🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
مصور کی غم ناک موت
جماعت ۷ تا ۱۰

مصور کی غم ناک موت

امان اللہ نیئر شوکت
23 جولائی، 2026۲۳ مرتبہ پڑھی گئی

مصور کی غم ناک موت سنیں

گل خان ایک غریب کسان کا بیٹا تھا ـ وہ بانسری بجانے میں بڑا ماہر تھا ـ یہ فن اسے اپنے دادا جان امیر خان سے حاصل ہوا تھا ـ وہ سارا دن جنگل میں اپنی بکریاں چرایا کرتا تھا ـ جب گل خان بانسری بجاتا تو بانسری کے جادو بھرے نغمے سن کر اس کی بھیڑ بکریوں پر ایک وجد سا طاری ہو جاتا ٫ وہ گھاس چرنا بھول جاتیں اور اس کے سامنے اکٹھی ہو کر خوبصورت ہرنوں کی طرح کلیلیں بھرنا شروع کر دیتیں - گل خان کی بانسری کی مدھر آواز سن کر بہت سے مختلف پرندے درختوں سے اڑ کر پہاڑ پر بچھے ہوئے سبزے پر جنگلی پھولوں کے پاس بیٹھ جاتے ـ بعض پرندے گل خان سے مانوس ہو کر اس کے قریب آ جاتے اور بانسری کی مدھ بھرے سروں پر گھنٹوں سر دھنتے رہتے تھے ـ

گل خان کو بھیڑ بکریاں چرانے والا کام پسند نہ تھا۔ سارا سارا دن اونچی نیچی پگڈنڈیوں پر بھیڑ بکریوں کے پیچھے بھاگتے رہنا اسے بالکل اچھا نہیں لگتا تھا ٫ لیکِن کیا کرتا ان کے خاندان کا یہ ہی پیشہ تھا ـ کاروبار تھا ـ دودھ بھی حاصل ہوتا تھا ـ نسل بڑھنے پر بھیڑ بکریاں فروخت بھی ہوتی تھیں ـ اس طرح یہ کام ان کی آمدنی کا ذریعہ بھی تھا ـ وہ سمجھتا تھا کہ یہ جنگلیوں کی سی زندگی ہے آور اس کام سے میری آپنی ذات کو کوئی فایدہ نہیں پہونچ رہا -

گل خان اپنے دیہات کے اسکول میں دس جماعتیں پاس کر چکا تھا ـ وہ بہت لائق اور ذہین تھا ـ اس کے عزائم بہت بلند تھے ـ وہ شہروں میں رہنے والے خوش لباس لوگوں کی طرح زندگی بسر کرنا چاہتا تھا ـ وہ جانتا تھا کہ دیہات کی زندگی بہت پرسکون ہے ـ یہاں ماحولیاتی آلودگی کا بھی عمل دخل نہیں ہے ـ وہ اپنے والدین کو کچھ بن کر دکھانا چاہتا تھا ـ کوئی کام ایسا کرنا چاہتا تھا جس سے اس کے والدین کا سر فخر سے بلند ہو ـ دیہات کے لوگ بھی اس پر ناز کر سکیں ـ

گل خان کو بانسری بجانے کے ساتھ ساتھ مصوری کا بھی بہت شوق تھا ـ وہ اسکول میں قدرتی مناظر کی تصویریں بنا کر انعام بھی حاصل کر چکا تھا ـ وہ خوبصورت ترین تصویریں پرکشش انداز میں بناتا تھا ـ بانسری کے ساتھ ساتھ تصویروں والے فن کے سیکھنے میں وہ کسی استاد کا مرحون منت نہیں تھا جس طرح بانسری کے چھوٹے چھوٹے سوراخوں میں پھونک مار کر دلکش گیت پیدا کرنے کا ملکہ اسے اللہ تعالیٰ العزیز عزوجل کی طرف سے ودیعت کیا گیا تھا ٫اسی طرح تصویر بنانے کا فن بھی اسے قدرت کی طرف سے عطا ہؤا تھا ـ نیلے پیلے کاسنی رنگوں کی آمیزش سے وہ ایسی تصویریں بناتا کہ اصل کا گمان ہوتا تھا ـ بڑے بڑے نامور آرٹسٹ بھی اس کے کام کو سراہتے تھے ـ

آیک روز جب گل خان نے اپنے دوست کرم داد خان سے سنا کہ شہر میں آیک نمائش لگ رہی ہے جس میں بہترین تصویر بنانے والے کو پچیس ہزار روپے انعام دیا جائے گا تو اس نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ ضرور تصویر بنا کر پہلا انعام جیتے گا ـ

گل خان نے آپنے گاؤں میں بھیڑ بکریاں چرانے کے دوران ہی بہت سے دن تصویر بنانے میں صرف کر دیے ـ اس کے باپ دل نواز خان کو بھی اپنے بیٹے کی یہ تصویر بہت خوبصورت لگی تھی ٫ لیکِن اسے یہ کام پسند نہ تھا ـ اس کا خیال تھا کہ گل خان تصویر بنانے کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے اور بھیڑ بکریاں چرانے کی طرف اس کا دھیان بہت کم ہے ـ آیک دن اس کے باپ نے تنگ آکر اس سے کہا ـ

" گل خان! تصویر بنانے کا کام چھوڑ دے ـ اس سے تُمہیں کچھ حاصل نہ ہو گا ، میں یہ نہیں کہتا کہ اس کام میں شہرت آور عزت نہیں ہے ـ یہ فن بھی بہت اچھا ہے آور اس کی بہت قدر ہے لیکِن اپنے کام میں زیادہ سکون ہے آرام ہے ـ"

" اباجان! میں اس تصویر پر بہت محنت سے کام کر رہا ہوں ـ مجھے اُمید ہے کہ پہلا انعام 25 ہزار میں ہی جیتوں گا ـ ہمارے دن پھر جائیں گے ـ کٹھن زندگی کے دن آیک دن ختم ہو جائیں گے ـ آپ کو بھی زیادہ آرام ملے گا ـ" گل خان نے رنگوں والے پیالے میں برش ڈبوتے ہوئے کہا ـ

دل نواز خان اپنے بیٹے کی باتیں سن کر چپ ہو گیا ـ اس کا خیال تھا کہ گل خان کا دماغ پھر گیا ہے جو تصویر بنانے کے پیچھے اتنا پاگل ہو گیا ہے آور عیش کی زندگی بسر کرنے کے سہانے خواب دیکھ رہا ہے ـ بڑے بڑے نامور آرٹسٹ وہاں نمائش میں آپنی تصویریں لے کر جائیں گے وہاں گل خان کی تصویر کی کیا حیثیت ہو گی ٫ مگر جب وہ تصویر کی طرف دھیان دیتا جو دن بدن نکھرتی جا رہی تھی تو وہ سوچتا شاید ہمارے دن واقعی پھر جائیں -

گل خان نے کچھ ہفتوں کے بعد اپنی تصویر مکمل کر لی ـ تصویر آیک پہاڑی لڑکی کی تھی جو جنگلی پھول توڑ رہی تھی ـ اس کے باپ کو وہ تصویر بہت پسند آئی ـ گل خان نے اپنے دوست کرم داد خان سے پتہ پوچھ کر تصویر کو نمائش کے لیے بھیج دیا ـ اسے امید تھی کہ اس کی بہت سے ہفتوں کی محنت ضرور رنگ لائے گی ـ

وقت کروٹیں بدلتے رہا ـ آخر وہ صبح آ پہنچی جس کا گل خان کو شدت سے انتظار تھا ـ آج اس کے فن کا نتیجہ نکلنا تھا ـ فنکار کے فن کو پزیرائی ملنے والی تھی ـ آج وہ بہت بیقرار تھآ ـ

سہانی صبح گزرتی جا رہی تھی ـ شام کے آثار نمودار ہو رہے تھے ـ وہ اپنے چھوٹے سے کمرے میں آیک ٹوٹی پھوٹی چار پائی پر بیٹھا خیالات کی نرالی بسانے کا پروگرام بنا رہا تھا ـ باہر دسمبر کی سرد ہوا برابر دروازے سے آپنا سر پھوڑ رہی تھی اور اس کی تیز سائیں سائیں کرنے کی آواز سکوت کو منتشر کر رہی تھی ـ

" بھائی گل خان دروازہ کھولو ـ" یکایک دروازے پر کسی نے دستک دی ـ گل خان نے دروازہ کھول دیا تؤ اس کی ننھی سی معصوم بہن رونق افروز خان سامنے کھڑی ہوئی مسکرا رہی تھی ـ اس کے ہاتھ میں آیک لفافہ تھا جو اس نے اپنے بھائی کے ہاتھ میں دے دیا ـ یہ ایک بہت ہی ارجنٹ خط تھا جو نمائش کے مینیجر نے بھیجا تھا ـ اس نے فورآ لفافے کو کھولا - کاغذ نکالا جس پر لکھا ہؤا تھا ـ

" قابلِ احترام فنکار گل خان ہماری طرف سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد قبول فرمائیں آپ نے پہلا انعام 25 ہزار روپے جیت لیا ہے ـ"

گل خان کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں اور اس کی رگوں میں خون تیزی سے دوڑنے لگا ـ

" میری تصویر مقابلے میں اول انعام کی حقدار قرار پائی ہے ـ میں نے پہلا انعام 25 ہزار روپے جیت لیا ہے ـ اباجان کہاں ہیں بہن رونق افروز خان ـ" گل خان خوشی سے چلایا -

" وہ تو بھیڑ بکریاں لے کر وادی میں گئے ہوئے ہیں ٫ وہ سامنے والی پہاڑ کی وادی میں ٫ شام ہو رہی ہے بس وہ آنے ہی والے ہیں جب وہ آیں گے تو انہیں انعام جیتنے کی خوشخبری سنا دینا ـ"

بہن رونق افروز خان بھی خوشی سے بے قابو ہو کر بولی ـ

" نہیں میں پہاڑ پر جا کر انہیں خود خوشخبری سناؤں گا کیونکہ مجھے آپنے فن پر بہت فخر ہے ـ خوشی کی خبر سنا کر میں نے 25 ہزار روپے انعام کی رقم لینے بھی جانا ہے ـ "

گل خان یہ کہہ کر اپنے باپ کو خوشخبری سنانے کے لیے بھاگتا ہوا اونچے پہاڑ پر جا پہنچا اور نیچے وادی کو جاتی ہوی آیک تنگ سی پکڈنڈی پر اسے آپنا باپ دل نواز خان بیٹھا بانسری بجاتا ہؤا نظر آیا -

" اباجان!" وہ زور سے چلایا اور اس کی سمت دوڑ پڑا مگر اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور وہ آیک پتھر سے ٹکرایا اور وہ لڑکھڑاتا ہوا سینکڑوں فٹ نیچے گہرائیوں میں جا گرا ـ

بانسری کی تان ٹوٹ گئی ـ اس کا بوڑھا باپ دل نواز خان اونچی نیچی آور ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں پر دیوانہ وار بھاگتا ہوا آور ہانپتا کانپتا جب گل خان کے قریب

پہنچا تو وہ خون کا لوتھڑا بن چُکا تھا اور اس کا جسم برف کی طرح یخ ہو چکا تھا

بیٹے کی لاش کو دیکھ کر غم میں ڈوبے بوڑھے باپ کی آنکھیں پتھرا گئیں ـ اس نے دیکھا گل خان کی آنکھیں ابھی تک کھلی ہوئی تھیں جیسے وہ اپنے باپ سے کہنا چاہتا ہو کہ میری تصویر ملک بھر میں دوسرے آرٹسٹوں کے مقابلے میں اول قرار پائی ہے ـ مجھے 25 ہزار روپے ملنے والے ہیں اور میں انعام لینے جا رہا ہوں ـ ۔

لکھاری

امان اللہ نیئر شوکت

جناب امان اللہ نیئر شوکت بہت سینیئر لکھاری ہیں ، آپ 1958سے لکھ رہے ہیں ، بچوں اور بڑوں کے لیے لکھتے ہیں ، کہانیاں اور نظمیں کمال لکھتے ہیں ۔ نظموں کی تعداد 350 اور کہانیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ کہان