''ارے ! میری لالی کہاں چلی گئی؟''
اماں نوراں کمرے سے نکل کر جیسے ہی کچے صحن میں آئیں، حیرت سے اُچھل پڑیں ، بالی، کالی اور چوہدری بڑے مزے سے دانا کھانے میں مگن تھے جب کہ لالی غائب تھی۔ اُنھوں نے اِدھر اُدھر دیکھا، لیکن لالی اُنہیں کہیں دکھائی نہ دی۔ وہ سر پکڑ کر چارپائی پر بیٹھ گئیں۔
کچھ عرصہ پہلے بھی اُن کی دو مرغیاں غائب ہوگئی تھیں۔ اُنھوں نے بہت تلاش کیں لیکن مرغیاں نہ ملیں۔اُنھیں چرانے والا بہت چالاک تھا۔ وہ کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا تھا۔ لالی مرغی سے اُنہیں بہت پیار تھا۔ شاید اس لیے کہ وہ دوسری مرغیوں سے زیادہ بڑا انڈا دیتی تھی۔ وہ تھی بھی بہت خوب صورت۔
اماں نوراں اکیلی رہتی تھیں۔ اُن کے میاں عرصہ ہوا اللہ کو پیارے ہوگئے تھے۔ بچے اُن کے تھے نہیں،وہ مرغیوں کو اولاد کی طرح عزیز رکھتی تھیں ۔
''اِس بار میں آرام سے نہیں بیٹھوں گی، اپنی لالی کو ضرور تلاش کروں گی ۔اُسے جس نے بھی میرے صحن سے چرایا ہے، اُس کی شامت ضرور لائوں گی۔ اے اللہ! میری مدد کرنا۔'' اُنھوں نے کہا اور چادر دُرست کرتیں،آنکھوں میں آنسو لیے گھر سے نکل گئیں۔
''اماں ! کہاں جا رہی ہیں اور یہ آپ کی آنکھوں میں آنسو کیسے، خیریت تو ہے۔'' وہ اشرف تھا۔ اشرف کریانہ سٹور کا مالک۔ اماں نوراں کے گھر اور اُس کی دُکان کے درمیان بس ایک سڑک ہی تھی۔
''اشرف میاں! کیا بتائوں، آج پھر میری ایک مرغی چوری ہوگئی ہے، لالی مجھے کتنی عزیز تھی، تم سے بہتر کون جانتا ہے۔''
''اوہ، یہ تو بہت بُرا ہوا۔ لالی تو بہت ہی پیاری اور خوب صورت مرغی تھی۔ وہ مجھے بہت پسند تھی، میں اُسے خریدنا چاہتا تھا لیکن آپ نے مجھے دی نہیں۔'' اشرف نے کہا۔
''میری کوئی اولاد نہیں، میں اپنی مرغیوں کو اولاد کی طرح عزیز رکھتی ہوں، لیکن کوئی ظالم ایسا ہے جو میری اولاد کو چوری کر لیتا ہے، لیکن اس بار میں نے سوچ لیا ہے کہ لالی کو چرانے والے کو ضرور بے نقاب کروں گی، ان شاء اللہ۔''
''آپ نے پچھلی بار بھی بہت کوشش کی تھی لیکن چور کو پکڑ نہ سکیں، اِس باریہ کام اُنہیں سونپ دیں۔'' اشرف نے کہا۔ اُس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
''کن کی بات کر رہے ہو اشرف میاں۔''
''وہ تین دوست… مانی ، شانی اور دانی۔''
''یہ کون ہیں؟'' اُنھوں نے حیرت سے پوچھا۔
''وہ تین ہوشیار لڑکے ہیں۔ تھوڑے دن ہوئے، اُن کے نام سامنے آئے ہیں۔ وہ لوگوں کے چھوٹے موٹے مسئلے حل کرتے ہیں۔ کونسلر والی گلی میں رہتے ہیں۔ بڑے سمجھ دار اور ذہین ہیں۔ ''
''اچھا…وہ کب ملیں گے؟''
''صبح کے وقت تو مدرسے میں ہوتے ہیں، اِس وقت مل جائیں گے۔ آپ کو اُن سے ضرور ملنا چاہیے۔ خیر ہوجائے گی، ان شاء اللہ۔''
''ٹھیک ہے، میں اُن کے پاس جاتی ہوں، تمھارابہت شکریہ اشرف میاں۔'' اُنھوں نے کہا اور کونسلر والی گلی کی طرف جانے لگیں۔
O
'' تم نے انکل اشتیاق احمد کا یہ ناول پڑھا ہے؟'' مانی کے ہاتھ میں ایک ناول تھا۔
''کون سا؟'' دانی نے جلدی سے پوچھا۔
''رے راٹا۔''
'' ہاں، پڑھا ہے۔ انکل! جیسے ناول کون لکھ سکتا ہے بھلا، میں تو اُ ن کا دیوانہ ہوںاُن کے ناولوںسے میں نے بہت اچھی اچھی باتیں سیکھی ہیں ۔'' دانی نے کہا۔
'' جاسوسی اور سراغ رسانی بھی…'' مانی ہنسا۔
''ہاں! اور ہم نے یہ دفتر شوکی برادرز کی طرز پر بنایا ہے، وہ بڑے لوگ تھے اور بڑے بڑے کیس حل کرتے تھے اور ہم ہیں چھوٹے اور چھوٹے چھوٹے کیس ہی حل کر سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے حکم سے۔'' دانی مسکرایا۔
''بھائی!فارغ وقت میں لوگوں کی خدمت کرنا، ہم نے اُنھی سے سیکھا ہے۔ ''
''اللہ کریم، انکل اشتیاق احمد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کریں۔''
''آمین۔'' تینوں کے منھ سے ایک ساتھ نکلا۔
''آمین…''
چوتھی آواز سن کر اُنھوں نے چونک کر ڈرائنگ روم کے بیرونی دروازے کی طرف دیکھا۔ ایک اماںدروازے میں کھڑی تھیں:
''بچو!کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟''
اُنھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، پھر وہ ایک ساتھ بول اُٹھے:
''آئیے آئیے اماں جی۔''
وہ ایک خالی کرسی پر بیٹھ گئیں تو شانی نے پوچھا:
''اماں جی! خیریت تو ہے، آپ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا، کہاں سے آئی ہیں اور ہم سے کیا کام ہے؟''
دانی نے مانی کو گھور کر دیکھا ، جیسے کہہ رہا ہو:
''اللہ کے بندے! ایک ہی سانس میں اتنے سوال۔''
''اماں جی! آپ پانی پئیں گی۔'' دانی نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
''نہیں بیٹا،مجھے پانی کی طلب نہیں ہے۔'' اُنھوں نے کہا ۔ وہ بڑے غورسے اُنہیں دیکھ رہی تھیں۔
''اماں جی! کیا بات ہے، آپ ہمیں ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں… کوئی غلطی ہوگئی ہم سے۔'' شانی نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔
''لوگ مجھے اماں نوراں کہتے ہیں، میری لالی چوری ہوگئی ہے۔'' اُنھوں نے یک دم کہا تو تینوں اُچھل پڑے:
''کیا مطلب! آپ کی بیٹی، لالی چوری ہوگئی ہے!''
''لالی میری بیٹی نہیں، مرغی ہے۔ بالی، کالی، لالی اور چوہدری صحن میں دانا کھا رہے تھے۔ لالی کو کسی نے چرا لیا ہے، کیا تم میری کوئی مدد کر سکتے ہو؟'' اماں نوراں نے کہا۔
''آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ لالی کو کسی نے چرا لیا ہے۔ وہ کسی پڑوسی کے گھر بھی تو جا سکتی ہے، عام طور پر مرغیاں ہمسائیوں کے گھروں میں چلی جاتی ہیں،کچھ واپس آجاتی ہیں اور کچھ ہمسائیوں کے پیٹوں میں ۔'' دانی مسکرایا۔
''میرے ہمسائے بہت اچھے ہیں، مجھے اُن سے کبھی شکایت نہیں رہی۔لڑکو! میری مرغیاں گھر سے باہر نہیں جاتیں، میرے گھر کا صحن کچا اور کھلا ہے، وہ سارا دن وہیں پھرتی رہتی ہیں، پھر میں اُن کے کھانے پینے کا پورا پورا خیال رکھتی ہوں۔میں آج کمرے میں ، کچھ گھنٹوں سے کسی کام میں مصروف تھی، فارغ ہو کر باہر نکلی تو لالی غائب تھی۔''
''کیا اِس سے پہلے بھی آپ کی کوئی مرغی چوری ہوئی تھی؟'' مانی نے سوال کیا۔
''ہاں! دو مرغیاں اِس سے پہلے بھی چوری ہوئی تھیں۔اشرف بتا رہا تھا، تم لوگوںکی مددکرتے ہو۔'' اماں نوراں نے کہا۔
''ایسا ہی ہے، ہم لوگوں کے کام آنے کی کوشش کرتے ہیں اماں جی، آپ بے فکر ہو کر گھر جائیں۔ہم کچھ لوگوں سے مل کر تھوڑی دیر میں وہیں آتے ہیں۔''
''ٹھیک ہے۔'' اماں نوراں اُٹھ کھڑی ہوئیں۔
O
ایک گھنٹے بعد وہ اماں نوراں کے گھر کے سامنے موجود تھے۔ کچھ بچے اور بڑے بھی وہاں کھڑے تھے۔ اشرف ڈیپ فریزر میں سے جوس کا ڈبہ نکال کر ایک ہٹے کٹے گاہک کو دے رہا تھا۔ اماں نوراںپریشان نظروں سے مانی ، شانی اور دانی کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ جیسے کہہ رہی ہوں، یہ سب کیا ہے؟
''آپ جانتے ہیں،اماں نوراں کی لالی مرغی چوری کرلی گئی ہے، اُن کی مرغیاں پہلے بھی چرائی گئی تھیں لیکن وہ مل کر نہ دیں، لیکن آج ہم نے اُن کا چور پکڑ لیاہے۔'' دانی نے مسکراتے ہوئے کہا تو اماں نوراں جلدی سے بولیں:
''چور پکڑ لیاہے، کہاں ہے چور…؟''
سب کی نگاہیں دانی پر جیسے جم سی گئیں۔ اشرف اِ ن کی طرف متوجہ ہوگیا۔ جوس لینے والا گاہک بھی رُک گیا۔ وہ حیرت بھری نظروں سے ہجوم کو دیکھنے لگا۔
''کیا مطلب! کیا تم نے لالی کا چور پکڑ لیا ہے؟'' ایک چھوٹے سے بچے نے زور سے کہا۔
''ہاں! چور اِس وقت یہیں موجود ہے، ہمارے درمیان۔'' دانی کی بات سن کر سب لگے ایک دوسرے کو دیکھنے۔ اماں نوراں کی حیرت دیکھنے والی تھی۔دانی کہہ رہا تھا:
'' ہم کچھ لوگوں سے ملے، اُن سے سوالات کیے، پھر ایک جگہ ہمیں چوری کا ثبوت مل گیا، مزے کی بات یہ ہوئی کہ اس وقت چور وہاں موجود نہیں تھا، اس لیے وہ ہمیں دیکھ نہ سکا۔ ''
''چوری کا ثبوت، چور کون ہے، تم بتا کیوں نہیں دیتے۔'' ایک بابا جی جھنجھلا اُٹھے۔
''اماں نوراں کی لالی، اُن صاحب نے چوری کی تھی۔'' دانی نے اشرف کے قریب موجود جوس والے کی طرف اشارہ کیا۔
''ارے ، وہ تو گاما قصائی ہے، اماں نوراں کا پڑوسی۔''
''بکواس کر رہا ہے، کون ہے یہ!'' جوس والا چلایا۔
کوئی کچھ نہ بولا۔ سب حیرت سے جوس والے کو دیکھ رہے تھے۔ اُس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔ وہ یکایک پریشان ہوگیا تھا۔
''تم کسی ثبوت کی بات کر رہے تھے ۔ کہاں ہے وہ ثبوت، جس کی بنا پر تم گاما کو چور کہہ رہے ہو!'' اماں نوراں کی عجیب سی حالت ہو رہی تھی۔ اُن کے نزدیک گاما قصائی ایک اچھا آدمی تھا جو کبھی کبھی اُن کے گھر سالن وغیرہ بھیج دیتا تھا۔
''گاما بھائی! آپ کس مرغی کا گوشت بیچتے ہیں؟'' دانی جوس والے کی طرف متوجہ تھا۔
''یہ برائلر مرغی کا گوشت بیچتا ہے ، ہم سبھی جانتے ہیں۔'' اماں نوراں نے جلدی سے کہا ۔جوس والے کے چہرے پر یکایک مسکراہٹ نمو دار ہوگئی۔
''یہ دیسی مرغی کا گوشت نہیں بیچتا کیا؟''
''میاں! اماں نوراں ٹھیک کہہ رہی ہیں، میں ولایتی مرغی کا گوشت بیچتا ہوں، دیسی مرغی کا نہیں۔ لالی ولایتی نہیں، دیسی مرغی تھی۔'' جوس والا زور سے بولا۔
''تھی… تم نے لالی کو 'تھی 'کیوںکہا۔ کیا وہ اَب نہیں رہی؟'' دانی مسکرارہا تھا:
''گاما قصائی نے اماں نوراں کی لالی کو چور ی کیا اور اُس کا گوشت بنا کر علاقے کے کونسلر کو بیچ دیا تھا۔ یقین نہ آئے تو پتا کر لیجیے، اُن کے ہاں آج دیسی مرغی کا گوشت پک رہا ہے۔''
''یہ کیا بات ہوئی، دیسی مرغی تو کوئی بھی پکا سکتاہے۔'' ایک شخص نے منھ بنا کر کہا۔
''برائلر مرغیوں کے اِس دَور میں دیسی مرغی ہر کوئی نہیں پکاتا۔ اچھا، ٹھہریے! وہ کونسلر صاحب آ رہے ہیں، وہ آپ کو بتائیں گے کہ اُنہوں نے گاما قصائی سے دیسی مرغی کا گوشت خریدا تھا کہ نہیں۔ میرے دوست نے اُنہیں فون کرکے یہیں بلا لیا ہے۔''
سب نے گردنیں گھماکر دیکھا۔ علاقے کے کونسلر اُدھر ہی چلے آ رہے تھے۔ گاما قصائی کے چہرے کا رنگ فق ہوگیاتھا۔ اُس نے بھاگنا چاہا تو اشرف نے جلدی سے اُس کا بازو پکڑ لیا۔
''کہاں بھاگ رہے ہیں گاما جی۔''
''اماں نوراں! یہ رہی لالی کی سری جو اِس کے پھٹے کے قریب سے ہمیں ملی تھی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ایسے پھٹوں کے اِرد گرد منڈلاتے بلیاں، کتے ولایتی مرغیوں کی سریاں شوق سے کھاتے ہیں جب کہ دیسی مرغیوں کی سریوں کو سونگھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ یہ ولایتی مرغیوں کا دَور ہے۔ ہر کوئی انہی کا شوقین ہے، کتے اور بلیاں بھی۔ اس لیے دیسی لالی کی دیسی سری پھٹے کے پاس پڑی رہ گئی تھی۔ ہم نے پھٹے اور اور اُس کے نیچے پڑی سری کی فوٹو لے لی تاکہ ثبوت کے طور پر اماں نوراں کو دکھا سکیں۔'' دانی کے خاموش ہوتے ہی مانی نے کاغذ میں لپٹی لالی کی سری لوگوں کے سامنے کر دی۔ دوسرے ہاتھ سے موبائل میں بنی پھٹے اور سری کی فوٹو بھی دکھانے لگا۔
سری دیکھ کرگاما قصائی کا سر جھک گیا۔ اماں نوراں کی آنکھوں میں پانی تھا…

