مریخ نظام شمسی کا چوتھا سیارہ اور ہماری زمین کا قریبی پڑوسی ہے۔ اس کا سورج سے فاصلہ تقریباً 228 ملین کلومیٹر ہے اور اسے سورج کے گرد ایک چکر لگانے میں زمین سے تقریباً دو گنا وقت لگتا ہے یعنی 687 زمینی دن۔
مریخ اور زمین دونوں سورج کے گرد گھومتے ہیں اور گھومتے ہوئے کبھی کبھار ایک دوسرے کے کافی قریب آجاتے ہیں۔ اس وقت ان کا درمیانی فاصلہ 55 سے 100 ملین کلومیٹر ہوسکتا ہے۔ 27 اگست 2003 کو یہ ایک دوسرے کے بالکل قریب یعنی صرف 55.76 ملین کلومیٹر کے فاصلے پر آ گئے تھے۔ اس وقت دونوں کو گفتگو کرنے کا موقع مل گیا تو زمین نے مریخ سے پوچھا۔
"بھائی مریخ، سنا ہے کہ پہلے مریخ پر بھی زندگی ہوتی تھی۔"
مریخ نے یہ سن کر ایک آہ بھری اور بولا۔
"ہاں بہن زمین۔ لاکھوں سال پہلے میں زندگی سے بھرپور سیارہ تھا۔ یہاں جنگل تھے، دریا اور سمندر تھے، انسان جیسی مخلوق تھی۔ مگر پھر انہوں نے سیارے کے ماحول کو بگاڑنا شروع کردیا، درخت ختم ہوتے گئے، گرمی بڑھتی گئی، پانی خشک ہوگیا اور یوں زندگی ختم ہوگئی۔ اب تمہارے سینے پر بھی انسان یہی سب کچھ کر رہے ہیں۔ کارخانوں اور گاڑیوں کا دھواں پھیل رہا ہے، دریا اور سمندر میں کچرا بھر رہا ہے، ایٹمی ہتھیاروں سے ہر وقت جنگ اور تباہی کا سامنا ہے۔ اگر انسانوں نے عقل سے کام نہ لیا اور ماحول کو یونہی تباہ کرتے رہے تو ایک دن زمین پر بھی زندگی ختم ہو جائے گی۔ وقت ہے سنبھل جاؤ۔"
زمین یہ سن کر پریشان ہوگئی اور مریخ گھومتا ہوا دور چلا گیا۔ اب یہ دونوں اتنے زیادہ قریب دوبارا 60000 ہزار سال بعد آئیں گے۔ مگر کیا اس وقت زمین پر زندگی ہوگی؟

