گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران ہم نے اپنے دادا جان کے گاؤں والے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے بڑے پیار اور گرمجوشی سے ہمارا استقبال کیا۔ ہم نے گاؤں کی تازہ ہوا ، خوبصورت ماحول اور پرسکون فضا کا بھرپور لطف اٹھایا۔ ہم نے اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بہت سا وقت گزارا۔
ایک چمکتی صبح ، جب میں دادا جان کے باغ میں ٹہل رہا تھا تو میری نظر مٹی میں پڑے ہوئے ایک چھوٹے سے بیج پر پڑی۔ وہ اتنا چھوٹا اور بے سہارا لگ رہا تھا کہ میں سوچنے لگا کہ اتنی چھوٹی سی چیز کبھی کسی خوبصورت چیز میں کیسے بدل سکتی ہے!
دادا جان مسکرا کر بولے:
"کبھی بھی چھوٹے آغاز کی طاقت کو کم نہ سمجھیں!"
یہ دیکھنے کے لیے کہ آگے کیا ہوتا ہے، میں نے وہ بیج باغ کے ایک کونے میں دبا دیا۔ میں روزانہ اسے پانی دیتا رہالیکن کچھ نہیں ہوا۔ دن ہفتوں میں بدلتے چلے گئے۔ مٹی خاموش رہی۔ میں نے اپنی سوچ بدلنےاور ہار ماننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ یہ سوچ کر کہ میری تمام کوششیں رائیگاں چلی گئی ہیں۔
لیکن ایک صبح میں نے دیکھا کہ مٹی کو چیرتا ہوا ایک ننھا سا سبز پودا باہر نکل رہا ہے۔ وہ کمزور اور نازک تھا۔ پھر بھی اس نے سورج کی روشنی تک پہنچنے کے لیے اندھیرے کا مقابلہ کیا تھا۔
جیسے جیسے وقت گزرا، وہ آہستہ آہستہ ایک نئے اور خوبصورت پودے میں تبدیل ہو گیا۔ میں اس کے اس سفر کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اس نے اندھیرے ، دباؤ اور لاتعداد مشکلات کا سامنا کیا تھا لیکن اس نے بڑھنا کبھی نہ چھوڑاتھا۔
اس چھوٹے سے بیج نے مجھے ایک بہت بڑا سبق سکھایا جسے میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ وہ یہ کہ بڑی چیزیں ہمیشہ بہت بڑی شروعات سے شروع نہیں ہوتیں۔ کبھی کبھی چھوٹے چھوٹے قدم ہی سب سے بڑی کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔ زندگی اس بارے میں نہیں ہے کہ ہم کتنی جلدی آگے بڑھتے ہیں بلکہ اس بارے میں ہے کہ ہم کتنے صبر کے ساتھ اپنی مشکلات پر قابو پاتے ہیں۔
میں نے بیج کا یہ سفر اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ بھی شیئر کی۔ وہ بھی اس سے یکساں طور پر متاثر ہوئے۔
اس دن کے بعد سے جب بھی زندگی مشکل ہو جاتی ہے تو مجھے وہ چھوٹا سا بیج اور اس کا حوصلہ یاد آ جاتا ہے۔ اور ہم نے محسوس کیا کہ بڑی چیزیں اکثر چھوٹے قدموں سے ہی شروع ہوتی ہیں۔کیا خیال ہےآپ کا؟
