بہت پرانے زمانے کی بات ہے ایک شہر میں لوگ مٹی اور پتھر کے بت بنا کر ان کی پوجا کرتے تھے۔
اس شہر میں ایک بہت ذہین اور بہادر لڑکا رہتا تھا۔ نام تھا "ابراہیم"۔
ابراہیم کے والد بت بنانے کا کام کرتے تھے۔ دکان میں بڑے بڑے بت پڑے ہوتے۔ کچھ لکڑی کے، کچھ مٹی کے۔
ایک دن ابراہیم نے اپنے والد سے پوچھا:
"ابو! یہ بت نہ بول سکتے ہیں، نہ کھا سکتے ہیں، نہ کسی کی مدد کر سکتے ہیں... تو لوگ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟"
والد نے کہا: "بیٹا یہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ ہے"
ابراہیم سوچ میں پڑ گئے۔ وہ رات کو آسمان کو دیکھتے۔ چاند، ستارے، سورج۔ پھر کہتے: *"میرا رب وہ ہے جس نے یہ سب بنایا"
شہر میں ایک بڑا میلہ لگا۔ سب لوگ میلہ دیکھنے چلے گئے۔ بتوں کو مندر میں اکیلا چھوڑ گئے۔
ابراہیم کو موقع مل گیا۔ وہ کلہاڑی لے کر مندر میں گئے۔
سب سے بڑے بت کے علاوہ باقی سب بت توڑ دیے! ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔
بڑے بت کے گلے میں کلہاڑی لٹکا دی۔
جب لوگ واپس آئے تو چیخنے لگے: "ہمارے بتوں کو کس نے توڑا؟"
کسی نے کہا: "ہم نے ابراہیم کو بتوں کے بارے میں باتیں کرتے سنا تھا"
لوگ ابراہیم کو پکڑ کر لائے اور پوچھا: "کیا تم نے ہمارے بت توڑے؟"
ابراہیم مسکرا کر بولے:
"وہ بڑا بت کھڑا ہے۔ اس سے پوچھو۔ شاید اسی نے توڑے ہوں۔ اس کے ہاتھ میں کلہاڑی بھی ہے"
لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ ایک سمجھدار بولا: "یہ تو بول بھی نہیں سکتے"
ابراہیم نے کہا: "تو پھر تم ان کی عبادت کیوں کرتے ہو جو اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے؟"
لوگ بہت غصے ہوئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم کو آگ میں جلا دیں گے۔
بہت بڑی آگ جلائی گئی۔ اتنی بڑی کہ پرندے بھی قریب نہیں جاتے تھے۔
ابراہیم کو تپتی ہوئی آگ میں ڈال جلانے کی نیت سے پھینکا گیا۔
لیکن اللہ نے آگ کو حکم دیا: *"اے آگ! ابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا"
اور اللہ پاک نے ابرہیم علیہ السلام کے ذریعے اپنی قدرت سے معجزہ دکھانا تھا تو۔
آگ گلاب کا باغ بن گئی۔ ابراہیم اس میں سکون سے بیٹھے اللہ کی عبادت کرتے رہے۔ ان کا ایک بال بھی نہیں جلا۔
سب لوگ یہ معجزہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔
پیارے بچو!
"صرف اللہ ہی عبادت کے لائق ہے۔ وہی سب کا پالنے والا اور مدد کرنے والا ہے۔ سچ کے راستے پر چلنے والے کو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑتا"
ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے اپنا "خلیل" یعنی سب سے اچھا دوست بنا لیا۔
