🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
بے سکون    ( پہلا حصہ )

بے سکون ( پہلا حصہ )

نوشاد عادل
نوشاد عادل
2 جولائی، 2026۴۲ مرتبہ پڑھی گئی

بے سکون ( پہلا حصہ ) سنیں

بے سکون ( پہلا حصہ )

رب نواز کی بات سُن کر گڈو بھائی سُن ہوگئے۔

''یہ... یہ کیا کہہ رہے ہورب نواز بھائی...! آپ... مذاق تو نہیں کر رہے ؟'' گڈو بھائی کے منہ سے بہ مشکل نکلا۔

''نہیں گڈو بھائی... '' رب نواز کے چہرے پر بلاکی سنجیدگی تھی۔

'' میں بہت سیریس ہوں... بس ذرا مجبوری آگئی ہے... ورنہ میں دُکان خالی کرنے کا نہیں بولتا۔ وہ میرا بھائی ہے نا... سرفراز... اس کی نوکری چھوٹ گئی ہے... بے روز گار گھوم رہا ہے... میرے پیچھے پڑا ہے کہ بھائی اپنی دُکان دے دو...کوئی کاروبار کرے گا چھوٹا موٹا... بس بھائی... کیا کروں... آپ سمجھ رہے ہوگے میری مجبوری... بُرا مت ماننا۔''

''نن... نہیں... '' گڈو بھائی کے حواس ہی قابو میں نہ تھے۔ انھیں یوں لگ رہا تھا کہ اُن کی تین سالوں کی محنت ایک دم سے اکارت چلی گئی ہے۔ وہ دوبارہ زیرو پر آگئے ہیں۔

'' میں بھلا کیوں ماننے لگا بُرا... اچھا... پھر ٹھیک ہے رب نواز بھائی... میں کردوں گا خالی... بس مجھے ایک مہینے کی مہلت دے دو۔''

''ہاںہاں... وہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے... ضرور ضرور... آپ جب تک آرام سے کوئی اور دُکان دیکھ لو... '' رب نواز نے تیزی سے کہا۔اور رب نواز چلا گیا۔

''کیاہوا استاد ...؟'' گڈو بھائی کا شاگرد عمران ان کے پاس آکھڑا ہو گیا۔

'' کیوں پریشان بیٹھے ہو... ایسا کیا کہہ گیا ہے دُکان مالک ؟''

''دُکان خالی کرنے کا کہہ گیا ہے...'' گڈو بھائی نے سر اُٹھائے بغیر کہا۔

'' دُکان خالی کرنے کا کہا ہے؟'' عمران بھی چونک گیا۔ اس کے ماتھے پر بھی شکنیں نمودا ر ہوگئیں۔ وہ آہستہ آہستہ گڈو بھائی کے پاس بیٹھ گیا۔ اب وہ بھی مضطرب اوربے چین دکھائی دینے لگا تھا۔ ظاہر ہے یہ دُکان اس کے بھی روز گار کا ذریعہ تھی۔ اس نے بھی پہلے دن سے گڈو بھائی کے ساتھ مل کر سخت محنت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی محنت کا صلہ دیا تھا اور دکان بہت زبردست طریقے چل نکلی تھی۔ زیادہ دُور کی بات نہیں تھی۔

ابھی صرف تین سال پہلے کا تو ذکر ہے۔ رب نواز کی یہ دُکان مارکیٹ کے عقبی حصے میں تھی۔ زیادہ تر وہاں سنّاٹے ہی رہتے تھے۔ یہ کلاتھ مارکیٹ تھی۔ یہاں زیادہ تر خواتین آتی تھیں۔ اُن دنوں رب نواز اس لیے پریشان تھا کہ اس کی دُکان کرائے پر نہیں چڑھ رہی تھی۔ کئی اسٹیٹ ایجنسیز پر بتا رکھا تھا، مگر جو بھی دُکان کرائے پر لینے آتا... سناٹے اورویرانی والی جگہ دیکھ کر انکار کر دیتا تھا۔ اسٹیٹ ایجنٹ شکار کو شیشے میں اُتارنے کی لاکھ کوشش کرتا۔

''او بھائی میرے...! آپ اس کا کرایہ تو دیکھو... سات ہزار میں یہاں اس مارکیٹ میں کون سی دُکان ملے گی... اتنے میں تو ٹھیلا بھی نہیں ملتا۔''

''نہیں بھائی نہیں۔'' گاہک نفی میں سر ہلاتا۔

'' اس جگہ تو کوئی بھی کاروبار نہیں چلے گا...گاہک اِدھر آتے ہی نہیں ہیں... وہ مین روڈ والی دُکانوں سے ہو کر چلے جاتے ہیں۔ پھر اس مارکیٹ میں تو عورتیں ہی آتی ہیں۔ وہ بھلا اس طرف کیوں آنے لگیں... کوئی اور دُکان ہو تو بتا دینا۔''

اسٹیٹ ایجنٹ ایسی ہزار کوششیں کرکے تھک ہار گئے تھے۔ اب تو وہ رب نواز سے یہ کہنے لگے تھے کہ وہ دُکان کو کرائے پر دینے کے بجائے فروخت ہی کردے ۔ یہ جگہ ہی منحوس ہے۔

''میں تو اس کے لیے بھی تیار ہوں۔'' رب نواز خود عاجز آچکا تھا۔

'' میرا تو پیسہ ہی پھنس گیا ہے... پندرہ لاکھ کی دُکان لی ہے... کسی نے کہا تھا کہ مارکیٹ کی سستی دُکان ہے... ورنہ تیس لاکھ سے کم کی کوئی دُکان نہیں ہے یہاں... میں بس لالچ میں آگیا... دیکھو اگر کوئی خریدار ملے تو لے آئو اُسے۔''

لیکن قسمت دیکھیے کہ وہ دُکان کوئی خریدنے والا بھی نہیں تھا۔ ایک دو گاہکوں نے رضا مندی ظاہر کی، مگر پیسے کم لگائے۔

''اس کے میں آٹھ دے سکتا ہوں... ویسے بھی یہاں کون آئے گا۔ بس رقم پھنسانے والی بات ہے۔'' گاہک کی دل چسپی زیادہ نہ تھی۔

''صرف آٹھ ...؟'' رب نواز کا منہ سوالیہ نشان بن گیا۔'' پندرہ کی تو میں نے خریدی ہے۔''

''تو بھائی میرے... آپ نے مہنگی خریدلی تو میں تو نہیں خرید وں گا نا۔'' گاہک نے کہا۔

ظاہر ہے... رقم تقریباً آدھی تھی، لہٰذا سودا نہ بنا۔ یہ دُکان رب نواز کے لیے جنجال بن گئی تھی۔ ایسے میں گڈو بھائی آگئے۔ انھوں نے کرائے پر دُکان لینے کی بات کی۔ کرایہ کم لگایا، لیکن چوں کہ گڈو بھائی سنجیدہ تھے، لہٰذا رب نواز نے جھٹ انھیں کرائے پر دُکان دے دی۔معاہدہ وغیرہ فوراً تیارکرلیا گیا۔ گڈو بھائی نے وہاں چھولے اور گول گپے کا کاروبار شروع کردیا۔ ان کے ساتھ دو لڑکے عمران اور وسیم بھی تھے۔ ''گڈو گولڈن چھولے اور گول گپے'' کے نام سے یہ دُکان شروع کی گئی۔

چوں کہ مارکیٹ کا عقبی حصہ تھا اس لیے یہاں صفائی کا خیال بھی زیادہ نہیں رکھا جاتا تھا۔ دُکان کے سامنے کچرے کا ڈھیر لگا رہتا تھا۔ گڈو بھائی نے دو خاکروبوں کو پیسے دے کر سب سے پہلے کچرا صاف کروایا۔ جگہ صاف ستھری ہوگئی تو یہاں آنے والوں کو پارکنگ کی جگہ مل گئی۔ پارکنگ ہونے سے تھوڑی چہل پہل اور رونق ہوگئی۔ دُکان نظروں میں آنے لگی۔ تھوڑے بہت گاہک آنے لگے۔

گڈو بھائی کا معمول تھا کہ صبح دُکان کھولتے۔ لڑکوں کے ساتھ مل کر صفائی کرتے۔ پھر تلاوت کرتے۔ اس کے بعد چنے وغیرہ کی تیاری میں لگ جاتے۔ اگر کوئی فقیر آجاتا تو اسے خالی ہاتھ نہ لوٹاتے۔ پتا نہیں کس کی دُعا لگ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے دُکان مشہور ہوگئی۔ اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ گڈو بھائی بہت ایمان دار اور صفائی سے کام کرتے تھے۔ چاہتے تو منافع زیادہ لے سکتے تھے، لیکن وہ صرف جائز منافع لیتے۔ پھر ان کی چاٹ اتنی مزے دار ہوتی تھی کہ ایک بار کھانے والا بار بار آتا اور گھر بھی لے جاتا۔ وہاں اور بھی بہت سی دُکانیں تھیں لیکن وہ بند پڑی تھیں۔ اب یہاں گڈو بھائی کی دُکان کی وجہ سے رونق بڑھ گئی تھی۔ پارکنگ بھی بن گئی تھی، لہٰذا باقی دُکانیں بھی کرائے پر چڑھ کر کھلتی گئیں۔ ایک سال کے اندر اندر مارکیٹ کا یہ ویران حصہ چمک اُٹھا۔

گڈو بھائی، جو پہلے ایک پرانی موٹر سائیکل پر آتے تھے۔ اب نئی موٹر سائیکل پر آنے لگے۔ حال یہ ہو گیا کہ انھیں سر کھجانے کی فرصت نہ تھی۔ ہمہ وقت لوگوں کا رش رہنے لگا تھا۔ کلاتھ مارکیٹ میں خواتین خریداری اورسوٹ سلوانے کے لیے آتیں تو لازماً گڈو بھائی کی دُکان سے چھولے کی مزے دار چاٹ اور گول گپّے بھی کھانے آتی تھیں۔

اب تو اس جگہ کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ ساتھ ہی وہ دُکانیں جو پہلے کوئی کرائے پر لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا، اب لوگ منہ مانگے کرائے پر لینے کو تیار تھے۔ دُکانوں کے خریدار بھی آئے روز آتے رہتے تھے۔ رب نواز کی سوئی ہوئی قسمت جاگ گئی تھی۔ اس نے سب سے پہلے سال بھر بعد ہی دُکان کا کرایہ زیادہ کردیا۔ گڈو بھائی تھوڑے حیران بھی ہوئے تھے۔

''رب نواز بھائی... آپ نے تو کہا تھا کہ ہر سال آٹھ سو روپے کرایہ بڑھایا جائے گا... مگر آپ نے تو بارہ سو روپے بڑھایا ہے۔''

''گڈو بھائی ... اس میں بات یہ ہے کہ اب مارکیٹ کا یہ حصّہ بھی مہنگا ہوگیا ہے۔ پہلی کی بہ نسبت مارکیٹ ویلیوز بڑھ گئی ہے۔'' رب نواز اُنھیں سمجھانے کے انداز میں بولنے لگا۔ ابھی میں کسی اور کو آپ سے دُگنے کرائے پر دوں تو وہ ہنس خوشی لے لے گا۔''

یہ سُن کر بے چارے سیدھے سادھے گڈو بھائی خاموش ہوگئے تھے۔

رب نواز کے جانے کے بعد ان کا شاگرد وسیم خفگی سے بولا:

'' اُستاد ... تم بھی یونہی ہو... تھوڑا بولا تو کرو... اس نے کہا اور تم نے مان لیا... جب معاہدے میں لکھا ہے کہ ہر سال آٹھ سو بڑھائے جائیں گے تو بارہ سو روپے کی کیا تُک بنتی ہے۔''

''جانے دو یار...'' گڈو بھائی نظریں چراتے ہوئے بولے۔

''اُس کا ایمان اُس کے ساتھ ہے... ہمارا... ہمارے ساتھ ... چار سو روپے کی بے ایمانی کرے گا تو کون سا وہ امیر ہو جائے گا۔''

''بات بے ایمانی کی نہیں... زبان کی ہے اُستاد۔'' عمران نے بھی مداخلت کی۔

''تُوبھی شروع ہو گیا...'' گڈو بھائی نے اسے پیار سے ڈانٹا۔

'' اچھا چلو... کام اسٹارٹ کرو... پہلے ہی دیر ہوگئی ہے۔''

دونوں لڑکے منہ بنا کر کام میں جُت گئے۔

٭

موبائل کی بیل بجنے لگی۔ رب نواز نے کال ریسیو کرلی۔

''السلام علیکم...!''

''وعلیکم السلام! ہاں رب نواز بھائی... میں بول رہا ہوں نثار... اسٹیٹ ایجنسی والا... کیا حال ہیں۔'' دُوسری طرف... آواز آئی۔

''ہاں میں ٹھیک ہوں... تم بتائو... کوئی کام؟''

''ہاں بس وہ... ایک پارٹی آئی تھی ابھی... دُکان چاہیے اُسے...''

''کرا ئے پر...؟''

''ارے نہیں... کرائے پر نہیں... خریدنی ہے... اونچی پارٹی ہے بھائی... میں بہترین ریٹ میں نکلوادوں گا۔'' اسٹیٹ ایجنٹ نثار نے زبان سے جال بُننا شروع کردیا تھا۔

''مگر وہ تومیں نے کرائے پر چڑھائی ہوئی ہے... چھولے والے کو...''

''ارے لعنت بھیجیں اس پر...بس ہاں کردیں... آپ نے کتنے میں خریدی تھی دُکان ...؟''

''پندرہ میں...''

''میں پچیس دلوا دوں گا... اور بولیں؟''

''نہیں بھئی... پچیس تو کم ہیں... میر اخیال میں تو اب چالیس پینتالیس کے قریب ویلیو ہوگئی ہے۔ وہ جگہ تو سونا ہوگئی ہے سونا...'' رب نواز نے بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں۔

''خیر اب اتنی بھی قیمتیں نہیں ہیں۔'' نثار نے بھی ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔

'' دیکھ لیں بھائی... اچھے دام لگ جائیں گے... ہوسکتا ہے میں پارٹی کو پچیس سے آگے گھسیٹ لوں... آج ہاں کردیں گے تو ابھی آکر ٹوکن مِنی دے جائوں گا۔''

''نہیں یار... ابھی میرا دُکان بیچنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے... وہاں کی ویلیو تو اب دنوں کا حساب سے بڑھ رہی ہے۔ ایک سال بعد پچیس تو کیا پچاس لاکھ بھی کہیں نہیں گئے۔''

''چلیں... تو ٹھیک ہے...' 'نثار تھوڑا مایوس ہو کر بولا۔

''ویسے جب بھی ارادہ بنے تو مجھے پہلے بتا دینا... دُوسروں سے اچھے پیسے دلوا دوں گا۔''

''اچھا ٹھیک ہے.. . میں بتا دوں گا۔'' یہ کہہ کر رب نواز نے رابطہ ختم کر دیا ۔

''ہونہہ...'' کرکے خود کلامیہ انداز میں بولا۔

''پاگل سمجھا ہے کیا مجھے... دُکان سونا ہوگئی ہے اور اسے لوہے کے دام بیچ دوں...''

( اس خوبصورت کہانی کا اگلا حصہ اگلے ہفتے ملاحظہ کیجئے )

نوشاد عادل

لکھاری

نوشاد عادل

جناب نوشاد عادل ایک کمال لکھاری اور انسان ہیں ، بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہیں۔ بہت سی کتابی لکھ چکے ہیں ، کئی رسالوں کے مدیر ہیں۔ آگ کا بیٹا ناول کے ہزاروں صفحات لکھ چکے ہیں ، اس کے علاوہ بھی بے