🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید

مستقل سلسلہ

میری بات

میری بات / افضل ترین نے کیا  ایک اچھا کام

میری بات / افضل ترین نے کیا ایک اچھا کام

عبدالرشید فاروقی
عبدالرشید فاروقی
10 جولائی، 2026۲۹ مرتبہ پڑھی گئی

السلام علیکم ! کیسے ہیں آپ سب!

اُس نے کبھی خود کو دوسروں سے کسی طور بھی اچھا ، ذہین اور اپنے کاموں میں ماہر تصور نہیں کیا تھا۔ ہمیشہ دوسروں کی عزت کیا کرتا تھا۔ اپنے آپ میں مگن رہنے والے اُس لڑکے کی عمر یہی چودہ ، پندرہ سال رہی ہوگی۔ اپنے کام سے کام رکھنے والے اس لڑکے کو محلے کے سبھی لوگ اچھی نظروں سے دیکھتے تھے۔ ایک دن اُس لڑکے نے ایک بہت اچھا کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ارے! میں آپ کو اُس کا نام توبتانا بھول ہی گیا۔ اُس کا نام افضل ترین تھا۔ وہ پڑھائی لکھائی میں بھی اچھا تھا۔ اُس کے دوست بھی اُسے بہت پسند کرتے تھے، شاید اِس لیے کہ وہ اُن کی اُن کے مختلف کاموں میں مدد کیا کرتا تھا۔ دوسروں کے کام آنا تو اچھی بات ہے نا، اِس عمل سے اللہ پاک بہت خوش ہوتے ہیں اور اپنی رحمتوں ، برکتوں سے نوازتے ہیں۔ افضل ترین نے دوستوں اور محلے والوں سے مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا تھاکہ وہ اپنے محلے کی گلیوں کو صاف ستھرا رکھے گا، کیوں کہ صفائی کو نصف ایمان کہا گیاہے۔ محلے والے اور اُس کے سبھی دوست اُس کے ساتھ تھے۔ وہ گرمیوں کے دن تھے۔ ماحولیاتی آلودگی اور موسموں کی تبدیلی کی وجہ سے ملک بھر کے لوگ بلکہ دُنیا بھر کے لوگ بہت پریشان تھے۔اُنھوں نے دن رات محنت کی اور آخر ایک دن افضل ترین اور اُس کے ساتھیوں کی محنت سے پورا محلہ چمکنے لگا تھا۔ جہاں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر دکھائی دیتے تھے ، وہاں اب ہر چیز صاف ستھری ہوگئی تھی۔ لوگوں نے گلیوں میں کچرا پھینکنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ اپنے گھروں کی جس طرح صفائی کرتے تھے، بالکل اُسی توجہ سے اپنی گلیوں کو بھی صاف کرنے لگے۔ ایک دن محلے کےایک بزرگ اشرف چچا، افضل ترین سے ملے اورکہنے لگے:

بیٹا! تم اور تمھارے ساتھیوں نے مل کر پورے محلے کی کایا ہی پلٹ دی ہے ، گندگی کا صفایاہوگیا ہے، میں یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوں کہ کوئی تو ہے جس نے اِس بارے میں سوچاہے۔

شکریہ اشرف چچا! ٗٗ

یٹا ! اگر تم سب مل کر ایک اور کام کر گزروتو اُس کا بہت فائدہ ہوگا۔

کون سا کام چچا! افضل ترین نے چونک کر پوچھا۔

یٹا! تم جانتے ہو کہ موسموں کی یہ سختی کس وجہ سے ہے!

موسموں کی سختی! اوہ....افضل ترین کے منہ سے نکلا۔

بیٹا ! تم ٹھیک سمجھے! میں درختوں کی ہی بات کر رہا ہوں ، اگر ہمارے محلے میں سایہ دار کچھ درخت لگ جائیں تو کیا ہی بات ہے ، نہ صرف محلے میں رونق لگ جائے گی بلکہ یہاں کا موسم بھی اچھا ہوجائے گا، ہمارے زمانے میں ، جگہ جگہ درختوں کی بھرمار تھی ، اُس کی وجہ سے موسم بہت اچھا رہتا تھا، یہ جو تم موسمیاتی تبدیلیاں اور اُس کی تباہ کاریاں دیکھ رہے ہو ، یہ درختوں کو ختم کرنے کا ہی نتیجہ ہے، میری خواہش ہے ، ہمارے گلی محلوں ، بازاروں ، شہروں غرض ہر جگہ درخت لگا جائیں ، اِس سے ہمارے ملک کا ٹمپریچر بہت اچھا ہوجائے گا ، گرمی کی شدت میں بہت حد تک کمی ہوجائے گی۔چچا اشرف کہتے چلے گئے۔اُ ن کی بات سن کر اضل ترین مسکرانے لگا ، پھر بولا:

چچا ! آپ نے بہت اچھی باتیں کی ہیں، ٹھیک ہے ، میں دو ایک دن میں محلے والوں اور اپنے تمام دوستوں کے ساتھ مل کر کام کا آغاز کروں گا ، ان شا ء اللہ۔ اِس سلسلے میں ہمیں کچھ فنڈز بھی درکار ہوں گے۔افضل ترین نے کہا تو چچا اژرف جلدی سے بولے:

فنڈز کے سلسلے میں نہ صرف خود تعاون کروں گا بلکہ اپنے تمام دوستوں سے بھی کہوں گا کہ تمھاری مدد کریں۔

ٹھیک ہے ، آپ بہت اچھے ہیں۔ہم بہت جلد یہ کام بھی کر گزریں گے! یاد دہانی کا شکریہ!ٗٗ افضل ترین نے کہا اور پھر واقعی اگلے چند مہینوں میں محلے بھر میں جگہ جگہ پھول ، پودے اور ننھے ننھے درخت دکھائی دینےلگے جومستقبل میں اُن کا ماحول بدلنے والے تھے۔

اچھے دوستو! افضل ترین اور اُس کے دوستوں نے تو یہ سب کرلیا تھا ، آپ کب اِس اچھے کام کا آغاز کریں گے ؟

آپ کا فاروقی

عبدالرشید فاروقی

مدیر

عبدالرشید فاروقی

آپ بچوں کے ادب سے سال اُنیس سو تراسی سے منسلک ہیں۔ بے شمار کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ تین جاسوسی ناولز ، چار کہانیوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ قسط وار ناول اِن کے علاوہ ہیں۔ ادب اطفال میں اُستاد جی کے نام