خطروں میں گھرے سمندر
فاطمہ حسنین ( بيكن ہاؤس اسکول سسٹم بہاولپور )
زمین کی سطح کے 70 فیصد سے زائد حصے پر پھیلے سمندر ہماری بقا اور ماحولیاتی توازن کے بنیادی ضامن ہیں۔ تاہم، صنعتی ترقی، پلاسٹک کے بے تحاشا استعمال اور کیمیائی آلودگی کی وجہ سے ان عظیم آبی ذخائر کو شدید ماحولیاتی بحران کا سامنا کرنا پر رہا ہے ۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً 11 ملین میٹرک ٹن پلاسٹک سمندروں میں پھینکا جاتا ہے۔ اس کی نمایاں مثال ’گریٹ پیسیفک گاربیج پیچ‘ (Great Pacific Garbage Patch) ہے، جو کیلیفورنیا اور ہوائی کے درمیان کچرے کا تیرتا ہوا ایک بہت بڑا علاقہ ہے۔ یہ تقریباً 16 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جو رقبے میں پاکستان سے بھی دو گنا بڑا ہے۔
ایکسیٹر یونیورسٹی اور ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (WWF) کے سائنسی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ سمندری پرندے، اور کئی مچھلیاں اکثر پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتی ہیں اس سے ان کی انتڑیاں بند ہو جاتی ہیں اور وہ مر جاتی ہیں۔ اس کےعلاوہ سورج کی شعاعیں پلاسٹک کے ٹکڑوں کو 5 ملی میٹر سے بھی چھوٹے مائیکرو پلاسٹک میں توڑ دیتی ہیں۔ ان ذرات کو چھوٹے سمندری حشرات (Zooplankton) کھاتے ہیں، اور یوں یہ آلودگی مچھلیوں کے ذریعے بالآخر انسانی غذائی زنجیر میں شامل ہو جاتی ہیں .
مقامی سطح پر سمندری بگاڑ کی واضح مثال دریائے سندھ کی مشہور "پُلا مچھلی" کا بحران ہے۔ بحیرہ عرب سے نسل کشی کے لیے دریائے سندھ کا رخ کرنے والی یہ مہاجر مچھلی ماضی میں کثرت سے دستیاب تھی اور مقامی معیشت کا اہم حصہ تھی۔ لیکن اب پانی کے بہاؤ میں بتدریج کمی نے اس کی نقل و حرکت کے راستے محدود کر دیے ہیں۔
سندھ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر وزیر علی بلوچ بتاتے ہیں کہ ، دریا میں پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ انڈس ڈیلٹا میں باریک جالوں کا استعمال نوزائیدہ مچھلیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں ایک اہم سمندری حیات نایاب ہو رہی ہے، وہیں مقامی ماہی گیروں کی معیشت اور ثقافت کو بھی نقصان پہنچ رہا .امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) کی تحقیقات کے مطابق، سمندر کی سطح پر موجود مائیکرو اسکوپک پودے، جنہیں "فائٹوپلانکٹن" (Phytoplankton) کہا جاتا ہے، زمین کی 50 سے 80 فیصد آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ یہ پودے سمندری حیات کی غذائی زنجیر کی بنیاد بھی ہیں۔تاہم، سمندری آلودگی اور گلوبل وارمنگ سے پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ان کی تعداد پر منفی اثر پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف مچھلیوں کی خوراک بلکہ کرۂ ارض کے آکسیجن نظام پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔سمندری حیاتیات کو متاثر کرنے میں صنعتی فضلے کا بڑا عمل دخل ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹوں کے مطابق، ترقی پذیر ممالک میں کارخانوں سے نکلنے والا تقریباً 70 فیصد کیمیائی پانی بغیر کسی صفائی (Treatment) کے دریاؤں اور سمندروں میں بہا دیا جاتا ہے۔ اس میں موجود پارہ (Mercury) اور سیسہ (Lead) جیسے مادے نہ صرف پانی کی کیمیائی ساخت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ سمندری مخلوق کی افزائشِ نسل کے لیے بھی نقصان کا باعث بنتے ہیں
سمندری ماحول کو درپیش ان مشکلات سے نمٹنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر عملی اقدامات اپنانے کی سخت ضرورت ہے۔ یک بار گی استعمال کے پلاسٹک (Single-use Plastic) میں کمی، صنعتی فضلے کی سائنسی تلفی، اور ساحلی علاقوں کی حفاظت کے ذریعے ان خطرات کے اثرات کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ سمندری نظام کی بہتری خود انسانوں کی صحت اور ماحولیاتی توازن کے لیے اہم ہے۔
