🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
ہیولا   ( پہلا حصہ)

ہیولا ( پہلا حصہ)

نوشاد عادل
نوشاد عادل
26 جون، 2026۲۴ مرتبہ پڑھی گئی

ہیولا ( پہلا حصہ) سنیں

''بول نا... جلدی بول... ٹیم نہیں ہے میرے پاس... دیکھتا نئیں… کام میں پھنسا ہوا ہوں... یہ اوپر نیچے کی باتیں چھوڑ... جس مقصد سے آیا ہے، وہ بول...'' سیٹھ کمال نے جھنجلائے ہوئے لہجے میں کہا۔ اس کی آواز قدرتی طور پر پھٹی پھٹی سی تھی، جو سننے والوں کی سماعت پر گراں اور طبیعت پر ناگوار گزرتی۔ حقیقی معنوں میں سیٹھ کمال کی آواز سماع خراشی کا سبب بنتی تھی۔

اس کے سامنے کمپنی کا ملازم کھڑا تھا۔ اس کا کام کمپنی کی چھوٹی موٹی مینٹی نینس سوئپرز اور پیونز سے کام لینا تھا۔ وہ قدرے ہچکچاتے ہوئے بولا۔''اصل میں سیٹھ صاحب! بات... دراصل یہ ہے کہ...''

''اصل اصل ہی کرتا رہے گا... میرا ٹیم برباد مت کر... سیدھی طرح بول... ورنہ نکل... چل...'' سیٹھ نے بات کاٹ کر کاٹ کھانے والے انداز میں کہا۔

''وہ سیٹھ صاحب! سب سوئپرز اور پیونز بول رہے ہیں کہ اُن کی تنخواہیں کم بڑھائی ہیں... سب کے بیس بیس فی صد انکری منٹس لگے ہیں اور انھیں صرف پانچ فی صد دیے گئے ہیں۔'' ملازم فرفر بولنے لگا۔

''تو کیا کروں... بھنگیوں کی تنکھائیں دو دو لاکھ کر دوں؟'' سیٹھ کمال کی آواز بلند ہو گئی۔

''سیٹھ صاحب! بس دیکھ لیں... تھوڑا بہت اضافہ مزید ہو جائے تو وہ خوش ہو جائیں گے... ورنہ بے دلی سے کام کرتے رہیں گے اور پھر چھٹیاں بھی زیادہ کریں گے۔'' ملازم نے سفارش کرتے ہوئے وجوہات بیان کیں۔

''چل چل... ٹھیک ہے... دیکھتا ہوں میں... بعد میں بتا دوں گا... اب جا تُو... جا کے اُن کو اپنی طرف سے تسلی دے... جا۔'' سیٹھ کمال نے ہاتھ ہلاتے ہوئے اُسے جانے کا اشارہ کیا۔

ملازم شکریہ کہہ کر باہر نکل گیا۔ اس کے باہر جانے کے بعد کمال سیٹھ نے ٹیبل پر رکھا ہوا گلاس اُٹھایا اور ایک شیشی میں سے ٹیبلٹس نکال کر منہ میں ڈالیں۔ پھر غٹاغٹ پانی پینے لگا۔

معاً اُس کی نظر اپنے اُلٹے ہاتھ کی جانب پڑی۔ اس کے ہاتھ سے گلاس گرتے گرتے بچا۔ بانچھوں سے تھوڑا پانی نکل کر کپڑوں پر گر گیا۔ اُس کے ایک دم بوکھلانے کی وجہ وہ شخص تھا ،جو بائیں طرف رکھے ہوئے بڑے صوفے پر بے پروایانہ انداز میں نیم دراز تھا اور شوخ نظروں سے سیٹھ کمال کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا حلیہ عجیب اور پُراسرار سا تھا۔ اس نے بڑا سا سیاہ لبادہ پہنا ہوا تھا، جس سے ہُڈ بھی منسلک تھا۔ اس سے بڑھ کر اس کا چہرہ عجیب تھا۔ نہایت کالا اور پورے چہرے پر چیچک کے بے شمار بدنما داغ تھے۔ اس عالم میں اس کے گندے پیلے دانت بدصورتی اور کراہیت میں اضافہ کر رہے تھے۔

سیٹھ کمال کے چونکنے اور پھر حیران ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ بند کمرے میں یہ شخص کہاں سے آگیا۔ کمپنی میں کسی کی بھی مجال نہ تھی کہ بغیر اجازت اندر داخل ہو سکتا، جب کہ وہ شخص داخل ہی نہیں ہوا ،بل کہ اس کے سامنے بڑے اطمینان سے صوفے پر نیم دراز تھا۔

پھر سیٹھ کمال کی حیرت فوراً غصے میں تبدیل ہو گئی ۔اس نے برہمی کا اظہار کیا:''ابے...کون ہے تُو... اِدھر سیٹ کمال کے اوفس میں بگیر اجاجت کیسے آگیا... کدر سے آیا ہے تُو... اوپر سے تو نئیں ٹپکا؟''

سیٹھ کی بات پر وہ بدشکل آدمی سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

''مجھے اپنا خیراندیش سمجھو۔' اس شخص کی آواز بھی کُھردری سی تھی ،مگر لہجہ دوستانہ اور نرم تھا۔

''کھیراندیش... کاہے کا کھیراندیش...'' سیٹھ کا لہجہ بدستور بگڑا ہوا تھا۔''اور تُو ہے کون... کیسے گھس آیا اِدر... مکھی بن کر آیا ہے کیا؟''

''میں کہیں بھی آسکتا ہوں... مجھے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔'' سیاہ آدمی آگے بڑھا اور سیٹھ کے سامنے ایک کرسی پر بڑے اطمینان سے براجمان ہو گیا۔

سیٹھ نے بھنّا کر اِنٹرکام کی طرف ہاتھ بڑھایا۔سیاہ رو شخص نے حیران کن پھرتی سے اِنٹرکام کے ریسیور پر ہاتھ رکھ دیا۔

''میری بات کا یقین کرو سیٹھ! فائدے میں رہو گے۔'' اُس نے سیٹھ کی آنکھوں میں جھانکا۔ ناجانے اُس کی آنکھوں میں کیا اثر تھا کہ سیٹھ کمال ڈھیلے سے انداز میں کرسی سے پشت لگا کر بیٹھ گیا۔''بول... کیا پھائدے کی بات ہے؟''

''ابھی جو تمھارا ملازم آیا تھا... بھنگیوں اور چپڑاسیوں کی تنخواہیں بڑھوانے کے لیے، کیا حاصل ہو گا تمھیں اس سے؟ کوئی ضرورت نہیں ہے تنخواہ بڑھانے کی... اگر بڑھا دی تو کل دُوسرے بھی آجائیں گے... پھر کیا کرو گے؟''

''سب کی تو مر کے بی نئیں بڑاؤں گا۔''

''اگر ایک بار دروازہ کھول دیا توباقی لوگوں کی بھی ہمت بڑھ جائے گی۔''

''لیکن بات نہیں مانوں گا تو لوگ کام ٹھیک سے نئیں کرتے... ہڈحرامی کرتے ہیں... چھٹیاں کرنے لگتے ہیں جیادہ۔'' سیٹھ نے مجبوری بیان کی۔

''یعنی، بلیک میل کرتے ہیں؟'' سیاہ رو مسکرانے لگا۔

''بس ایسا ہی سمج۔'' سیٹھ کمال نے تسلیم کیا۔

''کیوں ہوتے ہو... مت مانو اُن کی بات۔''

''بابا…تو وہ نوکری چھوڑ دیں گے۔''

''اُن کے نوکری چھوڑنے سے پہلے تم خود انھیں نکال باہر کرو... اس طرح باقیوں کو بھی نصیحت ہو گی... ان سے آدھی تنخواہ پر اور بہت سارے لوگ آجائیں گے... بے روزگاروں سے ملک بھرا ہوا ہے۔''

اس کی بات پر سیٹھ کمال سوچنے پر مجبور ہو گیا اور پھر سر ہلاتے ہوئے بولا:''بات تیری سولہ آنے درست ہے... وجن ہے اس میں۔''

''ان ٹکے ٹکے کے لوگوں سے اتنا بڑا سیٹھ بلیک میل ہوگا ... یہ تو شرم کا مقام ہے۔'' سیاہ رو نے کہا۔

''نئیں... میں بلیک میل نئیں ہوتا کسی سے... میں پاگل نئیں ہوں... وہ تو بس... میں اِن کا کھیال کر لیتا ہوں تھوڑا۔'' سیٹھ نے منہ بنا کر کہا۔

''بس اب ہوشیاری پکڑو... اور ذرا سختی دکھاؤ... جو بھی احتجاج کرے... کھڑے کھڑے باہر کر دو اُسے۔'' سیاہ رو نے ناصحانہ انداز میں کہا۔ پھر وہ کھڑا ہو گیا۔''اب میں چلتا ہوں... اور ہاں...'' اُس نے انگلی اُٹھاتے ہوئے تاکید کی۔''میرے بارے میں کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے... بتایا …تو میں پھر نہیں آؤں گا... مجھ سے تمھیں بہت فائدہ ملے گا... یہ یاد رکھنا۔''

سیٹھ اُسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ دیوار کی طرف بڑھا۔ سیٹھ کچھ بولنے لگا کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ سیٹھ کمال سٹ پٹائی نظروں سے اس جانب دیکھتا رہ گیا۔

…٭……٭…

اس کے بعد وہ سیاہ ہیولا سیٹھ کمال کا دوست اور خیرخواہ بن گیا۔ وہ روز سیٹھ کمال کے پاس آنے لگا، حتیٰ کہ وہ گھر میں بھی ظاہر ہو جاتا۔ پہلے جو کام سیٹھ کمال قانونی اور جائز طریقے سے کرتا تھا، اب وہ ہیولے کے کہنے میں آکر غیرقانونی اور ناجائز طریقوں سے سرانجام دینے لگا۔

انکم ٹیکس، بجلی، پانی اور گیس کے بل جو پہلے ایمان داری سے ادا کیے جاتے تھے۔ اب ہیولے کی ہدایت پر غیرقانونی طریقے سے آدھے بھرے جانے لگے۔ بجلی چوری کی جانے لگی اور لائن مین کو رشوت دے دی جاتی۔ اِن تمام طریقوں سے سیٹھ کمال کو ہر ماہ لاکھوں روپے بچت ہونے لگی۔ وہ خوش ہو گیاتھا اور یقین ہو گیا کہ سیاہ ہیولا اس کا خیرخواہ ہے۔

''اب ایک کام اور کرو۔'' ہیولے نے ایک روز کہا۔

''کیا کام... بول؟'' سیٹھ کمال نے پوچھا۔

''کمپنی کے جتنے بھی پرانے ملازم ہیں، اُنھیں فارغ کر دو... اب تک ان لوگوں کی تنخواہیں کام کے مقابلے میں چار گنا ہو چکی ہیں۔'' ہیولے نے بتایا۔

''تو پھر یہ کمپنی کیسے چلے گی؟''

''نئے لوگ رکھ لو... بہت مل جائیں گے... مگر پرانوں سے آدھی تنخواہ پر۔'' ہیولے نے شاطرانہ لہجے میں تجویز دی۔

سیٹھ کمال ایک دم خوش ہو گیا۔ ''ہاں یہ تو ہے۔''

پھر سیٹھ نے ایسا ہی کیا۔ پرانے ملازمین کو بغیر کسی وجہ کھڑے کھڑے چلتا کر دیا۔ وہ بے چارے احتجاج کرتے رہ گئے، مگر ان کی ایک نہ سنی گئی۔ایک بوڑھا ملازم سیٹھ کمال کے سامنے رونے لگا۔

''صاحب! ایسا ظلم نہ کریں... میں اس بڑھاپے میں کہاں نوکری ڈھونڈتا پھروں گا... اسی ملازمت سے میرا گھر چلتا ہے... رحم کریں صاحب!''

اُدھر ہی ہیولا بھی کھڑا یہ تماشا دیکھ رہا تھا۔ سیٹھ نے ہیولے سے پوچھا:''بول... کیا کروں اس کا؟''

وہ بوڑھا ملازم حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا، کیوں کہ ہیولا اُسے نظر نہیں آ رہا تھا۔

''چھٹی... ڈرامے کر رہا ہے یہ۔'' ہیولے نے کہا۔

''ابے... چھٹی... چھٹی کر... بس بول دیامیں نے … پھورن نکل۔'' سیٹھ نے چٹکی بجا کر بوڑھے سے کہا۔

بوڑھا روتا پیٹتا چلا گیا... تمام پرانے ملازمین روتے اور بددُعائیں دیتے ہوئے چلے گئے۔ سیٹھ کمال کو کسی کی پروا نہ تھی۔ اس نے آدھے پیسوں پر نئے ملازمین رکھ لیے۔

گھر میں بھی سیٹھ کمال کے بہت سے ملازم تھے۔ ایک دن سیٹھ کی بیگم کا قیمتی موبائل گم ہو گیا۔ اس نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ سیٹھ کمال نے تمام ملازمین کو لائن میں کھڑا دیا۔ ہیولا بھی اس کے ساتھ تھا۔

''کس نے چرایا ہے موبائل... بتاؤ؟ ورنہ سب کو پولیس کے حوالے کر دوں گا۔'' سیٹھ غصے سے چلّا رہا تھا۔

نوشاد عادل

لکھاری

نوشاد عادل

جناب نوشاد عادل ایک کمال لکھاری اور انسان ہیں ، بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہیں۔ بہت سی کتابی لکھ چکے ہیں ، کئی رسالوں کے مدیر ہیں۔ آگ کا بیٹا ناول کے ہزاروں صفحات لکھ چکے ہیں ، اس کے علاوہ بھی بے