”واہ بھائی سعود! تمہاری سائیکل تو بڑی شاندار ہے۔
لگتا ہے تمہارے چاچو بڑے امیر ہیں جبھی تو تمہیں اتنی مہنگی اور شاندار سائیکل تحفے میں دی ہے۔“
”ہاں بھائی نعمان! میرے چاچو چند ماہ پہلے ہی امریکہ سے آئے ہیں اور مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ جبھی تو مجھے اتنی شاندار سائیکل تحفے میں دی ہے۔“
”ویسے میں نے بھی تو امتحان میں اتنی محنت کی تھی تو چاچو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر میں اچھے نمبروں سے پاس ہوا تو مجھے سائیکل تحفے میں دیں گے۔“
"ہاں بھائی سعود! تمہارے تو مزے ہیں ،مزے۔۔۔“نعمان حسرت سے بولا۔
۔۔۔۔۔
”امی ابو! مجھے بھی سعود جیسی سائیکل چاہیے۔“
اتنی شاندار سائیکل ، اس کے چاچو نے اسے تحفے میں دی ہے۔ نعمان تفصیل بتاتے ہوئے بولا ۔
”بیٹا! ہرچیز کی ضد نہیں کرتے،بلکہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھتے ہیں اگر اپنے سے اونچے لوگوں کو دیکھیں گے تو ہم ہمیشہ پریشان ہی رہیں گے۔“ ابو تحمل سے بولے۔
”لیکن ابو وہ سعود کی فیملی تو ہماری ہی طرح کے گھر میں رہتے ہیں۔“
”ہاں بیٹا! آپ درست کہہ رہے ہیں، سعود کی فیملی ہمارے ہی طرح کے درجے کی ہے۔
لیکن اس کے چاچو بہت زیادہ امیر ہیں اور انہوں نے سعود کو تحفے میں یہ سائیکل دی ہے۔“
”جی ابو! میں بھی تو یہی کہہ رہا ہوں، سعود نے محنت کی تو اسے اتنا اچھا انعام ملا۔ میں نے بھی تو محنت کی بلکہ میں نے تو سعود سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں۔
مگر مجھے تو کسی نے ایسا انعام نہیں دیا۔“
”بیٹا! ہمیشہ اپنی نگاہ اللہ کی طرف رکھتے ہیں دوسروں کی چیزوں کی طرف نہیں رکھتے۔
اور اگر آپ کے کسی دوست کے پاس کوئی اچھی چیز آ بھی جاتی ہے تو اسے دیکھ کر خوش ہونا چاہیے اور ماشاءاللہ لاقوۃ الا باللہ کہنا چاہیے۔ مگر آپ جس طرح سے باتیں کر رہے ہیں اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ آپ اپنے دوست سے حسد کر رہے ہیں اور اللہ تعالی کو حسد سخت ناپسند ہے۔ آپ نے وہ دعا بھی یاد کی تھی نا کہ کسی مسلمان کو ہنستا دیکھیں یعنی خوش دیکھیں تو کیا پڑھنا چاہیے؟“
”جی ابو! اضحک اللّٰہ سنک“
”بالکل! جب آپ اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی خوشی میں خوش ہونے کی دعا کریں گے تو اللہ تعالی آپ کو بھی خوشی دیں گے اور ان شاءاللہ جب ہمیں وسعت آئے گی تو ہم بھی آپ کو اچھی سائیکل ضرور دلوائیں گے۔“
”ابو !مجھے آپ کی ساری بات بہت اچھے طریقے سے سمجھ آگئی ہیں، آئندہ میں ایسی ضد نہیں کروں گا۔اور اپنے دوستوں کی خوشی میں خوش ہوں گا نہ کہ حسد کروں گا۔“
”شاباش بیٹا! مجھے آپ سے یہی امید تھی۔“
ابو نے نعمان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
