نثار ہی نہیں، بلکہ کئی اور اسٹیٹ ایجنٹ اور دُوسرے افراد ان کے پیچھے پڑ گئے کہ وہ دُکان فروخت کردیں، لیکن رب نواز نے سب کو انکار کر دیا تھا۔ اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس نے تھوڑا صبر کرکے دُکان بیچی تو تین گنا زیادہ پیسے مل جائیں گے۔ ابھی تک اس مارکیٹ میں سب سے مہنگی دُکان بیالیس لاکھ میں بکی تھی۔ رب نواز کے اندازے کے مطابق اب اس کی دُکان کی مارکیٹ ویلیو پینتالیس سے پچاس کے درمیان میں پہنچ گئی تھی۔ وہ تو بیٹھے بیٹھے امیر ہوتا جارہا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ ایک دم سے اس کا نصیب کھل جائے گا۔ البتہ اس نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ جس دن بھی اس کے منہ مانگے دام ملیں گے۔ وہ جھٹ دکان فروخت کر دے گا۔
٭
آج گڈو بھائی صبح سے ہی بڑے خوش دکھائی دے رہے تھے۔ عمران اور وسیم نے بھی دیکھ لیا تھا کہ گڈو بھائی بڑی ترنگ میں ہیں۔ جب گڈو بھائی نے تلاوت سے فارغ ہوئے تو وسیم نے پوچھ ہی لیا۔
''استاد... ماشاء اللہ ... آج تو بڑے خوش نظر آرہے ہو... ہمیں بھی تو بتائو ایسی کیا بات ہوگئی ہے؟''
''بتائوں گا... ضرور بتائوں گا۔ اور ساتھ میں مٹھائی بھی کھلائوں گا۔ اور ہاں... آج تو ناشتا بھی میری طرف سے ہوگا...'' استاد لہک کر بولے۔
''ارے واہ...'' عمران ہنسا ۔
''لگتا ہے لاٹری کھل گئی ہے... یا امریکا کا ویزہ لگ گیا ہے۔''
''امریکا جانے کی کیا ضرورت ہے بھئی... اللہ نے اِدھر ہی اتنا نواز رکھا ہے، مالک کا لاکھوں بار شکر ہے ۔'' گڈو بھائی نے دونوں ہاتھ اُٹھا کر اوپر دیکھا۔
''ناشتہ مٹھائی تو بعد میں ہوجائے گی۔ پہلے بتا تو دو اُستاد ... کیا بات ہوگئی ہے؟'' وسیم نے سوال کیا۔
''میری بیٹی ہے نا... جس کی بات پکی کردی تھی... کل تاریخ بھی طے ہوگئی ہے...بس سمجھو... اس سال کے آخر میں شادی ہے...'' گڈو بھائی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔
''مبارک ہو استاد... بہت بہت مبارک... پھر تو ناشتہ ضرور ہونا چاہیے اچھا سا...یہ تو بہت ہی خوشی کی بات ہے... ہماری بہن کی شادی آگئی ... واہ بھئی واہ۔''عمران اور وسیم خوش آگئے تھے۔
پھر گڈو بھائی نے عمران کو ناشتے کے پیسے دیے۔ عمران جھٹ ناشتا لے آیا۔
٭
''کیا سمجھے...؟ کچھ آتا عقل میں؟'' جمشید صاحب نے رب نواز کی طرف دیکھا۔ رب نواز سر ہلانے لگا۔
''ہاں... بات تو سمجھ میں آتی ہے... یہ تو میں نے سوچا ہی نہ تھا۔''
''اس لیے بولتے ہیں کہ ذرا اپنوں سے مشورہ کرلینا فائدہ منہ ہوتا ہے... دُکان فروخت کرگے تو سمجھو سونے کا انڈا دینے والی مرغی ذبح کردو گے... ابھی تو انڈے کھانے کا ٹائم ہے پیارے... جب ذبح کرنے کا وقت آئے، تو وہ بھی کردینا۔ کیا سمجھے؟'' جمشید مونچھوں کو تائو دے رہا تھا۔
''ہاں یار... تم نے زبردست مشورہ دیا ہے...'' اب نواز نے ممنونیت سے کہا۔
''بس تو پہلی فرصت میں اس چھولے والے گڈّے کو چلتا کرو... اور اپنے چھوٹے بھائی کوچنے کی دُکان ہی کھلوا دو... کاروبار تو جما ہی دیا ہے اس بے چارے نے محنت کرکے ،اب پھل تمھارا بھائی کھائے گا۔'' جمشید نے ہنس کر کہا۔
''اس کا نام گڈو ہے... گڈا نہیں.. ویسے یار... تھوڑا افسوس ہوگا... ساری محنت اس غریب نے کی اور جب دُکان جم گئی تو میں اسے نکال دوں... یہ تو ظلم ہوگا جمشید۔'' رب نواز جیسا لالچی آدمی بھی تھوڑا تذبذب میں پڑ گیا۔
''او بھائی... مولوی ثناء اللہ... کس دُنیا میں رہتے ہو...؟'' جمشید صاحب نے رب نواز کی نظروں کے سامنے ہاتھ ہلایا۔
'' یہاں ہوکیا رہا ہے ہر طرف... یہی کچھ تو ہو رہا ہے... اس میں ظلم کی کیا بات ہے... آج کل لوگ ایسے ہی ترقی کرتے ہیں... یہ رحم دلی، ایمان داری کہانیوں میں ہی باقی رہ گئی ہیں... باقی اصل میں تو سب چلتا ہے... یہ جو نیکی کا درس دیتے ہیں نا... وہ بھی کم نہیں ہوتے... جس کا جہاں موقع لگ رہا ہے... وہ کام دکھا رہا ہے... کیا سمجھے؟''
''ہوں... یہ بات تو ہے... ٹھیک ہے... میں کل ہی جا کر دُکان خالی کرنے کا کہہ دیتا ہوں...'' رب نواز نے مسکراتے ہوئے اُسے دیکھا۔
''جیو میرے یار... لگتا ہے کھوپڑی میں بات فٹ آگئی ہے۔''
''ایسی ویسی سُپر فٹ...''رب نواز نے جواب میں قہقہہ لگایا۔
٭
یہ وہ وقت تھا، جب رب نواز گڈو بھائی کو دُکان خالی کرنے کا کہا۔ اور ایک ماہ کی مہلت دے کر چلا گیا تھا۔ اب گڈو بھائی نڈھال سے بیٹھے تھے۔ اچانک ہی یہ کیا ہو گیا تھا۔ تین سال انھوں نے دل و جان سے محنت کر کے کاروبار جمایا تھا۔ سامنے کچرا صاف کر وایا۔ ان کی محنت کی وجہ سے وہاں بعد دُکانوں کی قیمت خود بہ خود آسان پر جا پہنچی تھیں۔ لوگ دُور دُور سے اُن کی دُکان پر آنے لگے تھے۔ لوگ ان کے مزے دار چنے کی چاٹ کے علاوہ ان کی خوش مزاجی اور اخلاق کے بھی گرویدہ ہو گئے تھے۔ بہت سے لوگوں سے بڑی اچھی دوستی بھی ہوگئی تھی۔ لیکن آج رب نواز نے دُکان خالی کرنے کا کہہ کر سب کچھ ملیا میٹ کر ڈالا تھا۔
''اُستاد... تم بھی شریف انسان ہو ایک دم... ''عمران خفگی کا اظہار کر رہا تھا۔
''کیا ضرورت تھی فوراً ہاں کرنے کی... اڑ جاتے...کہہ دیتے اتنی محنت کی ہے اس جگہ پر ... ایسے کیسے خالی کردیں...''
''یار... مجھ سے یہ لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا...گڈو بھائی کی آواز بھرّا رہی تھی۔'' ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آگے کیا کریں گے۔
'' مالک تو وہی ہے نہ دُکان کا۔''
''مالک ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ محنت کوئی کرے اور وہ سوکھے منہ سے کبھی بھی کہہ دے کہ دُکان خالی کرکے چلتے بنو...'' وسیم بھی پریشانی کے ساتھ ساتھ غصے کا شکار بھی تھا۔
''یار بس جو ہو گیا سو ہوگیا... میرا دل کہہ رہا ہے کہ اللہ ہمیں ایسے ہی نہیں چھوڑے گا... کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی جائے گا... دیکھنا تم...'' گڈو بھائی پر سے دکھ اورپریشانی کا پہلا ریلا گزر گیا تھا۔ اب انھوں نے خود کو سنبھالنا شروع کر دیا تھا۔
اس کے بعد انھوں نے دُکان کی تلاش شروع کر دی۔ اپنے کئی گاہکوں سے بھی اس پریشانی کا ذکر کیا تھا۔ ان لوگوں نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔ گھر میں بتانا نہیں چاہتے تھے مگر چہرے کی پریشانی ان کی بیگم نے بھانپ لی۔
''خیریت...تو ہے نا ! دو دن سے دیکھ رہی ہوں آپ چپ چپ سے ہیں... کسی بات کا ٹھیک سے جواب بھی نہیں دے رہے۔''
''ہاں سب... ایسے ہی... تھوڑی طبیعت سی خراب ہے ۔'' گڈو بھائی بولے۔
''کوئی بات تو ہے... میں جانتی ہوں آپ کی عادت۔''
''ارے بھئی کچھ نہیں ہوا... تم بے کار میں پریشان نہ ہو۔''
''تو آپ کی یہحالت دیکھ کر خوش ہو جائوں... بتائیں ... کیا ہوا ہے؟''
بالآخر گڈو بھائی کو ساری بات بتانی پڑ گئی۔ پہلے تو بیگم صاحبہ بھی تھوڑی سی فکر مندہوگئیں، لیکن انھوں نے خود کو جلد سنبھال لیا۔
''فکر مت کریں... ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔'' بیگم صاحبہ نے انھیں تسلی دی۔ پھر اچانک ہی سب ٹھیک ہوگیا۔
اتفاق سے انھیں ایک دُکان قریب ہی مل گئی۔ یہ دُکان کسی آدمی نے نئی نئی خریدی تھی۔ وہ یہاں اپنی فیملی کے ساتھ مارکیٹ آتا تھا۔ گڈو بھائی سے سلام دُعا بھی تھی اور ان کی دُکان سے چاٹ بھی کھاتا تھا۔ اسے گڈو بھائی کی پریشانی کا علم ہوا تو جھٹ بتایا کہ اس نے قریب میں ہی ایک دُکان خریدی ہے۔ آپ وہاں آجائیں۔ جو کرایہ یہاں دے رہے ہیں وہی مجھے دے دیں۔
یہ تو مسئلہ ہی حل ہو گیا تھا۔ ایک مہینے کی مہلت پوری ہونے سے پہلے ہی گڈو بھائی نئی دُکان میں شفٹ ہوگئے۔ گڈو بھائی نے پرانی دُکان کے سامنے ایک بینر لگا دیا کہ گڈو گولڈن چاٹ کی دُکان چند دکان چھوڑ کر شفٹ ہوگئی ہے۔ پہلی کو انھوں نے دُکان خالی کی، وہاں ایک ہفتے کے اندر اندر رب نواز نے اپنے چھوٹے بھائی اکبر کو چنے اور گول گپے کی دُکان کھلوا دی۔ ہر ایک کو اپنے حصے کا رزق ملتا ہے کوئی کسی کا رزق چھین نہیں سکتا۔ گڈو بھائی کے تمام گاہک ان کی نئی دُکان میں آنے لگے بس ایک وقتی جھٹکا لگا تھا اورپھر کام اُسی طرح شروع ہوگیا تھا۔گڈوبھائی کہنے لگے:
OOO

