🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
چوری
نرسری (۳-۵ سال)جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

چوری

سماویہ اعظم
30 ستمبر، 2026۱ مرتبہ پڑھی گئی

چوری سنیں

امی نے فریج کا دروازہ کھول کر دیکھا تو سارے لڈو غائب تھے۔ وہ حیرت سے خالی ڈبے کو دیکھتی رہیں۔ گزشتہ روز خالہ جان اپنے ہاتھ کے بنے ہوئے بیسن کے لڈو بچوں کے لیے لائی تھیں۔ امی نے ڈبا فریج میں رکھ دیا لیکن صبح فریج کھولتے ہی ان کی نظر خالی ڈبے پر پڑی تو وہ پریشان ہو گئیں۔

انھوں نے دونوں بچوں کو آواز دی۔ دو دوڑتے ہوئے کچن میں آئے۔ امی نے خالی ڈبا انھیں دکھاتے ہوئے پوچھا:

"یہ لڈو کس نے کھائے ہیں؟"

ناصر نے فوراً کہا: "امی جان! میں نے تو نہیں کھائے۔"

اقبال نے بھی سر ہلاتے ہوئے یہی جواب دیا۔

ابا جان دفتر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ انھوں نے یہ بات سنی تو بولے:

"مجھے دفتر کے لیے دیر ہو رہی ہے۔ جس نے بھی لڈو کھائے ہیں، وہ سچ سچ اپنی امی کو بتا دے ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گا۔" دونوں بچے خاموشی سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ امی گھر کی صفائی کرنے لگیں مگر ان کے چہرے پر پریشانی صاف نظر آ رہی تھی۔ انھیں اس بات کا دکھ تھا کہ اگر کسی بچے نے لڈو کھائے ہیں تو وہ سچ سچ بتا دے کیوں کہ آج سے پہلے کسی نے کبھی بغیر اجازت کوئی چیز نہیں لی تھی۔

امی ناشتے کی تیاری میں مصروف ہو گئیں۔ اقبال بار بار ناصر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے سے لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی بات چھپا رہا ہو۔ دوپہر کو اقبال کی نظر صحن کے ایک کونے پر پڑی جہاں چیونٹیوں کی لمبی قطار جا رہی تھی۔ وہ تجسس میں ان کے پیچھے چل پڑا۔ چند قدم آگے جا کر اسے لڈو کے ذرے نظر آئے۔ اقبال کو شک ہوا تو اس نے ناصر کو آواز دی۔

"ناصر! ذرا یہاں آؤ۔"

ناصر نے جیسے ہی لڈو کے ذرے دیکھے اس کا رنگ اڑ گیا اور شرم سے اس کی نظریں جھک گئیں۔ اقبال نے نرمی سے پوچھا: "ناصر! سچ سچ بتاؤ، یہ لڈو یہاں کیسے آئے؟"

ناصر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ روتے ہوئے بولا: "بھیا! میں نے ہی رات کو سارے لڈو کھا لیے تھے۔ مجھے معاف کر دیں۔ مجھے لگا کہ امی مجھے زیادہ لڈو نہیں کھانے دیں گی اس لیے میں نے سارے لڈو کھا لیے اور پھر خالی ڈبا واپس فریج میں رکھ دیا۔" دونوں بھائی امی کے پاس گئے۔ ناصر نے روتے ہوئے ساری بات بتا دی۔ امی نے پہلے خاموشی سے اس کی بات سنی پھر اسے اپنے پاس بٹھایا اور پیار سے کہا:

"بیٹا! اگر تم مجھ سے اجازت لے لیتے تو میں ہرگز ناراض نہ ہوتی۔ مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ تم نے بغیر اجازت لڈو لیے اور پھر جھوٹ بھی بولا۔ جو بچہ سچ بولتا ہے سب اس پر اعتماد کرتے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں۔"

ناصر نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بغیر اجازت کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگائے گا اور نہ ہی جھوٹ بولے گا۔ امی نے اسے معاف کر دیا اور سمجھایا کہ چوری چھوٹی ہو یا بڑی، اسے چھپانے سے مسئلہ بڑھ جاتا ہے جب کہ سچ بولنے سے دل ہلکا ہو جاتا ہے اور دوسروں کا اعتماد بھی قائم رہتا ہے۔

شام کو ابا جان گھر آئے تو اقبال نے انھیں ساری بات بتائی۔ ابا جان نے ناصر کو سمجھاتے ہوئے کہا:

"بیٹا! چوری کرنا بری بات ہے۔ اچھا انسان وہی ہوتا ہے جو والدین کا کہنا مانے، سچ بولے اور دوسروں کا خیال رکھے۔"

اس واقعے کے بعد گھر میں ایک اصول بنایا گیا کہ جو بچہ اچھے کام کرے گا اور ہمیشہ سچ بولے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ چند دن بعد خالہ جان دوبارہ آئیں تو وہ پھر سے بیسن کے لڈو بنا کر لائیں۔ اس بار ناصر نے سب کے سامنے امی سے پوچھا:

"کیا میں ایک لڈو لے سکتا ہوں؟"

امی نے مسکراتے ہوئے کہا:

"ہاں بیٹا! لے لو۔ "

خالہ جان نے دونوں بھائیوں کو گلے لگایا اور کہا:

"میرے دونوں بھانجے بہت سمجھ دار ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دن یہ دونوں اپنے والدین کا نام روشن کریں گے۔"

لکھاری

سماویہ اعظم

سماویہ اعظم کالم ، مضامین ، افسانے، افسانچے اور کہانیاں لکھتی ہیں ۔ اِنھیں بچپن ہی سے لکھنے کا شوق تھا۔ ان کی تحریریں مختلف اخبارات اور میگزن میں شائع ہو کر پسندیدگی کی سند حاصل کر چکی ہیں۔یہ مستقبل …