🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
تم پھر جیت گئے!

تم پھر جیت گئے!

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
23 جون، 2026۲۳ مرتبہ پڑھی گئی

تم پھر جیت گئے! سنیں

شام کا وقت تھا۔ بڑی خوشگوار ہوا چل رہی تھی۔ نیشنل پارک کا ایک ایک حصہ قابل دید تھا۔ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ یہاں ہر وقت لوگوں کا تانتا بندھا رہتا۔ نہ صرف ملکی بلکہ غیرملکی لوگوں کی ایک کثیر تعداد یہاں ہر وقت موجود رہتی۔ وہ دونوں اپنی شامیں اکثر یہیں گزارتے تھے۔ وہ اچھے دوست تھے۔ ایک ہی محلے میںرہتے، ایک جماعت پڑھتے تھے۔ اور بچوں کی طرح، وہ شرارتی نہیں تھے بلکہ ہر وقت سنجیدہ اور کچھ نہ کچھ سوچتے رہتے۔ ٹھیک ہے، ہمہ وقت کی فکر صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتی لیکن یہ ان کی عادت تھی اور لاکھ کوشش کے باوجود وہ اپنی اس عادت سے جان نہیں چھڑا سکے تھے۔ آج بھی وہ نیشنل پارک کے ایک بے حد خوبصورت حصے میں موجود تھے۔ ان کے بینچ کے عین سامنے رنگا رنگ پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ خوبصورت پھول آنکھوں کو طراوت بخش رہے تھے۔ فہد رسول دور، اونچے اونچے درختوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جبکہ اشرف کی نگاہیں پھولوں پر ٹکی تھیں۔ دفعتاً اس نے فہد رسول کی طرف دیکھا، کھنکار کر، اسے اپنی طرف متوجہ کیا اور بولا:

''کچھ اندازہ ہوا، مہر الطاف صبح کیا سوال کریںگے…؟''

جواب میںفہد رسول دھیرے سے مسکرایا، بولا:

''ناکامی!!''

''میں بھی کچھ اندازہ نہیں کر سکتا ہوں…'' اشرف کے لبوں پر بھی مسکراہٹ تھی۔

''گذشتہ جمعرات انہوں نے بڑا زبردست سوال پوچھا تھا۔ پوری کلاس میں سے کوئی ایک لڑکا بھی ایسا نہیں تھا جو ان کے سوال کا جواب دے سکتا…''

''ہاں، ویسے، یہ سر الطاف اتنے مشکل سوال کہاں سے تلاش کرتے ہیں؟''

''اﷲ ہی جانتا ہے۔ میںتو اتنا جانتا ہوں کہ ان جیسے استاد، بہت کم ہوتے ہیں''

''تم ٹھیک کہتے ہو پہلی بار تو کسی استاد کوبھی ان کے سوال کا جواب نہیں آتا تھا۔ کسے معلوم تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی چیز ''عقل'' ہے اور وہ غم کھاتی ہے''۔ اشرف نے کہا ۔

بات یہ تھی کہ ان کے اردو کے استاد، سر الطاف ہر جمعرات کو بزمِ ادب کے پیریڈ میں، کلاس سے ایک سوال پوچھا کرتے تھے۔ جو لڑکا جواب دیتا، اسے اپنی جیب سے دس روپے بطور انعام دیتے۔ ان کی عادت تھی کہ روٹین سے ہٹ کر، اپنی کلاس کی تربیت، مختلف طریقوں ، مختلف بہانوں سے کرتے تھے۔ فہد رسول اور اشرف کل پوچھے جانے والے سوال کے متعلق اندازے لگانے میں مگن تھے۔ دونوں بہت ذہین تھے اور اکثر پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات یہی دونوں دیتے تھے۔

فہد رسول بولا:

''چھوڑو، یار! صبح دیکھا جائے گا…''

''تمہار امطلب ہے۔ دوڑ لگائی جائے!'' اشرف نے کہا۔

''ہاں، اور سن لو، آج میں تمہیں جیتنے نہیں دوں گا…'' فہد رسول نے ہنس کر کہا۔

''دوڑ بے شک تم جیت لو مگر صبح والے سوال کا جواب میں ہی دوں گا…'' اشرف بھی مسکرایا۔

''تم دعوے سے کیسے کہہ سکتے ہو؟''

''دعویٰ نہیں، میرا خیال ہے…''

''خیر، دیکھا جائے گا… فی الحال تو دوڑ کے لیے تیار ہو جائو…'' فہد رسول نے کہا اور پھر دونوں دوڑ لگانے کے لیے تیار ہو گئے۔

سر الطاف کے چہرے پر مخصوص مسکراہٹ تھی۔ پوری کلاس یوں خاموش تھی، جیسے 'گونگی' ہو۔ فہد رسول اور اشرف کی بے چینی عروج پر تھی۔ دیگر لڑکے بھی منتظر تھے کہ کب سر الطاف سوال کرتے ہیں۔سر الطاف سے لڑکوں کی بے قراری پوشیدہ نہیں تھی۔ انہوں نے میز پر موجود ایک خوبصورت پیکٹ اٹھایا اوربولے:

''عزیز طلبائ! یہ انعام اس طالب علم کے لئے ہے کہ جو آج ذمہ لگائے گئے کام کو عمدگی سے انجام دے گا…''

لڑکوں نے جب لفظ 'کام' سنا تو لگے ایک دوسرے کا منہ تکنے۔ یہ پہلی بار ہو رہا تھا ورنہ اس سے قبل تو سر الطاف ان سے کوئی نہ کوئی سوال ہی پوچھا کرتے تھے۔ اشرف اپنی جگہ کھڑا ہوتے ہوئے بولا:

''سر! ہمارا خیال تھا کہ آپ ہمیشہ کی طرح آج بھی کوئی سوال کریں گے لیکن… آپ تو کسی کام کا ذکر کرنے لگے…''

سر الطاف نے اسے اشارے سے بیٹھنے کے لیے کہا، پھر کہنے لگے:

''عزیزو! آج کا سوال، کام بھی ہو گا…''

اکبر بولا:

''سر! آپ ہمارا امتحان لے رہے ہیں!''

''سر! آپ بتائیں کہ وہ سوال، کام کیا ہے؟'' گل احمدنے کہا۔

''سنیے!'' سر الطاف نے کہا۔

''آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں شرح خواندگی کتنی کم ہے۔ پڑھے لکھے جو افراد ہیں ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو محض اپنا نام ہی لکھ سکتے ہیں۔ آپ بہت خوش نصیب ہیں جو اتنے اچھے سکول میںتعلیم حاصل کرتے ہیں ورنہ نجانے کتنے بچے، بچیاں ہیں جو زیور تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ محروم رہ جانے والے یہ بچے، بچیاں آگے چل کر ملک کے جاہل افرد میں زیادتی کا سبب بنتے ہیں۔ ایسے لوگ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے، دوسروں کے محتاج ہو کر رہ جاتے ہیں اور ان کی یہ محتاجی ایک دو دن کے لیے نہیں، ایک دو سال کے لیے بھی نہیں بلکہ یہ محتاجی تو تاحیات ان کے ساتھ رہتی ہے۔

عزیزو! بہت سے ان پڑھ لوگ ایسے ہیں جو تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ذہین بھی بہت تھے لیکن ان کے مالی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ آپ کی طرح سکول جائیں، پڑھ لکھ کر اچھے انسان بنیں۔بعض اوقات ہم وہ کچھ کرنے سے یکسر قاصر رہتے ہیں کہ جن کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہماری لاتعداد خواہش، حسرتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ان پڑھ افراد، جنہیں ہم بڑے شوق سے جاہل کہہ جاتے ہیں، اکثر مالی وسائل کی عدم دستیابی کے باعث پڑھے لکھے افراد سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ان بھائیوں، ان بہنوں کا خیال کریں کہ جو کسی بھی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اپنا خیال رکھنا، اپنی ضرورتیں پوری کرنا، اچھا ہے لیکن دوسروں کی ضرورتیں پوری کرنا اور ان کا خیال رکھنا بہت اچھا ہے۔ بلاشبہ اﷲ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو دوسروں کا خیال رکھتے ہیں۔

عزیز طلبائ! میں آج آپ سے درخواست کروں گا کہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تعلیم دلائیں۔ ان پڑھ افراد ہمارے معاشرے میں اس قدر ہیں کہ تلاش کرنے میں دقت نہیں ہو گی۔ اگر آپ اپنے ان پڑھ دوستوں کو تعلیم نہیں دلا سکتے اپنے وقت کا کچھ حصہ تو ان کے لیے وقف کر سکتے ہیں۔ خود تو تعلیم سے محروم افراد کو پڑھا سکتے ہیں۔ آج مجھ سے وعدہ کریں کہ ان پڑھ ساتھیوں، عزیزوں کو پڑھائیں گے یا ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کریں گے۔ وعدہ کر کے اسے ایفا کریں گے تو یہی وہ کام ہے جو آپ کے ذمہ ہو گا۔ ٹھیک تین ماہ بعد ایک سوال پوچھوں گا کس نے، کتنے لوگوں کو پڑھایا یا پڑھنے میں مدد کی۔ جو سب سے زیادہ لوگوں کو پڑھائے گا، ان کی مدد کرے گا۔ اس انعام کا وہی حقدار ہو گا…''

سرالطاف اپنی بات ختم کر چکے تھے۔ پوری کلاس نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ ضرور یہ نیک کام کریں گے۔ سر الطاف نے ان کے لیے دعا کی۔

تین ماہ بعد بزم ادب کے پیریڈ میں سرالطاف نے کہا:

''ہاں، بھئی! ہر لڑکا اپنی جگہ کھڑا ہو کر اپنے تین ماہ کی رپورٹ دے۔ پوری ایمانداری کے ساتھ…''

اور لڑکے باری باری، کھڑے ہو کر، اپنی کارگزاری بیان کرنے لگے۔ کسی نے کسی کو کتابیں خریدکر دیں تو کسی نے کسی کو فیس سے آزادی دی یعنی خود فیس ادا کرتا رہا۔ سرالطاف نے سب کی باتیں پوری توجہ سے سنیں۔ آخر میںفہد رسول اور اشرف رہ گئے۔ تمام لڑکوں کی طرح سر الطاف بھی خیال رکھتے تھے کہ انہوں نے کوئی زبردست کام ہی کیا ہو گا۔ فہد رسول بتانے لگا:

''سر! میں نة ان تین ماہ میں کچھ خاص کام نہیں کیا ہاں، ایک کام شروع ضرور کر دیا ہے اور وہ یہ کہ گلی، محلے کے وہ لڑکے جو پڑھنا چاہتے تھے لیکن مالی مجبوریوں کی وجہ سے پڑھ نہیں سکتے۔ ان کے لیے ٹیوشن سنٹر کھول دیا۔ میں اور میرا بڑا بھائی اختر رسول ایسے لڑکوں کو پڑھا رہے ہیں۔ ہم ان سے کوئی فیس نہیں لیتے بلکہ مقدور بھر ان کی مدد کرتے ہیں۔ کتابوں، کاپیوں اور دیگر اشیاء کے لیے انہیں رقم فراہم کرتے ہیں۔ یہ رقم ہم ان لڑکوں سے حاصل کرتے ہیں جو اچھی ٹیوشن فیس برداشت کر سکتے ہیں۔ ہم بھائیوں نے عہد کیا ہے کہ فروغ تعلیم کے سلسلے میں، اپنا یہ کام، اپنی یہ کوشش ہمیشہ جاری رکھیں گے…''

''واہ بھئی! آپ نے تو بڑا زبردست کام شروع کیا ہے۔ اﷲ آپ کو اس کا اجر ضرور دے گا…'' سر الطاف نے کہا پھر اشرف کی طرف دیکھنے لگے:

''سر! میں نے بہت سوچا کہ فروغ تعلیم کے سلسلے میں کیا کر سکتا ہوں؟ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ پہلے دو ہفتے تو میں سوچتا ہی رہا مگر پھر جو خیال ذہن میں آیا۔ میں اس سے بہت مطمئن تھا۔ اپنے خیال کو عملی شکل دینے کے لیے میں نے اپنی بڑی باجی سے بات کی۔ میری بات سن کر وہ فوراً مدد پر آمادہ ہو گئیں اور پھر ہم نے مل کر اپنے خیال کو عملی شکل دے دی۔ اﷲ کا شکر ہے گذشتہ نو ہفتوں سے ہمارا کام جاری ہے…'' اشرف خاموش ہو گیا۔

سر الطاف نے مسکراتے ہوئے پوچھا:

''آپ کا کام یقینا بہت عمدہ ہو گا۔ اب ذرا جلدی سے وضاحت کرو کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟''

اشرف نے کہنا شروع کیا:

''سر! میں نے سوچا کہ کوئی ایسا طریقہ ہو کہ محنت کم اور نتائج زبردست ہوں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں گڑ کم ڈالنا چاہتا تھا اور مٹھاس بہت زیادہ حاصل کرنے کی فکر میں تھا۔ سر! میں نے سوچا کہ لڑکے کو تعلیم دلانا یا تعلیمی اخراجات کے سلسلے میں اس کی مدد کرنا، بلاشبہ زبردست کام ہے لیکن ایک لڑکی کو تعلیم دلانا، تعلیمی اخراجات کے سلسلے میں اس کی مدد کرنا بہت ہی زبردست ہے اور یہی وجہ طریقہ ہے کہ جس کی بدولت کم محنت، کم اخراجات میں ہم بہت سے لوگوں کو پڑھا سکتے ہیں۔ سر! لڑکے کی تعلیم، ایک فرد کی تعلیم ہے جبکہ ایک لڑکی کی تعلیم ایک نسل کی تعلیم اور تربیت ہو گی۔ ماں اگر پڑھی لکھی ہو گی تو پورا خاندان پڑھا لکھا ہو سکتا ہے۔ باقی سر! کیا عرض کروں۔ آپ سوچ سکتے ہیں اور میرے یہ ہم مکتب دوست بھی…'' اشرف چپ ہو گیا۔

''ہونہہ! گویا آپ ایک لڑکی کو پڑھا رہے ہیں یا اس کی مدد کر رہے ہیں…؟''

''نہیں سر! میں ایک لڑکی کو نہیں بلکہ اپنی بہن کی مدد سے، دس لڑکیوں کو پڑھا رہا ہوں، دس نسلوں کو پڑھا رہا ہوں…'' اشرف نے جلدی سے کہا۔

سر الطاف اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ ان کے چہرے پر جوش لہریں لے رہا تھا، بولے:

''بے شک، آپ دس نسلوں کو پڑھا رہی ہیں۔ مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ میرے شاگرد نہ صرف تابعدار ہیں بلکہ ذہین بھی بہت ہیں۔ یہ لیں، آپ کا انعام۔ یقینا یہ اس قابل ہی ہے کہ آپ کے پاس جائے…'' سر الطاف نے خوبصورت پیکٹ اشرف کو پکڑا دیا۔ فہد رسول کے لبوں پر موجود مسکراہٹ، اشرف سے یہ کہتی معلوم ہو رہی تھی:

''تم نے اپنے نام کی طرح، اشر ف کام کیا اور میں ایک بار پھر ہار گیاہوں…''

عبدالرشید فاروقی

لکھاری

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام