🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
چڑیا گھر کی سیر
جماعت ۴ تا ۶

چڑیا گھر کی سیر

حفصہ محمد فیصل
19 جون، 2026۱۶ مرتبہ پڑھی گئی

چڑیا گھر کی سیر سنیں

”احمد !تم کبھی چڑیا گھر گئے ہو؟“

”عبداللہ! تم تو جانتے ہو ،میں گاؤں میں رہتا ہوں۔ بھلا میں کس طرح چڑیا گھر دیکھ سکتا ہوں۔

ہاں !ہمارے ہاں جنگلوں میں کھلے جانور ضرور گھومتے ہیں لیکن ہمارے امی ابو ہمیں اس طرف جانے نہیں دیتے کیونکہ وہ خطرناک ہوتے ہیں، آزاد ہوتے ہیں، کسی بھی وقت حملہ کر سکتے ہیں۔“

”ہاں بھئی! یہ بات تو ہے لیکن چڑیا گھر میں سارے جانور پنجرے میں قید ہوتے ہیں اور ہم بچے ان کو دیکھ بھی سکتے ہیں کچھ کھلانا چاہیں تو کھلا بھی سکتے ہیں اور ہمیں کوئی خطرہ بھی نہیں ہوتا ہے۔“

”بات تو تمہاری بالکل ٹھیک ہے اور میں اس بار یہاں پر دادا دادی اور چاچی چاچو سے ملنے کے ساتھ ساتھ چڑیا گھر کی سیر بھی کرنا پسند کروں گا۔ کیا تم مجھے چڑیا گھر لے جاؤ گے؟“

”کیوں نہیں! بالکل لے جاؤں گا، ویسے بھی آج کل اسکولوں کی چھٹیاں ہیں ، میں ضرور چڑیا گھر کی سیر کروانے لے جاؤں گا۔ بس ابو جان کو تھوڑا وقت مل جائے پھر ہم ان سے مل کر پروگرام بناتے ہیں۔“

یہ ٹھیک ہے!

۔۔۔۔۔۔۔

”احمد ،عبداللہ! جلدی سو جائیے ،صبح ہمیں چڑیا گھر کی سیر کے لیے روانہ ہونا ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ چڑیا گھر کی سیر میں سارا دن بھی نکل جائے پتہ نہیں چلتا ہے۔“

”جی ابو جان! آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اتنا بڑا تو چڑیا گھر ہے اور وہاں پر ڈھیر ساری جانور بھی ہیں۔“

”بالکل! اسی لیے میں کہہ رہا ہوں کہ ہم جتنا جلدی اٹھیں گے اتنا جلدی ناشتہ کر کے گھر سے نکل جائیں گے تاکہ پورا چڑیا گھر احمد کو دکھا سکیں۔“

ٹھیک ہے ابو جان!

۔۔۔۔۔۔۔

ارے واہ! اتنا بڑا زرافہ۔۔۔۔ یہ تو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

ہاں یہ زرافہ بہت بڑا ہے اس کی گردن بہت لمبی ہے اور دیکھو وہ اپنے گردن سے کس طرح سے اونچے درخت کے پتے توڑ توڑ کے کھا رہا ہے۔ اللہ تعالی کی بھی کیا شان ہے! کیسی کیسی چیزیں تخلیق کی ہیں۔

”بالکل! اس بات پر ’فتبارک اللہ احسن الخالقین‘پڑھنا چاہیے۔“ ابو جان بولے۔

آؤ! اس طرف چلتے ہیں وہاں پر بہت ساری بطخیں ہیں ہم یہ جو پاپ کارن لائے ہیں نا انہی بطخوں کو کھلائیں گے۔

”واہ! اتنی پیاری اور سفید بطخیں ہیں، ارے یہاں تو بگلے بھی ہیں اور یہ چھوٹے چھوٹے بطخ کے بچے بھی۔“ احمد پرجوش انداز سے دیکھ رہا تھا۔

”اچھا !یہ لو پوپ کارن کھلاؤ۔“ عبداللہ اور احمد پاپ کارن کھلاتے ہوئے خوش ہو رہے تھے۔

”یہ سیڑھیاں کس چیز کے لیے بنی ہوئی ہیں؟“

" دراصل ان سیڑھیوں سے چڑھ کر ہم نیچے کی طرف دیکھیں گے تو وہاں ایک کھائی نما غار ہے جس کے اندر ریچھ رہتا ہے اور وہ ریچھ جب ہم اسے آواز لگاتے ہیں تو اوپر بھی دیکھتا ہے۔

اچھا! احمد حیرت زدہ ہوا۔

”وہ امی جان نے روٹیوں کی تھیلی دی تھی نا! وہ ہم ریچھ کے لیے ہی لائے ہیں۔“

”چلو جلدی سے اوپر چلتے ہیں،

ارے! یہاں تو بھیڑ لگی ہوئی ہے۔“

”بالکل! سب دیکھنے کے لیے آئے ہیں بھیڑ تو لگے گی نا!“ عبداللہ مسکراتے ہوئے بولا.

”یہ دھاڑنے کی آواز کہاں سے آ رہی ہے؟“

” یہ شیر دھاڑ رہا ہے۔“ عبداللہ بولا ۔

آؤ! چل کر دیکھتے ہیں۔

ہاں ہاں آؤ!

اتنا خطرناک شیر اور اس کے ساتھ شیرنی بھی ہے۔

”ہممم! شیر بڑا غصے میں ہے آج ،لگتا ہے، اسے بھوک لگی ہے لیکن شیر انکل ہمارے پاس آپ کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ تو گوشت کھاتے ہیں اور وہ ہم نہیں لا سکتے ہیں۔“ عبداللہ اپنی ہی بات پر ہنستے ہوئے بولا۔

”چلو بچو!اب شام ہونے والی ہے۔ بہت گھوم پھر لیا۔

امی اور دادی انتظار کر رہی ہوں گی۔“ ابو بولے۔

”عبداللہ! تمہارے ساتھ کی ہوئی اس چڑیاگھر کی سیر کو میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔“

بہت بہت... مزہ آیا۔

احمد نے عبداللہ اور چاچو کو ”جزاک اللہ“ کہا۔

لکھاری

حفصہ محمد فیصل

مجھے حفصہ محمد فیصل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ 2020ء میں بچوں کی کتب کیٹگری میں آل پاکستان اول انعام یعنی اس وقت کے وزیراعظم کے بدست اسلام آباد تقریب میں سیرت النبی ﷺ صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اب تک