🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
جن اور بادشاہ
نرسری (۳-۵ سال)جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

جن اور بادشاہ

شازیہ ستار نایاب
28 جولائی، 2026۴۱ مرتبہ پڑھی گئی

جن اور بادشاہ سنیں

کردار ۔

1- بادشاہ ایک ادھیڑ عمر آدمی ۔عمدہ خلعت پہنے ہوئے سر پر تاج۔

2- جن لمبا تڑنگا مضبوط جسم والا ،نابینا، عجیب صورت والا شخص جس کے سر پر سینگ ہیں ۔

3- پری خوبصورت جوان لڑکی جس کے شانوں پر پر ہیں۔ نہایت عمدہ لباس پہنے ہوئے ہے

چند گھوڑے اور بھیڑیں ۔

(پہلا منظر)

وقت صبح

جگہ آؤٹ ڈور خوبصورت باغ

(بادشاہ ایک خوبصورت باغ میں چہل قدمی کر رہا ہے ہر طرف رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے ہیں۔ چلتے چلتے بادشاہ اصطبل کی طرف آتا ہے ۔جہاں چند گھوڑے کھڑے ہیں۔ بادشاہ ایک سیاہ رنگ کے گھوڑے کے قریب آتا ہے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتا ہے۔ پھر اس پر سوار ہوتا ہے اور محل سے باہر نکل آتا ہے۔ گھوڑا سبک خرامی سے چل رہا ہے اور بادشاہ ارد گرد کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہا ہے

چلتے چلتے گھوڑا جنگل تک آ پہنچتا ہے یہ بہت ہرا بھرا اور گھنا جنگل ہے۔ گھوڑا جنگل کے قریب آ کر رک جاتا ہے اور ہنہناتا ہے۔)

بادشاہ ۔(گھوڑے کو تھپکی دیتا ہے اور آگے بڑھاتا ہے)”پریشان نہ ہو ہم زیادہ دور تک نہیں جائیں گے ۔“

( دوسرا منظر)

آ ؤٹ ڈور وقت دن جگہ جنگل

(تھوڑی دور جا کر ایک ندی کے کنارے بادشاہ گھوڑے سے اتر جاتا ہے اور ندی کے پانی میں پاؤں ڈال کر بیٹھ جاتا ہے۔

اچانک ایک طرف سے ایک بھیڑ آتی ہے اور پانی پینے لگتی ہے ۔)

بادشاہ (بڑبڑاتا ہے ۔)”یہاں پر بھیڑ کیسے آ گئی ۔اس کا مالک کون ہے ۔یہاں تو جنگلی جانور ہوتے ہیں ۔“

(بھیڑ پانی پیتی ہے اور ایک طرف چل دیتی ہے۔ بادشاہ بھی اٹھتا ہے اور اس کے پیچھے چل دیتا ہے یہ دیکھنے کے لیے کہ بھیڑ کہاں جاتی ہے اس کا مالک یا چرواہا کہاں ہے۔

گھوڑا ہنہناتا ہے اور آگے بڑھتا ہے تاکہ بادشاہ اس پر بیٹھ جائے ۔)

بادشاہ :-( گھوڑے کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے )“ ابھی مجھے سوار ہونے کی ضرورت نہیں بھیڑ کتنا تیز بھاگ سکے گی اور کتنی دور جائے گی یہی کہیں چرواہا ہوگا ؟ تم یہیں ٹھہرو میں ابھی آتا ہوں۔“ ( گھوڑا سر جھکا کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔“

( تیسرا منظر )

آ ؤٹ ڈور وقت دن جگہ جنگل

(بھیڑ چلتے چلتے کافی دور آگئی ۔پہلے بادشاہ نے سوچا کہ واپس لوٹ جائے لیکن پھر بھیڑ کے پیچھے چلتا رہا۔ کافی دور چلنے کے بعد بھیڑ اچانک جھاڑیوں میں غائب ہو گئی بادشاہ نے اسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی مگر بے سود بھیڑ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے بادشاہ خود واپسی کا راستہ بھول جاتا ہے کبھی ایک طرف جاتا کبھی دوسری طرف جاتا لیکن کچھ سمجھ نہیں آتا اسی طرح شام ہو جاتی ہے بادشاہ :- ( ادھر ادھر دیکھتا ہے ۔بڑ بڑاتا ہے )تھک گیا ہوں ۔بھوک بھی لگ رہی ہے۔ اس درخت سے سیب توڑ کر کھاتا ہوں۔“

(بادشاہ پھل کھاتا ہے اور پھرجانوروں سے بچنے کے لیے ایک درخت پر چڑھ کر بیٹھ جاتا ہے)

(چوتھا منظر)

اؤٹ ڈور وقت صبح جگہ جنگل

(بادشاہ درخت سے نیچے اترتا ہے اور راستہ تلاش کرنے لگتا ہے چلتے چلتے وہ ایک مکان تک آ پہنچتا ہے ۔)

بادشاہ (دروازے پر دستک دیتے ہوئے۔)” کوئی ہے۔“

اندر سے کوئی آ واز نہیں آتی اور دروازہ بھی نہیں کھلتا بادشاہ آس پاس دیکھتا ہے۔ قریب ہی ایک کنواں دکھائی دیتا ہے ۔جس کے پاس ایک ڈول پڑا ہوا ہے۔ بادشاہ وہیں درخت کے پاس بیٹھ کر مکان کے مالک کا انتظار کرنے لگتا ہے کہ شاید وہ بادشاہ کو جنگل سے باہر نکلنے کا راستہ بتا سکے۔ شام ہوتی ہے تو بادشاہ کو بھیڑوں کا ریوڑ آتا دکھائی دیتا ہے اس کے پیچھے لاٹھی سے راستہ ٹٹول کر چلتا ایک جن تھا ۔

جن دروازہ کھولتا ہے مکان کا اور اندر چلا جاتا ہے۔ پھر ڈیوڑھی میں بیٹھ کر ایک بہت بڑی بالٹی میں بھیڑوں کا دودھ دھونا شروع کرتا ہے چونکہ جن نے دروازہ بند نہیں کیا ہوتا اس لیے بادشاہ اندر کا منظر بخوبی دیکھ سکتا ہے جب بالٹی دودھ سے بھر جاتی ہے تو جن اسے ایک ہی سانس میں پی جاتا ہے اس کے بعد وہ بھیڑوں کو باڑے کی طرف ہنکانے لگتا ہے اور سمجھتا ہے کہ سب بھیڑیں اندر چلی گئی ہیں لیکن ایک بھیڑ باڑے میں نہیں جاتی اور دروازے سے باہر نکل آ تی ہے ۔جن کو نابینا ہونے کی وجہ سے پتہ نہیں چلتا۔ بادشاہ کو اس پر بہت ترس آتا ہے اور وہ جن کی مدد کرنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔بادشاہ جنگل کی طرف جاتی بھیڑ کو پکڑتا ہے اور دروازے کی سمت بڑھتا ہے

بادشاہ :-(دروازے پر دستک دیتا ہے )

جن:-” کون۔۔۔۔۔ یہاں کون ہے؟“

بادشاہ:-” میں شاہ خرم ۔آپ کی بھیڑ باہر آگئی تھی اسے پکڑ کر لایا ہوں-“

جن:-( دھاڑا )”کون شاہ خرم ۔۔۔۔کون ہو تم“

بادشاہ( نرمی سے ) ”میں تمہارا دوست“

جن :-(حیرت سے )”مگر میرا تو کوئی دوست نہیں۔میں یہاں اکیلا رہتا ہوں۔“

‌ بادشاہ:- ( دوبارہ نرم لہجے میں )” آج سے تم مجھے اپنا دوست سمجھو“ ۔

‌جن:- (سوالیہ انداز میں) لیکن کیوں... تم کون ہو ۔۔۔۔یہاں کیا کر رہے ہو ۔“

‌بادشاہ :-( میں راستہ بھٹک کر یہاں اگیا ہوں۔ تمہاری آنکھیں نہیں ہیں۔ میں جب تک یہاں ہوں تمہارے سب کام کر دیا کروں گا ۔“

‌جن:-( ممنون ہوتے ہوئے) شکریہ آدم زاد... کیا تمہیں بھوک نہیں لگی ۔بھیڑوں کا سارا دودھ تو میں نے پی لیا ہے۔“

‌ بادشاہ :- "تم پریشان نہ ہو میں نے پھل کھا لیے تھے-“ جن:- ” کاش میری آنکھیں ٹھیک ہوتیں اور میں تمہیں راستہ دکھا سکتا بلکہ اگر میری آنکھیں ہوتی تو میں خود تمہیں تمہارے ملک چھوڑ آتا ۔لیکن ایک بیماری نے مجھے اندھا کر دیا نابینا ہونے کی وجہ سے میں اپنی بہت ساری صلاحیتوں سے کام نہیں لے سکتا ۔“

‌بادشاہ :-(پر خلوص لہجے میں)" شاید قدرت یہی چاہتی تھی کہ میں یہاں آؤں اور آ کر تمہاری خدمت کروں -“

‌جن:-” اندر آ جاؤ اور اسے اپنا ہی گھر سمجھو جب تک چاہو یہاں رہ سکتے ہو -“

‌بادشاہ-” بہت بہت شکریہ“

(‌پانچواں منظر)

‌‌ (بادشاہ گھر کی صفائی کرتا ہے کیونکہ گھر بہت گندا ہے ہر چیز گرد و غبار سے اٹی ہوئی ہے اور جا بجا مکڑی نے جالے تان رکھے ہیں۔)

(‌چھٹا منظر)

‌ اگلے دن جب جن بھیڑیں چرانے کے لیے باہر جانے لگتا ہے تو بادشاہ آگے بڑھتا ہے۔

‌ بادشاہ :-دوست تم آرام کرو ۔ میں بھیڑیں چرانے کے لیے لے جاتا ہوں ۔

‌جن :-” تم کیسے جا سکتے ہو؟“

‌ بادشاہ:- ” تم نابینا ہو کر جا سکتے ہو تو میں کیوں نہیں جا سکتا ۔“

‌جن:- ”اچھا ٹھیک ہے لیکن تم زیادہ دور مت جانا ایسا نہ ہو کہ یہاں کا راستہ بھی بھول جاؤ۔ بھیڑیں ایک ہی جگہ سے چرنے کی عادی ہیں یہ خود وہیں چلی جائیں گی۔

‌ بادشاہ:- ( یقین دہانی کرواتے ہوئے )”ٹھیک ہے “-

( ساتواں منظر)

‌دو روز تک تو بادشاہ بھیڑوں کو اسی جگہ پر چراتا رہا جہاں سے جن نے بتایا تھا ۔تیسرے روز جب بادشاہ بھیڑوں کو چرانے کے لیے اس جگہ پر پہنچا تو وہاں پر گھاس بالکل خشک ہو چکی تھی۔ بادشاہ نے تازہ اور سر سبز گھاس کی تلاش میں نظر دوڑائی تو اسے کافی دور ایک سرسبز پہاڑی دکھائی دی۔ اس سے پہلے بادشاہ نے کبھی سرسبز پہاڑی نہیں دیکھی تھی۔ وہ بھیڑوں کو لے کر وہاں چلا گیا ۔ بھیڑیں تازہ اور سر سبز چارہ پا کر بہت خوش ہوئیں اور مزے سے چلنے لگی بادشاہ سستانے کے لیے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ اچانک اس کی نظر درخت پر بیٹھی ایک چڑیا پر پڑی جسے ایک چیل اپنے پنجوں میں دبوچنے کے لیے گھات لگائے بیٹھی تھی۔ بادشاہ نے پتھر مار کر چیل کو بھگا دیتا ہے۔ چیل تشکر بھری نظروں سے بادشاہ کو دیکھتی ہے اور اس کے قدموں میں آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ بادشاہ پیار سے چڑیا کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے تو اس کا ہاتھ ایک کیل سے ٹکراتا ہے بادشاہ اسے کھینچتا ہے تو چڑیا غائب ہو جاتی ہے اور اس کے سامنے ایک خوبصورت پری آ جاتی ہے ۔

‌بادشاہ:-( حیران ہو کر) ”تم کون ہو ؟“

‌پری :- ”میں نیلم پری ہوں کو ہ قاف میں رہتی ہوں۔ وہاں میں نے ایک قانون توڑا تو سزا کے طور پر مجھے چڑیا بنا کر جہاں بھیج دیا گیا تھا۔ آپ نے میرے سر سے کیل نکالی تو میں پھر سے پری بن گئی۔ بہت بہت شکریہ۔“

‌ بادشاہ حیران ہوتا ہے

‌پری (اپنے بالوں میں سے ایک سنہرا بال توڑ کر بادشاہ کو دیتی ہے )”یہ بال آپ رکھ لیجئے آ پ کی کوئی سی بھی ایک خواہش پوری کر دے گا ۔بس اسے آگ پر رکھیے اور اپنی خواہش بیان کیجئے ۔پلک جھپکتے ہی آپ کی خواہش پوری ہو جائے گی ۔

‌بادشاہ :-(بال پکڑتے ہوئے)” بہت بہت شکریہ اچھی پری۔“

‌پری اڑتی ہوئی چلی جاتی ہے

‌ (بادشاہ پر ہاتھ میں لے کر خود کلامی کرتا ہے۔” اسے آگ پر رکھتا ہوں اور اپنے ملک واپس جانے کی خواہش پوری کرتا ہوں۔ پہلے جن کی بھیڑیں واپس پہنچا دوں۔“

(آٹھواں منظر)

بادشاہ بھیڑیں ہانکتا ہوا جن کے مکان پر آتا ہے تو دیکھتا ہے جن زمین پر گرا ہوا ہے بادشاہ بھاگ کر اسے اٹھاتا ہے۔)

‌ بادشاہ :-”کیا ہوا دوست تم کیسے گر گئے ؟“

‌جن :- ”پیاس لگی تھی پانی پینے کے لیے باہر آیا تو ایک پتھر سے ٹھوکر لگ گئی نظر نہیں آتا نا -“

‌(بادشاہ بڑبڑاتا ہے ۔)” کیوں نہ نیلم پری کا پر جلا کر یہ خواہش کی جائے کہ جن کی آنکھوں کی روشنی واپس آجائے وہ پھر سے دیکھنے لگے ۔“

‌جن:-” کیا کہہ رہے ہو؟“

‌بادشاہ :-”کچھ نہیں اندر چلو-“

‌( بادشاہ جن کو سہارا دیتا ہے اسے اندر لا کر پانی دیتا ہے )

(‌نواں منطر )

ان ڈور ۔ وقت شام جگہ جن کا گھر

‌بادشاہ :-” آ ج مجھے ایک پری نے اپنا بال دیا ہے جسے جلانے پر میری ایک خواہش پوری ہو سکتی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیوں نہ یہ خواہش پوری کر لوں کہ تمہاری آنکھیں تمہیں واپس مل جائیں ۔“

‌ جن :- ” تم میری فکر نہ کرو پری کا بال جلاؤ اور اپنے ملک واپس جانے کی خواہش پوری کرو ۔“

‌بادشاہ :- ” نہیں دوست میں تمہیں اس مشکل میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔“

‌ بادشاہ (پری کا بال جلاتا ہے ) ”میری خواہش ہے کہ جن کی آنکھیں واپس آ جائیں -“

‌جن (خوشی سے چلاتے ہوئے)” میں دیکھ سکتا ہوں..... میں سب کچھ دیکھ سکتا ہوں -“

‌بادشاہ:-( خوش ہو کر) ”کیا واقعی دوست تمہیں نظر آ رہا ہے۔“

‌ جن :-( بادشاہ کے ہاتھ چومتے ہوئے )”ہاں !میں اب دیکھ سکتا ہوں -تم نے دوست کہا ہی نہیں دوست بن کر دکھایا ہے۔“

‌( بینائی واپس آتے ہی جن کی تمام طاقتیں بھی واپس آگئیں ۔اس نے اپنے مکان کی دیوار پر ہاتھ مارا اور وہ آئینے کی طرح چمکنے لگی ۔)

‌جن :- آ ئینے آئینے یہ بتا شاہ خرم کا ملک کہاں ہے اور وہاں کیا صورتحال ہے؟

‌ آئینہ ,(آواز دیتا ہے)"شاہ خرم کا ملک شمال میں ہے اور شاہ خرم کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر دشمن ملک نے حملہ کر دیا ہے۔”

‌ بادشاہ:-”( پریشان ہو کر )اب میں وہاں کیسے پہنچوں گا -

‌جن:-” پریشان مت ہو میں تمہیں وہاں پہنچا دوں گا اور تمہارے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ بھی کروں گا۔“

‌ جن تالی بجاتا ہے دو اڑن قالین چند ہی لمحوں میں آ جاتے ہیں۔ جن اور شاہ خرم ان کے اوپر بیٹھتے ہیں اور اڑنے لگتے ہیں ۔

(دسواں منظر )

‌جلد ہی وہ شاہ خرم کے ملک جا پہنچتے ہیں یہاں میدان جنگ میں لڑائی ہو رہی ہے شاہ خرم کی فوج اپنے بادشاہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوتی ہے ان کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں جن بھی شاہ خرم کی فوج کے ساتھ مل جاتا ہے اور جلد ہی دشمن کی فوج کو مار بھگاتے ہیں شاہ خرم فتح کے شادیانے بجاتا اپنے محل میں آتا ہے اور ملکی نظم و نسق سنبھالنے میں مصروف ہو جاتا ہے ۔

(گیارواں منظر)

‌جن (واپسی کا ارادہ کرتا ہے )”دوست اب مجھے اجازت دو-“

‌ شاہ خرم -: تم یہیں میرے پاس کیوں نہیں رہ جاتے۔“ جن :-” نہیں دوست میں اپنے گھر واپس جاؤں گا - تم سے ملنے ضرور آتا رہوں گا۔ تم بھی مجھ سے ملنے ضرور آنا اور اس بار واپسی کا راستہ مت بھولنا ۔بادشاہ( مسکراتا ہے جن بھی ہنستا ہے )

‌جن -: ”یہ ایک اڑن قالین میں تمہیں دے کر جا رہا ہوں تم جب چاہو اس پر بیٹھ کر مجھ سے ملنے آ سکتے ہو۔“

‌ بادشاہ (بہت سارے تحفے جن کو دیتے ہوئے )”دوست خیر سے جاؤ اور خوش رہو“

‌تحریر ۔شازیہ ستار نایاب

لکھاری

شازیہ ستار نایاب

شازیہ ستار نایاب سینیئر لکھاری ہیں۔ بچوں کے ادب میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے ۔ بہت شان دار کہانیاں ، ڈرامے ، مضامین اور نظمیں لکھتی ہیں۔ کہانی گھر کی فرمائش پر اپنا ایک خوبصورت ڈراما لائی ہیں۔ پڑھیں ، س