🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
جب سمندر بیمار ہونے لگیں
جماعت ۴ تا ۶جماعت ۷ تا ۱۰

جب سمندر بیمار ہونے لگیں

ایشال سرفراز۔ بیکن ہاؤس، مین کیمپس، بہاولپور
18 ستمبر، 2026۳ مرتبہ پڑھی گئی

جب سمندر بیمار ہونے لگیں سنیں

جب سمندر بیمار ہونے لگیں

رپورٹ: ایشال سرفراز

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جس سمندر کو ہم دور سے دیکھ کر صرف نیلا اور خوب صورت سمجھتے ہیں، وہ اندر سے کیسا ہے؟ اس کے نیچے ایک پوری دنیا آباد ہے۔ رنگ برنگی مچھلیاں، کچھوے، ڈولفن، وہیل اور بے شمار دوسرے جاندار اسی دنیا میں رہتے ہیں۔ لیکن آج یہ خوب صورت دنیا خطرے میں ہے، اور اس خطرے کی ایک بڑی وجہ خود انسان ہے۔

دنیا کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں سے ڈھکا ہوا ہے۔ دنیا کے سمندری علاقے عام طور پر پانچ بڑے سمندروں میں تقسیم کیے جاتے ہیں: بحرالکاہل، بحرِ اوقیانوس، بحرِ ہند، بحرِ منجمد شمالی اور بحرِ جنوبی۔ پاکستان کے قریب واقع بحیرۂ عرب، بحرِ ہند کا حصہ ہے۔

انسان نے اپنی سہولت کے لیے بہت سی چیزیں ایجاد کیں، لیکن بعض اوقات ان چیزوں کا نقصان ماحول کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ سمندروں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ہم روزانہ پلاسٹک کی بوتلیں، تھیلیاں، ریپر اور دوسری چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ جب یہ کچرا زمین پر پھینکا جاتا ہے تو بارش اور نالوں کے ذریعے دریاؤں تک پہنچ سکتا ہے اور آخرکار سمندر میں جا گرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق ہر سال تقریباً 11 ملین ٹن پلاسٹک سمندروں میں داخل ہوتا ہے۔ یوں ہماری پھینکی ہوئی ایک چھوٹی سی بوتل بھی سمندر میں ایک بڑے مسئلے کا حصہ بن جاتی ہے۔

سمندری جاندار اس کچرے سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ کچھوے پلاسٹک کے تھیلوں کو خوراک سمجھ کر نگل سکتے ہیں، جبکہ مچھلیاں پلاسٹک کے چھوٹے ٹکڑے کھا سکتی ہیں۔ کئی جانور پرانے جالوں، رسیوں اور پلاسٹک میں پھنس کر زخمی ہو جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں 800 سے زیادہ سمندری اور ساحلی انواع پلاسٹک کی آلودگی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ جس چیز کو انسان چند منٹ استعمال کرکے پھینک دیتا ہے، وہ کسی جاندار کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

صرف کچرا ہی سمندر کا دشمن نہیں۔ شہروں اور کارخانوں سے نکلنے والا گندا پانی اور بعض نقصان دہ مادّے بھی سمندر تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی طرح کبھی کبھی جہازوں سے تیل سمندر میں پھیل جاتا ہے۔ اس سے پانی آلودہ ہوتا ہے اور سمندری جانداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

انسان سمندر سے بہت بڑی مقدار میں مچھلیاں بھی پکڑتا ہے۔ مچھلی پکڑنا بہت سے لوگوں کے لیے خوراک اور روزگار کا ذریعہ ہے، لیکن جب ضرورت سے زیادہ مچھلیاں پکڑی جائیں تو ان کی تعداد کم ہونے لگتی ہے۔ اس سے سمندر کا قدرتی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسے جال بھی استعمال ہوتے ہیں جن میں مچھلیوں کے ساتھ دوسرے جاندار بھی غلطی سے پھنس جاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت کے مطابق ماہی گیری اور آبی زراعت کا شعبہ دنیا بھر میں 60 کروڑ سے زیادہ لوگوں کے روزگار کو سہارا دیتا ہے۔ اس لیے سمندروں کو پہنچنے والا نقصان صرف سمندری جانداروں ہی نہیں بلکہ انسانوں کی زندگی اور روزگار کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ایک اور بڑا مسئلہ زمین کا بڑھتا ہوا درجۂ حرارت ہے۔ انسان کوئلہ، تیل اور گیس بڑی مقدار میں استعمال کرتا ہے، جس سے ماحول کی گرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ 2024 میں فوسل ایندھن کے استعمال سے تقریباً 37.4 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوئی۔ سمندر اس کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک بڑا حصہ جذب کرتے ہیں؛ گزشتہ دہائی میں سمندروں نے انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تقریباً 29 فیصد جذب کیا۔ لیکن اس اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے جذب ہونے سے سمندری پانی کی کیمیائی خصوصیات بھی بدلتی ہیں، جس سے سمندری جانداروں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

جب سمندر کا پانی زیادہ گرم ہوتا ہے تو بہت سے جانداروں کے لیے زندگی مشکل ہو سکتی ہے۔ مرجان، جو سمندر کے اندر بہت سے جانداروں کو گھر فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر گرم پانی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ سب سن کر شاید ہمیں لگے کہ اتنے بڑے مسئلے کے سامنے ہم کیا کر سکتے ہیں؟ لیکن تبدیلی ہمیشہ ایک بڑے قدم سے نہیں آتی۔ ہم چھوٹی چھوٹی عادتیں بدل کر بھی اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ پلاسٹک کا استعمال کم کرنا، کچرا صحیح جگہ پھینکنا، دوبارہ استعمال ہونے والی بوتل اور تھیلی استعمال کرنا اور ساحلوں کو صاف رکھنا ایسے کام ہیں جو ہم سب کر سکتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم دوسروں کو بھی سمجھائیں کہ سمندر صرف پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ نہیں بلکہ لاکھوں جانداروں کا گھر ہے۔ سمندر زمین کے موسم اور آب و ہوا کو متوازن رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم آج اس گھر کو آلودہ کریں گے تو کل اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔

سمندر ہمیں بہت کچھ دیتے ہیں، اب ہماری باری ہے کہ ہم بھی ان کا خیال رکھیں۔ اگلی بار جب آپ سمندر کی لہروں کو دیکھیں تو صرف اس کی خوب صورتی نہ دیکھیں، بلکہ یہ بھی سوچیں کہ اس نیلے جہان کو محفوظ رکھنے کے لیے میں کیا کر ہوں؟

کیونکہ اگر سمندر کی زندگی محفوظ رہے گی، تو ہماری زمین بھی زیادہ خوب صورت اور محفوظ رہے گی۔

ہم اپنے سمندروں کی حفاظت نہیں کریں گے تو ان کی یہ حالت ہو جائے گی اور تمام جاندار خطرے میں پڑ جائیں گے۔

اگر ہم سمندر کی حفاظت کریں گے تو سمندر ہماری حفاظت کرے گا . ۔

لکھاری

ایشال سرفراز۔ بیکن ہاؤس، مین کیمپس، بہاولپور

ایشال سرفراز بیکن ہاؤس سکول سسٹم میں گریڈ 8 کی سٹوڈنٹ ہے