”ادھورا کھیل“: بچوں کے ادب کا تابناک تسلسل اور اشتیاق احمد کو خراجِ تحسین
مبصر ✍️ دانیال حسن چغتائی
اردو ادبِ اطفال کی تاریخ جب بھی پوری دیانت داری اور غیر جانبداری سے مرتب کی جائے گی، اس میں عبدالرشید فاروقی کا نام زریں حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ طویل عرصے سے بچوں کے لیے لکھ رہے ہیں اور ادبِ اطفال کی دنیا سے شغف رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے ان کی شخصیت اور قلمی کاوشیں محتاجِ تعارف نہیں۔ بچوں کے ادب کا بہت بڑا، معتبر اور مستند نام ہونے کے باوجود، ان کا نمایاں وصف ان کی بے نیازی اور عاجزی ہے۔ انہوں نے کبھی خود کو نمایاں کرنے، شہرت کی نمائش کرنے یا تشہیر کے طبل بجانے کی کوشش نہیں کی۔ اگر وہ ایسا کر بھی لیں یا اپنی خدمات کا اعتراف علانیہ چاہیں تو کسی کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ ان کا کام اس بات کا مکمل حقدار ہے۔ مگر شاید خود نمائی ان کی طبعی ساخت اور شخصیت کا حصہ ہی نہیں ہے۔ وہ منظرِ عام سے پسِ پردہ رہ کر، نہایت خاموشی، یکسوئی اور محنت سے اپنے کام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دورِ حاضر کے تقاضوں، بالخصوص ڈیجیٹل میڈیا اور سکرین کی دنیا سے بچوں کے بڑھتے ہوئے لگاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے، حال ہی میں انہوں نے بچوں کے لیے ویب سائٹ کا باقاعدہ اجرا بھی کیا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ جدید دور کے بدلتے ہوئے مزاج اور تکنیکی تقاضوں سے بھی بخوبی واقف ہیں۔
کچھ دن قبل راقم کو فاروقی صاحب کی جانب سے دو کتب موصول ہوئیں: ”کپتان جی“ اور ”ادھورا کھیل“۔ ”کپتان جی“ پر میں پہلے ہی تفصیل سے تبصرہ کر چکا تھا اور اب جب ”ادھورا کھیل“ کو پڑھنے کا موقع ملا تو دل بے حد مسرور ہوا۔ عبدالرشید فاروقی صاحب اب خود تو نسبتاً کم لکھتے ہیں مگر ایک زمانہ تھا جب وہ بچوں کے ایک معروف ہفت روزے میں جسے اردو جاسوسی ادب کا عظیم الشان نام اشتیاق احمد مرحوم چلایا کرتے تھے، نہایت باقاعدگی اور تسلسل کے ساتھ لکھا کرتے تھے۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ اب اس ہفت روزے کا وہ معیار اور وقار نہیں رہا جو اشتیاق صاحب کے دور میں ہوا کرتا تھا اور نہ ہی اب اچھے اور کہنہ مشق لکھاری اس میں لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
زیرِ تبصرہ کتاب ”ادھورا کھیل“ دراصل ”انسپکٹر جنید سیریز“ کا ناول نمبر ایک ہے۔ یہ نام سنتے ہی اشتیاق احمد مرحوم کی تخلیق کردہ لازوال ”انسپکٹر جمشید سیریز“ کا نقشہ نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ فاروقی صاحب نے اس ناول کو مکمل طور پر اسی ٹریڈ مارک اور روایتی طرز پر ڈھالا ہے۔
اگرچہ یہ سوا دو سو صفحات پر مشتمل منی خاص نمبر کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس کے اندر سسپنس، تحیر، اور دلچسپی کا گراف بالکل اسی انداز میں قائم رکھا گیا ہے جس طرح اشتیاق احمد صاحب اپنے ناولز میں رکھا کرتے تھے۔ پہلے صفحے سے لے کر اخری صفحے تک کہانی کی گرفت سے آزاد ہونا محال ہے۔
اشتیاق احمد صاحب کے طرزِ تحریر کو اپنانے اور اسے آگے بڑھانے کی کوششیں اس سے قبل بھی ہوتی رہی ہیں۔ میں نے اس سے پہلے عماد حسن کے کچھ ناولز پڑھے تھے، جنہوں نے بھی اشتیاق صاحب کے اسلوب کو بہت خوبصورت طریقے سے آگے بڑھانے کی کامیاب کاوش کی تھی۔ یقیناً، اشتیاق احمد صاحب کا ادبی مقام اور مرتبہ اپنی جگہ پر قائم و دائم اور غیر متزلزل ہے۔ اس مقام کو نہ تو کوئی چھین سکتا ہے اور نہ ہی اس کی جگہ لے سکتا ہے۔ لیکن ان کے طرزِ نگارش کو زندہ رکھنا اور نئی نسل کے سامنے پیش کرنا تحسین کے قابل قدم ہے۔
مو جودہ دور، جو مصنوعی ذہانت، سائنسی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، اس میں کچھ لوگ ناول نگار بنتے نظر آتے ہیں جو سوائے مضحکہ خیز حرکت کے سوا کچھ نہیں ۔ تاہم ماضی کے اس قسم کے جاسوسی ناولز لکھے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ جب بھی اشتیاق صاحب کے طرزِ تحریر اور ان کے مانوس انداز میں کوئی نیا ناول لکھا جائے گا، تو ان کے پرانے اور نئے مداح اسے نہ صرف لازماً پڑھیں گے بلکہ کھلے دل سے پسند بھی کریں گے۔
اشتیاق احمد کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج بھی جب ملک کے کسی کونے میں کتب میلے منعقد ہوتے ہیں تو وہاں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابیں اسی مرد قلندر کی ہوتی ہیں۔ یہ وہ مسلمہ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔
ناول ”ادھورا کھیل“ کا آغاز فاروقی صاحب نے ”حمود، فاروق، فرحانہ اور انسپکٹر جنید سیریز“ کے عنوان سے کیا ہے۔ کتاب کا آغاز شروعات بالکل اسی روایتی انداز میں کیا گیا ہے جو اشتیاق احمد کا خاصہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ کتاب کا انتساب بھی انہی کے نام معنون کیا گیا ہے، جو فاروقی صاحب کے ظرف اور ان کی محبت کا بین ثبوت ہے۔
تاہم، فاروقی صاحب نے چھوٹی سی جدت یا تبدیلی کی ہے:
اشتیاق صاحب معمول کے مطابق ناول کے شروع میں ”دو باتیں“ لکھا کرتے تھے، جو ایک طرح سے مصنف کی طرف سے قاری سے براہِ راست گفتگو اور ناول کا اجمالی خلاصہ یا پس منظر ہوا کرتی تھی۔ فاروقی صاحب نے اسے اپنے مخصوص انداز میں ”میری بات“ سے تبدیل کر دیا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد، ناول کا باقاعدہ آغاز انہی یادگار سطور اور مکالماتی اسلوب سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے، نقطے سے نقطہ جڑتا جاتا ہے اور پڑھنے والا کہانی کے تانے بانے میں الجھتا چلا جاتا ہے۔
کردار نگاری کے لحاظ سے ناول میں وسیع اور متنوع کینوس پیش کیا گیا ہے۔ اس میں پرانے اور مانوس کرداروں کے ساتھ ساتھ کچھ نئے روپ شامل کیے گئے ہیں:
بیگم جنید اور بیگم شیرازی کا گھریلو اور شفقت بھرا ماحول،
اکرام، گامی اور خان رحمن کی مخصوص پہچان اور متحرک موجودگی محمد حسین آزاد، شا زی، پرویز اختر، اور خرم جیسے متعدّد دیگر کردار ناول میں شامل ہیں۔
یہ تمام کردار اپنے اپنے مثبت اور منفی دائرہ کار میں رہ کر کہانی کا پلاٹ بنتے ہیں اور ناول کے تانے بانے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ کہانی کا اختتام بالآخر اسی روایتی منطقی نتیجے پر ہوتا ہے، جس طرح اشتیاق صاحب ایک ایک کڑی سے دوسری کڑی ملاتے جاتے تھے، الجھنوں کی گرہ کھولتے تھے اور بالآخر مجرم قانون کے شکنجے میں اور کٹہرے میں جا پہنچتے تھے۔
ناول ”ادھورا کھیل“ کا بنیادی اور مرکزی تھیم فرضی سنسنی خیز داستان نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ہمارے وطنِ عزیز کی حقیقی جیو پولیٹیکل صورتحال اور پڑوسی ملک کی ناپاک سازشوں سے ہے۔
اگر ہم سنہ 2010ء سے لے کر 2020ء تک کی دہائی کا جائزہ لیں، تو پاکستان نے دہشت گرد ی، بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا ایک خونی اور بدترین دور دیکھا ہے۔ اس سیاہ دور میں جہاں ہمارا روایتی حریف ملک کھل کر تخریب کاری میں ملوث رہا، وہاں بسا اوقات پڑوسی اسلامی ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اور مفادات بھی اس سازش کا حصہ بنے رہے۔
فاروقی صاحب نے اپنے ناول کا تانا بانا اسی حساس اور سنگین حقیقت کے گرد بونا ہے۔ ناول اس دردناک اور تلخ حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ جب بھی ملک میں کوئی بڑی واردات، بم دھماکہ یا تخریبی سازش ہوتی ہے، تو جب تک اندر کے کچھ غدار اور بکے ہوئے عناصر اس میں شامل نہ ہوں، غیر ملکی طاقتوں کے لیے ایسی کارروائیاں کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ ناول یہ مثبت اور پر امید پیغام بھی دیتا ہے کہ اگر ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے، خفیہ ایجنسیاں اور پولیس ٹھان لیں اور تہہ تک پہنچنا چاہیں تو ان مجرموں اور سازشی عناصر کو بے نقاب کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
آج بھی ہمارے صوبے خیبر پختونخوا، بلوچستان، اور اندرونِ سندھ میں ہمیں اکثر و بیشتر ایسے ہی سیکیورٹی چیلنجز اور بیرونی سازشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ محبِ وطن شہری کی حیثیت سے دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو تمام اندرونی و بیرونی سازشوں، دشمنوں کی نظرِ بد، اور تخریب کاری سے ہمیشہ محفوظ و مامون رکھے۔ آمین۔
ناول کے اختتام پر عبدالرشید فاروقی صاحب نے اشتیاق احمد مرحوم کی ایک اور بہت ہی پیاری اور مقبول روایت کو بڑی مہارت کے ساتھ برقرار رکھا ہے۔ اشتیاق صاحب اپنے ہر ناول کے آخری صفحے پر اگلے آنے والے ناول کی مختصر، سسپنس سے بھرپور جھلک دیا کرتے تھے تاکہ قارئین کا اشتیاق برقرار رہے۔
اسی طرح، ”ادھورا کھیل“ کے اختتام پر بھی فاروقی صاحب نے اگلے ناول کی جھلک پیش کی ہے، جس کا نام ”جانی“ درج کیا گیا ہے۔
اب یہ بات تو علم میں نہیں کہ آیا یہ ناول ”جانی“ زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آ چکا ہے یا یہ سلسلہ فی الحال یہی تک رک گیا ہے تاہم یہ کاوش بذاتِ خود اشتیاق احمد صاحب کی عظمت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی انتہائی خوبصورت، مخلصانہ اور کامیاب کوشش ہے۔
جاسوسی ادب اور بالخصوص بچوں کے ادب سے لگاؤ رکھنے والے تمام قارئین، جنہوں نے اپنے بچپن یا جوانی میں اشتیاق احمد کے ناولز کی سحر انگیز دنیا میں وقت گزارا ہے، کے لیے یہ ناول نایاب تحفہ ہے۔ میں نے خود اپنے مطالعہ کے دوران اشتیاق صاحب کے کم و بیش 40 سے 50 ناولز پڑھ رکھے ہیں، اس لیے اس ناول کا مطالعہ میرے لیے ماضی کی حسین یادوں کی بازگشت اور نہایت خوشگوار تجربہ ثابت ہوا۔
آج کے دور میں بعض لوگ یا ناقدین اس طرح کے ناولز کی تخلیق کو تقلید یا پرانی باتوں کا اعادہ سمجھ کر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں یا اسے کم تر گردانتے ہیں۔ لیکن اگر ہمیں دورِ حاضر کے جدید تقاضوں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے انکشافات، مصنوعی ذہانت، جدید جاسوسی علوم کو نوجوان نسل اور بچوں کے سامنے لانا ہے، تو اس کے لیے اس اندازِ تحریر کو زندہ رکھنا اور وقت کے ساتھ ڈھالنا ناگزیر ہے۔ یہ طریقہ کار بچوں میں مطالعے کی رغبت پیدا کرنے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔
میں محترم عبدالرشید فاروقی صاحب کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اتنی عمدہ اور نفیس کتب تحفتاً ارسال فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے، ان کی قلمی صلاحیتوں میں مزید برکت دے اور انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔
