اچانک ایک خوفناک دھاڑ سے میری آنکھ کھلی اور میں اچھل کر چار پائی سے گرتے گرتے بچا۔ اباجان بھی اُٹھ بیٹھے۔ تبھی ایک بار پھر زوردار نعرہ گونجا جو 'ہااوووو'کی آواز پر ختم ہو گیا۔ یہ سن کر ابا جان قہقہہ بار انداز میں بولے۔
''ارے! یہ تو اپنے چچا ٹارزن ہیں۔''
''ہائیں! کیا سچ مچ ٹارزن ہمارے پڑوس میں آن بسا ہے؟''میں حیران ہوا۔
''بیٹا!دراصل جب تم شہر پڑھنے گئے تھے تو پیچھے سے یہ نئے کرایہ دار محلے میں آگئے تھے۔ بڑے مخلص لوگ ہیں۔چچا ٹارزن کی بس ایک عادت نرالی ہے؛ وہ یہ کہ سوتے اور جاگتے وقت اونچی آواز میںجمائیاں لینے کے عادی ہیں ۔ جیسے ٹارزن جنگل میں زور دارنعرہ لگاتا ہو۔ بس اسی وجہ سے لوگ انہیں ٹارزن کہنے لگ گئے ہیں۔''
صبح ہوئی تو میں اپنے پرانے معمول کے مطابق قریبی جنگل میں سیر کو چلا گیا۔ ابھی میں نے پگڈنڈی پر قدم رکھا ہی تھا کہ اچانک میرے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ میں پھرکی کی مانند ہوا میں گھوما اورگرگیا۔ میری آنکھوں تلے اندھیرا سا چھاگیا۔ میں بمشکل آنکھیں ملتے ہوئے اٹھا کہ پھر مجھے اچھل کر قریبی درخت کے تنے سے چمٹ جانا پڑا۔ دیکھتا ہوں کہ ایک بھاری بھرکم مینڈھا پلٹ کر جھپٹنے کو دوبارہ بے تاب تھا۔
ایک آواز گونجی:
''ابے ناہنجار گینڈے!تھم جا، اپنا ہی بندہ ہے۔''
میں نے مڑ کر پیچھے دیکھا، ایک ناٹے قد کا آدمی موٹاپے کے باوجود کمال پھرتی سے دوڑا چلا آرہا تھا۔ اس نے جلدی سے آکر مینڈھا قابو کر لیا۔ میں ڈر کے مارے ابھی تک درخت سے چمٹا ہوا تھا۔
''ارے اُتر آ،خطرے کی کوئی بات نہیں۔''
''پپپکا آجاں؟''میں منمنایا۔
''ہاں ہاں آجا،میں نے گینڈے کو پکڑ لیا ہے۔''
میں نے سوالیہ انداز میں انہیں اور پھر ان کے مینڈھے کو دیکھا، جسے وہ گینڈا کہہ رہے تھے۔
''ارے! میں تمہارا پڑوسی ہوں چچا ٹارزن اور تم ہو میرے منکو جیسے بھتیجے معذرت، تمہیں بندر کی طرح لٹکا دیکھ کر ذرا زبان پھسل گئی۔''
''چچا آپ اور ٹارزن؟'' میں نے انہیں سر تا پا دیکھ کر حیران تھا۔
ایک تو ان کی پوری جسامت بہت گولو مولو تھی۔ دوسرے وہ زرد رنگ کے شلوار کے ساتھ پاجامے اور نیکر کی درمیانی قسم پہنے ہوئے تھے۔ اس حلیے سے وہ کسی مزاحیہ کارٹون سیریز کا کردار لگ رہے تھے۔ میں درخت سے اتر ا اور ان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ اس دوران وہ بتانے لگے کہ جمائی لینے کے بعد ایک بے معنی سی آواز نکالنا ان کی عادت بن چکی ہے۔ انہی جمائیوں کی وجہ سے محلے میں وہ ٹارزن کے نام سے مشہور ہو گئے ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ وہ ماضی میں ٹارزن کی کہانیاں لکھتے بھی رہے تھے۔
''اچھا تبھی انہوں نے آتے ہی مجھے منکو کہہ دیا۔''میں نے سوچا۔
اس کے بعد انہوں نے بتایاکہ وہ اپنی ملازمت سے ریٹائرڈ ہو کر گائوں میں آن بسے ہیں۔ شوق کی خاطر مینڈھا پال رکھا تھا اور اسے اتنا کھلاتے پلاتے تھے کہ وواقعی گینڈا لگتا بھی تھا۔
''چچا برا نہ منائیں تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے ایک اور مینڈھا بھاگا چلا آتا ہے۔''
''ارے! میں نے بھی تو تمہارا بندر روپ دیکھ لیا۔''وہ جوابا چہکے۔
میں کھسیانا ہو کر چپ ہو رہا۔
٭٭٭٭
بکرے تو ہم نے بھی پال رکھے تھے۔ ابا جان بقر عید پر کچھ جانور فروخت کر دیتے اور ایک آدھ کی خود قربانی کر لیتے۔ دوسری صبح چچا ٹارزن کی کوک سننے کی جگہ کافی شور و غل سن کر آنکھ کھلی۔میں جلدی سے گھر کے عقبی باڑے میں پہنچا۔ پتہ چلا کہ رات کو کوئی ہمارے تین بکروں پر ہاتھ صاف کر گیا تھا۔ خیر ہم لوگ بکروں کی تلاش میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔اس کام میں چچا ٹارزن کی پھرتیاں اور دلاسے بھی ساتھ ساتھ رہے۔ ابا جان بہت پریشان تھے۔
''اتنے میں چچا ٹارزن پر اسرار سے لہجے میں بولے:
''منکو بیٹا!میں پائوں کے نشانات کا کھوج بھی لگا لیتا ہوں۔''
''ارے یار چچا!اس وقت بھی شوخی سوجھ رہی ہے؟''میں جھلا کر بولا۔
تو وہ مجھے تسلی دیتے ہوئے پائوں کے نشان کھوجنے لگے۔ مزے کی بات، لباس ان کا آج بھی وہی تھا۔ کافی دیر تک ہم یہاں سے وہاں گھومتے رہے۔ حتی کہ ہم پائوں کے نشان کھوجتے ہوئے جنگل کی طرف جا نکلے۔ وہاں دیکھا تو چور کے پائوں کے نشانات کئی دوسرے نشانوں میں مل ملا چکے تھے۔ پھر بھی ہم لوگ ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے جنگل کے وسط میں جا پہنچے۔ وہاں جا کر یہ خوفناک انکشاف ہوا کہ ہم راستہ بھول چکے ہیں۔ ماضی کے مقابلے میں جنگل کافی بدل چکا تھا۔
ملگجی روشنی میں جنگل بہت خوفناک لگ رہا تھا۔ میری ہمت جواب دے چکی تھی۔ادھر چچا تو واقعی ٹارزن ہی بن چکے تھے۔ وہ بہت بے فکر نظر آرہے تھے جیسے پکنک منانے آئے ہوں۔ ایک اورمصیبت یہ تھی کہ ان کا گینڈا ساتھ ہی تھا۔
''چچا! اس بلا کو تو گھر چھوڑ آتے۔''
''ابے! جب منکو ٹارزن کے ساتھ ہے تو گینڈا تو اس کی شان ہے۔''
چچا نے یہ کہتے ہوئے میرے منہ پر ہلکی سی چپت رسید کردی۔ میں نے غصے سے انہیں دیکھا۔جواب میں انہوں نے اپنی ہتھیلی دکھائی، اُس پر ایک پہلوان ٹائپ مچھر کی لاش تھی۔ میں کچھ بول ہی نہ سکا۔ البتہ میرے گال پر جلن ہونے لگی۔ اس سے تو اچھا تھا مچھر ہی کاٹ لیتا۔ مینڈھے کے ڈر اور تھکن کی وجہ سے میری رفتار کم تھی۔ مگر چچااچھلتے کودتے جا رہے تھے۔ اندھیرے میں وہ کسی خوفناک بھوت سے کم نہیں لگ رہے تھے۔
٭٭٭٭
چلتے چلتے ہم درختوں کے ایک جھنڈ سے گزر کر کھلے میں آگئے۔ وہاں ہمیں ایک کھنڈر نما مکان دکھائی دیا۔ خوش قسمتی سے وہاں بکروں کے ممیانے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ میں اچھل پڑا اور کچھ بولنے ہی والا تھا۔ تبھی چچا نے میرا ہاتھ دبایا اور ساتھ ہی میں نے اپنا منہ بھی دبا لیا کیونکہ مینڈھے نے میرا پائوں کچل ڈالا تھا۔
چھپتے چھپاتے ہم مکان کی طرف بڑھے۔ قریب گئے تو چند آدمیوں کے بولنے کی آواز بھی سنائی دینے لگی تھی۔ چچا نے مینڈھے کی پیٹھ پر ہاتھ مارا اور اسے اشارہ کیا۔وہ بڑی فرماں برداری سے ایک طرف جھاڑیوں میں جا کر چرنے لگا۔ چچا کی تجویز کے مطابق ہم گھوم کر پچھلے حصے کی طرف آگئے۔ وہاں ہمیں ایک ٹوٹا سا درواز نظر آیا اور ہم بڑی رازداری کے ساتھ مکان کے اندر داخل ہوگئے۔ شاید چوروں کو یقین تھا کہ ان کا ٹھکانہ بہت خفیہ ہے۔اس لیے انہیں اس پچھلے دروازے کی کوئی فکر نہ تھی۔ وہاں ایک باڑہ نظر آگیا جہاں ہمارے بکروں کے علاوہ دوسرے بہت سے بکرے بندھے ہوئے تھے۔ ہمیں دیکھ کر بکرے شور کرنے لگے۔ ہم لوگ جلدی سے لکڑیوں کے ایک ڈھیر کے پیچھے چھپ گئے۔ اتنے میں کسی نے چلا کر اپنے ساتھی سے بکروں کو چارہ ڈالنے کو کہا۔ ایک آدمی بڑبڑاتا ہوا آیا اور بکروں کو تھوڑی گھاس ڈال کے چلا گیا۔ بد قسمتی سے اسی لمحے چچا کو زوردار جمائی آئی اور ساتھ نعرہ بھی لیکن وہ آدھا نعرہ ان کے منہ میں ہی گھٹ کے رہ گیا کیونکہ میں نے ان کے منہ پر ہاتھ جما دیا تھا۔ اس کے باوجود تین چار آدمی ہمارے سروں پر آن پہنچے۔ اس طرح ہم لوگ دھر لیے گئے۔
٭٭٭٭
اب میں اور چچا ایک کمرے میں بندھے پڑے تھا۔ میں دل ہی دل میں چچا کوکوسنے لگا۔ منہ سے تو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا کیونکہ منہ پر بھی کپڑا بندھا ہوا تھا۔ادھر چچا ایک دو جمائیاں لے کر انٹا غفیل ہو گئے۔ مچھر اور پریشانی کے باوجود مجھے بھی نیند آ ہی گئی۔نہ جانے کتنی دیر گزری، اچانک دبی دبی سی غراہٹ سے ا نکھ کھل گئی۔ دیکھا تو چچا منہ پر کپڑا بندھا ہونے کی وجہ سے گھٹے گھٹے سے خراٹے لے رہے تھے۔ میں نے انہیں پکارا کہ وہ جاگ جائیں لیکن سب بے سود۔ میں ڈر بھی رہا تھا۔ آخر میں نے ہمت کر کے زور سے چچا کو آواز دی۔ منہ پر کپڑا بندھا ہونے کے باوجود میری آواز چچا کے کانوں تک پہنچ ہی گئی۔وہ جاگ چکے تھے اور ادھر ادھر نظریں گھما رہے تھے۔
کمر ے کی بند کھڑکیوں سے بھی روشنی چھن رہی تھی۔ لگتا تھا کہ دن چڑھ آیا ہے۔ کمرے کی بوسیدہ دیوار سے ایک زنگ آلودسی کیل باہر کو نکلی ہوئی تھی۔ چچا ٹارزن نے کمال ہوشیاری سے فرش پر لیٹے لیٹے ہی لوٹنیاں لگانا شروع کیں اور اس دیوار کے قریب پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنی پشت دیوار سے ٹکائی اور رسیوں کو اس کیل کی نوک پر رگڑنے لگے۔ ان کے چہرے پر تکلیف کے آثار صاف تھے، مگر وہ رکے نہیں۔ چند لمحوں کی تگ و دو کے بعد ایک ہلکی سی چٹخ کی آواز آئی اور رسی کا ایک سرا ڈھیلا ہو گیا۔ چچا نے ایک جھٹکے سے اپنے ہاتھ آزاد کیے اور پھر تیزی سے میرے پاس آکر اپنے دانتوں کی مدد سے میری گرہیں کھولنے لگے۔ ان کی پھرتی دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ یہ وہی گولو مولوچچا ہیں جو ابھی تھوڑی دیر پہلے خراٹے لے رہے تھے۔
چچا نے آزاد ہوتے ہی مخصوص سیٹی بجائی۔
'' مینڈھے کو بلایا ہے۔''انہو ں نے مجھے بتایا۔
تبھی ہمیں قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ ہم لوگوں نے جلدی سے اپنے جسم پر رسیاں لپیٹ لیں اور لیٹ گئے۔ دروازہ کھلا اور ایک چور اندر آیا۔شایدہمیں باندھ کر اسے اکیلا ہی ادھر پہرے پر بٹھا دیا گیا تھا۔ سیٹی کی آواز سن کروہ ہم لوگوں کو دیکھنے آیا تھا۔ اس نے جلدی سے ہم پر پستول تان لی لیکن ہمیں بندھا دیکھ کر مطمئن ہو گیا۔ اس کے بعد پتہ نہیں زلزلہ آیا یا آسمان پھٹ پڑا لیکن ہم نے اسے پورے پانچ فٹ اچھلتے دیکھا، نیچے گرتے ہی اس کا سر زور سے فرش سے ٹکرایا اور وہ ساکت ہوگیا۔
ہم نے دیکھا کہ چچا ٹارزن کا مینڈھا کسی فاتح شکاری کی طرح اپنے پائوں چور کی چھاتی پر رکھے کھڑا تھا۔چچا فخر اور پیار کے ملے جلے جذبات میں اپنے مینڈھے کو سہلانے لگے۔ میں نے جلدی سے چور کی جیب سے گرا ہوافون اٹھالیا۔ یہ ایک پرانا نوکیا، بٹنوں والا فون تھا۔ خوش قسمتی سے وہ ٹھیک چل رہا تھا۔ اس کے بعد ہم نے جلدی جلدی چور کو باندھنا شروع کردیا۔ اب میں نے پولیس اسٹیشن فون کرنا شروع کر دیا۔ فون نمبر تو مجھے زبانی یاد تھا اور میں دعا کر رہا تھا کہ فون اٹھا لیا جائے۔ کچھ دیر کے بعد کال مل گئی۔ پولیس ٹیلی فون آپریٹر کو میں نے ساراحال بتایااور جلد آنے کی التجا کی۔
مجھے ڈر تھا کہ چور کے دوسرے ساتھی کسی وقت بھی آسکتے تھے۔ آپریٹر نے مجھے کال آن رکھنے کو کہا۔ کچھ دیر میں پولیس کے سپاہی فون کی لوکیشن ڈھونڈتے ہوئے آپہنچے۔ وہ لوگ آتے ہی چور کو ہوش میں لانے لگے تاکہ اس کے دوسرے ساتھیوں کا پتہ پوچھا جا سکے۔ جب چور کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے گئے تو اس نے کسمساتے ہوئے آنکھیں کھول دیں۔ پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہ آیا، پھر اچانک اس نے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کرنا چاہی مگر پولیس کو دیکھ وہ ڈھیلا پڑ گیا۔ اس کے بعد انسپکٹر صاحب اس کا بیان لکھنے کوآگے بڑھے۔ انہوں نے قلم اٹھایا ہی تھا کہ ان کے منہ سے بے سری سی چیخ نکلی۔ ساتھ ہی وہ کسی شرابی کی طرح لہرائے اور ڈھے گئے۔ میں جلدی سے انہیں سنبھالنے کو بڑھا۔ انسپکٹر صاحب نے غصے سے مجھے دیکھا اور خود ہی کھڑے ہو گئے۔ ان کی ٹوپی گر چکی تھی۔ چچا نے جلدی سے اپنے مینڈھے کو کان سے کر پکڑا اور اس کے منہ سے انسپکٹر صاحب کی ٹوپی چھڑوائی جسے وہ چبا رہا تھا۔
'' ارے! یہ ٹارزن نما مینڈھا کس کا ہے؟'' انسپکٹر صاحب بھی بے اختیار ہنس پڑے۔
''اجی انسپکٹر صاحب!ٹارزن صاحب تو ادھر ہیں، یہ تو ان کا گینڈا ہے۔ '' میں نے بھی ہمت پا کر جواب دیا۔
انسپکٹر صاحب چونکے اور غور سے چچا کو دیکھنے لگے۔ اچانک وہاں موجود سبھی لوگوں کے منہ سے بیک وقت قہقہہ ابل پڑا۔
OOO
