زمین کی سطح کا تقریباً 70 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے جو کرہ ارض کے ایکو سسٹم کا سب سے اہم ستون ہیں۔ سمندر زمین کے "پھیپھڑوں" کا کام کرتے ہیں، کیونکہ یہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے انسانوں اور دیگر جانداروں کو 50 سے 75 فیصد آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ اس کے لاوہ، بارش کا نظام اور موسموں کا اعتدال بھی سمندروں کی بدولت قائم ہے، جہاں سے پانی بھاپ بن کر اٹھتا ہے اور خشکی کے علاقوں کو 40 فیصد تازہ پانی فراہم کرتا ہے۔ سمندر عالمی معیشت میں سالانہ ڈیڑھ کھرب ڈالر کا حصہ ڈالتے ہیں اور دنیا کی 40 فیصد آبادی کو خوراک اور روزگار فراہم کرتے ہیں۔ انسانی سرگرمیوں اور آلودگی کی وجہ سے سمندری حیات شدید خطرات سے دوچار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق بحری آلودگی کی 80 فیصد وجہ زمینی ذرائع ہیں، جن میں صنعتی زہریلا فضلہ، سیوریج کا گندا پانی اور پلاسٹک کا کچرا شامل ہیں۔ ملین ٹن پلاسٹک سمندر میں جا کر آبی حیوانات، خصوصاً مچھلیوں اور کچھوؤں کے نظامِ ہضم کو تباہ کر دیتا ہے۔ مزید برآں، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے زائد جذب سے پانی کی تیزابیت (Ocean Acidification) میں اضافہ ہو رہا ہے، جو مرجانی چٹانوں اور سیپ دار مخلوق کی بقا کے لیے بڑا خطرہ ہے۔پاکستان کے ساحلی مسائل اور بحری آلودگی پاکستان کا 1050 کلومیٹر طویل ساحلی علاقہ، جہاں 45 لاکھ سے زائد افراد کا روزگار ماہی گیری سے وابستہ ہے، آلودگی کے سنگین بحران کا شکار ہے۔ فیکٹریوں سے نکلنے والے زہریلے کیمیکلز اور غیر معالج شدہ سیوریج کے پانی کا بڑا حصہ سمندر میں بہایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، بحری جہازوں سے بہنے والا گندا تیل، اور جہازوں کے حادثات کی وجہ سے ساحلی جنگلات (مینگرووز)، مچھلیوں اور نایاب کچھوؤں کی نسل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور مقامی حفاظتی تدابیر پر بروقت عمل نہ ہونے سے یہ نقصان مزید بڑھ جاتا ہے۔تحفظ کے اقدامات اور عالمی دن کی اہمیت سمندروں اور بحری حیات کو بچانے کے لیے ہر سال 8 جون کو "سمندروں کا عالمی دن" منایا جاتا ہے تاکہ عوام میں اس کی افادیت کا شعور پیدا کیا جا سکے۔ سمندری حیات اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ساحلوں پر پلاسٹک کے استعمال اور کچرے پر پابندی لگائی جائے، صنعتی فضلے کو سمندر میں ڈالنے سے پہلے فلٹر کیا جائے، اور تیل کے حادثات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف آبی حیات کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے معاشی اور قدرتی ورثہ بھی محفوظ رہے گا۔

جماعت ۱ تا ۳جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰
سمندر کی آخری سانس
ماہ نور ملک ۔ بیکن ہاؤس سکولز سسٹم ، مین کیمپس ۔ بہاولپور
23 ستمبر، 2026۶ مرتبہ پڑھی گئیسمندر کی آخری سانس سنیں
لکھاری
ماہ نور ملک ۔ بیکن ہاؤس سکولز سسٹم ، مین کیمپس ۔ بہاولپور
ماہ نور ملک کا تعلق بہاولپور سے ہے۔ یہ گریڈ 8 کی طالبہ ہیں۔ بیکن ہاؤس سکولز سسٹم مین کیمپس میں پڑھتی ہیں۔