'' ارے چِی چِی چڑیا تم کہاں ہو ؟میں کب سے کھیت میں تمھیں تلاش کر رہی تھی ۔'' مومی چڑیا نے اس کے دورازے پر دستک دی۔
'' سب ٹھیک تو ہے مومی ! چِی چِی نے دروازہ کھول کر اپنی سہیلی کو ہانپتے دیکھاجس کے دوننھے منے بچے بھی ساتھ تھے۔
'' تمھیں یاد ہے میں نے تم سے کہا تھا کہ ہم شام کو چلغوزے کھانے چلیں گے ۔'' مومی نے اندر آتے ہوئے کہا ۔
'' اوہ ہاں مجھے یاد آگیا ہے۔تم کچھ دیر انتظار کرو اور میں 'چوچو' کو تیار کرلوں۔'' چِی چِی نے مسکراتے ہوئے یہ کہہ کر چوچو چڑے کو گرم کپڑے پہنائے ٹوپی بھی سر پر دے دی۔
''مومی باہر سردی بہت ہے تم نے بھی بچوں کو گرم لباس پہنانا تھا ۔انھیں ٹھنڈ لگ جائے گی ۔'' چِی چِی نے مومی کے بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کیوں کہ انھوں نے نہ تو ٹوپی اوڑھ رکھی تھی اور نہ ہی اونی لباس پہن رکھا تھا ۔
'' کچھ نہیں ہوتا ویسے بھی ہم جلدی واپس آجانا ہے ۔'' مومی نے اس کی بات کو نظرا نداز کرتے ہوئے کہا اور پھر وہ دونوں اپنے بچوں کے ساتھ گھر سے نکل آئیں ۔کچھ دیر بعد وہ چلغوزے کے درختوں پر پہنچ گئیں ۔بچے بہت خوش تھی لیکن مومی کے بچوں کو بہت ٹھنڈ لگ رہی تھی وہ اپنی ماں کے پروں میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے ۔وہ سردی سے کانپ رہے تھے ۔چو چو مزے سے چلغوزے کھا رہا تھا جو اس کی امی نکال کر دے رہی تھی ۔مومی کے بچے بہت تنگ کر رہے تھے ۔انھیں خود سے کھانے کی عادت نہیں تھی ۔مومی انھیں ڈانٹنے لگی کہ خود کھائو لیکن وہ ضد ی تھے اور آپس میں لڑائی کے ماہر تھے ۔انھوں نے ایک دوسرے کو مارنا شروع کردیا لیکن مومی نے انھیں بالکل نہ روکا اور نہ ہی سمجھایا ۔چِی چِی کو بہت عجیب لگا کہ وہ اپنے بچوں کو خود خراب کر رہی ہے ۔
'' ماما ! ہم واپسی پر کارٹون فلم دیکھنے بھی جائیں گے ۔'' مومی کے بچوں نے شور مچانا شروع کردیا ۔
'' ہاں ہاں ہم جائیں گے ،چِی چِی تم بھی ہمارے ساتھ جائو گی۔'' مومی نے پوچھا ۔
'' نہیں مومی تم جانتی ہو ،چوچو کو کتابیں پڑھنے کا شوق ہے ،یہ کہانیوں والی کتابیں بہت شوق سے پڑھتا ہے ۔اس لیے ہم دونوں آج کچھ کتابوں کی خریداری کے لیے جائیں گے ۔'' اس نے جواب دیا جسے سن کر مومی نے برا سا منہ بنایا اور بولی:'' تم نے اسے کتابی کیڑا بناناہے ، زندگی کا مزا بھی لینے دو ۔''
'' مومی آنٹی ! میں نے کتابوں سے بہت کچھ سیکھا ہے ۔کتابوں نے ہی مجھے بتایا کہ اپنی امی کا کہنا ماننا ہے ،بڑوں کا ادب کرنا ہے ۔'' چوچو نے سمجھداری سے کہا ۔
''مومی! تم انھیں اچھا پڑھنا بھی سیکھائو ،یہ تم سے بدتمیزی کرتے ہیں اور آپس میں بھی اچھے انداز سے بات نہیں کرتے ۔'' چِی چِی نے کہا ۔
'' مجھے ٹومو بہت پسند ہے ،وہ کیسے اچھل اچھل کر اپنے دوستوں کو مارتا ہے اور ایک بار تو اس نے اپنے ابو کو چھلانگ لگاتے ہوئے نیچے گرا دیا۔مومی کے ایک بچے نے ہنستے ہوئے کہا
'' بیٹا ! یہ ٹومو کون ہے ؟'' چِی چِی نے پوچھا تو وہ بولا:''ڈی ڈی کارٹون آتے ہیں ان میں ٹوموہیروہے ۔''
''اور مجھے ڈیمو اچھا لگتا ہے۔وہ اپنے کھیل میں اتنا مگن ہوتا ہے کہ اسے اپنی امی کی آواز سنائی نہیں دیتی۔''مومی کے دوسرے بچے نے بھی زور زور سے ہنستے ہوئے بتایا۔
''اوہ مومی تم اپنے بچوں کی کیسی تربیت کر رہی ہو ،انھیں کس قسم کی چیزوں کی طرف راغب کر رہی ہو ۔'' چِی چِی نے دکھ بھرے انداز سے اپنی سہیلی کی طرف دیکھا وہ بھی اپنے بچوں کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر شرمندہ دکھائی دے رہی تھی ۔
'' چِی چِی کیا کرو ں،بچے یہ سب شوق سے دیکھتے ہیں ۔'' مومی نے پریشانی سے کہا ۔
'' بچے ضرور دیکھیں لیکن وہ کچھ دیکھائو جس سے انھیں اچھا سیکھنے کو ملے ۔کارٹون بھی اچھے اچھے دیکھے جاسکتے ہیں لیکن بس تم تھوڑی سی محنت سے اچھی چیز تلاش کرکے انھیں دیکھنے کے لیے دو۔'' چِی چِی نے کہا تو مومی نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا۔
'' آج ہم سب کتابوں کی خریداری کریں گے اور چوچو سب کو ایک کہانی سنائے گا ،ہے ناں چوچو۔'' چِی چِی نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے چوچو سے پوچھا ۔
'' جی ماما ،مجھے بہت سی اچھی کہانیاں آتی ہیں۔'' وہ خوش ہوتے ہوئے بولا۔اس کے بعد مومی نے اپنے بچوں کو کتابوں کے اسٹال پر جانے کے لیے راضی کر لیا ۔پیاری پیاری کہانیوں کی کتابیں دیکھ کر مومی چڑیا کے بچوںکے دل میں بھی شوق جاگ اٹھا۔وہ دلچسپی سے کتابیں دیکھنے لگے اور چوچو سے کہانی سننے کے لیے بھی تیار ہوگئے ۔چِی چِی چڑیانے مسکراتے ہوئے مومی کی طرف دیکھا جیسے کہہ رہی ہو والدین ہی اپنے بچوں کا رخ مفید علم کی طرف موڑ سکتے ہیں۔
