2ٹارزن
''کالو ریچھ نے پنجہ مار کر سفید فام کے چہرے کو لہولہان کر دیا ۔ ایک طرف ٹارزن خنجر تھامے کھڑا تھا۔ قریب ہی دس افراد زخمی حالت میں پڑے تھے۔ ٹارزن کے چہرے پر غصہ تھا۔ کالو ریچھ نے سفید فام کو درخت کے پاس چھوڑا اور خود چلتا ہوا ٹارزن کے پاس آگیا۔''یہاں تک پڑھ کر مریم نے کروٹ بدلی اور گہرا سانس لیتے ہوئے دوبارہ پڑھنے لگی۔
''کالو! مجھے خون بہانااچھا نہیں لگتا لیکن یہ سفید فارم لوگ مجھے ایسا کرنے پر اُکساتے ہیں۔بھلا اِن سے کوئی پوچھے، آخر اِس جنگل کے جانوروں نے اِن کا کیا بگاڑا ہے؟ '' ٹارزن نے کہا۔
''سردار! مجھے یہ سفید فام پاگل لگتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہانا شروع کر دیتے ہیں۔ خیر! اب اِس کا کیا کریں؟'' کالو نے زخمی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
اِس سے پہلے کہ ٹارزن کوئی جواب دیتا خونی چہرے والے نے جلدی سے کہا:
''ٹارزن! میری ایک درخواست ہے۔ آپ بہت مہربان ہیں، ہم لوگ واقعی غلطی پر تھے۔ہم مناسب علاج اور دیکھ بھال کے بعد بچ سکتے ہیں۔آپ ہمیں ہمارے جہاز تک پہنچا دیں۔ آپ کا احسان ہو گا۔''
''ٹھیک ہے مگر آیندہ اِس طرف کا کبھی رُخ نہ کرنا…'' ٹارزن نے کہا اور سب زخمیوں کو اُٹھنے کا اشارہ کیا۔
''اُف! ٹارزن اس قدر رحم دل ہے…'' مریم نے کتاب بند کر کے ایک طرف رکھتے ہوئے کہا۔
وہ نو دس سال کی پیاری سی بچی تھی جسے ٹارزن کی کہانیاں پڑھنے کا جنون تھا۔ کبھی کبھی اُس کا دِل کرتا کہ وہ ٹارزن اوراُس کے ساتھی جانوروں سے ملے۔ وہ کافی دیر بیٹھی ٹارزن ا ور اس کے دوستوں کے متعلق سوچتی رہی۔ آخر نیند اس کی سوچوں کی راہ میں حائل ہوئی اور وہ سو گئی۔
O
وہ جیسے ہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی، اُچھل ہی تو پڑی۔ بے ساختہ اُس کے منہ سے نکلا:
''ٹارزن… انکل…''
ڈرائنگ روم کے صوفے پر بیٹھے ٹارزن نے مسکرا کر اُسے دیکھا اور اُس کے قریب آ کر بولا:
''مریم بیٹی! کیا حال ہے… کیسی ہو تم؟''
''ان…انک…انکل! میں ٹھیک ہوں، آپ یہاں؟''وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ٹارزن اُس کے سامنے یوں بھی آ سکتے ہیں۔
''مریم!اِن دِنوں میرے جنگل میں ہرطرف امن و امان ہے۔اِس لیے میں نے سوچاکہ دُنیا کی سیر کی جائے۔''
''اوہ… !! کیاآپ سب سے پہلے میرے شہر میں آئے ہیں؟''
''ارے نہیں، یہاں آنے سے پہلے میں کچھ ملکوں سے ہو آیا ہوں، بل کہ میں نے پاکستان کے بھی کچھ شہر دیکھ لیے ہیں۔ آج تمھارے شہر جھنگ میں موجود ہوں۔سُنا ہے ، تم میری کہانیاں شوق سے پڑھتی ہو؟''
''جی بالکل ، مجھے آپ کے کارنامے بہت اچھے لگتے ہیں۔ میں چاہتی ہوں، بچوں کے سارے رسالوں میں آپ کی کہانیاں ہوں۔'' وہ جلدی سے بولی۔
''بہت خوب … تم کتنی اچھی ہو۔'' ٹارزن نے کہا۔
''انکل! میری کتنی خواہش تھی کہ کبھی آپ سے ملوں،اِس وقت آپ میرے سامنے ہیں، میں بہت خوش ہوں۔'' مریم واقعی بہت خوش تھی۔ پھر وہ فیاض کی طرف مُڑی اور کہنے لگی:
''یہ میرے بڑے بھائی فیاض ہیں۔ اِنھیں کہانیاں لکھنے کا بہت شوق ہے، یہ کبھی کبھی آپ کے کارنامے بھی لکھتے ہیں۔اور یہ ہے میرا چھوٹا شریر سا بھائی گڈو… یہ بھی آپ کی کہانیاں پڑھتا ہے۔''
گول مٹول گڈو نے شرما کر سر جھکا لیاپھر چونک کر بولا:
''انکل! آپ کا دوست بندر کہاں ہے،کیا وہ آپ کے ساتھ نہیں آیا ؟''
''تم منکو کی بات کر رہے ہو؟''
''میں اُسی کی بات کر رہا ہوں۔''
''وہ جنگل میں ہی رہ گیا تھا۔ میں نے اُسے ساتھ چلنے کے لیے کہا تھا مگر اُس کا دل نہیں کر رہا تھا۔ ''
''انکل! آپ نے ہمیشہ بُرے لوگوں سے مقابلہ کیا ہے، کچھ ہماری مدد بھی کردیں۔ '' فیاض نے کچھ سوچ کر کہا۔
''کیسی مدد…'' ٹارزن نے حیرت سے پوچھا۔
'' ہمارے علاقے میں کچھ لوگ نشے والی چیزیں سرعام فروخت کرتے ہیں۔ کوئی اُنھیں پوچھنے والا نہیں ہے۔ لوگ آہستہ آہستہ نشے والی چیزوں کے عادی ہو رہے ہیں۔ کیا آپ ایسے لوگوں سے ہمیں چھٹکارا نہیں دلا سکتے؟''
''اوہ! تو یہاں بھی یہ کاروبار ہوتا ہے۔'' ٹارزن نے حیرت سے کہا۔
''انکل! اچھے بُرے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں نا…'' مریم جلدی سے بولی۔
''ٹھیک کہا تم نے مریم… اچھے بُرے لوگ تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔ خیر! کچھ کرتے ہیں۔ تم مجھے تفصیل سے سب بتائو۔''
O
ٹارزن نے اُونچی چھلانگ لگائی اوردرخت کی ایک موٹی سی شاخ پر چڑھ گیا۔ درخت کے ساتھ ہی ایک کوٹھی تھی۔اُس نے کوٹھی کے اندر نظریں جما دیں۔ اُس نے دیکھا۔ کوٹھی کے لان میں پانچ افراد کرسیوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ اُن کے پاس ہی میز پرایک بڑا سا موبائل رکھا ہوا تھا۔تھوڑی ہی دیر میں موبائل فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ بھاری مونچھوں والے آدمی نے جلدی سے موبائل اُٹھا کر کان سے لگا یااور کسی سے بات کرنے لگا۔
''ٹھیک ہے، مال آپ کے پاس آج ضرور پہنچ جائے گا لیکن ادائی فوری ہونی چاہیے۔ ''یہ الفاظ تھے جو پوری بات چیت میں ٹارزن کی سمجھ میں آئے تھے۔بھاری مونچھوں والا فون بند کر کے دوبارہ چائے پینے لگا ۔یہ دیکھ کر ٹارزن نے اپنے منہ سے اُلو کی آواز نکالی تو تھوڑی دیر بعد فیاض درخت کے نیچے پہنچ گیا۔ ٹارزن بھی درخت سے نیچے اُتر آیا۔ فیاض نے سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھا۔
'' اِنھوں نے آج کسی کو اپنا مال بھیجنا ہے۔'' ٹارزن نے آہستہ سے کہا۔
''اوہ… انکل! اب ہم کیا کر یں؟'' فیاض نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
''نگرانی… ہم اِن لوگوں کی نگرانی کریں گے۔یہ جیسے ہی مال روانہ کریں گے، ہم پولیس کو خبر دیں گے۔'' ٹارزن نے مسکراتے ہوئے کہا۔
''اور اگر پولیس اِن کے ساتھ ملی ہوئی تو، انکل! پولیس میں بھی کچھ غلط لوگ ہوتے ہیں، جو ایسے بُرے لوگوں کے ساتھ ملے ہوتے ہیں، وہ اُنھیں سب بتا دیتے ہیں۔'' فیاض کے چہرے پر گھبراہٹ تھی۔
''اوہ! یہاں ایسا بھی ہوتا ہے؟'' ٹارزن حیران رہ گیا۔
''جی ہاں! یہاں ہی نہیں، سب جگہ ایسا ہوتا ہے۔''
''خیر! ہم خود کچھ کرنے سے پہلے پولیس کو اطلاع کرنے کی کوشش کریں گے، اُنھوں نے کچھ نہ کیا تو میں ہوں نا، سنبھال لوںگا۔ آئو اِسی درخت پر بیٹھ کر اِن کی نگرانی کرتے ہیں۔'' ٹارزن نے کہا اور تیزی سے درخت پر چڑھ گیا۔ فیاض بھی درخت پر چڑھ گیا۔
دونوںنے خود کو درخت کی گھنی شاخوں میں چھپا لیا اور نظریں کوٹھی کے اندر جما کربیٹھ گئے۔
ایک گھنٹا گزرا… پھردوسرا … جیسے ہی تیسرا گھنٹا شروع ہوا، وہ چونک اُٹھے۔ کوٹھی کے گیٹ سے ایک وین نکل کر سڑک پر آگئی۔وین تھوڑا ہی آگے گئی تھی کہ ٹارزن اور فیاض تیزی سے درخت سے اُترے اور قریبی جھاڑیوں میں چھپی موٹر سائیکل کی طرف دوڑے۔اب وہ وین کا تعاقب کر رہے تھے۔
وین والے نہ جانے کیوں آہستہ چل رہے تھے اور پھر قریباً تیس منٹ بعد وہ ایک ویران سی سڑک پر آ گئے۔ ٹارزن موٹر سائیکل پر فیاض کے پیچھے بیٹھا تھا۔
''انکل! یہ کس طرف نکل آئے؟'' فیاض نے سرگوشی کی۔
''خاموش رہو !!!' 'ٹارزن نے اُسے بولنے سے منع کیا۔ پھر ایک فائر ہوااور ٹارزن اُچھل کر موٹر سائیکل سے نیچے گرا ہی تھا کہ عین اُس کے قریب سے ایک بڑی سے گاڑی فراٹے بھرتی گزر گئی۔ فیاض گھبرا گیا۔ اُس نے فوراً موٹر سائیکل روک لی۔ اُس نے دیکھا۔ وین اُڑی جا رہی تھی۔ ٹارزن زخمی ہاتھ پکڑے سڑک پر بیٹھا تھا۔
''اوہ… انکل! آپ تو زخمی ہوگئے؟'' فیاض کے چہرے پر گھبراہٹ تھی۔
''زخمی میں نہیں، میرا بایاں ہاتھ ہوا ہے ۔ افسوس! ہم اُنھیں پکڑ نہیں سکے۔''
''ہاں! ہم اُنھیں پکڑ نہیں سکے … '' فیاض نے آہستہ سے کہا۔
''خیر! کوئی بات نہیں ۔ پھر سہی، آئو! گھر چلتے ہیں۔'' ٹارزن نے کہا اور پھر اُن کی موٹر سائیکل گھوم کر گھر کی طرف جا نے لگی۔
O
''جی فرمائیے !آپ کو کس سے ملنا ہے؟'' فیاص نے اپنے سامنے کھڑے لمبے آدمی سے پوچھا۔
''مجھے ٹارزن سے ملنا ہے۔''
'' کک… کک … کس سے ملنا ہے آپ کو؟ذرا پھر سے کہیے۔'' فیاض کو جھٹکا سا لگا۔ وہ اور مریم سمجھ رہے تھے کہ اُن کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ ٹارزن اُن کے ہاں رُکا ہوا ہے۔
''پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولیں اور ٹارزن کو بلائیں، تمھارے والد صاحب گھر پر ہوں تو اُنھیں بھی بلائیے۔''
''اوہ … خیر تو ہے ، آپ کون ہیں؟''
''بیٹا ! میں سب بتائوں گا، دروازہ تو کھولیں۔''
فیاض ، گڈو ، مریم اور اُن کے والد اخترشمار کے ساتھ ساتھ ٹارزن بھی حیرت سے لمبے آدمی کی باتیں سن رہے تھے۔ وہ کہ رہا تھا:
''میں کافی عرصے سے اُن منشیات فروشوں کے پیچھے لگا ہوا تھا لیکن مجھے موقع نہیں مل رہا تھا کہ اُنھیں پکڑ سکوں۔ آج جب میں اُن کی نگرانی کے لیے درخت پر موجود تھا تو ٹارزن کو بھی اُسی درخت پر دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ میرے بیٹے اُن کے کارنامے شوق سے پڑھتے ہیں، اِس لیے میں اِنھیں دیکھتے ہی پہچان گیا۔ پھر جب معلوم ہوا کہ یہ بھی منشیات فروشوں کو پکڑنے کے چکر میں ہیں تو حیران رہ گیا۔ فیاض کو اِن کے ساتھ دیکھا تو سارا معاملہ جان گیا کہ ضرور اِس بچے کی خواہش پر ٹارزن نے اِس کام کا ذمہ لیا ہوگا۔ ٹارزن سڑک پر گرا اور اِن کے قریب سے جو ایک بڑی سی گاڑی تیزی سے گزری تھی، وہ میں چلا رہا تھا۔ '' لمبا آدمی کہہ رہا تھا اور وہ سب حیرت سے اُس کا منھ دیکھ رہے تھے۔ فیاض اور ٹارزن کی آنکھوں میں کل والے مناظر گھوم گئے۔
''اوہ … تو آپ نے منشیات فروشوں کو پکڑ لیا ہے؟'' مریم نے جلدی سے پوچھا۔
'' ہاں! میں نے اُنھیں پکڑ لیا ہے۔ '' لمبا آدمی مسکرایا۔
''میرے کچھ ساتھی منشیات فروشوںکی وین سے آگے ایک گاڑی میں تھے۔'' لمبے آدمی نے کہا تو سب حیرت سے اُچھل پڑے۔
''آپ کون ہیں؟ ''مریم کے والد اختر شمار نے سوال کیا۔
''مجھے انسپکٹر عرفان کہتے ہیں۔'' وہ مسکرایا۔
''اوہ … تو… تو آپ مشہور و معروف پولیس انسپکٹر ، انسپکٹر عرفان ہیں۔ جن کا نام سن کر بُرے لوگ کانپتے ہیں، آج آپ کو پہلی بار دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔'' مریم دنگ رہ گئی۔
''ارے واہ… ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہمارے گھر میں اِس وقت دو ٹارزن موجود ہیں۔'' فیاض نے چہک کر کہا۔
''دو ٹارزن… !!!'' فیاض کی بات سن کر ٹارزن حیران رہ گیا۔
''جی ہاں! انکل انسپکٹر عرفان اتنے بہادر ہیں کہ یہاں کے لوگ اِنھیں ٹارزن کہتے ہیں۔''
''اوہ! یہ ٹارزن ہیں تو تم لوگوں نے مجھے یہاں کیوں بلایا، اِ ن کی مدد لے لیتے ۔'' ٹارزن نے بُرا سا منھ بنایا۔
''اِس لیے بلایا کہ ہم جنگل والے ٹارزن انکل سے ملنا چاہتے تھے، آپ دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو یہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔'' فیاض نے ہنس کر کہا۔
''اللہ پاک ایسے لوگوں کو ہمیشہ سلامت رکھے جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔'' گڈو نے کہا تو سب نے مسکراتے ہوئے کہا:
'' آمین… آمین…''

