کل اخبارات نے کہانی گھر کی انتظامیہ ے اعلان کیا تھا کہ آج دادا جان بچوں کو ، خلائی بچوں کی کہانی سنائیں گے۔ بچوں نے اپنے جیسے بچوں کی کہانیاں تو بہت سنی تھیں لیکن خلائی بچوں کی کہانی کبھی نہیں سنی تھی۔ اِس لیے کہانی گھر میں موجود بچے ، معمول سے زیادہ تھے اور اُن کے چہروں پر موجود بے چینی ، اپنے پورے عروج پر تھی۔ کچھ والدین بھی خاص ، خلائی بچوں کی کہانی سننے آئے تھے۔ کہانی گھر خوب صورتی میں اپنی مثال آپ تھا۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا ، کہانی گھر کی انتظامیہ ہال کو خوب صورت سے خوب ترین بنانے پر تُلی ہوئی تھی۔ اِس وقت ہال میں موجود عہدے داران گھوم پھر اِدھر اُدھر کا جائزہ لے رہے تھے۔ کہانی شروع میں پانچ چھ منٹ باقی تھے۔ مہمانِ خصوصی تشریف لا چکے تھے۔ یہ بیس بچے ہمیشہ کی طرح بذریعہ قرعہ اندازی منتخب کیے گئے تھے۔ میزبان چہرے پر مسکراہٹ سجائے ، اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے اور پھر ٹھیک آٹھ بجے وہ اسٹیج پر ، اپنی مخصوص نشست پر جا بیٹھے۔ اُسی وقت دادا جان اُٹھ کر اپنی مخصوص کرسی پر جا بیٹھے ۔ اِس دوران بچوںنے تالیوں سے ماحول کو گرمائے رکھا۔ میزبان اُٹھا اور مائیک کے قریب آ کر بولا:
'' پیارے بچو ! میں کہانی گھر کی طرف سے آپ اور آپ کے والدین کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ آٹھ بج چکے ہیں اور ہمارے محترم بزرگ جناب محمو علی اپنی کرسی پر بیٹھ چکے ،گویا کہانی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ، آج کی کہانی خلائی بچوں کی کہانی ہے۔ یہاں خلا سے مراد وہ جگہ نہیں کہ جہاں چیزیں تیرتی پھرتی ہیں بل کہ مراد یہ ہے کہ ...خیر ، جانے دیں! کیوں کہ وقت ضائع ہوگا ۔ دادا جان اِس بات کی وضاحت کہانی میں کر دیں گے۔ میں دعوت دیتا ہوں دادا جان کو کہ وہ بچوں کو کہانی سنائیں۔''
بچوں نے زور دار تالیاں بجائیں۔ خاموشی ہوئی تو ددا جان یوں گویا ہوئے:
'' اچھے بچو! یہ کہانی مریخ سے متعلق ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ مریخ کہاں ہے! بہرحال ، یہ کہانی مجھ تک پہنچی اور اب آپ کو سنانے جا رہا ہوں ۔
ان جلی اور مارچلی دو دوست تھے۔ ایک سکول میں پڑھتے تھے۔ چھٹی کے وقت وہ ایک ساتھ اپنے گھروں کو لوٹتے تھے۔ اُن کے پاس چھوٹی چھوٹی اُڑن طشتریاں تھیں۔ کسی پلیٹ کی شکل کی اُڑن طشتریاں ہمارے کے ہاں کے جدید جہازوں سے زیادہ تیز رفتار تھیں۔ اُن کے گھر دُور دُور تھے مگر اُڑن طشتریوں کی بدولت دُوری ، دُوری نہ تھی۔ وہ جب چاہتے ، ایک دوسرے سے ملنے چلے جاتے۔
پیارے بچو! مریخ کی آب و ہوا ہماری دنیا سے یکسر مختلف تھی۔ لوگوں کے رہن سن کے طور طریقے بھی جدا تھے۔ وہ لوگ وضع قطع میں بھی مختلف تھے۔ ان کے چہرے ہم انسانوں کی طرح کے نہیں تھے۔ ان کے چہرے ناشپاتی کی شکل کے اور ناک طوطے کی چونچ جیسے۔ سبھی مخلوق کے حلیے ایک جیسے ہوتے تھے۔ ہاں، پہچان کے لیے ان کے چہروں پر مخلوص تل ہوتے تھے۔ یہ تل ہر کسی کی دائیں گال پر موجود تھے۔
ایک دن کا ذکر ہے کہ اَن جلی اور مار چلی، دونوں اپنے کمپیوٹر سکول سے پڑھ کر آ رہے تھے۔ ان کا اڑن طشتریاں ان کے کندھوں سے لٹکی ہوئی تھیں۔بالکل بستوں کی طرح۔
وہ آپس میں باتیں کرتے چلے جا رہے تھے۔ مار چلی کہہ رہا تھا:
''یار! آج تو کمپیوٹر نے عجیب نظارہ دکھایا!''
''ہاں! زمین کے لوگوں کے متعلق، کمپیوٹر نے پہلی دفعہ کچھ معلومات فراہم کی ہیں…'' ان جلی نے کہا۔
''ویسے ایک بات ہے۔ زمین ہے بہت خوبصورت…'' مارچلی نے کہا۔
''اس کی خوبصورتی درختوں کی وجہ سے ہے اور کمپیوٹر بتا رہا تھا کہ بہت تیزی سے درخت ختم ہو رہے ہیں۔ آلودگی کے مسائل وہاں بہت زیادہ ہیں۔ لوگ درخت تیزی سے کاٹ رہے ہیں…'' ان جلی نے کہا۔
''ہاں… ارے، تم نے وہاں کے طالب علموں کو دیکھا ؟'' مارچلی بولا۔
''بے چارے۔ کمپیوٹر بتارہا تھا کہ ان کے بستوں کا بوجھ، بسا اوقات ان کے اپنے وزن سے زیادہ ہوتا ہے۔ ہم بستہ رکھتے ہی نہیںہیں۔ہمارا بستہ ہمارا کمپیوٹر ہے جو سکول میں پڑا رہتا ہے…'' ان جلی نے کہا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ مارچلی نے گہری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا:
''ان جلی! ایک خواہش ہو رہی ہے…''
ان جلی نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا۔
''کیوں نہ ہم زمین کے بچوں سے ملاقات کر کے آئیں…؟'' مارچلی نے جلدی سے کہا۔
''چاہتا تو میں بھی ہوں لیکن کیا ہمارے والدین اس کی اجازت دیں گے!''
''ممکن ہے، وہ اجازت دے دیں…''
''ٹھیک ہے۔ میں اپنے والدین سے بات کروں گا اور تم اپنی والدین سے کرنا…'' دونوں خاموشی سے چلے گئے۔ اچانک وہ چونک کر رک گئے۔
دادا جان یہاں تک سنا کر خاموش ہو گئے۔ ہال میں موجود بچے پوری توجہ ان پر مبذول کیے تھے۔ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے خاموشی سے دادا جان کو دیکھ رہے تھے، جو پانی پینے میں مصروف تھے۔ میزبان سر جھکائے بیٹھا تھا۔ مہمان خصوصی بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے۔ دادا جان نے پانی پینے کے بعد ایک نظر بچوں پر ڈالی اور بولے:
''ان کے سامنے چھ فٹ اونچا اور بیس گز لمبا ایک خوفناک سانپ اپنا پھن پھیلائے موجود تھا۔ سبز رنگ کے اس سانپ کی آنکھیں دھواں اگلتی محسوس ہو رہی تھیں۔ ان جلی اور مارچلی نے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ اسی وقت سانپ نے ایک زوردار جھرجھری لی۔
''یہ۔۔۔ یہ تو انکل مارچلے کا سانپ ہے…'' ان جلی نے کہا۔
''ہاں، لیکن یہ یہاں کیسے آ گیا؟'' مارچلی نے کہا۔
پیارے بچو! انکل مارچلے مریخ کے سب سے معمر بزرگ تھے۔ پورا مریخ ان کے اشاروں پر چلتا تھا۔ مریخ کے حکمران ان کے مشوروں کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ انکل مارچلے کے پاس لاتعداد سانپ تھے جو ان کے بڑے سے محل میں ہر وقت گھومتے، پھرتے تھے۔ ان کے تابعدار اور فرمانبردار تھے۔ انکل مارچلے کا سانپ اس وقت ان جلی اور مارچلی کی نظروں کے سامنے تھا۔ وہ جانتے تھے کہ سانپ بلاوجہ لوگوں کے سامنے نہیں آتے۔
''مارچلی! کہیں ہم سے کوئی خطا تو سرزد نہیں ہو گئی!'' ان جلی نے کہا۔
''اور یہ سانپ سزا کے لیے نہ بھیجا گیا ہو…''
''بظاہر تو ایسی کوئی بات نہیں مگر عین ممکن ہے کہ انجانے میں کچھ ہو گیا ہو…'' مارچلی نے کہا اور پھر انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ دور بہت دور سے ایک اڑن طشتری تیزی سے ان کی طرف آ رہی تھی۔ چند لمحوں بعد وہ ان کے سامنے رکی۔ چپٹا سا دروازہ کھلا اور ایک بزرگ شخصیت باہر نکلی۔ یہ انکل مارچلے تھے۔ دونوں بچوں نے ادب سے انہیں سلام کیا اور ایک ساتھ بولے:
''انکل! آپ اور آپ کی سانپ کی یہاں موجودگی، ہماری لیے باعث حیرت ہے…''
انکل مارچلے آہستہ سے مسکرائے، بولے:
''مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ دونوں زمین کی سیر کا پروگرام بنا رہے ہیں…''
''جی ہاں، مگر آپ کو…!!''
''آپ جانتے ہیں یہاں ہر آدمی کے پاس کمپیوٹر ہے۔ آپ کی طرح میرے کمپیوٹر نے بھی زمین کے متعلق معلومات فراہم کی ہیں اور آپ کے ارادوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ چنانچہ میں یہاں چلا آیا۔ اب ہم تینوں مل کر زمین پر جائیں گے اور زمینی لوگوں سے متعلق باتیں، یہاں آ کر اپنے لوگوں کو بتائیں گے…'' انکل مارچلے نے کہا۔
دونوں بچے خوش ہو گئے مگر پھر ان کی خوشی جاتی رہی۔ ان کے افسردہ چہرے دیکھ کر انکل مارچلی بولے:
''آپ لوگوں کو خوشی نہیں ہوئی؟''
''خوشی تو بہت زیادہ ہے لیکن ایک بات سوچ کر پریشان ہو رہے ہیں…'' ان جلی نے کہا۔
''کون سی بات…؟'' انکل مارچلے نے حیرت سے پوچھا۔
''یہی کہ اگر ہمارے والدین نے اجازت نہ دی تو ہم زمین کی سیر کیسے کریںگے…'' مارچلی نے کہا۔
انکل مارچلے مسکرائے اور بولے:
''آپ لوگ فکر نہ کریں۔ میں مسٹر دھوپ جلے اور مسٹر ان چلے سے بات کر لوں گا۔ آپ کل شام کے وقت تیار رہیے گا''
انکل مارچلے اتنا کہہ کر اپنی اڑن طشتری کی طرف بڑھ گئے۔ ان کا سانپ ایک طرف بھاگنے لگا۔ اس کی رفتار زمین کی کسی ریل گاڑی جیسی تھی۔ دونوں دوست مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ انکل مارچلے اور سانپ کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی انہوں نے اپنی اڑن طشتریاں زمین پر رکھیں اور پھر وہ اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے…'' دادا جان یہاں تک آ کر، پھر خاموش ہو گئے۔
کہانی گھر میں موجود بچوں نے بے چینی سے پہلو بدلے۔ والدین کے چہروں پر مسکراہٹیں رقص کر رہی تھیں۔ ایک تو یہاں آنے والے والدین مسکراتے بہت ہیں۔ چاہے ضرورت ہو یانہ ہو… بچوں کی بے چینی کو محسوس کر کے، دادا جان نے دوبارہ کہنا شروع کیا:
''اپنی اڑن طشتریاں ایک بہت گھنے جنگل میں چھپا کر وہ تینوں اپنے چہروں پر، زمینی انسانوں کے چہروں جیسے، خول چڑھا کر، آبادی میں چلے آئے۔ یہاں وہ لوگوں سے ملے۔ ان سے باتیں کرتے تھے۔ ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کرتے۔ پیارے بچو! مریخ کی مخلوق زمین کے انسانوں سے مل کربہت خوش ہوئی۔ خوشی کے ساتھ ساتھ پریشان بھی بہت تھی۔ انسانوں کے نہ حل ہونے والے مسائل ان کی روحوں کو زخمی کرتے تھے۔ یہ چھ دن ادھر کی بات ہے جب وہ ایک وادی میں، ایک چھوٹے سے بچے سے بات کر رہے تھے۔ یہ بچہ اسکول سے پڑھ کر اپنے گھر جا رہا تھا۔ اس کا صحت مند بستہ خلائی بچوں کے لیے اچنبے کی بات تھی۔
''بیٹے! اس بستی میں جتنی کتابیں ہیں، کیا آپ پڑھ لیں گے…؟'' انکل مارچلے نے حیرت سے پوچھا۔
بچے نے گھور کر ان کی طرف دیکھا، پھر قدرے خفگی سے بولا:
'' آپ مجھے کسی دوسرے سیارے کی مخلوق لگتے ہیں…''
تینوں نے گھبرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر ان جلی نے پوچھا:
''آپ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟''
''زمین کے لوگوں کو معلوم ہے کہ بچوں کے ایسے ہی بستے ہوتے ہیں۔ کتابیں بچوں کو یاد ہوں نہ ہوں لیکن ان کے بستوں کی صحت عمدہ رہنی چاہیے۔ بھائی! ہمارا نظام تعلیم ہی ایسا ہے۔ ہم بچے تو مجبور ہیں۔ کچھ نہیں کر سکتے…'' بچے نے بات کے آخر میں کندھے ہلائے۔
تینوں وہاں سے ہٹ کر، گھنے درختوں کے نیچے جا بیٹھے۔ مارچلی نے کہا:
''انکل! ہمارے خول بیکار ہونے والے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو کیا ہو گا؟''
''ہونا کیا ہے ۔ ہم اپنی اصلی حالت میں یہاں رہیں گے…'' انکل مارچلے نے کہا۔ اس کا دھیان ابھی تک اس بچے کی طرف تھا۔ جو کتابوں کے بوجھ سے قریباً جھکا ہوا تھا۔
پیارے بچو! چند لمحوں بعد ان کے خول ختم ہو گئے۔ اب وہ اپنے اصلی چہروں کے ساتھ تھے۔ ایسے چہرے جو دنیا والوں کے لیے عجیب اور خوفناک تھے۔ تینوں وہاں سے اُٹھے اور گھومتے، پھرتے شہر میں چلے گئے۔ شہر میں جاتے ہی وہ پریشان ہو گئے۔ لوگ انہیں دیکھ کر، چیختے، چلاتے بھاگ جاتے تھے۔ گاڑیوں والی اپنی گاڑیاں بھگالے جاتے تھے۔ بعض لوگ تو خوف سے بے ہوش گئے تھے۔ پھر ایک مصروف شاہراہ پر موجود تھے لیکن وہ شاہراہ اب مصروف نہیں تھی کسی ویران قبرستان کا سا منظر پیش کر رہی تھی۔ تینوں سخت حیران اور پریشان تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ لوگ ان سے خوفزدہ کیوں ہیں۔ انہیں اندازہ تو تھا کہ ان کے چہرے یہاں کے لوگوں کو ڈرا دیں گے لیکن اتنی شدت… انہوں نے سوچا نہیں تھا۔
ہر طرف شور تھا کہ خلائی مخلوق آ گئی… خلائی مخلوق آ گئی…
پیارے بچو! معلوم ہے پھر کیا ہوا؟ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں فوجی ٹرک آ رکے۔ اعلیٰ حکام وہاں آ دھمکے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ خلائی مخلوق ان کے ملک پر قبضہ جمانے آئی ہے۔ اس لیے جدید ترین ہتھیار اپنے ہمراہ لائے گئے تھے۔ انکل مارچلے، ان جلی اور مارچلی، تینوں حیرت سے کھڑے تھے اور لوگوں کو دیکھ رہے تھے۔ عجب صورتِ حال تھی اچانک ایک زوردار آواز گونجی:
''اے مخلوق! اگر آپ یہاں قبضے کے لئے آئی ہیں تو شرافت سے لوٹ جا اور اگر ویسے ہی آئی ہیں تو ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ ہمارے معزز مہمان ہوں گے…''
بولنے والا جو منہ میں آ رہا تھا، کہہ رہا تھا۔
انکل مارچلے نے کلائی پر موجود گھڑی پر نگاہ ڈالی، پھر چونکتے ہوئے بولے:
''اے زمینی لوگو! ہم مریخ سے آئے تھے۔ زمین کی سیر کے لیے۔ لیکن ہمارا واپسی کا وقت ہو رہا ہے۔ اس لیے آپ ہمیں جانے دیں…''
لوگوں نے حیرت سے ان کی بات سنی۔ انکل مارچلے نے ان جلی اور مارچلی کو اشارہ کیا۔ تینوں بھاگے اور پھر چند لمحوں میں، لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
دادا جان کہانی ختم کر چکے تھے… ہال میں موجود بچوں نے زوردار تالیوں سے انہیں داد دی۔

