🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید — پاکستان کا پہلا بچوں کا ڈیجیٹل اردو میگزین 📚 نئی کہانیاں ہر ہفتے شائع ہوتی ہیں ✍️ آپ بھی اپنی کہانی بھیجیں 🌟 کہانی گھر میں خوش آمدید
انٹرویوانٹرویو لینے والے: تابندہ طارق عکس / دانیال حسن چغتائی

بچوں / بڑوں کے ہر دل عزیز اور سرمد سیریز لکھنے والے مقبول لکھاری۔۔۔۔۔۔۔کاوش صدیقی

چار دہائیوں سے نسلوں کی تربیت کرتا قلم… سرمد سیریز کے خالق کاوش صدیقی سے کہانی گھر کی خصوصی گفتگو۔ پہلی کہانی، کراچی سے لاہور تک کا سفر، سرمد کے پیچھے چھپی حقیقت اور نو عمر ڈائجسٹ کی نئی اڑان — سب کچھ ان کی اپنی زبانی۔

23 اکتوبر، 2026۲۸ مرتبہ پڑھی گئی

انٹرویو پینل:

دانیال حسن چغتائی

تابندہ طارق عکس

ادب کی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جن کے قلم کی روشنی نسلوں کی تربیت کرتی ہے۔ کاوش صدیقی صاحب کا شمار بھی اردو ادب کی انہی قد آور شخصیات میں ہوتا ہے۔ان کی تخلیقی ریاضت دہائیوں پر محیط ہے۔ عروس البلاد کراچی سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کرنے والے کاوش نے جب زندہ دلانِ لاہور میں سکونت اختیار کی تو ان کے قلم کو نیا تنوع اور وسعت ملی۔ 1980ء سے لے کر آج تک پاکستان کا شاید ہی کوئی ایسا مؤقر میگزین یا ڈائجسٹ ہو جس میں ان کے دل نشین قلم کے نقوش ثبت نہ ہوئے ہوں۔

ان کی تخلیقیت کا سب سے بڑا مظہر سرمد سیریز ثابت ہوا۔ ایسا شاہکار جس نے ہزاروں نوخیز ذہنوں کو کتاب سے جوڑ دیا۔ ان کے تخلیق کردہ کردار رفیق لنگڑا، شید اٹلی اور مائی جیناں آج بھی قارئین کے حافظے کا درخشندہ حصہ ہیں۔ بچوں کے لیے معصومیت اور اخلاقیات سے لبریز کہانیوں سے لے کر آنچ اور خواب گزیدہ جیسے بالغین کے سحر انگیز ناولوں تک، کاوش صاحب کا ہر لفظ رب کی وہ دین ہے جس نے قارئین کو مطالعے کا شائق بنایا۔ نو عمر ڈائجسٹ کے ازسرنو آغاز کے اس تاریخی مرحلہ پر، آئیے اس باکمال تخلیق کار کی ادبی و فکری زندگی کے پوشیدہ گوشوں کو وا کرنے کے لیے ان سے گفتگو کرتے ہیں۔

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سر! کیسے مزاج ہیں؟ سب سے پہلے آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود کہانی گھر سے گفتگو کے لیے خصوصی وقت عنایت فرمایا۔

آپ نے پہلی کہانی کب ، کیسے اور کہاں لکھی؟ اس کا بنیادی خیال کہاں سے آیا وجہ کیا تھی؟

اتفاق کچھ ایسا ہوا کہ میں نے پہلی ہی کہانی طویل لکھی جو جسارت اخبار میں تین قسطوں میں شائع ہوئی ۔ اس کانام تھا شرفو کہ کہانی ۔ اس میں شرفو کا کردار میرے ذہن میں ایک دوست کو دیکھ کر آیا تھا ۔ اس کے دو کردار شرفو اور اس کا دوست ارشد گولیماروی مجھے آج تک یاد ہیں ۔ اس میں موجود مقاماتِ وہ ہیں جہاں ہم گھومتے پھرتے رہے ہیں ۔

1980ء سے اب تک کا ادبی سفر چار دہائیوں پر محیط ہے۔ اس وقت اور آج کے دور کے قارئین کے ذوق میں کیا بنیادی فرق دیکھتے ہیں؟

جواب ۔ فرق تو قاری کے مطالعے میں آیا ہے اب ایک مصنف کے لئے خیال آرائی، لفاظی اور غیر منطقی صورت حال پر لکھ کر قاری کو مطمئن کرنا ممکن نہیں رہا ۔ تعلیم،مشاہدے اور انٹرنیٹ نے بہت سی چیزوں کو بے نقاب کردیا ہے ۔ اب قاری ۔ حقیقت اور سراب کے ساتھ ادیب کو بیک وقت نمٹنا پڑتا ہے ۔ میرے نزدیک یہ ایک اچھی علامت ہے کہ آپ کے لکھنے پر سوال اٹھتے ہیں اور بے دھڑک اٹھتے ہیں ۔

کراچی کی ادبی فضائیں اور لاہور کا ثقافتی ماحول، ان دو شہروں نے آپ کی شخصیت اور تخلیقی صلاحیت پر کیا اثرات مرتب کیے؟

جواب ۔ میرے لئے یہ دونوں ثقافتوں کے حوالے سے لوگوں کے رویوں کے اعتبار سے بہت دلچسپ رہے ۔ میں دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں سیکھتا ہوں ۔ میں نے دریا پہاڑ صحرا کو دیکھا اور محسوس کیا ہے اس لئے آپ کو میری لکھت میں زمین سے جڑے لوگ ملتے ہیں ۔

اندرون سندھ پنجاب لوگ سادہ ہیں پیار کرتے ہیں ۔ زبان کا کوئی جھگڑا نہیں ۔ آپ کے سمجھنے اور ردعمل سے تعلق استوار ہوتے ہیں ۔ اور جو چیز محسوسات کا حصہ بن جائے وہ تحریر میں نقب لگا کر کہیں نہ کہیں جھلکتی ، چھلکتی ضرور ہے ۔

جب آپ نے پہلا لفظ لکھا تھا، کیا اس وقت گمان تھا کہ یہ سفر اتنے طویل عرصے تک آب و تاب سے جاری رہے گا؟

جواب: اپنے آغاز پر اپنا انجام سفر کوئی نہیں جانتا نہ ہی راستے کے مراحل آپ از خود طے کرسکتے ہیں یہ وقت ہی طے کرتا ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ آپ جو بھی صلاحیت رکھتے ہیں وہ پائیدار ہونی چاہیے وقتی شوق لمحہ آخر تک ساتھ نہیں نباہ سکتا ۔ لکھنا شعور صلاحیت سیکھنے سمجھنے کا مستقل معاملہ ہے

پاکستان کا شاید ہی کوئی ایسا ڈائجسٹ یا میگزین ہو جس میں آپ کی تحریریں شائع نہ ہوئی ہوں ، اس مسلسل اور مقبولِ عام تخلیقی سفر کا راز کیا ہے؟

جواب ۔ میں نے ایک چیز سیکھی ہے کہ آپ جو بھی کریں مکمل وفاداری اخلاصِ نیت سے کریں ۔ میں نے کبھی مفت نہیں لکھا ۔ ایڈیٹر کی فرمائش پر لکھا ۔ اپنے اردگرد کے ماحول قاری کی ذہنی کیفیت کو سمجھ کر لکھا ۔ میں نے رومان کو لطف اور اعلیٰ جمالیاتی قدروں کے ساتھ لکھا ۔ یہ نہیں کی رومانیت کو جنسی خواہش کو ابھارنے اور لذت کشی سے ہمیشہ احتراز کیا ۔ میری کوئی کہانی ناول ایسا نہیں ہے جس کو گھر کا ہر فرد پڑھ نہ سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ میرے اندر کے سیلف سنسر نے ہر جگہ دروازے کھولے رکھے ۔ ایڈیٹر کو معلوم ہوتا ہے کہ کون کیسا لکھتا ہے ۔ میری کہانیاں تو اس وقت بھی براہ راست کتابت میں چلی جاتی تھیں ۔ سب سے اہم بات کہ آپ کو وقت کا پابند ہونا چاہیے مسودہ وقت پر دینا آپ کی ذمہ داری ہے۔

شروعات میں کن اساتذہ یا ادبی شخصیات کے طرزِ تحریر نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا؟

جواب ۔ ہر تحریر کو اس کے سماجی سیاسی ماحول میں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے قیام پاکستان سے پہلے پھر تقسیم کے مراحل ۔ نئی ریاست کی تشکیل و تعمیر نو ابتدائی طور پر جو کرب اذیت اس دوران سہی گئی اور ان کے متاثرین پڑھنے اور لکھنے والے آج کے ماحول سے بہت الگ ہیں اس لئے اس کو اسی تناظر میں سمجھنا چاہئے آج کے لوگ جس معاشرے میں جس گلوبل ورلڈ میں رہتے ہیں اس کے مسائل مختلف ہیں تحریر کو بھی اس حوالے سے دیکھنا چاہیے ۔ میرے نزدیک مجھے ہر اس تحریر نے متاثر کیا جس میں میں نے خود کو،اپنے احساس کو پایا ۔ کسی ایک نے نہیں ۔

ڈائجسٹ کی دنیا میں لکھنا اور قارئین کی پسند پر پورا اترنا کتنا مشکل یا آسان رہا؟

جواب ۔ آپ زندگی سے جس قدر جڑے ہوتے ہیں آپ کے احساسات اتنے ہی تاثر سے بھرپور ہوتے ہیں ۔ پھر آپ کے تجربات مشاہدات مطالعہ لفظوں کو برتنے کی صلاحیت ماحول کردار کا باہمی تال میل میں یہ سب چیزوں کا لمس تحریر میں جب قاری کو ملتا ہے تو وہ کہتا ہے یہی تو مجھے چاہیے یعنی قاری کو وہ چاہیے جو وہ ڈائجسٹ کرسکے ۔ تب آپ ڈائجسٹ کے کامیاب رائٹر بنتے ہیں ۔

ایک وقت تھا جب ڈائجسٹ ادب کا لازمی حصہ تھے ، آج کے ڈیجیٹل دور میں ڈائجسٹ کی بقا کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب: ڈائجسٹوں کے عروج کا دور آج بھی واپس آسکتا ہے شرط کہانی کو سمجھنے والے ایڈیٹر اور لکھاری کی ہے ۔ بہترین معاوضے کے بغیر آپ کو کمزور سی ہی کہانی مل سکتی ہے مضبوط مربوط قاری کو جذب کرنے والی کہانی کبھی نہیں مل سکتی ۔

لاہور منتقل ہونے کے بعد کیا آپ کے موضوعات اور اسلوب میں کوئی نمایاں تبدیلی آئی؟

جواب ۔ ہر لکھنے والے کو مقام اور معاشرت کی تبدیلی متاثر کرتی ہے ۔ میں نے اندرون پاکستان میں جو دیکھا سمجھا محسوس کیا اس سے میری کہانیاں زیادہ حسیات سے بھرپور ہوئیں پھر ملک سے باہر جرمنی ڈنمارک اسپین تھائی لینڈ عرب ممالک ان سب نے میرے کینوس کو وسیع کیا ۔ اور میں لوگوں سے بحیثیت انسان جڑنے اور سمجھنے میں کامیاب رہا ۔

وہ کون سا لمحہ تھا جب آپ کو احساس ہوا کہ اب آپ کا قلم معاشرے کے لیے ذمہ داری بن چکا ہے؟

جواب ۔ ادیب صرف اپنے ضمیر کی ذمہ داری ہوتا ہے ۔ باقی معاشرے کی اصلاح اس کی ذمہ داری کیسے ہو سکتی ہے؟

اسکول کالج پڑھانے کی ذمہ داری پوری کرتے ہیں ۔ امتحان پاس کرانے کی نوکری دلوانے کا بیڑہ نہیں اٹھاتے تو پھر ادیب کا قلم معاشرے کی ذمہ داری کیسے اٹھائے کی ذمہ داری کیسے لے سکتا ہے ۔ ادیب معاشرے کے ضمیر کی آواز ہے ۔ اس آواز پر لبیک کہنا لوگوں کی ذمہ داری ہے اس لیے یہ میرے نزدیک بے تکی بات ہے ۔ جیسے جوان لڑکا جب سدھرے نہ تو چلو جی اس کی شادی کر دو سدھر جائے گا ارے جس کو ماں باپ کی نصحیت استاد کے جوتے سیدھے نہ کرسکے اس کو اٹھارہ بیس برس کی لڑکی کیسے ٹھیک کر سکتی ہے جس پر لات جوتے اور طلاق کی تلوار لٹکی رہتی ہے؟

سرمد سیریز نے آپ کو بے پناہ مقبولیت بخشی، اس شاہکار ناول کا بنیادی خیال آپ کے ذہن میں کیسے آیا؟

جواب ۔ میں نے زندگی کو بہت قریب اور حقیقت کو بے حد عریاں تکلیف دہ دیکھا ہے ۔ سرمد کے متعلق ہر دوسرے شخص نے یہی پوچھا کہ کیا یہ سچ ہے ۔ کیا یہ آپ کی آپ بیتی ہے ۔کہیں سرمد آپ خود تو نہیں ۔ جب قاری کہانی و حقیقت میں فرق نہ ڈھونڈ پائے تو وہی کہانی ہم سب کی بلکہ پورے معاشرے کی اپنی داستان لگتی ہے ۔ آپ کو میں یہ بتاتا ہوں کہ سرمد میں حقائق کا دس فیصد بھی نہیں ۔ لوگ برداشت ہی نہیں کر پاتے ۔پھر یہ ٹین ایجرز کے لئے ہے اس لئے بھی لکھنے میں میں محتاط رہا ۔ سرمد تو پورے معاشرے کی کہانی ہے ۔

بچوں کا اسلام میں قسط وار اشاعت سے لے کر 6 حصوں کی کتابی شکل تک، سرمد کا یہ سفر کتنا یادگار رہا؟

جواب: بچوں کا اسلام کو پہلے میں نہیں جانتا تھا ۔ محمد فہیم عالم نے مجھے مدیر بچوں کا اسلام فیصل شہزاد صاحب سے ملوایا ۔ وہ فیصل شہزاد صاحب کے ساتھ گھر آئے تھے ۔ بات ہوئی گپ شپ ہوئی لیکن اس وقت تک سرمد کے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔

بعد میں مجھے فہیم عالم نے کہا کہ آپ کے پاس کوئی بچوں کے لئے کچھ لکھا ہوا ہے ۔ اس وقت تک میں نے سرمد کے چند ہی صفحات لکھے تھے وہ میں نے فہیم صاحب کو بھیج دئیے بس اس کے بعد اُنہوں نے کہا کہ اور لکھیں ۔۔۔اور لکھیں ۔۔۔۔ پھر انہوں نے فیصل شہزاد صاحب کو وہ صفحات بھیج دئیے انہیں بھی پسند آیا اور پھر تو قارئین کی جو محبت ملی وہ تاریخ بن گئی ۔ لیکن بچوں کا اسلام کی پالیسی تھی کہ وہ محدود صفحات کے باعث ایک سال سے زیادہ شائع نہیں کرسکتے تھے اور پھر بچوں کا اسلام کا تاریخ ساز نمبر 1000 صفحات پر نمبر آریا تھا اور اس میں کوئی قسط شائع نہیں ہوسکتی تھی لیکن سرمد کی کہانی اتنے بڑے کینوس پر تھی کہ وہ اتنی جلدی سمٹ ہی نہیں سکتی تھی لہٰذا یہ کہہ کر ختم کرنا پڑا کہ پالیسی کی مجبوریوں کے باعث سرمد ختمِ کیا جاتا ہے جو قارئین اس کو پڑھنا چاہیں وہ کتابی صورت میں شائع ہونے پر پڑھ سکتے ہیں

آپ کو تو معلوم ہے کہ شائع شدہ ناول کو کتابی صورت میں شائع کرنا ایک بڑا رسک ہے لیکن فہیم عالم صاحب نے شائع کرنے کا فیصلہ کیا پھر اس کے غالباً سن دو ہزار میں دو حصے پھر ہر سال دو دو حصے آتے رہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس کو مجھ سے قارئین بچوں ان کے والدین نے اور۔۔۔ سرمد ۔۔اور کہہ کہہ کر لکھوایا ۔

رفیق لنگڑا، شید اٹلی اور مائی جیناں جیسے کردار اتنے مقبول ہوئے کہ ان پر الگ سے ناول لکھنا پڑے۔ ان کرداروں کی تراش خراش آپ نے کیسے کی؟

جواب ۔ یہ بھی اردو ادب بڑوں اور بچوں میں پہلا تجربہ ہے کہ کسی ناول کے ذیلی کرداروں نے مقبولیت کے ایسے ریکارڈ قائم کئے ہوں کہ وہ شائع ہوتے ہی ہاتھوں ہاتھ لئے گئے ہوں ۔ میرے خیال میں اب تک ہزاروں تو فروخت ہوچکے ہیں ان میں سے ہر کردار اپنے آپ میں خود ایک ناول کا متقاضی تھا ۔ وہ سب ہمارے اس پاس کے کردار ہیں میں کسی بھی کردار پر اتنا ہی لکھتا ہوں کہ جتنا کردار تقاضا کرتا ہے گھٹانا بڑھانا میرے اختیار میں نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ کردار ہمیشہ یاد رہ جاتا ہے کیونکہ باقی کردار وہ آپ میں پورا کرتا ہے اگر آپ محسوس کرسکیں ۔

کیا یہ تمام کردار آپ کی حقیقی زندگی کے مشاہدات کا حصہ تھے یا تخیل کی پرواز کا نتیجہ؟ کیا یہ حقیقی کردار ہیں؟

جواب ۔ یہ تمام کردار اسی دنیا میں ہیں ۔ ہم میں آپ میں رہتے ہیں ۔ ظلم تشدد غصّہ نفرت یتیم مسکین جوواری چرسی مولوی تماشبین بہن کا حق کھانے والے ہر سال حج عمرہ کرنے والے اور آٹا گھی تیل کا بحران پیدا کرنے والے اب میں ہم ہی تو ہیں تو کیا ان میں سے آپ نہیں ملے اس لئے نقلی فرضی بناوٹی کیسے ہوسکتے ہیں؟ہر کردار مجھے کشش کرتا ہے آپ کو اپنا احساس دلاتا ہے یہی سرمد رفیق لنگڑا شیدا ٹلی مائی جیناں دمیل ہیں ۔

2021ء سے سرمد سیریز کے انفرادی کرداروں پر ، لکھنے کا سلسلہ جاری ہے، بچوں کی اس قدر طویل دلچسپی کو آپ کس ربانی نعمت سے تعبیر کرتے ہیں؟

جواب ۔ محسوس سب کرتے ہیں ۔ بولتے سب ہیں لیکن لکھاری کی لکھت میں ایک پکار ہوتی ہے ۔ پیاس ہوتی ہے جو دوسرے کو متاثر کرتی ہے دل کے تاروں کو چھیڑتی ہے ۔ یہی ایک بنیادی فرق ہے لکھاری اور قاری میں ۔ اور لکھاری کے اندر قدرت اس صلاحیت کو روز اول ہی سے خمیر میں شامل کر دیتی ہے وہ چیزوں رویوں انسانوں بدلتی اقدار میں جیتا سمجھتا اور اس کی ساخت کو سمجھ کر اپنے تخلیقی شعور کا اظہار کرتا ہے ۔ میں لوگوں کے درمیان میں رچ بس کر لکھتا ہوں ۔ اس لئے یہ سفر مسلسل جاری ہے ۔ مجھے کئ نوعمر قاری بچوں نے فہرستیں بنا کر دیں کہ اب آپ نے ان ان پر ناول لکھنا ہیں تو پھر مجھے بتائیں کہ میرے قلم کا سفر کیسے رک پائے گا ۔ یہ عطائے خداوندی کے سوا کچھ نہیں ۔

سرمد سیریز کے ذریعے آپ نے ہزاروں بچوں کو مطالعے کی طرف راغب کیا۔ اس عظیم خدمت پر آپ خود کو کتنا مطمئن محسوس کرتے ہیں؟

جواب ۔ میں تو لکھ سکتا ہوں زبردستی نہ اپنے ناول خریدوا سکتا ہوں نہ ہی پڑھنے پر مجبور کرسکتا ہوں ۔ میں اس کا کریڈٹ اپنے نوعمر قارئین کے والدین کو دیتا ہوں جو بے دھڑک میری کتابیں اپنے بچوں کو کھل کر لینے دیتے ہیں ۔ ان مدرسوں کے اساتذہ کرام ۔ اسکول کی ٹیچرز پرنسپل کو دیتا ہوں جو کتابیں خریدتے ہیں ۔ پڑھتے ہیں مجھے فیڈ بیک دیتے ہیں ۔ اصل میں مطالعے کی عادت تو وہ ڈال رہے ہیں میں تو ایک ذریعہ ایک ٹول ہوں ۔

کیا سرمد کا کردار بچوں کی تربیت کے لیے خاص شعوری کوشش تھی؟

جواب ۔ میں خدا کا نہایت شکر گزار ہوں کہ اس نے میری لکھت کو قبول کیا اور بچوں تو کیا بڑوں نے بھی اس کو شاندار پذیرائی بخشی ۔ سرمد زندگی کا وہ بیانیہ ہے جس کو دیکھ کر آپ نظر انداز کر دیتے ہیں مگر میرے لئے وہ سوچنے سمجھنے کی چیزیں ہوتی ہیں ۔ مزاروں درباروں اسٹیشن بس اڈے یہاں اترتے بھاگتے الوداع کہتے آنسو بھرے مسکراہٹ سے لبریز لوگ آپ کو توجہ کی دعوت دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہاتھ پھیلائے کاسہ کھنکھناتے مالے ڈالے ملنگ دودھ پلاتی فقیرنیاں بھیک مانگنے والے دامن کھینچے والے بچے سب سرمد کے کردار ہی تو ہیں ۔ اسی لئے سرمد مقبول ہے کیونکہ اس میں ہر کسی کو اپنی زندگی کا کوئی نہ کوئی کردار ملتا ہے ۔

بعض اوقات ایک تخلیق کار کی تمام گزشتہ محنت پر اس کا ایک شاہکار غالب آ جاتا ہے، کیا سرمد سیریز کی مقبولیت نے آپ کے دیگر کاموں کو پردے میں تو نہیں دھکیل دیا؟

جواب ۔ ایسا ہوتا ہے کوئی ایک نمائندہ چیز آپ کا تعارف بن جاتی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہی چیز آپ کو بحیثیت ایک برانڈ بھی متعارف کراتی ہے ۔ سرمد نے اس کے ذیلی کرداروں کے ساتھ ساتھ دیگر ناولوں کو فروخت میں عروج ملا ۔ اس سے میرے قارئین کو میرے دیگر ناولوں میں دلچسپی پیدا ہوئی ہے ۔ اور سچ پوچھیں تو اب یہ ایک کمیونٹی بن گئی ہے ۔ کل کے نوعمر لڑکے لڑکیاں اب جل پری اور آنچ پڑھنے لگے ہیں

بچوں کے لیے لکھنا بڑوں کے لیے لکھنے سے کتنا مختلف اور دشوار ہے؟

جواب ۔ میرے لئے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ میں بچوں اور بڑوں کے ہی درمیان رہتا ہوں ان سے الگ نہیں ہوں ۔ میری بہت سی کہانیاں بچوں کو دیکھ کر ہوگئیں اسی طرح بعض کرداروں نے مجھے متاثر کیا تو اڑتی چڑیا لکھا ۔

بچوں کے ادب میں تجسس اور اخلاقیات کا توازن برقرار رکھنا کتنا نازک کام ہے؟

جواب ۔ اگر آپ لفظ کی حرمت اس کے اثر کو سمجھنے ہیں تو تحریر میں توازن خود بخود آ جاتا ہے ۔ اسی کو سلف سنسر کہتے ہیں ۔ میری تمام کہانیاں وہ ہیں جو باپ بیٹی ماں بیٹا اکھٹا بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں ۔

نو عمر ڈائجسٹ کے اجراء کا بنیادی مقصد کیا تھا اور اب اس کی دوبارہ شروعات کی کیا ضرورت محسوس ہوئی؟

جواب ۔ ہمارے یہاں یا تو بچوں کے میگزین ہیں یا پھر بڑوں کے میگزین ڈائجسٹ ۔ بچپن اور جوانی کے بیچ لڑکپن کے لئے کوئی مواد نہیں نوعمر اسی کمی کو پورا کرنے آیا ہے اور اس حوالے سے ہی اس کا تعارف ہے ۔ دوسرے ہمارے ہاں کوئی کہانیوں کا پرچا نہیں ہے ہم اس کمی کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔

آج کا ٹین ایجر موبائل اور سوشل میڈیا کی دنیا میں مگن ہے۔ اس نسل کو کاغذی کتاب اور ڈائجسٹ کی طرف لانا کتنا بڑا چیلنج ہے؟

جواب ۔ ہر عہد میں تبدیلی فطرت کا تقاضا ہے آج کے بچے اور ماضی کے بچوں میں سوشل میڈیا ۔ اسکول کالج کے نئے نصاب معلومات کے زبردست بہاؤ نے ذہنوں کو تبدیل کیا ہے ۔ ہم اس کو کہانی کی صورت میں سامنے لا رہے ہیں۔

ٹین ایجرز کے لیے لکھتے وقت کن باریکیوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے؟ نو عمر ڈائجسٹ میں نئے دور کے ٹین ایجرز کے لیے کیا کچھ خاص اور الگ ہوگا؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے ہاں جواں عمر کے ادب کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا؟

جواب ۔ اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ جواں ادب ہمارے یہاں کسی گنتی میں نہیں آتا ۔ بچوں کی کہانیاں اور بڑوں کے ڈائجسٹ ۔ جواں ادب ہے کہاں،؟ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے آج کے بیشتر لکھنے والے جو بچوں کے لئے لکھ رہے ہیں اصل میں وہ جواں ادب لکھ رہے ہیں ۔ ہمارے زیادہ تر لکھاری لکھنے میں ایج گروپ کا دھیان نہیں رکھ پاتے ہیں۔

کیا نو عمر ڈائجسٹ نئے اور ابھرتے ہوئے لکھاریوں کے لیے بھی بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوگا؟

جواب ۔ ضرور ۔ ہم ہر اچھے لکھنے والے کو خوش آمدید کہتے ہیں آپ لکھیں کیوں کہ لکھنا آپ کے شعور کا اظہار ہے ۔

کیا آپ اس ڈائجسٹ کو ڈیجیٹل فارمیٹ یا ای بک کی صورت میں بھی پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

جواب ۔ فی الحال تو ہم پرنٹ فارم کوترجیح دیں گے لیکن اس پر کام ہو رہا ہے۔

آج کے نوجوانوں کو مطالعے کی طرف راغب کرنے کے لیے والدین اور اساتذہ کو کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟

جواب ۔ جو خود مطالعہ نہیں کرتے ۔ کتاب پر گفتگو نہیں کرتے وہ کیا مطالعے کی ترغیب دیں گے ۔ چاہے وہ استاد ہوں یا والدین ۔ اسکول میں باقاعدہ لائبریری ہو ۔ کتاب پڑھت کے پیریڈ ہوں ۔ اخبارات بچوں کے صفحات بحال کریں ۔ ٹی وی چینلز کتاب تبصرے کے پروگرام مینج کریں ۔ انعامات میں کتب کو فروغ دیا جائے ۔ کتاب پڑھت کی باقاعدہ ہفتہ منایا جائے تو مطالعے کی ترغیب دی جاسکتی ہے ۔

مسجد دادی جان اور انگور کے دانے جیسی سنت کہانی کتب کے پیچھے کیا روح اور سوچ کارفرما تھی؟

جواب ۔ سنت کہانیاں بے شمار لکھی گئیں اور لکھی جاتی رہیں گی انشاء اللہ ۔ میں نے سنت کہانی کو اپنے معاشرت کے تناظر میں لکھا ۔ کیونکہ میرے سرکار جی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاشرے کی اصلاح اور تطہیر کے لئے تشریف لائے ہیں ۔ تو ان کی ہر سنت مبارکہ معاشرے سے جڑی ہے ۔ اسی لئے یہ عام سنت کہانیوں سے مختلف ہیں اور مستقل شائع ہو رہی ہیں ۔

سرکار جی ﷺ اور اللہ جی!۔جیسی روحانی اور جذباتی عناوین والی کتب لکھتے وقت آپ کے دل و دماغ کی کیا کیفیت تھی؟

جواب ۔ وہی کیفیت جو آپ کی پڑھتے ہوتی ہے ۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ماننے کے لیے نہیں محسوس کرنے، اپنے بھیتر کے لئے ہیں ۔ میں شکر ادا کرتا ہوں اپنے رب کریم کا کہ اس نے مجھے ان ناولز کی لکھنے کی توفیق عطا کی ۔ ان ناولز کو پڑھ کر مجھے کئی لوگوں نے کہا کہ ہم تو اب دین کے قریب ہوئے ہیں ۔ کئ والدین تو اس کو اپنے بچوں کو خصوصی طور پر پڑھاتے ہیں ۔ اکثر لوگ بتاتے ہیں کہ ہم اس کو روز تھوڑا تھوڑا پڑھتے ہیں اور آپ کے لئے روز دعائیں کرتے ہیں ۔ سرکار جی کی اصل بنیاد میری ایک کہانی " سرکار جی آپ خوش ہیں “ بچوں کے اسلام میں شائع ہوئی تھی ۔ جو بے پناہ پسند کی گئی تھی ۔ اور کئی لوگوں نے اس کو محفل میلاد میں بھی پڑھنا شروع کیا ۔ پھر اس کے بعد یہ ناول لکھا گیا ۔ اللہ جی فہیم عالم کی فرمائش پر لکھا گیا ۔ یہ بچوں میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے ناول ہے ۔ اسی طرح سرکار جی سیرت پر مبنی ہے ۔

تمہاری امی! اور اپیا جیسی کتب میں رشتوں کی تقدیس اور محبت کو آپ نے کس انداز میں ڈھالا ہے؟

جواب: ہمارے رشتے بنیادی طور پر ماں بہن باپ بھائی کے گرد گھومتے ہیں ۔ اور ماں بہن مرکز ہوتی ہیں ۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں عورت کے احترام میں ںڑھاوے کی ضرورت ہے اور یہ احترام تقدس آپ کو بچوں میں ہی شروع سے پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ 99 فیصد گالیاں عورت کے حوالے سے دی جاتی ہیں ۔ ہمارے اسٹیج ڈرامے ماں سالی ساس بیویوں پر جگتوں سے بھرے ہوتے ہیں؟ ساس بھی عیار چالاک ۔ بہو بھی بیٹے کو الگ کرنے کے چکر میں ۔ دفتروں میں عورتوں سے بد تمیزی یہ سب کیا ہے؟

کیونکہ ہم صرف اپنے گھر کی بیٹی اور ماں کو قابل عزت سمجھتے ہیں ۔ میں آپ کو بتاؤں کہ میرے گھر میں رشتوں میں کزن کا لفظ استعمال نہیں کرسکتے ہیں ۔ بہن بھائی ماموں زاد چچا زاد بہن بھائی ہیں تو کہو کہ یہ میری ماموں زاد بہن ہے بھائی ہے ۔ اسی طرح آنٹی بکواس لفظ ہے ۔ آپ کی ممانی خالہ جان پھوپھی جان ہیں ۔ یہ کزن آنٹی یہ چور لفظ ہیں ان سے رشتوں میں نقب لگائی ہے۔

دانیال جاسوسی سیریز اور اس کے حصوں شابو اور زاطوش میں سسپنس اور جاسوسی کا کیا خاص رنگ پیش کرنے کی کوشش ہے؟

جواب ۔ بنیادی طور پر میں جاسوسی کہانیاں نہیں لکھتا لیکن قارئین کا اصرار تھا کہ لکھیں تو اس ناول میں تھوڑی پراسراریت کچھ ہنسی مذاق مہم جوئی کی جھلک ہے ۔ جو قارئین میں نہایت پسند کی گئی ۔ درحقیقت زاظوش اور شابو دانیال سے منسلک اگلے حصے ہیں اور اس طرح چار حصوں میں یہ سیریز مکمل ہوگئی ۔

بچوں کے لیے جاسوسی اور سسپنس ادب لکھتے وقت کن باتوں سے پرہیز کرنا ضروری ہوتا ہے؟

جواب ۔ جاسوسی لکھنا میرا کوئی شوق یا ترجیح نہیں ہے ۔ لیکن جو بھی لکھا جائے وہ دل چسپ معیاری اور تہذیبی ہو

آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ سرمد سیریز کے تمام ناولوں میں کوئی پولیس انکل۔ وزارتِ داخلہ ۔ انسپکٹر ۔ نہیں ہے ۔حتی کہ موبائل فون تک نہیں ہے ۔ عام سی زندگی ہے بچوں کی ذاتی فطری ذہانت کہانی کو آگے بڑھاتی ہے ۔

یہی مضبوط کہانی کا کہانی کا ہنر ہے جو قارئین کو باندھے رکھتا ہے۔

جگنو، حارث، آریان اور انو جیب کترا جیسے منفرد ناموں کے پیچھے کیا کہانی چھپی ہے؟

جواب ۔ میں عام فہم نام رکھتا ہوں ۔ اور اس میں علامت بھی ہوتی ہے ۔ جیسے جگنو روشنی کا استعارہ ہے ۔ حارث مددگار دیکھ بھال نگران کی علامت ہے آریان قدیم تہذیب کی نشاندھی کرتا ہے انو جیب کترا ان افراد کی کہانی ہے جو مفاد کے لئے لوگوں کو بدنام کرتے ہیں ۔ انو جیب کترا بچوں کے ادب میں تھلیسیمیا پر پہلا ناول ہے۔

بچوں کے ادب کے ساتھ ساتھ آپ نے آنچ ، بدلتا چہرہ اور خواب گزیدہ جیسے سنجیدہ ناول بھی لکھے، یہ فکری تنوع کیسے ممکن ہوا؟

جواب ۔ مطالعہ مشاہدہ زندگی کے چلن کو دیکھیں سمجھیں تو بچوں اور بڑوں کے لئے بیک وقت لکھنا ناممکن نہیں ہے

مجھے تو یہ کبھی مشکل نہیں لگتا ۔ بلکہ آن لوگوں پر ہنسی آتی ہے جو کہتے ہیں کہ بچوں کے لیے لکھنا مشکل ہے ۔ ارے صاف صاف بولیں کہ بچوں کے لیے لکھنے میں پیسہ نہیں ملتا۔

آسیبِ محبت اور بھید بھری محبت میں محبت کا کون سا رخ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے؟

جواب ۔ آسیب محبت کو اگر آپ نے پڑھا ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ رومانی احساسات کو بیان کیسے کیا جاتا ہے اور محبت کے ناذک جذبات کیسے ایک دوسرے سے کہہ سکتے ہیں ۔ آج کل کے لکھاریوں کو ان کتابوں کو ضرور پڑھنا چاہئے مجھے اکثر قارئین کہتے ہیں جن میں بہت سے لکھاری بھی شامل ہیں کہ ہم نے رومان لکھنا آپ کی کتابوں تحریروں سے سیکھا ۔

اسی طرح بھید بھری محبت میں آپ دیکھتے ہیں کہ سب کچھ حاصل نہیں ہوپاتا ۔ اور جنہیں آپ بے خبر سمجھتے ہیں وہ آپ کے متعلق وہ کچھ جانتے ہیں جو آپ کے گمان میں بھی نہیں ہوتا ۔

خانقاہ اور آتش زادہ جیسے موضوعات کا رچاؤ آپ کے ہاں کیسے پیدا ہوا؟

جواب ۔ تصوف میرا خصوصی موضوع ہے ۔ میں نے اس دنیا کو بہت قریب سے دیکھا پرکھا اور جانا ہے ۔ اس لئے اس میں جو کہانیاں ہیں وہ سچ سے جڑی ہیں ہمارے معاشرے میں میڈیا مذہب اور سیاست کا گہرا تال میل ہے خانقاہ اسی دنیا کی کہانی ہے

آتش زادہ ہمارے معاشرے کی وہ کہانی ہے جو ہر دوسرے تیسرے گھر میں کہیں نہ کہیں جھلکتی ہے ۔

کاوش صاحب! آپ کا بہت بہت شکریہ!