علی کو رنگ برنگے بلاکس کا ایک نیا ڈبہ ملا تو اس نے حرا اور حمزہ کو بلالیا ۔ وہ تینوں قالین پر بیٹھے تھے۔ حرا بہت خوش تھی۔ اس نے جلدی سے کہا:
”چلو! فوراً سب سے اونچا مینار بناتے ہیں!“
علی اور حرا کی امی انھیں دیکھ رہی تھیں۔ وہ مسکرائیں:
"سب سے اونچا مینار ضرور بناؤ مگر کھیل سے پہلے پانچ منٹ بہت ضروری ہیں!“
امی کی بات سن کر بچوں نے ان کی طرف حیرت سے دیکھا:
"کھیل سے پہلے پانچ منٹ ! میں سمجھی نہیں ، امی!" حرا نے کہا۔
" پانچ منٹ میں کیا ہوگا؟" علی نے پوچھا۔
امی نے کہا:
" ان پانچ منٹوں میں ہم کھیلنے کی جگہ صاف کریں گے، کھلونا اچھی طرح دیکھیں گے اور پھر باری باری کھیلیں گے۔"
امی کی بات سن کر تینوں بچے مسکرانے لگے ، جیسے ان کی بات سمجھ گئے ہوں۔
تینوں نے قالین سے کتابیں اور چھوٹی گاڑیاں ہٹا کر کھیلنے کی جگہ صاف کی۔ پھر انھوں نے ڈبے کے تمام حصے غور سے دیکھے۔ حمزہ کو ایک چھوٹی گاڑی کا پہیہ ڈھیلا نظر آیا۔
”امی! یہ ٹھیک نہیں لگ رہا ہے۔“ علی نے امی کی طرف دیکھتے ہوئے قدرے زور سے کہا تو مسکرانے لگیں،پھر بولیں :
”بہت خوب! جو چیز ٹو ٹی یا ڈھیلی ہو ، اسے کھیل سے الگ رکھنا چاہیے۔“
علی نے گاڑی ایک طرف محفوظ رکھ دی تاکہ بعد میں اسے ٹھیک کیا جا سکے۔
حرا نے چند بہت چھوٹے بلاکس دیکھے۔ قریب ہی ان کا ننھا بھائی ، ایان کھیل رہا تھا۔ حرا نے وہ بلاکس ڈبے کے اونچے حصے میں رکھ دیے اور بولی:
”یہ ایان کی پہنچ سے دور رہیں گے۔“
پھر بچوں نے کھیل شروع کر دیا۔ علی نے نیلے بلاکس لگائے، حرا نے در و ا ز ہ بنایا تو حمزہ نے سرخ چھت بنا دی۔
جب علی اور حرا نے ایک ہی لمبا بلاک مانگا تو حمزہ بولا:
”پہلے حرا کی باری، پھر میری۔“
تھوڑی دیر میں ایک خوب صورت گھر تیار ہوگیا۔ پھر اچانک اس گھر کی چھت گر گئی ۔ تینوں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے مگر کوئی ناراض نہیں ہوا۔
علی ہنسا اور بولا:
” کوئی بات نہیں ، ہم دو بارہ بنا لیتے ہیں!“
تینوں نے مل کر اس بار چھت اور مضبوط بنائی تھی ۔
جب کھیل ختم ہوا تو امی نے پوچھا:
”اب آخری کام کیا ہے بچو؟“
”سب چیزیں سمیٹنا!“ بچوں نے ایک ساتھ کہا۔
پھر انھوں نے بلاکس گنے، انھیں ڈبے میں رکھا اور قالین کو دیکھنے لگے ۔
ایک نیلا بلاک صوفے کے نیچے تھا۔ علی نے خود ہاتھ اندر ڈالنے کے بجائے امی سے مدد مانگ لی۔ امی نے بلاک نکال کر اسے دے دیا۔
پانچ منٹ کی تیاری نے کھیل کو کم نہیں کیا تھا۔ اس نے کھیل کو زیادہ محفوظ، پر سکون اور مزے دار بنا دیا تھا۔
اگلے دن علی نے اپنے دوست حمزہ کو پھر بلا لیا تھا۔امی نے دیکھا۔تینوں بچے کھیلنے کی تیاری کر رہے تھے ۔۔
