''کہ یہ سب میرے رب کی مہربانی ہے۔ میں صبح دُکان کھولنے کے بعد اللہ کا کلام پڑھتا ہوں... اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرتا ہوں۔ ایمان داری سے جائز منافع لیتا ہوں تو میرا اللہ کیسے مجھے اکیلا چھوڑ سکتا ہے۔''
رب نواز نے اپنی دُکان پر ٹھیک ٹھاک پیسے خرچ کر ڈالے تھے۔ خوب مہنگی سجاوٹ کی تھی۔ لائٹنگ بھی زبردست کروائی تھی۔ لیکن اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اگر اثر ہوا بھی تو بالکل اُلٹا۔ گڈو بھائی کے تمام گاہک... گڈو بھائی کی نئی دُکان میں ہی جارہے تھے۔ شروع شروع میں اپنے بھائی کے ساتھ رب نواز بیٹھنے لگا۔ لیکن کچھ دنوں بعد ہی اُسے اندازہ ہونا شروع ہو گیا کہ سب کچھ غلط ہو رہا تھا۔ سارا سارا دن دونوں بھائی اور ان کے ملازمین گاہکوں کی راہ تکتے رہتے، لیکن چند گاہکوں کے علاوہ کوئی نہ آتا۔ اب لوگ اپنی گاڑیاں گڈو بھائی کی دُکان کے سامنے ہی روکنے لگے تھے۔ عورتوں کا بھی رش لگا رہتا تھا۔ گڈو بھائی، عمران اور وسیم کو کسی اور جانب دیکھنے کی ایک لمحے بھی فرصت نہیں ملتی تھی۔ رب نواز کو پہلے ہی مہینے زبردست نقصان ہوا۔ بجلی کا بل، ملازمین کی تنخواہیں، پھر روز کے حساب سے تین چار ہزار روپے کا سامان بچ جانا... رب نواز کی تو عقل ہی بند ہوگئی۔ جمشید نے تو اسے بڑے سہانے خواب دکھائے تھے۔ا ب جمشید کا دُور دُور تک علم نہ تھا۔ شروع میں چند دن وہ آیا تھا، مگر جب اُسے معلوم ہوا کہ گڈو بھائی کی دُکان بھی وہاں سے نزدیک ہے اور تمام گاہک ان کے پاس ہی جارہے ہیں تو جمشید صاحب غائب ہی ہوگئے۔
''دُوسرا مہینہ مزید تکلیف دہ تھا۔ اخراجات جوں کے توں تھے، لیکن آمدنی ایک پیسے کی نہ ہوئی۔ ملازمین کو سارا دن خوش گپیوں میں مصروف دیکھ کر ب نواز کے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی۔ اس نے چار میں سے دو ملازموں کو فارغ کر دیا۔ باقی دونوں کو سارا دن دُکان کی صفائی میں مصروف رکھنے لگا۔
دو مہینے میں ہی رب نواز کی کمر ٹوٹ گئی۔ اس نے دُکان سمیٹ لی۔ نیا سامان اونے پونے بیچ ڈالا۔ جمشید کا دیا ہوا مشورہ بُری طرح ناکام ہوگیا تھا۔ وجہ یہ تھی وہ بد نیتی پر مبنی تھا۔ رب نواز نے دُکان دوبارہ کرائے پر دینا چاہی، مگر اب وہ دُکان بدنام ہوچکی تھی، وہاں کا لوگ رُک ہی نہیں کررہے تھے۔ چند آدمیوں نے دُکان میں دل چسپی ظاہر تو کی، لیکن کرایہ آدھے سے بھی کم دے رہے تھے۔ رب نواز کا دماغی طورپر دیوالیہ نکل چکا تھا۔ اس نے دُکان فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور اسٹیٹ ایجنسیز پر کہہ دیا۔ اسٹیٹ ایجنٹ پہلے ہی رب نواز سے خار کھائے بیٹھے تھے، کیوں کہ پہلے رب نواز انھیں منہ نہیں لگاتا تھا۔
''اب تو اس کے زیادہ سے زیادہ پندرہ ہی ملیں گے۔'' نثار نے کہا۔
''پندرہ...'' رب نواز اُچھل پڑا۔'' کیا کہہ رہے ہو نثار بھائی... آپ نے اپنے منہ سے ہی تو پچیس میں فروخت کرنے کی بات کی تھی...''
''بالکل کی تھی اور میں اتنے میں نکلوا بھی دیتا... مگر اُسی وقت... اب نہیں... اُس وقت دُکان کی گڈّی چڑھی ہوئی تھی... اب وہ منحوس دُکان کے نام سے مشہور ہوگئی ہے... کوئی کرائے پر لینے کو تیار نہیں... پاگل ہی ہوگا جو خریدے گا۔''
''بھائی کچھ کرو... میں تمھیں اچھا کمیشن دے دوں گا۔'' رب نواز لجامت پر اتر آیا۔
''وہ تو ہم کسی صورت نہیں چھوڑتے... کوئی پارٹی پھنسی تو لے آئوں گا۔'' نثار نے بے رُخی کہا اور چلا گیا۔اس کے بعدمزید دس مہینے رب نواز کی دُکان اس کے لالچ کی بھینٹ چرھی رہی۔ وہ کرائے پر چڑھی نہ کسی نے خریدی۔ اس دوران میں گڈو بھائی اپنی بیٹی کے فرض سے بھی سبکدوش ہوگئے۔ آتے جاتے وہ رب نواز کی بند دُکان دیکھتے تھے۔
ایک روز رب نواز دُکان کھول کر اس کی صفائی کر رہا تھا کہ اسے کسی نے زور سے سلام کیا۔ رب نواز نے پلٹ کر دیکھا تو حیران رہ گیا۔
سامنے گڈو بھائی کھڑے تھے۔
''تم... گڈو بھائی...؟'' رب نواز کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
''جی رب نواز بھائی میں...'' گڈو بھائی نے آگے بڑھ کر مصافحہ کیا۔
''دُکان کیسی چل رہی ہے؟'' رب نواز نے بہ مشکل سوال کیا۔
''مالک کا احسان ہے بھائی۔'' گڈو بھائی کچھ اور بھی کہنا چاہتے تھے، لیکن اس ڈر سے نہ کہا کہ اللہ کو ناگوار نہ گزرے۔ چند سیکنڈ خاموش رہ کر گڈو بھائی دوبارہ بولے۔
'' ایک کام ہے آپ سے ...؟''
''کیا... کیا کام...؟''
''میں آپ کی دُکان خریدنا چاہتا ہوں۔'' رب نواز چونک کر اُنھیں دیکھنے لگا۔
''مجھے بیچیں گے؟''
''ہاں... ہاں ... ضرور...''
''مگر میں پہلے آدھی رقم دوں گا... اس کے دو سال بعد باقی رقم... یا پھر جیسا آپ بولیں۔'' گڈو بھائی نے کہا۔
''مارکیٹ ویلیو کے حساب سے رقم دوں گا۔'' رب نواز بولا۔
پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بڑھ کر گڈو بھائی کے گلے لگ گیا۔
''مجھے معاف کر دینا بھائی... معاف کردو... لالچ نے مجھے پاگل کر دیا تھا... اب مجھے معلوم ہوا کہ رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے... کوئی کسی کا رزق نہیں چھین سکتا... میں نے تمھارے حصے کا رزق چھیننا چاہا تو اللہ نے میرا رزق ہی تنگ کر دیا... تب سے میں بے سکون ہوں... ٹھیک ہے بھائی ٹھیک ہے... مجھے منظور ہے... ہو سکتا ہے اسی طرح میرے دل کو سکون نصیب ہو جائے۔'' گڈو بھائی ان کی کمر تھپکنے لگے۔
ختم شدہ

