دے کے اپنا لہو سینچا تھا جسے
وہ پرچم کیوں تار تار کرتے ہو
14 اگست ، کہنے کو آزادی کا دن لیکن کیا ہم واقعی آزاد ہیں ؟ ہم ایک ان دیکھی زنجیر میں اپنے ہاتھ، زبان، نگاہ اور سوچوں کو باندھے ہوئے ہیں ، ہم اغیار کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی کی طرح ہیں ہماری ڈور کو جس سمت ہلا دیا جائے ہم بےزبان مخلوق کی طرح اس حکم کو بجا لاتے ہیں۔ ہماری تہذیب اور ثقافت کے پرخچے اڑائے جا رہے ، ہمارے ملبوسات کو جدت کے نام پر بے حیائی میں ڈھالا جا رہا۔ ہماری نگاہوں کو رنگین و گمراہ کن مناظر دکھا کر لبھایا جا رہا ہے۔ تعلیم کو جدید نظام تعلیم کا نام دے کر ہمارے دماغوں کو مدہوشی کا زہر پلایا جا رہا ۔کیا یہ وہ آزادی ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔جس کی تعبیر میں قائداعظم نے دن رات کوشش کی، ہمارے آباؤاجداد نے اپنا لہو بہایا ۔ہماری ماؤں ،بہنوں کی عصمت دری کی گئی۔ لوگ بےگھر ہوئے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم آزادی کا دن ایک سوئی ہوئی قوم کی حیثیت سے منا رہے ہیں، مادر پدر آزاد قوم جنھیں آزادی کا شعور نہیں ہے۔
اے دل !بتا ہم آزادی منائیں کیسے
بندھے ہاتھ سے وطن سجائیں کیسے
