یہ 1995کی بات ہے ، میں کہانی گھر کے نام سےماہانہ پھول لاہور میں ایک سلسلہ لکھتا رہا ہوں۔ اِس سلسلےکو بچوں نے بہت پسند کیا تھا۔ ہر ماہ ایک کہانی لکھتی جاتی تھی۔ ہر ماہ دادا ، دادی ، نانا، نانی۔ چچا اور چچی کہانی گھر مین آکر بچوں کو مخاطب کرکے ایک دلچسپ کہانی سنایا کرتے تھے۔ خیال یہ تھا کہ گھروں سے کہانی سنانے کی جو روایت تھی ، وہ ناپید ہو رہی تھی تو اس سلسلے کو نئی صورت میں برقرار رکھنے کے لیے کہانی گھر لکھا گیا تھا۔ ایک بہت بڑے ہال میں بچے ہر شام اپنے بڑوں کے ساتھ جمع ہوتے ، سٹیج پر ایک بزرگ کے لیے ایک کرسی مخصوص تھی، وہ اُس پر بیٹھ کر اپنی زندگی کے تجربات کو کہانی کی شکل میں بچوں کے سامنے بیان کرتے تھے۔ بچے اُن کے تجربات کو کہانی کی شکل میں سن کر بہت محظوظ ہوتے تھے۔ پاکستان کے لکھاری نوجوانوں کی تنظیم اس پروگرام کا انعقاد کیا کرتی تھی۔ دل موہ لینے والے ماحول میں بچے کہانی ، کہانی میں بہت سی باتیں سیکھ ، سمجھ لیتے تھے۔ کہانی گھر کی پھول میں مقبولیت دیکھ کر پی ٹی وی سے ایک سلسلہ کہانی گھر کے نام سے شروع کیا گیا۔ اُس میں مختلف ڈراما رائٹرز کے افسانے ، کہانیاں ڈرامے کی شکل میں پیش کیے جاتے تھے۔ پھول والے اسی نام سے پاکستان کے مختلف شہروں اپنی تنظیم کے تحت پروگرام یعنی کہانی گھر پیش کرنے لگے۔ کہانی گھر کے خالق یعنی عبدالرشید فاروقی نے اسی خیال پر کہانی گھر ڈیجیٹل میگزین کی شکل میں پیش کر دیا ہے۔ اس میں وہ سب ہوگا جو بچوں کو پسند ہے، تعلیم ، تفریح اور تربیت اس کا ماٹو ہے۔ یہ آغاز ہے ، ارادے بہت بلند ہیں ، ملک بھر میں پھیلے ہوئے لکھاریوں کے تعاون سے اِس ویب سائٹ کو کامیاب بنایا جائے گا۔ ان شاء اللہ
آپ کا فاروقی

