بے چارے ملازم اپنی صفائیاں پیش کرنے لگے۔ ہیولے نے سیٹھ کے کان میں کہا:''مجھے تو یہ لڑکا چور لگتا ہے... اسی لیے یہ گھبرا رہا ہے۔'' اُس کا اشارہ ایک ملازم لڑکے کی جانب تھا۔ وہ لڑکا باہر کے کام کرتا تھا۔ سوداسلف لانا اس کی ذمہ داری تھی۔
''ابے... تُو نے تو نہیں لیا؟'' سیٹھ نے لڑکے کو گھورا۔ لڑکے کے پسینے چھوٹ گئے۔ وہ ہکلا کر بولا۔''نن... نہیں صاحب... قسم سے... میں نے چوری نہیں کی۔''
''سچ بتا... ورنہ ابھی پولیس کو بلاتا ہوں۔''
لڑکا رو پڑا: ''اللہ کی قسم! میں نے کچھ نہیں چرایا۔''
''ایسے نہیں مانے گا یہ...'' سیٹھ نے اپنا موبائل نکالا اور اپنے ایک پولیس والے دوست کو فون کر دیا۔
پولیس موبائل آئی اور پولیس والے لڑکے کو مارتے ہوئے لے گئے۔
''ہاں یہ ہوئی نا بات۔'' ہیولا خوش ہو کر بولا۔''اس طرح باقی لوگوں کو بھی نصیحت ہو گی۔''
مگر اُسی شام بیگم صاحبہ کو اپنا موبائل اپنے اکلوتے بیٹے کے کمرے سے مل گیا۔
''یہ جمال لے گیا تھا اپنے ساتھ... پھر بھول گیا۔'' بیگم صاحبہ نے بتایا۔
''چلو شکر ہے... مل گیا۔'' سیٹھ کمال سر کھجانے لگا۔''تو اس لڑکے کو ایسے ہی بے کسور پکڑوا دیا میں نے۔''
قریب کھڑا ہیولا فوراً بولا:''تو کیا ہوا... افسوس کرنے سے کیا فائدہ... بس جو ہونا تھا ہو گیا... تم بڑے آدمی ہو... بڑے لوگ چھوٹے لوگوں کا افسوس نہیں کرتے۔''
''بات تو تیری سولہ آنے ٹھیک ہے۔'' سیٹھ کمال بولا۔
…٭……٭…
سیٹھ کمال ہیولے کی ہر بات مان رہا تھا۔ اس سلسلے میں وہ جائز و ناجائز کی تمیز کھو بیٹھا ۔ بلاشبہ ہیولے کے مشوروں پر عمل کر کے سیٹھ کمال کو کافی مالی فائدہ ہوا تھا۔ ہیولا صرف اُسے ہی دکھائی دیتا تھا اور کسی کو نہیں۔ اس سے بھی سیٹھ کو کوئی سروکار نہ تھا۔
اس بار سیٹھ کمال کا اکلوتا بیٹا جمال بیمار پڑ گیا۔ پہلے تو اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی، مگر جب اس کی بیماری طول پکڑتی چلی گئی تو سیٹھ اور اس کی بیگم کو تشویش نے آگھیرا۔ پھر اس کی کمر میں تکلیف بھی ہونے لگی ،جو روز بہ روزبڑھتی چلی گئی۔ جمال درد کی شدت سے مرغِ بسمل کی مانند پھڑاکے مارنے لگتا تھا۔ سیٹھ تو پاگل ہو گیا۔ پہلے شہر بھر کے اسپیشلسٹ کو دکھایا گیا، مگر کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ بے شمار ٹیسٹ کروا لیے۔ سب کچھ کر کے دیکھ لیا ،جو انسانی بساط میں تھا، لیکن دورے کے ساتھ مرض بڑھتا اور مریض بے دم ہوتا گیا۔
کسی نے بیرونی ملک کا کہا تو اسے بیرون ملک بھی لے جایا گیا، مگر وہاں بھی کوئی افاقہ نہ ہوا۔ مرض کی تشخیص ہی نہیں ہو پا رہی تھی۔ پتا نہیں کیسا پُراسرار مرض تھا۔ اس نے جمال کو نچوڑ کر رکھ دیا تھا۔ دوبارہ ملک آگئے۔ پھر دم دُرود، تعویز سب کچھ کر لیا۔ جمال کی تکلیف دور نہ ہو سکی۔
بہت دنوں کے بعد سیٹھ کمال اپنی کمپنی آیا ،مگر آفس میں پریشانی کے عالم میں سر پکڑے بیٹھا رہا۔ اتنے میں ہیولا نمودار ہوا۔ اسے دیکھتے ہی سیٹھ نے تیزی سے کہا:''اے بھائی! کچھ بتا... کچھ کر ... میرا جمال ٹھیک ہو جائے... وہ میری اکلوتی اولاد ہے... کوئی علاج بتا؟''
''ایک علاج ہے تو...'' ہیولے نے بھنویں اوپر کر کے سیٹھ کو دیکھا۔''مگر...''
''مگر... مگر... کیا... پیسے کھرچ ہوں گے... میں دوں گا... جتنے بھی کھرچ ہو جائیں بھلے سے۔'' سیٹھ بے تابی سے بولا۔
''اس کا علاج پیسوں سے نہیں ہو گا۔'' ہیولا ٹہلتے ٹہلتے بولا پھر رُک کر سیٹھ کی طرف دیکھا۔''اس کا علاج دُعائیں ہیں۔''
''دُعائیں؟'' سیٹھ اس کا منہ تکنے لگا۔
''ہاں…اور اس کی بیماری کی وجہ بددُعائیں ہیں۔''
''یہ …یہ کیا بول رہے ہو تم؟''
''میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔'' ہیولا بیٹھ گیا۔
''تم نے جن لوگوں کو نوکری سے نکالا…جن کے ساتھ ناانصافیاں کیں… جن کے دل دکھائے… وہ لوگ تمھیں بددُعائیں دیتے ہوئے گئے تھے۔ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ کسی کا دل دُکھانا ہے... جیسے کعبہ ڈھا دینا... اتنا بڑا گناہ کر کے تم کیسے سکھی رہ سکتے ہو سیٹھ!''
''وہ تو سب میں نے تیرے کہنے پر کیا تھا…تو نے تو بولا تھاکہ یوں کرو …یوں کرو۔'' سیٹھ کمال پھٹ پڑا۔اُس کے آواز میں غم و غصے کی آمیزش تھی۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ بڑھ کر اس مکروہ صورت کا ٹینٹوا دانتوں سے چبا ڈالے۔
''معلوم ہے۔'' ہیولا زہریلے انداز میں مسکرایا۔''وہ میرا کام ہے... تم جانتے ہو... میں کون ہوں؟''
سیٹھ اُسے کھاجانے والے نظروں سے گھور رہا تھا۔
''میں بُرائی ہوں... بدی... ہر انسان کے ساتھ رہتا ہوں، مگر جو میری باتوں میں... بہکاوے میں نہیں آتے... اُنھیں چھوڑ دیتا ہوں... جب تک کہ وہ مصیبتوں میں گھر نہیں جاتے... بس اب میرا کام ختم... میں جا رہا ہوں... کسی اور کو بہکانے۔'' یہ کہہ کر ہیولا کھڑکی کی طرف بڑھا۔
''با... بات سن... ابے...'' سیٹھ اُس کے پیچھے لپکا ،مگر وہ غائب ہو چکا تھا۔
سیٹھ کھڑکی سے باہر جھانکنے لگا۔ تب اس نے ایک چونکا دینے والا منظر دیکھا۔
باہر سڑک پر دُور تک بہت سے لوگ دکھائی دے رہے تھے، اُن میں ٹھیلے والے، رکشے والے، موٹرسائیکل سوار، پیدل چلنے والے شامل تھے۔ ہر شخص کے ساتھ ایک سیاہ ہیولا چل رہا تھا، لیکن چند افراد ایسے بھی نظر آئے، جن کے ساتھ سفید ہیولا تھا۔ سفید ہیولے کے گرد نور جیسا ہالہ بنا ہوا تھا۔ وہ یقینا اچھائی کے ہیولے تھے۔وہ اس بات کی علامت تھے کہ اچھے لوگ ابھی باقی ہیں، جو برائی کی باتوں پر دھیان نہیں دیتے۔ ( ختم شدہ)

