🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
تم کتنے اچھے ہو
جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

تم کتنے اچھے ہو

دانیال حسن چغتائی
19 اکتوبر، 2026۲۰ مرتبہ پڑھی گئی

تم کتنے اچھے ہو سنیں

عبدالرشید فاروقی صاحب کا نام بچوں کا اسلام کے ابتدائی دور کے قارئین کے لیے نیا نہیں ہے۔ وہ مسلسل اس میگزین میں لکھتے رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے تو کچھ عرصہ پہلے ہی یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ بچوں کا اسلام کے بانی مدیر اور اردو ادب کی معروف شخصیت اشتیاق احمد صاحب کے شہر جھنگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی ادب بالخصوص ادبِ اطفال کے حوالے سے جھنگ کی سرزمین خاصی مردم خیز اور زردخیز رہی ہے جس نے بچوں کی فکر اور سیرت سازی کے لیے بہترین قلم کار دیے۔ بچوں کا کتاب گھر کے ابتدائی دور سے ہی یہ بات واضح طور پر سامنے نظر ائی ہے کہ انہوں نے کتاب کی ظاہری اور باطنی معیار پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور ہمیشہ معیاری و تربیت افروز مواد ہی اپنے نونہالوں کے لیے پیش کیا ہے۔

زیرِ تبصرہ کتاب میں کل سترہ خوبصورت اور سبق آموز کہانیاں شامل ہیں جن کا مطالعہ نہ صرف بچوں میں ذوقِ مطالعہ کو فروغ دیتا ہے بلکہ ان کے اخلاقی رویوں کو نکھارنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس مجموعے کی پہلی کہانی نہیں ابو کے نام سے شامل کی گئی ہے۔ اس کہانی میں ایک بچہ اپنے والد سے کچھ قیمتی اور مہنگی چیزوں کی فرمائش کرتا ہے لیکن والد کی آمدنی ملازمت میں رہتے ہوئے اتنی نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بیٹے کی یہ تمام فرمائشیں آسانی سے پوری کر سکیں۔ جب والد نہایت شفقت اور محبت سے اپنے بچے کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ بیٹا! اگر میں تمہاری یہ فرمائشیں پوری کرنا چاہوں تو مجھے کسی ناجائز یا حرام راستے کو اختیار کرنا پڑے گا، اور کیا تم چاہو گے کہ تمہارا باپ حرام کے ذریعے تمہارے خواب پورے کرے؟ یہ بات سنتے ہی بچے کے اندر کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے اور وہ فوراً اپنی ان تمام فرمائشوں اور خوابوں سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ یہ کہانی یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر والدین بچپن ہی سے بچوں کی بہترین تربیت کریں اور ان کے سامنے صحیح اور غلط کا فرق واضح رکھیں تو تربیت کے ذریعے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے، اور بے شک انسان کے لیے سب سے اہم چیز اس کی اولاد کی بہترین اخلاقی اور روحانی پرورش ہے۔

کتاب کی دوسری کہانی شکار ہے جو دو الگ الگ زاویوں پر محیط انتہائی دلچسپ اور سسپنس سے بھرپور تحریر ہے۔ کہانی میں نوجوان اپنے ہی چچا کو قتل کرنے کے ارادے سے ان کے پاس آتا ہے، لیکن چچا نے اپنی بے پناہ حاضر دماغی، بردباری اور معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے نہ صرف اپنی جان بچائی بلکہ اس بھٹکے ہوئے نوجوان کو بھی صحیح اور سیدھے رخ پر لے کر آئے اور اس کا غصہ ٹھنڈا کیا۔ کہانی کا دوسرا خوبصورت زاویہ یہ ہے کہ چچا نے معاف کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس بھتیجے نے قانون کی جو سنگین خلاف ورزی کی تھی، اس کی قانونی سزا بھی اسے دلوائی تاکہ وہ قانون اور انصاف کی اہمیت کو سمجھے اور اپنی باقی ماندہ زندگی میں اس قسم کی حماقتوں اور جرم کے راستوں سے بچ کر ذمہ دار شہری کی حیثیت سے رہ سکے۔

اسی طرح مجموعے کی تیسری کہانی دس سال بعد ایک ایسے بچے کے گرد گھومتی ہے جو بچپن میں المناک ڈکیتی کے نتیجے میں اپنے اصل والدین سے جدا ہو گیا تھا۔ پھر دس سال طویل عرصے کے بعد جب وہ ملتا ہے تو ایک مفلوک الحال جھونپڑی کے اندر اپنے اسی بچپن کے نام کے ساتھ ہی ملتا ہے لیکن غربت اور کٹھن حالات میں رہتے ہوئے جب اسے اس کے اصل والدین کے پاس واپس لے جانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ وہاں سے واپس آنے سے صاف انکار کر دیتا ہے۔ یہ کہانی انس و محبت کے نادیدہ بندھنوں اور حالات کے ساتھ ڈھل جانے والی انسانی طبع کو بڑی دلنشین اور جذباتی زبان میں بیان کرتی ہے۔

کتاب میں شامل ایک اور بہترین اور فکر انگیز تحریر منصوبہ ہے جو وادیِ کشمیر کی حریت اور وہاں کے حالاتِ زندگی کے حوالے سے لکھی گئی ہے۔ جس طرح بچوں کے روایتی اور حریت پسندانہ ادسی تحریروں میں وہاں کے شیر دل جوان باہم مل کر جرات مندانہ منصوبے بناتے ہیں اور بالآخر کامیابی و نصرت سے ہمکنار ہوتے ہیں، اس کہانی میں بھی بالکل اسی طرح حق کو فتح و کامیابی ملی اور ظالم و مخالف فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تحریر بچوں میں باطل کے خلاف ڈٹ جانے اور مظلوموں کی حمایت کا جذبہ بیدار کرتی ہے۔

رنگین کاغذ کہانی کو پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ جیسے پہلے کبھی ہم نے شریر مرچو والی ایک مشہور کہانی پڑھی تھی جس میں مرچو نامی کردار راستے میں چھوٹے چھوٹے پتھر پھینکتا جاتا تھا تاکہ واپسی کا راستہ تلاش کر سکے۔ بالکل اسی طرز پر اس کہانی کے اندر عمران اور جنید نامی کرداروں نے اپنے سفر کے دوران رنگین کاغذ کے ٹکڑے راستے میں پھینکنے شروع کر دیے اور آخر کار اسی حکمتِ عملی کی بدولت وہ بحفاظت اپنے گھر واپس پہنچنے میں کامیاب ہو گئے اور کسی بھی بڑے نقصان سے ان کی بچت ہو گئی۔

تم کتنے اچھے ہو اس کتاب کی سرورق کہانی ہے اور یہ اس مجموعے کی سب سے پراثر اور روحانی تحریروں میں سے ایک ہے۔ اس کہانی میں نوجوان نادانی میں گناہوں اور غلط راستوں کی طرف نکل جاتا ہے، لیکن جب اس کے دل میں سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور دینِ اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کی روشنی داخل ہوتی ہے تو وہ اپنے کیے پر سچے دل سے توبہ کرتا ہے اور گناہوں کی دلدل سے نکل کر دوبارہ اپنی پاکیزہ، مخلصانہ اور حقیقی زندگی کی طرف واپس لوٹ آتا ہے۔ اس قسم کی کہانیاں نونہالوں کے ذہنوں سے مایوسی کو ختم کر کے انہیں معافی، توبہ اور حقیقتِ زندگی کی طرف واپس لانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

عید مشن عید کے پرمسرت موقع کے حوالے سے لکھی گئی ایک بہت ہی پیاری اور روایتی کہانی ہے جس میں گھر کے بچے اپنے دادا جان سے چالاکی اور محبت سے ڈبل عیدی وصول کرتے ہیں۔ تاہم وہ اس عیدی کو صرف اپنے ذاتی کھیل کود یا کھلونوں پر خرچ کرنے کے بجائے معاشرے کے مستحق اور غریب طبقوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے انہوں نے گھر کے بڑوں کو بھی عملی طور پر اس بات کا خوبصورت سبق دیا کہ جن غریبوں اور محتاجوں کی طرف عموماً بڑے مصروفیت میں توجہ نہیں دے پاتے، ان مستحق افراد کی طرف ان کے گھر کے ننھے بچوں کی توجہ اور ہمدردی ضرور موجود تھی۔

ایک اور اخلاقی کہانی سر جھک گیا، ہے جس میں خواب کی علامتی دنیا کو بہت عمدگی سے برتا گیا ہے۔ کہانی کے مرکزی کردار وقاص نے اپنی زندگی میں جو جو چھوٹے بڑے گناہ اور غلطیاں کی تھیں، خواب کے اندر وہ تمام برائیاں اس کے سامنے مختلف خوفناک اور عجیب و غریب شکلوں میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد جب اسے بیداری میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ان تمام سیاہ کرتوں اور چھپی ہوئی برائیوں کے بارے میں اس کے ماموں کو بھی علم ہو چکا ہے تو یہ شرمندگی اس کے اندر غلطی کا شدید احساس دلانے کے لیے کافی ہو جاتی ہے اور یہی احساسِ ندامت اور خیال اسے گناہوں کو چھوڑ کر سچی توبہ کی طرف لے آتا ہے۔

وہ آنسو مقبوضہ کشمیر میں معصوم انسانوں پر ہونے والے مظالم اور ان کی بے بسی کے حوالے سے تحریر کی گئی ایک اور انتہائی بہترین اور درد ناک کہانی ہے۔ کہانی کا اسلوب اور باجی کلثوم نے جس درد مندانہ اور دلاویز انداز میں اس پوری کہانی کو بیان کیا ہے، وہ آنکھوں کو نم کر دیتا ہے۔

جانوروں کی دنیا سے متعلق ایک پیاری اور سبق آموز کہانی پیاری چڑیا ہے جو قارئین کو یہ درس دیتی ہے کہ احساس، محبت اور رحم دلی انسانوں کی دنیا اور ان کے باہمی معاملات تک ہی محدود نہیں ہیں، بلکہ قدرت نے جانوروں اور پرندوں کے اندر بھی ایک دوسرے کے لیے بے پناہ احساس، ہمدردی اور رحم دلی کا جذبہ ودیعت کر رکھا ہے۔

اگلی کہانی عمدہ نسخہ شازیہ نامی ایک بچی کے اسکول سے گھر آنے کے بعد کی پریشانی اور الجھن کے حوالے سے ہے۔ شازیہ اس بات سے پریشان ہوتی ہے کہ اسکول میں دیگر بچے اس کے ساتھ زیادہ قریب نہیں ہوتے اور اس سے دور دور رہتے ہیں۔ اس پر اس کی دانشمند اور شفیق ماں اسے ایک بہترین نسخہ بتاتی ہیں کہ اگر تم دوسروں کے ساتھ اخلاق، محبت اور نرمی سے پیش آؤ گی تو جواب میں وہ بھی تمہارے ساتھ بالکل ویسا ہی اچھائی کا رویہ اختیار کریں گے۔ شازیہ جب اپنی ماں کے بتائے ہوئے اس اخلاقی نسخے پر عمل کرتی ہے تو وہ اس کے لیے بے حد مجرب اور کامیاب ثابت ہوتا ہے اور سب اس کے دوست بن جاتے ہیں۔

تحفہ بھی اس مجموعے کی ایک نہایت پیاری اور اثر انگیز کہانی ہے جس میں ایک باپ اپنے بیٹے کو ماہِ رمضان کے تمام روزے پورے رکھنے پر ایک خاص اور من پسند تحفہ دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ جب بچہ روزے پورے کر لیتا ہے تو وہ اپنا تحفہ مانگنے کے بجائے ایک یتیم بچے کی مدد کی درخواست کرتا ہے۔ یوں وہ ایک مرجھاتے ہوئے یتیم پھول کو دوبارہ کھلنے کا موقع دیتا ہے اور اپنے عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس یتیم کی کفالت اور دیکھ بھال کا حکم دیا ہے، اس نے وہ حق اپنے والد کے ذریعے پورا کروا کے دکھا دیا۔

کتاب کی ایک اور لوک کہانی نما تحریر سب سے بڑی عقلمندی ہے جو پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی مشکلات کو موضوع بناتی ہے۔ اس کہانی میں جب راستے کی رکاوٹوں کی وجہ سے عام لوگوں کو سفر میں شدید تکلیف اور پریشانی کا سامنا ہوتا ہے تو چند باہمت اور نیک نیت لوگ اللہ کے رسول کی اس حدیثِ مبارکہ پر عمل کرتے ہیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ اور ثواب ہے۔ وہ مل کر راستے سے رکاوٹوں کو صاف کر دیتے ہیں اور ان کا یہ عمل تمام قریبے علاقوں اور لوگوں کے لیے بہترین آسانی اور ان کے اپنے لیے عظیم اجر و ثواب کا باعث بن جاتا ہے۔

اسی طرح چھوٹا بستہ کرکٹ کے کھیل اور اس کے گرد گھومتی ایک سبق آموز کہانی ہے۔ جب گلی میں کرکٹ کھیلتے ہوئے گیند کسی سخت گیر پڑوسی کے گھر میں چلی جاتی ہے تو وہاں سے گیند واپس لانا بچوں کے لیے بہت بڑا مسئلہ اور چیلنج بن جاتا ہے۔ لیکن یہی ناگوار واقعہ آگے چل کر مثبت تبدیلی کا سبب بنتا ہے اور اسی گیند کی واپسی کے سلسلے کے دوران علم اور پڑھائی کی طرف سفر کا آغاز ہوتا ہے، جس سے خالہ خیرن کی بیٹی بھی متاثر ہو کر پڑھنے لکھنے اور تعلیم حاصل کرنے کی طرف راغب ہو جاتی ہے۔

بات نہ مانی بڑے بھائی کی ایسے فضول گو اور لاپروا لڑکے کی کہانی ہے جو بلاضرورت گفتگو اور فضول باتیں کرنے کا بہت زیادہ شوقین تھا۔ اس کا بڑا بھائی شاہد اسے بار بار روکا کرتا تھا کہ بے جا نہ بولا کرو اور خاموشی کی اہمیت کو سمجھو مگر وہ نہیں مانتا تھا۔ آخر کار جب چچا فاروق نے اس کو حکمت اور پیار سے یہ چیز سمجھائی اور دو مرتبہ فضول گوئی کی وجہ سے اسے نجی زندگی میں بڑا نقصان اٹھانا پڑا تو بالآخر اس کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ گئی کہ بلاوجہ اور بے موقع بولنا انسان کے لیے ہر جگہ نقصان کا سبب بنتا ہے۔ اس احساس کے بعد اس نے اپنی اس بری عادت کی اصلاح کر لی اور درست راستے پر آ گیا۔

کتاب میں شامل ایک اور سبق آموز اور فکر انگیز کہانی بہت بڑا گناہ ہے جو غیبت، چغلی اور دوسروں کی برائیاں بیان کرنے جیسی سماجی برائی کے موضوع پر لکھی گئی ہے۔ کہانی کی دو مرکزی لڑکیاں باتوں ہی باتوں میں غیبت اور دوسروں کے عیوب تلاش کرنے کی دلدل میں بہت زیادہ الجھ جاتی ہیں اور یہ چیز ان کی روزمرہ کی عادت بن جاتی ہے۔ لیکن آخر کار جب انہیں اپنی اس سنگین غلطی کا احساس ہوتا ہے تو وہ شدید خوف اور ندامت کا شکار ہو جاتی ہیں کہ کیا اتنے بڑے گناہ کے بعد اللہ تعالی انہیں معاف کرے گا یا نہیں؟ ان کا سچے دل سے توبہ کرنا اور اپنے گناہ کا گہرا احساس ہونا ہی ان کی زندگی کی اصلاح کے لیے سب سے بڑا اور بنیادی قدم ثابت ہوتا ہے۔

اس خوبصورت مجموعے کی آخری کہانی دوستی۔ہے جس میں حقیقی اور سچی دوستی کے بنیادی اصولوں کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کہانی کے ذریعے بچوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر دو انسانوں کے درمیان دوستی کا مقدس رشتہ قائم ہوتا ہے تو ان دونوں کو اس بات کو ہمیشہ ساتھ لے کر چلنا چاہیے کہ وہ زندگی کی ہر اچھائی اور نیک کام میں ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں، ایک دوسرے کو برائی اور غلط راستے سے روکیں، اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا حسد کو اپنے پاکیزہ تعلق کے درمیان ہرگز نہ آنے دیں۔

کسی بھی معاشرے کی بقا، ترقی اور اس کی آنے والی نسلوں کی کردار سازی میں ادب اطفال بالخصوص بچوں کی اخلاقی و دینی تربیت پر مبنی ادبی کتب کا کردار انتہائی بنیادی اور کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بچے کا ذہن پاکیزہ کاغذ کی مانند ہوتا ہے جس پر بچپن میں نقوش ثبت کر دیے جائیں، وہ اس کی تمام عمر کی شخصیت اور سوچ کا محور بن جاتے ہیں۔ عبدالرشید فاروقی صاحب کی یہ کتاب بچوں کے لیے اخلاق، انسانیت، ایثار، توبہ اور دینی اقدار کی ایک باقاعدہ تربیت گاہ ہے۔ دورِ حاضر میں سوشل میڈیا اور غیر معیاری مواد بچوں کے نازک ذہنوں اور اخلاقی اقدار کو تیزی سے متاثر کر رہا ہے، وہاں عبدالرشید فاروقی جیسے باصلاحیت مصنفین کا وجود کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اس قسم کی تخلیقی اور اصلاحی تحریریں بچوں کو فرضی اور گمراہ کن دنیا سے نکال کر حقیقت پسندانہ زندگی، والدین کا احترام، معاشرتی احساس اور خدا ترسی کی طرف واپس لاتی ہیں۔ مثبت کہانیاں بچوں کی روح میں پاکیزہ خیالات کی آبیاری کرتی ہیں اور ان کے دلوں میں برائی سے نفرت اور اچھائی سے محبت کا جذبہ بیدار کرتی ہیں۔ ادبِ اطفال دراصل ایسا معمار ہے جو خاموشی کے ساتھ نسلِ نو کے اخلاق کی تعمیر کرتا ہے اور اگر بچوں کو ابتدائی عمر ہی میں اس قسم کی معیاری، دلکش اور تربیت افروز کتابوں سے جوڑ دیا جائے تو وہ نہ صرف بہترین اور باشعور انسان بن کر ابھرتے ہیں بلکہ متوازن، پرامن اور بااخلاق معاشرے کی تشکیل میں بھی اپنا مثبت اور شاندار کردار ادا کرتے ہیں۔

لکھاری

دانیال حسن چغتائی

جناب دانیال حسن چغتائی کا تعلق کہروڑ پکا سے ہے۔ادب اطفال کی دُنیا میں سال دو ہزار انیس سے ہیں ، بچوں کے خوب لکھ رہے ہیں ، پاکستان بھر میں چھپنے والے رسائل میں لکھتے رہتے ہیں ، اِن کی نو کتابیں شائع…