فارس کے شہر کی ہر صبح ایک نیا نغمہ گنگنایا کرتی تھی۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نجانے اس شہر کو کس کی نظر لگتی جا رہی تھی۔یہ وہی شہر ہے جس میں افق سے جب سنہری روشنی ابھرتی تھی تو بلند بلا عمارتوں کے فیروزی گنبدوں اور بلند میناروں پر بکھیرتی تھی تو ہر شے ایک دلکش چمک میں نہا جاتی تھی۔اس شہر کی کشادہ سڑکوں کے کنارے کھڑے اونچے لمبے چنار کے درخت ہلکی ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کرتے محسوس ہوتے تھے۔جیسے صدیوں پرانی داستانیں امر ہو رہی ہوں۔فارس سے دور دراز کسی علاقے میں واقع ایک خوبصورت سمندر کنارے وہ پانی میں چھوٹے کنکر پھینکتے ہوئے کسی کو اپنے شہر کی دیدہ زیب روشنیوں سے متعارف کروا رہا تھا اور ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے کہنے لگا۔
"شہزادے مصطفی! ایسا ہے میرا شہر آپ کبھی فارس آئیں تو اس ادنی سے دوست کو خدمت کا موقع ضرور دیجیے گا۔" شہزادہ گلے لگ کر کہنے لگا۔
"عمرو عیار! ضرور آوں گا۔اب ہم تم اچھے دوست ہیں تم نے میری جان بچائی ہے جس کا قرض دار میں آخری سانس تک رہوں گا۔"
عمرہ عیار نے شہزادے کو الوداع کہا اور اپنے شہر کی طرف رواں دواں ہوگیا۔لیکن سفر طویل تھا لہذا عمرو عیار نے راستے میں ایک جگہ آرام کرنے کے لیے اپنا بیس بدلا اور گھر میں داخل ہوا اور ان سے آج کی رات رکنے کے لیے اجازت طلب کی۔گھر والوں نے عمرو کی خوب مہمان نوازی کی۔گھر کے جس کمرے میں عمرو کو ٹھہرایا گیا وہاں ایک لڑکا بھی اس کے ہمراہ کمرے میں موجود تھا۔جس کا نام عاطف تھا عمرو رات دیر تک اس کمرے میں موجود چیزوں کے بارے میں سوال کرنے لگا جو اس کے لیے بالکل نئی تھیں لیکن اس لڑکے نے تمام آلات کے بارے میں وقتا فوقتا بتا کر عمرو کی معلومات میں بہت اضافہ کر دیا تھا۔صبح یوتے ہی عمرو نے ان سے اجازت طلب کی اور شہر کا رخ کیا اور کچھ چیزوں کو اپنی نئی زنبیل میں بھرنے لگا اور اس کے بعد اپنے شہر فارس کا رخ کیا۔لیکن جیسے ہی وہ اپنے شہر کے قریب پہنچا تو اس نے آسمان پر بہت سے ڈرونز کو دیکھا اور دیکھتے ہی وہ دنگ رہ گیا اس نے اپنی زریں زنبیل سے اپنے جادوئی جوتے نکالے تاکہ شہر کا جائزہ لے سکے لیکن جیسے ہی وہ شہر میں داخل ہوا اس نے دیکھا کے پورے شہر کی رونقیں کہی کھو چکی ہیں۔وہ شہر جو کبھی روشنیوں کا گہوارہ ہوا کرتا تھا مگر اب تاریکیوں میں ڈوب چکا ہے۔اس شہر کی فلک بوس عمارتیں جو کبھی فخر کی نمائندگی کرتی تھیں اب ٹوٹے ہوئے شیشے کی مانند اس کی کرچیاں بکھری ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔ہر گلی میں خوف باہیں پھیلائے کھڑا تھا اور ہر چہرہ ایک ان کہی کہانی رقصاں کر رہا تھا۔آسمان پر منڈلانے ڈرونز انسانوں پر حکومت کرنے لگے تھے ان کی دہشت سے ہنستا بستا شہر سناٹوں کا قبرستان بن چکا تھا۔بازار سنسان ہو چکے تھے۔وہی بازار جہاں کبھی زندگی اپنے قہقہے نچھاور کرتی تھی آج سوائے خوف کی چاپ کے کچھ اور نہ ہی سنائی دیتا تھا اور نہ ہی دکھائی دیتا تھا۔عمرو عیار یہ صورت حال دیکھ کر بہت غمزدہ ہو گیا اور جیسے تیسے امیر حمزہ کے دربار میں پہنچا تھا امیر حمزہ پریشانی میں مبتلا اپنے دربار میں گم سم ٹہل رہا تھا۔ایک آواز جس نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔
"شہنشاہ! یہ سب میں کیا دیکھ رہا ہوں؟کیا ہو رہا ہے؟اس شہر کو کس کی نظر لگ گئی؟"
امیر حمزہ غم اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے کہنے لگا۔
"عمرو! شکر ہے تم واپس آئے اب ایک تم ہی ہو جو اس شہر کو آزاد کروا سکتے ہو۔میں نے اور میرے سپاہیوں نے بہت کوشش کی دشمن کا مقابلہ کرنے کی ہمارے بہت سے سپاہی شدید زخمی اور کچھ شہید ہو گئے اس کے بعد پورے شہر کو دشمن نے ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔"
عمرو سوالیہ انداز سے کہنے لگا۔
"لیکن کیا آپ نے یہ روکنے کی کوشش نہیں کی؟"
امیر حمزہ بوجھل آواز سے کہنے لگا۔
"عمرو! جب تک یہ جنگ تلوار سے لڑی جا رہی تھی میں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے میں اکیلا ہی دشمن پر بھاری تھا لیکن یہ جنگ تلوار کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے لڑی جا رہی ہے جس کا مقابلہ کرنا ہمارے لیے مشکل ہے۔"
عمرو عیار کافی سوچ وچار کے بعد شرارتی مسکان کو ہونٹوں پر سجائے کہنے لگا۔
"شہنشاہ! آپ کے پاس ٹیکنالوجی نہیں تو کیا ہے مجھ جیسا غلام تو ہے۔"
یہ کہہ کر عمرو نے وہاں سے جانے کی اجازت طلب کی اور چلا گیا۔
محل سے تھوڑا دور آتے ہی اس نے ایک گھر کی دیوار کے ساتھ کان لگائے تو اسے احساس ہوا جو بچے گھروں میں قید ہو چکے ہیں ان کے بڑے بزرگ اپنے خوش حال دنوں کی کہانیاں سنا کر بچوں کے دل بہلا رہے ہیں۔لیکن عمرو عیار منہ ہی منہ میں کہنے لگا۔
"اب میں وہ عمرو عیار نہیں ہوں جو صرف داستانوں میں ملتا تھا بل کہ اب تو میں جدید دور کا عمرو عیار ہوں جس کے لیے ٹیکنالوجی کو سمجھنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اور اسی کھیل ہی کھیل میں اب میں اس شہر کو اس کے اجالے واپس لوٹا دوں گا۔عمرو عیار کے پاس دو قسم کی زنبیلیں موجود تھی ایک زنبیل ایسی تھی جس میں جدید دور کے سارے آلات موجود تھے جس کی مدد سے وہ فارس کو آزاد کروانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔لیکن سب سے پہلے اسے اس بات کا پتہ لگانا تھا کے اس کا مین سرکٹ کا جال شروع کہاں سے ہوتا ہے اور اس کو ناکارہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
*****
شام کے ڈھلتے سورج کے ساتھ وقت بھی تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔اسے جلد از جلد اس شہر کو دشمن کے چنگل سے نجات دلوانی تھی۔
اس نے پھر سے روپ بدلا اور دشمن کے پاس ان کا خیر خواہ بن کر پہنچ گیا اور انہیں اپنی مکاری اور جال سازی سے اپنی باتوں میں پھنسا کر ان سے ساری معلومات حاصل کرنے لگا کے کیسے اور کہاں سے انھوں نے ٹیکنالوجی کے ذریعے فارس پر اپنے پنجے گاڑھے تھے اور اس کا مین پوائنٹ کہاں ہے؟ جس کو ناکارہ کرتے ہی فارس کو آزادی مل سکتی ہے۔عمرو عیار انتہائی ہوشیاری سے یہ سب جاننے میں کامیاب ہو گیا تھا۔وہ دشمن کے ارادوں کو بھانپنے کے بعد سب سے پہلے شہر کے مرکزی کنٹرول سسٹم کو تلاشنے لگا۔لیکن وہ جیسے ہی وہاں پہنچے میں کامیاب ہوا اس نے دیکھا اس مرکزی کنٹرول سسٹم کو لیزر لائینوں کی تاریں اس کے ارد گرد موجود تھیں تاکہ کوئی بھی کنٹرول سسٹم تک پہنچ نہ سکے۔ان تاروں پر جگہ جگہ سمارٹ میٹر بھی موجود تھے جس پر تقریبا ایک گھنٹے کا وقت کانٹ ہوتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔وہ یہ دیکھتے ہی سمجھ گیا وہ جیسے ہی ان لیزر تاروں کو کراس کرنے کی کوشش کرے گا میٹر کا کانٹر دشمن کو متحرک کر دے گا اور یہ لیزر تاریں پورے شہر کو تباہ کر دیں گی لیکن اگر وہ نہ بھی چھوتا تب بھی اس شہر کو میٹر کا وقت زیرو زیرو تک پہنچ جاتا تب بھی شہر کی تباہی کا سبب بنتا۔دونوں صورتوں میں اس شہر کی تباہی یقینی تھی۔اس نے فورا اپنے پاس موجود زنبیل کھولی اور اس میں سے جدید آلات،ہیکنگ ٹولز اور مصنوعی ذہانت کو مات دینے والے پروگرام موجود تھے۔اس نے سارے شہر کا جائزہ لینے کے بعد مسکرا کر کہنے لگا۔
"دشمن جتنا مرضی ہے عقل کے گھوڑے دوڑا لے لیکن عمرو کی عیاری کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔" وہ شہر کے مرکزی کنٹرول سسٹم کے پاس آیا جو ایک بہت بلند و بالا ٹاور میں قائم تھا۔یہ مین ٹاور تھا جو پورے شہر کو کنٹرول کرتا تھا۔مگر ان لیزر تاروں سے بچ کر اس تک پہنچنا ناممکن تھا۔کیوں کہ یہاں صرف لیزر تاریں نہیں بل کہ اس کے ساتھ ساتھ سینسرز اور خود کار محافظ بھی موجود تھے۔عمرو نے اب اپنی عیاری دکھائی۔اس نے ایک ایسا آلہ نکالا جس کی مدد سے وہ اس سسٹم کے اندر داخل ہو سکتا تھا۔وہ سسٹم کے اندر داخل ہوا اور مرکزی نیٹ ورک تک رسائی حاصل کر لی۔اس نے سسٹم میں ایک ایسا پروگرام انٹر کیا جس سے آسمان پر موجود ڈرونز وہاں سے ہٹنے لگے اور واپس جانے لگے۔پھر اس نے لیزر تاروں پر موجود میٹر کو دیکھا جس پر کچھ ہی منٹ باقی تھے اس نے سسٹم کی مدد سے لیزر تاروں کو ختم کر دیا۔جس کی وجہ سے پورا شہر چند منٹ میں ہونے والی تباہی سے بچ گیا۔عمرو نے اپنی چالاکی اور ذہانت سے دشمن کے ہر وار کو ناکام کر دیا تھا اور فارس کو ایک نئی امنگ دے دی تھی۔عمرو نے دشمن کے ارادے خاک میں ملا دیں تھے اب وہ اپنی زنبیل کو سمیٹتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔
******
گلیوں میں بچوں کے مسکراہٹیں لوٹ آئی تھیں۔شہر پھر سے رات کی تاریکی میں بھی چراغوں کی مانند روشنیاں ٹمٹماتی ہوئی پورے شہر میں دن کا سماں باندھ رہی تھیں۔عمرو عیار یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوا۔وہ امیر حمزہ کے دربار میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا امیر حمزہ عمرو کی پیشانی تھپتھپاتے ہوئے تجسس بھرے لہجے سے کہنے لگا۔
"شاباش عمرو! تم ایک بار پھر دشمن کو شکست دے دی لیکن تم نے اس کا مقابلہ کیا کیسے؟"
عمرو نے سفر سے واپسی کی تمام روداد گوش گزار کرتے ہوئے بتایا کے جب وہ شہزادے مصطفی سے الوداع کہہ کر واپس آ رہا تھا تو اسے لگا اسے راستے میں تھوڑا آرام کر لینا چاہیے ہے تب ہی اس نے روپ بدل کر ایک گھر میں پناہ لی وہی موجود لڑکا عاطف آئی ٹی میں ڈگری مکمل کر چکا تھا ٹیکنالوجی کے تمام آلات اور ان کے استعمال کی معلومات عاطف سے ملی تھیں۔جو اس کے بہت کام آئی تھیں اسی لیے واپس سے وہ جدید آلات اپنی ایک زنبیل میں لے آیا تھا تاکہ ضرورت پڑنے پر اس کے کام آ سکیں۔امیر حمزہ یہ ساری روداد سننے کے بعد عمرو سے کہنے لگا۔
"شاباش عمرو! اب مانگوں کیا مانگتے ہو۔"
عمرو عیار کہنے لگا۔
"آپ اپنی کوئی بھی پسندیدہ چیز ہدیہ تن پیش کر سکتے ہیں۔"
کیوں کہ عمرو عیار جانتا تھا امیر حمزہ کی پسندیدہ چیز کوئی عام شے نہیں ہو سکتی تھی۔امیر حمزہ نے بیش قیمتی ہیرا جو اسے بہت پسند تھا اس نے عمرو عیار کو تحفے کے طور پر دے دیا۔فارس ایک بار پھر سے امن کا گہوارہ بن گیا شہر کی رونقیں بزرگوں کی محفلیں اور بچوں کی شوخ و چنچل شرارتیں فارس کو خوبصورتی میں چار چاند لگا رہی تھیں۔
OO
