🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
دُعا کی طاقت

دُعا کی طاقت

ماریہ نوید
19 جون، 2026۱۹ مرتبہ پڑھی گئی

دُعا کی طاقت سنیں

مولانا محمد اجمل گھر میں داخل ہوئے تو سب کے چہرے دودھ کی طرح سفید نظر آئے۔ ان کا بیٹا فوراً بولا:

'' ابا جان! وہ ...وہ بھائی جان کو پکڑ کر لے گئے۔''

اُنھوں نے سکون اور صبر کے ساتھ یہ خبرسنی، سب پر ایک نظر ڈالی ، پھر بولے:

'' اُنھوں نے بتایا کیا، کیوں لے جارہے ہیں وہ؟''

'' کچھ نہیں بتایا ، ہمارے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔''

'' اچھی بات ہے ، تم فکر نہ کرو ، اﷲ کو یاد کرو ، وہی ہمارا کارساز ہے ، میں شیخ صاحب کے پاس جاتا ہوں ، اُنھیں ساتھ لے کر پولیس اسٹیشن جائوں گا ، وکیل ساتھ نہ ہو تو یہ لوگ سیدھے منہ بات تک نہیں کرتے، بس تم اﷲ سے دُعا کرتے رہو۔''

اور پھر وہ گھر سے نکل گئے ۔ شیخ انور ان کے وکیل تھے ۔ وہ ان کے دفتر پہنچے اور یہ خبر انھیں سنائی کہ پولیس ان کے بڑے بیٹے کو لے گئی ہے ۔ شیخ انور کی پیشانی پر بل پڑگئے ۔ وہ اسی وقت اُٹھے اور ان کے ساتھ ان کے علاقے کے پولیس اسٹیشن پر پہنچے۔

مولانا محمد اجمل خود بھی کم مشہور آدمی نہیں تھے ، پھر وہ آئے بھی تھے اپنے وکیل کے ساتھ، تھانے کا انچارج ان سے اُٹھ کر ملا :

'' فرمائیے میں کیا خدمت کرسکتا ہوں۔''

'' مولانا صاحب کے بیٹے محمد اکمل کو آپ نے کس الزام کے تحت گرفتار کیا ہے۔''شیخ انور بولے۔

'' ہم نے ...مولانا کے فرزند کو...گرفتار کیا ہے ، یہ آپ سے کس نے کہہ دیا؟''اُس نے حیران ہوکر کہا ۔

'' کیا مطلب!تو کیا آپ نے گرفتار نہیں کیا۔''

'' ہرگز نہیں،بالکل نہیں۔گرفتاریوں کے اندراج کا رجسٹر آپ کے سامنے پڑا ہے ...دیکھ لیجئے۔''

'' اس کو دیکھ کر کیا کروں گا ، اس میں اندراج کیے بغیر آپ لوگوں کو پکڑ کر بند کر دیتے ہیں ۔''

'' آئیے! میں آپ کو حوالات کے تمام کمرے دکھادیتا ہوں۔''

'' لیکن پھر...وہ کس علاقے کی پولیس تھی ، آپ کے علم میں لائے بغیر وہ آپ کے علاقے سے کسی کو کیسے گرفتار کرسکتی ہے ۔''

''ہاں! یہ آپ نے کام کی بات پوچھی...آج کل دہشت گردی کے سلسلے میں جو پکڑ دھکڑ ہورہی ہے ، اس کے لیے الگ پولیس فورس قائم کی گئی ہے ۔ اس کا تعلق کسی علاقے سے نہیں، پورے شہر میں انہیں جہاں بھی کسی دہشت گرد کے ہونے کی اطلاع ملے گی، وہ وہاں پہنچ جائیں گے اور اس شخص کو گرفتار کرلیں گے ، انہیں کوئی نہیں پوچھ سکتا ، انہیں کوئی نہیں روک سکتا ، اگر کسی کے بارے میں صرف شک ہوجائے تو وہ اس شخص کو بھی گرفتار کرسکتے ہیں ۔''

'' یہ میں جانتا ہوں...ان کا دفتر کہاں ہے، یہ بھی جانتا ہوں لیکن اصولی طور پر تو پہلے مجھے یہیں آنا چاہیے تھا نا۔''

'' جی ہاں! یہ تو ٹھیک ہے ۔'' انچارج نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔

وکیل شیخ انور نے اس کے طنز کو اچھی طرح محسوس کیا اور پھر مولانا محمد اجمل سے بولے:

'' آئیے چلیں ...آپ کے بیٹے یہاں نہیں ہیں۔''

اب وہ دہشت گردی پولیس فورس کے دفتر پہنچے۔ یہاں کے انچارج نے بہت اکھڑ انداز میں ان سے بات کی ۔ محمد اکمل خان کا نام سن کر اس کا چہرہ تن گیا ، طیش میں کر بولا:

'' تو آپ اس دہشت گرد کے سلسلے میں آئے ہیں ۔''

'' وہ دہشت گرد نہیں ہے ، آپ کو غلط اطلاع دی گئی ہے ۔'' شیخ انور بولے۔

'' آپ ہمیں بے وقوف سمجھتے ہیں۔''

'' جی نہیں،بھلا ہم کیوں آپ کو بے وقوف خیال کرنے لگے۔'' اُنھوں نے فوراً کہا۔

'' پہلے ہمیں اس کے بارے میں اطلاع ملی ، پھر ہم نے چھان بین کی اور جب یقین ہوگیا کہ وہ دہشت گرد ہے ، تب اسے گرفتار کیا ۔''

'' مہربانی فرماکر اپنی چھان بین سے ہمیں بھی باخبر فرمائیں۔''

'' ہم اتنے بے وقوف نہیں،ہم عدالت میں ثبوت پیش کریں گے۔''

'' اچھی بات ہے ، آپ اسے عدالت میں کب پیش کررہے ہیں۔''

'' پیش کرکے جسمانی ریمانڈ لے چکے ہیں ، چودہ دن کا ریمانڈ لیا ہے، چودہ دن سے پہلے تو آپ اسے چھڑا نہیں سکتے...اس لیے کہ یہ دہشت گردی کا کیس ہے ۔''

'' کیا اس نے دہشت گردی کی ہے ۔'' مولانا محمد اجمل سے رہا نہ گیا ۔

'' کی نہیں،کرنے والا تھا۔مکمل ثبوت ہے اس بات کا ہمارے پاس ۔'' اس نے تنک کر کہا۔

'' آئیے مولانا چلیں...یہ ہماری بات نہیں سنیں گے۔''شیخ انور بولے۔

'' کوئی بھی نہیں سنے گا ۔'' اس نے کہا۔

اُنھوں نے کوئی جواب نہ دیا اوروہ باہر نکل آئے۔مولانا محمد اجمل کے چہرے پر اب ایک رنگ آرہا تھا تو دوسرا جارہا تھا۔

'' کیا آپ کے صاحب زادے اس قسم کا کوئی ذہن رکھتے ہیں۔''

'' نہیں،بالکل نہیں۔''

'' میں اپنے وکیل دوستوں سے مشورہ کرتا ہوں، آپ گھر جائیں، پریشانی کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس کیا ثبوت ہے ، جب کہ آپ کا کہنا ہے کہ محمد اکمل کسی قسم کی دہشت گردی سے قطعاً تعلق نہیں رکھتا۔''

'' بالکل یہی بات ہے ، اگر اس کا تعلق ایسے کسی گروہ سے ہوتا اور میرے علم میںیہ بات ہوتی تو میں آپ سے تو ہرگز نہ چھپاتا ، یہ بات آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں ۔''

''ہاں! یہی بات ہے،خیر آپ پریشان نہ ہوں ، ہم سب وکیل لوگ بیٹھ کر غور کریں گے اور دیکھیں گے کہ اس سلسے میں کیا کیا جاسکتا ہے۔''

'' بہت بہت شکریہ ! مجھے پریشانی یہ ہے کہ وہ رات کو اسے ماریں پیٹیں گے۔''

'' ہاں! میں بھی اس بارے میں فکر مند ہوں …لیکن اس کا حل فی الحال ہمارے پاس کوئی نہیں۔''

'' لیکن میرے پاس حل ہے ۔'' مولانا محمد اجمل نے پرسکون آواز میں کہا۔

'' حل...کون سا حل؟'' شیخ انور چونکے۔

'' یہ میں آپ کو پھر بتائوں گا...آپ اپنی سی کوشش کریں۔''

اور پھر وہ گھر آگئے ۔ گھر کے ہر فرد کی آنکھیں ان کے چہرے پر جم گئیں ... ظاہر ہے ، وہ اکمل کے بارے میں جاننے کے لیے بے چین تھا۔انہیں جوکچھ معلوم تھا، انھوں نے بتادیا پھر بولے:

'' پولیس والوں کی مار پیٹ سے بچانے کے لیے ہمارے پاس صرف ایک طریقہ ہے اور وہ ہے اﷲ سے دعا کرنا،سب لوگ نماز کی جگہ بیٹھ جائیں گے اور مسلسل دعا کریں گے کہ پولیس ہمارے بچے کو ہاتھ نہ لگاسکے۔آمین،سارا گھر دُعا پر لگ گیا۔نماز کے وقت نمازیں ادا کی گئیں اور باقی اوقات میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھے رہے ، آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔

پانچ دن بعد شیخ انور اور دوسرے وکلا حضرات بہت مشکل سے محمد اکمل کی ضمانت کرانے میں کامیاب ہوسکے... وہ بھی شیخ انور اور دوسرے وکلا نے ہائی کورٹ میں یہ ذمے داری لی تھی کہ دہشت گردی سے محمد اکمل کا کسی بھی طرح کا تعلق نہیں ہے اور پولیس کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کرسکتی۔ سرکاری وکیل نے اگرچہ یہ دعویٰ کیا کہ وہ ثبوت عدالت میں پیش کریں گے، تاہم عدالت نے ضمانت منظور کرلی اور کہا کہ آیندہ تاریخ پر پولیس کے ثبوت کا جائزہ لیا جائے گا ، اگر ثبوت مضبوط ہواتو ضمانت کینسل ہوگی۔

اب انھیں بے چینی تھی تو اس بات کی کہ پولیس کے پاس آخر ایسا کیا ثبوت ہے ' شیخ انورنے محمد اکمل سے کرید کرید کر سوالات پوچھ ڈالے ، لیکن کوئی اندازہ نہ لگاسکے۔ آخر عدالت میں پیش ہونے کی تاریخ آگئی۔سب لوگ عدالت میں حاضر ہوگئے ' اس وقت سرکاری وکیل نے عدالت میں ایک تصویر پیش کی۔اس تصویر میں محمد اکمل ایک شخص کے سامنے کھڑا تھا ۔ پولیس نے اس دوسرے شخص کی بہت سی دوسری تصاویر پیش کیں اور ثابت کیا کہ وہ ایک نامی گرامی دہشت گرد ہے اور پولیس اس کی گرفتاری میں اب تک ناکام رہی ہے، اب اگر محمد اکمل کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے تو وہ اس کے سامنے کیوں کھڑا ہے ۔''

عدالت نے تصویر محمد اکمل کو دکھانے کی ہدایت کی اور اس سے پوچھا:

'' آپ اس تصویر کے بارے میں کیا کہتے ہیں ۔''

محمد اکمل نے تصویر کو غور سے دیکھا ۔ چند لمحے تک وہ سوچتا رہا ، پھر اس نے چونک کر کہا:

'' اس شخص سے راستے میں ملاقات ہوئی تھی ، اس نے مجھ سے پین مانگا تھا … چلتے چلتے اسے کچھ لکھنے کا خیال آگیا تھا ۔ میں نے پین اسے دے دیا اور واپس لینے کے لیے اس کے سامنے کھڑا رہا،آپ خود دیکھ سکتے ہیں،پین اس کے ہاتھ میں ہے اور اب یہ پین میرے پاس موجود ہے ، اس لمحے کے علاوہ تو میں نے اسے زندگی میں کبھی دیکھا بھی نہیں۔''

ساتھ ہی وکیل نے کہا:

'' اور پھر تصویر تو عدالت میں یوںبھی ثبوت کے طور پر پیش نہیںکی جاسکتی۔''

عدالت نے چند دن بعد محمد اکمل کو بری کردیا۔گھر بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔اس وقت گھر کے افراد کو خیال آیا :

'' ارے ہاں! ہم یہ پوچھنا تو بھول ہی گئے کہ پولیس نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا تھا ۔ مارا پیٹا تھا یا نہیں۔''

اس سوال کے جواب میں محمد اکمل نے کہا:

''ان کا مارنے پیٹنے اور ہر طرح کا تشدد کرنے کا پروگرام تھالیکن پھر نہ جانے کیا ہوا،وہ ایسا نہ کرسکے۔وجہ مجھے معلوم نہیں۔''

سب لوگ یہ بات سن کر بہت حیران ہوئے ، آخر شیخ انور نے پولیس انچارج کوفون کیااور اس سے پوچھا:

'' ہم جاننا چاہتے ہیںکہ آپ لوگ محمد اکمل کو مارنے پیٹنے سے کیسے رکے رہے۔''

پولیس افسر نے سرد آہ بھری اور بولا:

'' یہ بات آج تک ہم بھی نہیں سمجھ سکے۔جب بھی ہم نے اس پر ڈنڈا برسانے کا پروگرام شروع کرنا چاہا۔کوئی نہ کوئی بات آڑے آگئی یا مجھے کسی آفیسر نے بلالیایا کوئی اور بات ہوگئی ، بس ہر بار محمد اکمل بچتا ہی چلا گیا ۔اس پر مجھے اب تک حیرت ہے۔'' یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا ۔ وکیل نے یہ بات ان سب کو بتائی۔وہ مسکرادیے۔مولانا محمد اجمل نے پرسکون آواز میں کہا:

''شیخ صاحب! یہ سب اﷲ کی مہربانی ہے۔ہم نے تو بس دعا پر زور رکھا تھا ، کیونکہ دعا کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ظاہر ہے ، ان حالات میں جو دعا ئیں ہم نے کیں ،وہ دلوں کی گہرائیوں سے نکلی تھیں۔بس اﷲ تعالیٰ نے محمد اکمل کو ان سے محفوظ رکھا۔''

'' بالکل ٹھیک!آج معلوم ہوگیا،دُعا میں کتنی طاقت ہے۔''

لکھاری

ماریہ نوید