🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
کوئی تو ہے...!
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

کوئی تو ہے...!

شاہد اقبال ۔ گوجرانوالہ
30 اگست، 2026۷ مرتبہ پڑھی گئی

کوئی تو ہے...! سنیں

''لو جی۔۔۔۔اب کی بار جشنِ آزادی ہم بھی زور و شور سے منائیں گے۔''میں نے جیسے ہی پر جوش انداز میں کہا تو بیگم اُچھل پڑی :

''اچھا!!!... وہ کیسے؟''اُس کے لہجے میں جوش تھا۔

''تم تو چاہتی ہی ہوکہ آزادی کا دن منانے کے لیے گھر بھر میں چراغاں ہو۔ جھنڈیاں لگائی جائیں ، چھت پر بڑے سے جھنڈے کے ساتھ خوشیوںکی محفل سجائی جائے۔ عزیزوں اور دوستوں کی دعوت ہو۔ آزادی کے قصے ، کہانیاں آپس میں خاص طور پر شیئر کی جائیں ۔ اِس مرتبہ میری ایک دیرینہ خواہش بھی پوری ہونے جا رہی ہے۔ اس لیے کہ میں اِس مرتبہ پورے دس ہزار روپے جمع کرنے میں کام یاب ہو گیا ہوں... بھلا وہ کون سی والی آرزو ہے؟''

میں نے بات کے خاتمے پر اشتیاق کے ساتھ پوچھا۔ میری بیگم مسکرا اُٹھی :

''ایک دوسرے کی خواہشات کا علم رکھنا ہی تو اِس رشتے کا حق ہوتا ہے نا۔'' سفید شلوار قمیص پر سبز رنگ کی نئی واسکٹ...'' وہ جلدی سے بولی ۔

''ہاں!تین سال سے یہ خواہش میرے لہو میں جنون بن کر دوڑ رہی ہے مگر... گھر کے اخراجات ہی اتنے ہیں کہ... بندہ بے بس ہو کر رہ جاتاہے،لیکن اس مرتبہ میری خواہش ضرور پوری ہو جائے گی، ان شاء اللہ...اللہ عزوجل! تیرا شکر ہے، صد بار شکر!!!''میری آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔ میری باتیں سن کر قریب موجود گیارہ سالہ احمد بھی تالیاں پیٹنے لگا :

''ابو! اِس بار تو عید کا سا سماں ہو گا۔ سچ بہت مزا آئے گا ...''

ہم دونوں نے اسے خود سے لپٹا لیا۔خوشی بانٹنے سے بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ میں آج سمجھ پا رہا تھا ۔

O

13اگست کو دفتر سے چھٹی تھی ۔ میں نے خریداری کے لیے اکیلے ہی بازار جانا مناسب سمجھا ۔ رش کی وجہ سے خوامخواہ احمدنے پریشان ہوجانا تھا۔ اس نے آزادی کی خوشی میں مجھے اجازت دے دی اور... میں قریباً ایک بجے کے قریب بازار میں تھا۔ گرمی اور حبس نے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ میں نے بائیک اپنے دوست کی دکان پر پارک کی اور پیدل ہی خریداری کے لیے نکل آیا ۔اردو بازار میں جشن ِ آزادی کے حوالے سے بہت سارے اسٹال سجائے گئے تھے۔ اُن میں میں کیپ ، بیج ،اسٹیکر، ہیئر بین ، جھنڈیاں اور رنگ برنگی عینکیں بچوں وبڑوں کی دل چسپی اور کشش کا باعث بن رہی تھیں ۔

میں نے مطلوبہ سڑک پر جانے کے لیے جوں ہی قدم بڑھائے تو مایوسی نے میرے پیر جکڑ لیے۔ سڑک بند تھی۔ ٹوٹے ہوئے پائپوں اور پتھروں سے راستا بند تھا۔ شاید سیوریج کی پائپ لائن کا کوئی مسئلہ تھا ...

''اب کیا کروں؟'' میں غور کرنے لگا۔مجھے یاد آیا کہ ایک متبادل راستا بھی تو ہے۔ یہ راستا دال بازار سے گزرتا ہے ۔ یہاں لال مرچ اور گرم مصالحہ جات کی پسوائی کے لیے چکیاں موجود تھیں۔ خریداری کے لیے ثابت لال مرچ کی بہت ساری دکانیں بھی موجود تھیں ۔ اسے مرچوں والا گلہ کہتے تھے۔یہاں سے گزرنا آسان نہ تھا۔ اکثر اوقات مرچوں کی پسوائی ہوتی رہتی تھی اور ان خطرناک مرچوں سے بچ نکلنا قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتا تھا مگر خریداری بھی ضروری تھی۔اردو بازار سے ملحقہ بازار میں میری سبز رنگ کی چمکتی ہوئی واسکٹ میری منتظر تھی۔ میری مچلتی ہوئی آرزئوں کا سامان، سبز رنگ کی ہلالی پرچم کے رنگ والی واسکٹ ، جب میں پہن کر گھر سے نکلوں گا تو ایک نشہ سا میرے وجود میں گھل جائے گا۔ خوشی کا احساس بھی کیا چیز ہے ،آدمی خود کو ہوا میں اُڑتا ہوا محسوس کرتا ہے۔

بد قسمتی سے اس وقت بھی مرچوں کی پسوائی جاری تھی۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ اُڑتی ہوئی لال مرچوں نے حملہ کیا اورمجھے یوں لگا، جیسے ... جیسے کسی نے میری آنکھوں میں انگارے بھر دیے ہوں۔ میں ایک ہلکی سی چیخ کے ساتھ وہیں ساکت ہو گیا ۔

''ارے کوئی ہے، جو میری مدد کرے!!'' میں چیخ اُٹھا ۔

''میری آنکھوں میں مرچیں چلی گئی ہیں، کوئی تو مدد کرے۔'' میری آواز کے جواب میں ایک دو کی ہنسی کی آواز مجھے سنائی دی ۔:

''لو سنو! مرچوں والے بازار میں بھلا پھول کی پتیاں گریں گی؟'' میں جھنجھلا اُٹھا۔

''بے حس لوگ...'' بڑبڑا کر رہ گیا۔میں نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تو درد کے مارے دُہرا ہو گیا۔ مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔

''پانی کے چھینٹے ماریئے صاحب جی، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔''کسی ہمدرد کی نرم آواز کان سے ٹکرائی تو جیسے جان میں جان آ گئی :

''کہاں ہے پانی ؟ مجھے وہاں تک لے چلو !بڑی مہربانی ہوگی، درد اور جلن سے برا حال ہے ۔'' میں نے التجا کی ۔

''دوسرے بازار میں نل لگا ہوا ہے ، ہوٹل کے پاس۔ آئیے !میں آپ کو لیے چلتا ہوں ۔''

اچھے لوگ بھی تو اِسی دُنیا میں رہتے ہیں ۔ ان ہی کے دم سے انسانیت زندہ ہے ۔ میں جی جان سے نہال ہو گیا اوراس آدمی کی ہم راہی میں، جلد ہی میں ہوٹل کے قریب ایک نل کے پاس پہنچ گیا ۔ یہ ایک ہینڈ پمپ تھا۔ اس اللہ کے بندے نے میری آنکھیں اچھی طرح دھلوائیں تو جیسے جان کو سکون آ گیا۔ شکریہ ادا کرنے کے لیے میں نے آنکھیں کھولیں تو وہ مدد گار غائب تھا ۔ جانے کون تھا وہ ؟ خیر! اچھے لوگ بھلا کب دکھلاوا کرتے ہیں۔''

کچھ دیر میں نے رکنے کا ارادہ کیا اور ہوٹل ہی میں ایک میز پر بیٹھ کر کولڈ ڈرنک کا آرڈر دیا۔ پہلے ہی گھونٹ نے ٹھنڈک کا احساس دو بالا کر دیا اور اچانک سامنے ایک بینک کی دیوار کے سائے میں بیٹھے ایک لڑکے پر میری نظر پڑی ۔

اُس کی عمر بارہ تیرہ سال رہی ہوگی۔اُس کی حالت بے حد بری حالت تھی ۔ شکل سے برسوں کا بیمار لگ رہا تھا، میلے کچیلے کپڑے ، کھچڑی بال ... جیسے ہفتوں سے نہ نہایا ہو۔ درد بھری نظروں میں بھوک کی زردی بھی نمایاں تھی ۔وہ میری طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ میرے اشارے پر وہ ڈرتے ڈرتے قریب چلا آیا ؟

''بیٹے بھوکے ہو ؟؟''

میری ہمدردی پا کر اس کی آنکھوں میں درد کے سائے لہرانے لگے اور دو آنسو اُس کی آنکھوں سے نکل کر گالوں تک چلے آئے ۔ اس نے اثبات میں گردن جھکائی تومیں پوری جان سے کانپ اُٹھا ۔ جھرجھری سی آ گئی میں نے فوراً اسے اپنے پاس بٹھایا اور فورا ًکھانے کا آرڈر دے دیا ۔ ۔۔۔

چند منٹوں بعد اس کی حالت قدرے سنبھل چکی تھی ۔

میں نے مسکرا کر اسے دیکھا :

''کب سے کھانا نہیں کھایا ؟ابو کیا کام کرتے ہیں ؟ آپ پڑھتے ہو ؟کوئی کام کرتے ہو ؟ ؟''میرے ڈھیر سارے سوالوں پر وہ گھبرا سا گیا ۔۔ پھر اس نے خود پر قابو پایا اور بولا :

''صاحب جی ، باپ نہیں ہے ، ماں بیمار ہے ۔چھوٹی بہن بھی ہے ۔ ماں لوگوں کے گھروں میں ماسی کا کام کرتی ہے ۔ وہ اچانک بیمارہو گئیاور کام کرنے کے قابل نہ رہی، جمع پونجی چند دنوں میں ختم ہو گئی۔ جب پانی سر سے گزرنے لگا تو میں نے مزدوری کرنے کی سوچی۔ جب پیسے دینے کا وقت آیا تو مالک نے دھکے دیے۔میں نے احتجاج کیا تو مار بھی کھانا پڑی۔ مالک حقیقی کے سامنے گڑگڑایا، اپنے نا کردہ گناہوں کے معافی مانگی تو آج دوسرے روز ہی آپ کو وسیلہ بنا کر میرے اللہ نے مشکل حل کر دی۔بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔''

وہ ہچکیوں سے رونے لگا ۔ میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھیں بھی دُھندلا رہی ہیں ۔میں نے ہتھیلیوں سے اپنے آنسو صاف کیے۔ میں اس سوہنے رب کی حکمت پر غور کر رہا تھا کہ کیسے اس نے میری آنکھوں میں مرچیں ڈلوا کر اس حق دار کے پاس پہنچادیا۔ وہ بڑا غفورو رحیم ہے۔ وہ سب پر نظر رکھتا ہے۔ پھر میں جوش کے ساتھ اُٹھا :

''آؤ میرے ساتھ، اب تم ، تمھاری بہن اور پیاری ماں بھوکے نہیں سوئیں گے ۔ میں تمھاری ماں کا علاج کرائوں گا۔ اسی ہوٹل سے ان کے لیے کھانا لے کر چلتے ہیں۔ بھوک اُنھیں بری طرح پریشان کر رہی ہوگی۔ وہ تمھارا اُمید کے ساتھ انتظار کر رہے ہوں گے کہ تم ضرور ان کے کھانے کا بندوبست کر کے لوٹو گے، آؤ دیر مت کرو ۔''

وہ لڑکا حیرانی اور خوشی سے میری طرف دیکھ ریا تھا ۔

ان کے گھر کے راشن اور ماں کی دوا کے بعد پھر بھی اتنے روپے بچ گئے تھے کہ ہم گھر والے سادگی کے ساتھ جشن ِ آزادی منا سکتے تھے۔ گھر واپسی پر میرے کانوں میں یہ الفاظ گونج رہے تھے:

کوئی تو ہے جو نظام ِ ہستی چلا رہا ہے... وہی خدا ہے... وہی خدا ہے۔

OOO

لکھاری

شاہد اقبال ۔ گوجرانوالہ

جناب شاہد اقبال بچوں کے بہت سینئر لکھاری ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ چالیس سال بچوں کے ادب کی خدمت کر تے ہوئے گزر گئے لیکن اِن کا قلم تھکا نہیں ہیں، اج بھی شاندار کہانیاں تخلیق کر رہا ہے۔