''حبہ آپی ! جلدی چلیں ہم سب تیار ہیں ۔'' بلال نے اس کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہا ۔
'' میں بھی تیار ہوں ۔'' حبہ نے اپنا چھوٹا سا بیگ گلے میں لٹکاتے ہوئے جواب دیا ۔
حبہ اور بلال اپنے امی ،ابو کے ساتھ ایک خوب صورت پہاڑی علاقے میں رہتے تھے ۔ان کے گھر کے قریب ایک وادی تھی جس کی سیر کے لیے وہ اکثر جاتے رہتے تھے ۔آج بھی ان کا ارادہ اُدھرہی جانے کا تھا ،مگر بلال کی فرمائش پر انھوں نے وادی کے دوسری طرف موجود پہاڑی پر جانے کا پروگرام بنا یا ۔وہ پہاڑی سر سبز جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی تھی ۔حبہ اور بلال بہت خوش دکھائی دے رہے تھے ۔ابو نے انھیں پہاڑی پر چڑھنے سے منع کردیا ۔اس لیے دونوں پہاڑی کے نیچے بنے ایک غار میں ہی کھیلنے لگ گئے ۔
''حبہ ! یہ دیکھو ،یہاں کیا ہے ؟''بلال نے ایک پتھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔حبہ تیزی سے اس طرف بھاگتی چلی آئی ۔اس نے دیکھا تیتر کے دو ننھے منے بچے رو رہے تھے ۔تیتر اور اس کی مادہ کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔
'' بلال! مجھے لگتا ہے ،ان کو پیاس لگی ہے ۔'' حبہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔
'' ہاں ۔۔مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے ۔'' بلال بھی اس کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے بولا۔
'' بلال ! تم ادھر ہی ٹھہرو ،میں کولر سے پانی لے کر آتی ہوں ۔'' یہ کہہ کر حبہ اس طرف بھاگ گئی جس جگہ ان کے امی ،ابو بیٹھے تھے ۔
''حبہ بیٹی ! بھائی کو بھی لے آئو ،تاکہ ہم مل کر کھانا کھائیں ۔'' اس کی امی نے دسترخوان بچھاتے ہوئے کہا ۔
'' امی جان ! ہم ابھی آتے ہیں ۔'' یہ کہہ کرحبہ پانی کا گلاس لے کر بلال کے پاس غار میں چلی آئی ۔جس نے اپنے ہاتھوں پر دونوں بچوں کو بٹھا رکھا تھا ۔وہ چیخ و پکار کر رہے تھے ۔حبہ نے ان دونوں کی چونچ باری باری پانی میں ڈبوئی تو ان کی سسکیاں تھم گئیں اور وہ خاموش ہو کر ان کی طرف دیکھنے لگے ۔
بلال نے بچوں کو ان کی جگہ پر رکھ دیا اور اپنے امی ،ابو کے ساتھ گھر واپس آگئے ۔حبہ اور بلال نے کچھ دن بعد اسی پہاڑی پر جانے کی ضد کی تو ان کے امی ،ابو ان کو ساتھ لے کر آگئے ۔تیتر کے بچوں کی تلاش میں وہ دونوں اسی غار کی طرف بھاگے ۔وہ جگہ خالی تھی ،حبہ اور بلال مایوسی سے واپس نکلے کہ اچانک بلال کے پائوں پر ایک پتھر آگرا ۔وہ درد کے مارے وہیں بیٹھ گیا ۔اس کے ناخن سے خون نکلنے لگا ۔ یہ دیکھ کر حبہ پریشانی سے زخم پر کچھ رکھنے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ چار تیتر شور مچاتے آگئے۔ ان کے منہ میں کوئی جڑی بوٹی تھی۔انھوں نے وہ حبہ کے ہاتھوں پر رکھ دی ۔ان میں سے ایک بڑے تیتر نے جڑی بوٹی کی ایک شاخ بلال کے پائوں پر رکھ دی ۔ یہ دیکھ کر حبہ سب سمجھ گئی اس نے جڑی بوٹی مسل کر بلال کے زخم پر رکھی تو نہ صرف خون رک گیا بلکہ تکلیف کی شدت بھی کم ہو گئی ۔حبہ اور بلال نے انھیں مسکراتی نظروں سے دیکھا کیوں کہ وہ پہچان گئے تھے کہ یہ وہی تیتر ہیں جن کی انھوں نے مدد کی تھی ۔چھوٹے تیتر خوشی سے آوازیں نکالنے لگے جیسے کہہ رہے ہوں کہ'' آج ہم تمہارے احسان کا بدلہ چکانے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔''
