پیارے بچو!
کہانی گھر میں خوش آمدید۔
بھالو اپنے گھر کے ایک کونے میں آرام کر رہا تھا۔ جنگل کا موسم بے حد اچھا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اور اُس سے پیدا ہونے والی درختوں کے پتوں کی آواز ماحول میں ایک سکون سا بنا رہی تھی۔ بھالو کافی دیر تک سویا رہا ، پھر اچانک اُسے ایک خیال آیا اور وہ مسکراتا ہوا اُٹھا اور اپنی امی کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا۔ اُس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ اُس کی امی اپنے کام میں مصروف تھیں، اُنھوں نے گردن گھما کر اُسے دیکھا اور بولیں:
کیا بات ہے بھولو! کچھ چاہیئے تمھیں؟
بھالو نے کہا:
امی! میں سوچ رہا ہوں کہ جنگل میں موجود اپنے جیسے بچوں کے لیے کوئی کام کروں؟ ایک ایسا کام جسے کرکے وہ خوشی محسوس کریں ، آپ جانتی ہیں ، دوسروں کو خوشی دینا کس قدر اچھی بات ہے ، اللہ پاک اِس سے بہت خوش ہوتے ہیں۔ جب اللہ پاک خوش ہوتے ہیں تو سب کو خوشی ملتی ہے۔
اُس کی بات سن کر امی مسکرائیں، بولیں:
بھولو! یہ تو بہت اچھی بات ہے، میں اِس کام میں تمھاری پوری مدد کروں گی۔ کیا کیا کرنے کا ارادے بنایاہے تم نے؟
میں جنگل کے تمام بھالوؤں اور دوسرے ننھے جانوروں کے لیے ایک میگزین کا اجرا کروں گا۔ جس میں بہت سی کہانیاں ، بہت سے قصے، نظمیں اور وہ سبھی کچھ ہوگا جسے میرے دوست پسند کریں گے۔ میں نہ صرف خود کہانیاں ، نظمیں لکھوں گا بل کہ دوستوں سے بھی لکھواؤں گا۔
ضرور لکھوانا ، یہ ایک بہت اچھی سرگرمی ہوگی، اِس دور میں جب سبھی کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے، ایسے میں دوسروں کی فلاح ، دلچسپی، شوق اور تفریح کے لیے کچھ کرنا بہت بڑی بات ہے۔ میں دُعا کروں گی کہ اللہ پاک تمھیں کامیابی عطا کرے، میں تمھارے ساتھ ہوں۔ امی نے کہا۔
پھر بھالو نے کر دکھایا ۔ کہانی گھر کے نام سے ایک خوب صورت میگزن پورے جنگل میں پھیل گیا۔ ننھے جانوروں کے ساتھ ساتھ بڑے جانور اور پرندے بھی کہانی گھر کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ کیا آپ بھی خوش ہیں؟

