہاں خطرہ محسوس ہونے لگا ہے۔'عاشی نے زور سے کہاتوتینوںنے چونک کراس کی طرف دیکھا پھر ایک قہقہہ بلند ہوا۔یہ گل کے منہ سے نکلاتھا:

'احمق کہیں کا ...یہاںخطرہ کیسا؟'

'میں کیاکروں؟ مجھے خطرہ محسوس ہو رہا ہے بس۔'عاشی نے منہ بنایا۔

'ٹھیک ہے۔ یہاں سے واپسی پر، میںتم سے سارے جاسوسی ناول واپس لے لوں گا۔کم بختوں نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے۔'گل نے کہااور پانی میں غوطہ لگاگیا۔پھر اُبھرا اور بولا:

'دوستو!طوطوں کی آوازیں بہت اچھی لگ رہی تھیں۔'

'ہاں!ارے ...و ہ رہے دونوں۔'طارق کی نظراچانک طوطااور مینا پر پڑی تواس نے چونک کر کہا۔ 

چاروں انہیں دیکھنے لگے۔ طوطا اور مینا پتلی سی شاخ پر بیٹھے جھولا لے رہے تھے۔ اب وہ خوش دکھائی دیتے تھے۔

پھراچانک گل پانی سے باہر نکل آیا۔اسی وقت پانی میں زبردست ہلچل ہوئی اور ساتھ ہی ایک بڑا سا مگرمچھ کنارے پر نمودار ہوا۔وہ ڈرکر کنارے سے پیچھے ہٹ گئے۔ گل کے چہرے پر خوف طاری ہو گیا تھا۔وہ سوچ رہا تھا کہ چند سیکنڈ میں پانی میں اوررہتا تو کیا ہوتا؟یہ سوچ کر ہی اس کی روح کانپ اُٹھی۔ اس لمحے پہلی باراس نے اﷲ کا شکرادا کیا۔مگرمچھ ناکام ہوکر واپس پانی میں چلاگیا اور چاروں دوست ایک ٹیلے پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ انہیں باتیں کرتے ہوئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ اچانک اُن کے سامنے ایک خوف ناک شکل والاآدمی آگیا۔جانے وہ کب سے، کسی درخت کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔اس کاچہرہ اتنا بھیانک تھا کہ چاروں کو متلی سی ہونے لگی۔

اُس کا قد انتہائی لمبا تھا۔ بڑے اور مضبوط بازو زمین کو چھوتے معلوم ہو رہے تھے۔ جلے ہوئے گول پکوڑے جیسی سیاہ ناک ۔موٹے موٹے گال جیسے اُن میں ہوابھری ہو۔کان ہاتھی کے لگتے تھے اور سینے پر ریچھ کی طرح بال ۔غرض وہ آدمی، آدمی کم کوئی بلا زیادہ معلوم ہوتی تھی۔ا س نے منہ کھولا تو آگ سی نکلی۔ چاروں اور گھبراگئے۔ان کی ٹانگیں بیدکی چھڑی کی طرح کانپ رہی تھیں ۔ وہ بار بار تھوک نگل رہے تھے۔ اچانک خوف ناک آد می نے زوردار چیخ ماری...چاروںاچھل کر دور جا گرے۔''

کہانی گھر میں موجود بچو ںکے لیے بی اماں نے ایک پھرسسنپس چھوڑدیاتھا۔وہ اپنی عینک کے شیشے صاف کرنے لگی تھیں ۔ ہال میں مکمل خاموشی تھی۔ ہال میں بیٹھے سب چھوٹے بڑے، ٹکٹکی باندھے بی اماں کی طرف دیکھ رہے تھے۔

''بی اماں !پھر کیاہوا؟''ایک بچے سے برداشت نہ ہوسکا۔

انہوں نے کھنکار کر گلا صاف کیا اور دوبارہ کہنا شروع کیا:

''آوازاتنی خوف ناک تھی کہ طوطااورمینا بھی بھاگ گئے۔خوف ناک آدمی نے آگے بڑھ کر انہیں اُٹھالیا اورجنگل کے درمیانی حصے کی طرف بڑھنے لگا۔چاروں دوست چیخنے چلانے لگے مگر وہاں کون تھا جو اُن کی مدد کرتا۔خوف ناک آدمی پر ان کے چلانے کا کوئی اثر نہیں ہورہا تھابلکہ اس کے منہ سے عجیب وغریب آوازیں نکلنا شروع ہوگئی تھیں۔

پیارے بچے! یہ وہ وقت تھا جب گل اور اُس کے بگڑے ہوئے دوستوں کواپنے بُرے، گندے کام یاد آرہے تھے اور لوگوں کے ساتھ کی گئیں زیادتیاں بھی۔والدین کی نافرمانی کے مناظر ایک ایک کرکے ان کی نگاہوں کے سامنے آرہے تھے۔ چھوٹے بہن بھائیوں سے چھین کر کھائی گئیں چیزیں بھی ان کی نظروں کے سامنے لہرارہی تھیں۔غرض انہیں شدت سے احساس ہورہا تھا کہ انہو ںنے کبھی کوئی کام اچھا نہیں کیا تھا ۔ اگرکبھی کیا بھی تھا توکسی مطلب کی خاطر...

اچھے بچو! جب انسان پر مصیبت آتی ہے تووہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتاہے۔ سکھ کے دنوں میں اپنے رب کی پرواہ کرے ،نہ کرے لیکن تکلیف کے و قت وہ شدت سے اﷲ کو دیاکرتا ہے ۔بچو!سچے دل سے مانگی گئیں دُعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں۔ گل اور اس کے دوستوں نے سچے دل سے توبہ کی تو معلوم ہے، کیا ہوا؟''

بی اماں نے پوچھا۔

''کیا ہوا ،بی اماں؟''ایک بچی کی باریک سی آوازہال میں گونجی۔

''خوف ناک آدمی نے چاروں کو گھاس پر ڈال دیااور اپنے جسم پر خارش کرنے لگا۔اُس کی خارش کرنے کی رفتاربڑھتی گئی،بڑھتی گئی...اتنی کہ وہ ناچتامحسوس ہونے لگا۔ چاروں دوست حیرت سے اُسے دیکھے رہے تھے ۔

خوف ناک آدمی ناچتے ناچتے اچانک نیچے گرااور تڑپنے لگا۔چند منٹ تڑپنے کے بعد وہ ٹھنڈا ہوگیا۔اس کے مرتے ہی چاروں جلدی سے اُٹھے اور ایک طرف بڑھنے ہی لگے تھے کہ چونک اُٹھے۔ان کے سامنے ایک خوبصورت پری کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر پیاری سی مسکراہٹ تھی۔ وہ بولی:

'' بچو!تم یہاں کہا کررہے ہو؟'اس کی آواز بہت اچھی تھی۔وہ مسکرا رہی تھی۔

چاروں ایک ساتھ بولے:

'اچھی پری!ہم بھٹک گئے تھے۔'

'ہاں !میں جانتی ہوں، تم چاروں  یقینا بھٹک گئے تھے۔ یادرکھو!بھٹکے ہوئے لوگ دُنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے ہیں۔ کامیابی صرف انہیں حاصل ہوتی ہے جوہر وقت اپنی ذمہ داریوں کونگاہ میں رکھیں اور انہیںپوراکریں۔میں جانتی ہوں، تمہارے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے۔ اگر تم ایک کام نہ کرتے تو بلاشبہ اس وقت اِس کی بجائے، تم چاروں یہاں مردہ حالت میں پڑے ہوتے۔''پری نے خوف ناک آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اورپھر اچانک ایک عجیب بات ہوئی۔ خوف ناک آدمی کی لاش غائب ہوگئی۔انہوں نے گھبراکرپری کی طرف دیکھا توحیرت سے اچھل پڑے...پری بھی غائب ہوچکی تھی۔''

بی اماں خاموش ہوگئیں۔ کہانی ختم ہوگئی تھی۔ہال میں موجود بچے اور سب بڑے بہت خوش تھے۔ انہیں کہانی بے حد پسند آئی تھی۔اِس لیے وہ تالیاں بجا رہے تھے۔

''بہت خوب، بی اماں! آپ نے تو بہت ہی اچھی کہانی سنائی بچوں کو۔''میزبان نے مائیک سنبھال لیا تھا۔ اب اُس کی آواز ہال میں گونجی:

'' اچھے اور پیارے بچو! اب مرحلہ ہے، اس کہانی سے متعلق سوالات کا، ان کے جوابات دے کر آپ میں سے کچھ بچے انعامات جیت سکتے ہیں، میں سوال پوچھوں...کیا آپ سب تیار ہیں۔''

''تیار ہیں...تیار ہیں...''

میزبان نے پہلو میں کھڑی بچی سے ایک گلابی لفافہ لیا اور ہال میں موجود بچوں سے سوالات پوچھنے لگا:

1۔ گل اور اُس کے دوست کیسے بچے تھے؟

2۔ اللہ میاں اُن چاروں کو سزا کیوں دینا چاہتے تھے؟

3۔ وہ سزا سے کیسے بچے؟

4۔ دُنیا اور آخرت میں کیسے لوگ کامیاب ہوں گے؟

5۔ اِس کہانی سے کیا سبق حاصل ہوتا ہے؟

عبدالرشید فاروقی

لکھاری

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام